بھیڑیا_اور_لومڑی

لومڑی اور بھیڑیا

EjazNews

اگلی رات کو ملکہ شہر زاد نے لومڑی اور بھیڑیے کی کہانی یوں شروع کی۔
بہت عرصہ گزرا ایک لومڑی اور بھیڑیا ایک غارمیں رہتے تھے اور ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔ دانت کاٹی روٹی کھاتے تھے۔ایک ساتھ شکار کو جاتے اور ایک ساتھ گھر واپس آتے۔ جنگل کے دوسرے جانور دیکھتے توان کی دوستی پر رشک کرتے۔
کچھ عرصے تک تو دونوں میں گاڑی چھنتی رہی لیکن آخر کار بھیڑیے نے لومڑی کو نا حق تنگ کرنا شروع کیا۔لومڑی چوں کہ اس کے مقابلے میں کمزور تھی اس لیے بھیڑیے کا ستم سہتی رہی۔ جب بھیڑیے کی زیادتیاں بہت بڑھیں تو ایک روز لومڑی نے جان پر کھیل کرصاف صاف کہہ دیا:
اے بھیڑیے! تو مجھے بے وجہ، بے سبب تنگ کرتا ہے اور میں کمزور ہونے کی وجہ سے تیرا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ بہتر ہے تو اپنی اس حرکت سے باز آ اور بکھیڑا نہ بڑھا کہ ہمسایوں کو مل جل کر رہنا زیبا ہے۔ ورنہ یاد رکھ خدا تجھے اس کی سزا دے گا۔
بھیڑیے نے جواب دیا زیادہ بک بک نہ کر منہ سنبھال کر بات کر۔ ورنہ زبان گدی سے نکال لوں گا اور ایک ہی حملے میں کچومر بنا دوں گا۔
لومڑی بولی مجھے جان کی پروا نہیں۔ تو چاہے تو ابھی لے لے۔ مگر اتنا کہے دیتی ہوں کہ اپنی حرکتوں سے باز آجا ورنہ کسی روز آدم زاد کے ہتھے چڑھ گیا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ آدم زاد کو تو جانتا ہی ہے اس کو ہر ترکیب یاد ہے۔ چاہے تو دم کے دم میں پرندوں کو آسمان سے پکڑ لائے اورشیر جیسے خون خوار درندوں کو نیچا دکھائے۔ مہینوں برسوں کی راہ تری تری جاتا ہے، پہاڑوں کو پیس کے سرمہ بناتا ہے۔ پس تجھے چاہیے کہ میرے ساتھ اچھا برتاﺅ کر دوست بن کر رہ اور میری بددعا سے بچ۔
بھیڑیے نے بڑے غرور سے جواب دیا۔ بڑھ بڑھ کے باتیں نہ بنا۔ اپنی اوقات کو نہ بھول جا ۔ جس آدم زاد سے تو مجھے ڈراتی ہے اسے تو میں پل بھر میں چیر پھاڑ کر رکھ دوں۔ ہڈیاں تک چبا ڈالوں۔ میری طاقت کے آگے آدم زاد کیا ہے۔ یاد رکھ! آئندہ ایسی گستاخی کی توادھیڑ کر رکھ دوں گا، ہرگز معاف نہ کروں گا۔ جانتی نہیں مابدولت اس جنگل کے بادشاہ ہیں۔
اس پر لومڑی نے ادب کے ساتھ عرض کیا خداوند ! مجھ سے بڑی غلطی ہوئی کہ اس بے ادبی سے کلام کیا۔ آئندہ اگر ایسی گستاخی ہوئی تو بے شک جان سے مار دیجئے۔ چاہے کھال کھینچ لیجئے۔ لومڑی اب چالاکی اور عیاری سے کام لے رہی تھی۔ اور ہاں ! چھوٹوں سے تو غلطیاں ہوتی ہی رہتی ہیں۔ اور بڑے معاف کرتے ہی آئے ہیں۔ آپ تو مجھ سے طاقت میں بھی زیادہ ہیں اور عقل میں بھی۔ لہٰذا خواست گار ہوں کہ میری کم عقلی اور نادانی کے پیش نظر اس مرتبہ معاف کیجئے۔ آئندہ ایسی غلطی ہوئی تو جو چور کی سزا وہ میری۔
بھیڑیے نے جو لومڑی کی یہ گفتگو سنی تو بہت پسند کی اور کہنے لگا۔ خیر ! اس مرتبہ تو معاف کرتاہوں لیکن آئندہ ایسی حرکت ہوئی تو معافی کی امید نہ رکھنا۔ اب تم اپنے کام سے کام رکھنا۔ میری کسی بات میں ذرا بھی دخل مت دینا ورنہ پچھتانے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔
لومڑی نے ایک بار پھر زمین کو بوسہ دیا اوربولی سرکار کیوں اس قدر خفا ہوتے ہیں۔ میں آج سے کان پکڑتی ہوں ۔ پھر کبھی ایسی گستاخی سرزد نہ ہوگی۔ پھر کہاں آپ کہاں میں۔ آپ اس جنگل کے بادشاہ اور میں ایک لومڑی۔ آئندہ آپ کے کسی معاملے میں دخل نہ دوں گی۔
بھیڑیے نے کہااچھا اب جاﺅ! ہم نے تمہیں دل سے معاف کیا۔
لومڑی نے کہا بہتر ہے عالی جاہ! اور غور کرنے لگی کہ بھیڑیے کو کس ترکیب سے پھنسائے اور بدلہ لے ؟کیونکہ بھیڑیا طاقت ور اور خوں خوار اور یہ کمزور سی مخلوق۔ پہاڑ اور ذرے کا کیا مقابلہ۔ لہٰذا ترکیب ایسی ہونی چاہیے کہ بھیڑیا ایک بار پھنس جائے تو نکلنے نہ پائے۔ چھٹی کا دودھ یاد آجائے۔ وہ دن رات اسی فکر میں رہنے لگی۔
اب سنیے کہ بھیڑے صاحب تو بے فکر ہو گئے کہ اب پالا مار لیا ہے اور لومڑی کو نیچا دکھا لیا ہے مگرادھر لومڑی اپنی گھات میں رہی۔
ایک روز لومڑی نے دیکھا کہ ایک باغبان انگور کی بیلوں کے قریب گڑھا کھود رہا ہے۔پھر اس نے دیکھا کہ باغبان نے گڑھے کوگھاس پھونس سے ڈھانپ دیا ہے کہ اگر کوئی جانور بیلوں کے قریب جانے کی کوشش کرے تو کھٹ سے گڑھے میں گر پڑے۔ لومڑی نے یہ دیکھا توبہت خوش ہوئی۔ اپنے دل میں کہنے لگی کہ اب بھیڑیا بچ نہیں سکے گا۔ اسی وقت بھیڑیے کے پاس پہنچی اوکہنے لگی:
میں نے ایک تدبیر سوچی ہے کہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی ،رنگ چوکھا آئے۔ فلاں باغ میں اتنے میٹھےانگور ہیں کہ آپ نے کبھی خواب میں بھی نہ کھائے ہوں گے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ انگوروں کی بیلوں کے ارد گرد کوئی باڑ بھی نہیں ہے۔یہ سنا تو بھیڑیا بہت خوش ہوا، منہ میں پانی بھر آیا۔ اسی وقت لومڑی کے ہمراہ ہولیا اور پکے ہوئے انگوروں سے پیٹ بھرنے چلا۔ وہاں پہنچ کر دیکھا تو واقعی انگور خوب پکے ہوئے تھے اور گچھوں کے گچھے زمین تک لٹک رہے تھے۔ بس دیکھتے ہی انگوروں کی طرف لپکا لیکن جب بالکل قریب پہنچا تو دھم سے گڑھے میں گر پڑا۔ گرتے ہی ایسا گھبرایا کہ زار زار رونے لگا اور لومڑی سے مدد چاہنے لگا مگر لومڑی نے جواب دیا۔
میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتی تم نے سنا نہیں کہ جو کسی کے لیے کنواں کھودتا ہے خود اس میں گرتا ہے۔ جیسا کرو گے ویسا بھروگے۔ مجھے کمزور پاکر ہر روز دھمکاتا تھا، جو جی میں آتا تھا کرتا تھا۔ اب میری باری آئی اور خدا نے مجھے یہ گھڑی دکھائی کہ تیری مصیبت پر میں قہقہے لگاتی ہوں۔ تو روتا ہے اور میں بغلیں بجاتی ہوں۔ تجھ ایسے موذی سے یہی برتاﺅ کرنا چاہیے اور تجھ سے ہمیشہ دور رہنا چاہیے۔
بھیڑیے نے کہا اگر اس گڑھے سے نکال لو تو ساری عمرتمہارا پانی بھروں گا۔ کبھی تنگ نہ کروں گا۔ جان بھی مانگو گی تو حاضر کروں گا۔
مگر لومڑی کب ماننے والی تھی، کہنے لگی اب یہیں آرام فرمائیے اور اپنے ظلم کا پھل کھائیے۔ میں اتنی احمق نہیں ہوں کہ تمہیں یہاں سے باہر نکالوں اوراپنی جان خطرے میں ڈالوں۔
بھیڑیے نے پھر منت سماجت کی تم میری بڑی بہن ہو۔ خدا کے لیے مجھے ایک بار یہاں سے نکال دو۔ پھر دیکھو میں تمہاری کیسی خدمت کرتا ہوں۔ عمر بھر تمہاراغلام بے دام رہوں گا۔ جو کہو گی کروں گا۔
اس پر لومڑی نے زور دار قہقہہ لگایا اور بولی اب کہاں گئی تیری طاقت اور تیری بادشاہی؟ اب بہن بناتا ہے ملعون! پہلے کھانے کو پھرتا تھا۔
بھیڑیے نے گڑ گڑا کر اور ہاتھ جوڑ کر التجا کی۔ خدا کے لیے ایک بار میری حال زار پر رحم کھاﺅ ، موت کے پنجے سے چھڑاﺅ۔ ورنہ باغبان آجائے گا تو بندہ اسی دم موت کی سزا پائے گا۔ کوئی بھی نہ بچائے گا۔ تمہارے غریب پڑوسی کی مفت میں جان جائے گی۔ خلق خدا ظلم کا نشان بنائے گی۔ میری موت سے تمہیں کچھ بھی تو حاصل نہ ہوگا۔ ہمسایہ ماں کا جایا مشہور ہے۔ ہمسائے کو دکھ دینا انسانیت سے دور ہے۔ اگر اس وقت مجھےبچا لو تو بڑا احسان ہو، ورنہ میری جان جائے گی اور تمہاری بدنامی ہوگی۔
لومڑی نے ہنس کر کہا بسم اللہ ! کل مرتے ہو تو آج مرو۔ زندگی فانی ہے ، موت ایک دن ضرور آنی ہے۔ جو پیدا ہوا وہ ضرور مرے گا مگر موذی کی موت دوسروں کے لیے باعث مسرت ہے۔ یہ کہہ کر لومڑی نے بھیڑیے کو جلانے کے لیے لہرا لہرا کر گانا شروع کر دیا۔
اس پر وہ پھر زار زار رویا اوربو لا پیار بہن! اب تھوڑی دیر میں باغبان آکے مجھے مار ڈالے گا۔ جو کہتا ہوں اسے سچ جانو۔ تمہاری غلامی کا دم بھوں گا اور کوئی بات تمہاری مرضی کے خلاف نہ کروں گا۔
اس پر لومڑی بولی تم پرلے درجے کے بے ایمان اور جھوٹے ہو۔ تمہاری بات کا اعتبار کرنا بے وقوفی ہے۔ لہٰذا بار بار مجھ سے فریاد کرکے مجھے شرمندہ نہ کرو۔
بھیڑیے نے کہا اگر مدد نہیں کرنا چاہتی ہو تو نہ کرو، مگر یہ بھی تو نہ کرو کہ تمہاری آواز سن کے کوئی آدم زاد ادھر کی راہ لے، تم اسے دیکھتے ہی بھاگ جاﺅ اور وہ میری جان لے ۔ تمہاری آواز پر لوگ دوڑ پڑیں گے۔ ہم اکیلے بھلا کس کس سے لڑیں گے؟۔ تم اتنا احسان کرو کہ غل نہ مچاﺅ بلکہ یہاں سے چلی جاﺅ۔
اس پر لومڑی نے اور بھی زور سے گانا اور غل مچانا شروع کیا اور کہنے لگی او احمق درندے! یاد رکھ میں تیری ان چکنی چپڑی باتوں میں نہ آﺅں گی۔ میں تو خوب غل مچاﺅں گی، واویلا کروں گی تاکہ لوگوں کے کان میں بھنک پڑے کہ انگور برباد کرنے جانور آتے ہیں اور وہ لٹھ لے کے دوڑیں اور میں نو دو گیارہ ہو جاﺅں۔ تم دھر لیے جاﺅ اورخوب ڈنڈے اور لٹھ کھاﺅ۔ ایک دو،تین ، چار پانچ چھ اور بھول جائیں تو پھر سرے سے گنتی شروع کر یں۔ اب مجھے گانے بجانے دو اور خوب ہی غل مچانے دو۔
پھر کہنے لگی۔ بھیڑیے صاحب! مزاج شریف! سرکار آج کس سوچ میں ہیں؟ یہاں تو تشریف لائیے۔ عزت بخشے،رتبہ بڑھائیے۔ حضور تو ہمارے بادشاہ ہیں جنگل کے شہنشاہ ہیں۔
غرض کہ لومڑی نے بھیڑیے کو خوب جلایا ۔ کبھی بادشاہ اور کبھی شہنشاہ بنایا۔ گالیاں دیں، کبھی آسمان پر چڑھایا۔ صلواتیں سنائیں، بھیانک صورتیں دکھلائیں ۔
اور بھیڑیا؟ وہ بے چارہ اس وقت بھیگی بلی بنا ہوا دبکا بیٹھاتھا اورسوچتا تھا کہ یا الٰہی کس ترکیب سے نکل بھاگوں۔ لومڑی کا جلانا اورباتیں بنانااور بھی شاق گزرتا تھا۔ دل میں کہتا تھا واقعی غرور کا سرنیچا ہے۔ غرور کسی کو کب زیبا ہے۔ تکبر کب روا ہے۔
اتنے میں لومڑی پھر بولی کیوں سرکار! اب بتائیے کیسی گزر رہی ہے؟ ۔ پہلے تو بہت غراتے تھے۔ زمین پر قدم نہیں دھرتے تھے؟ ۔ مجھ سے کوئی امید نہ رکھنا کہ تمہارے کام آﺅں گی۔ کیوں کہ یہ مصیبت تو میں نے ہی تم پر ڈھائی ہے !۔ کیا سمجھے؟۔ پھر کہنے لگی۔ نہ جانے آج کیا بات ہے کہ باغبان اب تک ادھر نہیں آیا۔ میرا غل مچانااور گانا بے کار جاتا ہے کوئی ادھر نہیں آتا۔
بھیڑیے نے بڑی خوشامد کی اور گڑا گڑا کرعرض کیا حضور کی بدولت اگر غلام کی جان بچ جائے اور کسی صورت زندگی بسر ہو جائے تو عمر بھر بے دام غلامی کروں گا۔ پہلے آپ کوپھر خود کھاﺅں گا۔ مردوں کا قول جان کے ساتھ ہے جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں۔ادھر یا ادھر۔
لومڑی نے جواب دیا ہاں ! مرد کے معنی تو یہی ہیں اور اسی لیے ہم نے یہ برتاﺅ کیا کہ ایک مرتبہ جو دل میں یہ ٹھانی کہ بھیڑیے کو پھنسا ہی دیں گے توپھر تمہاری ایک نہ مانی ۔ ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ دیکھو، غریبوں اورکمزورں کو ستاﺅ گے تو کبھی چین نہ پاﺅ گے۔ آدم زاد کے ہاتھوں زک اٹھاﺅ گے اور تمام عمر پچھتاﺅ گے۔ مگر تم نے ہماری اور ہمارے فرشتے خاں دونوں کی نہ سنی اور ہم کو اس طرح جھڑکا کہ ہمارا ہی دل جانتا ہے۔ پھر ہم نے تم سے بدلہ لینے کی ٹھانی اور تمہیں اس گڑھے میں گرا دیا۔ اب یہ گڑھا ہے اور تمہاری جان۔ یقین تو ہے کہ ڈنڈوں سے پیٹے جاﺅ گے اور عجب نہیں کہ گولی کھاﺅ۔ بہر حال ہماری خوشی تم پر پڑیں، اس کےبعد لٹھ اور ڈنڈے کھاﺅ اور ہر روز اسی طرح تم پر لٹھ پڑیں۔ جب خوب پٹائی ہو چکے توپھر چاہے گولی پڑے چاہے جو ہو۔
بھیڑیے نے جی کڑا کر کے کہا یہ وقت باتوں میں ضائع کرنے کا نہیں ہے۔ تھوڑی دیر میں تڑکا ہوجائے گا اور کوئی بھی میرے کام نہ آئے گا۔ بہتر ہے کہ کہیں سے ڈھونڈ کے ایک رسا یا رسی لاﺅ اور اس غار میں لٹکاو۔ ایک سرا کسی مضبوط درخت سے باندھ اور اور پھر مجھے کھینچو یا میں کوشش کر کے اوپر آجاﺅں گا۔ اس ترکیب سے بچ جاﺅں گااور تمہارا احسان کبھی نہ بھولوں گا۔
لومڑی نے مسکرا کر جواب دیا۔ سنو جی! ان باتوں سے کوئی مطلب نہ نکلے گا تم کو اب کوئی بچانے والا نہیں ہے۔ خدا سے دعا مانگو شاید بچا دے۔ لیکن خدا بھی ایسے دغا بازوں ، بے ایمانوں اور خوں خواروں کی دعا نہیں سنتا۔ خدا کے مقبول بندے وہ ہیں جونیکی کرتے ہیں اور اس کے حکم کے مطابق چلتے ہیں۔ تم ایسے سرکش اور موذی سے خدا اوراس کے بندے بے زار رہتے ہیں۔ اب اپنی رہائی کا خیال تو دل میں لاﺅ نہیں۔بہت بڑھ بڑھ کے باتیں بناﺅ نہیں۔ اب تو وہ وقت قریب ہے کہ پتھرائے جاﺅ گے اور خوب ہی مار کھاﺅ گے اور اپنی سختیاں یاد کر کے پچھتاﺅ گے۔ ہماری نصیحت پر عمل نہ کیا، خیر ہم کو کیا۔ اب تو دل میں سوچتے ہو گے کہ برا کیا۔ اگر ہمارے دوست بن کے رہتے تو یہ صدمہ کا ہے کو سہتے۔ اب چاہو سر پیٹو یا روﺅ۔ جوہونا تھا وہ ہو گیا۔ پتھروں کے لیے سر کو خوب مضبوط کرلو اور مجھے جلدی رخصت کرو۔
اتنے میں کسی انسان کے کھنکھارنے کی آواز آئی اور کچھ آہٹ سی ہوئی تو لومڑی نے کہا کہ لو تمہارا ملک الموت آن پہنچا۔ اب جدائی ہوگی اور تمہاری موت سے آشنائی ہوگی۔
لومڑی نے اپنی راہ لی تو بھیڑا سمجھا کہ کوئی آتا ہے۔ آہٹ پاتے ہی وہ سمجھا کہ اب موت آئی۔ مگر لومڑی کومعلوم ہوا کھنکھارنے والا آدمی بھیڑیے کی طرف نہیں بلکہ کسی اور سمت نکل گیا ہے پھر اچک کے گئی اورجھانک کر بھیڑیے سے صاحب سلامت کی۔ بھیڑیے نے اب کی دوستانہ طور پر اور بھی لعنت ملامت کی کہ واہ صاحب ! اتنی جلدی آنکھیں پھیر لیں ! ایسی طوطا چشمی! ایسی بے مروتی اگر بچاتی نہیں ہو تو اس بے مروتی سے تو پیش نہ آﺅ۔ پاس پڑوس کے رہنے کا کچھ خیال بھی ہے؟۔
لومڑی نے جواب دیا کس کا پڑوس اور کیسا پڑوس ۔ آج تو پاس پڑوس میں گھر گھر شادیانے بجیں گے۔ لوگ خوشیاں منائیں گے۔ منگل گائیں گے۔ کہ یہ دن خدا نے دکھایا ایسا مژدہ سننے میں آیا ہم تم کو روئیں گے یا تمہاری لاش پر اکڑیں گے۔ اور تمہارے سر کوٹھوکر مار مار کر کہیں گے کہ کہو میاں اب وہ غرورکہاں گیا؟ وہ سرکشی کیا ہوئی اب بھی وہی ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ باتیں کرو گے؟ ویسی ہی شیخی بگھارو گے ؟۔ خیر ہمیں اس سے کیا سروکار ہے۔ ہمارا دل تو خوش ہے۔
بھیڑیا جھلا کے بولا او مکار! تجھ پر شیطان کی پھٹکار۔ مجھے چکما دے کر یہاں لائی اور پھر اس گھڑے میں گرا دیا۔ اب بھی کلیجا ٹھنڈا نہیں ہوا کہ باتوں سے دل جلاتی ہے۔
لومڑی بولی او بدبخت ! تجھ پر خدا کی مار! تو مجھے ہر وقت تنگ کرتا تھا اور اپنی طاقت کی ڈینگیں مارتا تھا۔ اب کہاں گئی تیری طاقت اور ہوشیاری؟۔ اگر ایسا ہی بہادر اور ہوشیار ہے تو اس گڑھے سے باہر نکل کے دکھا، پھر مانوں گی کہ تو طاقت اور عقل میں مجھ سے زیادہ ہے۔
بھیڑیا بولا میں غلطی پر تھا۔ اب سمجھ آئی کہ غرور کرنا بری بات ہے۔ دوستوں ںسے بگاڑ پیدا نہیں کرنا چاہیے۔ خیر اس وقت مجھے تم ایسے مہربان دوست کی مدد کی ضرورت ہے۔ تمہارے سوا میرا اب کوئی مددگار نہیں۔
لومڑی نے جواب دیا یہ تم نے درست کہا۔ واقعی میں تمہاری سب سے بڑی مہربان ہوں۔ کیوں کہ اگر مجھے یہ نہ سوجھتی تو قضا بے چاری کیا کھا کے تم کو پاتی اور موت کیوں کر آتی؟۔ موت کا تو بہانہ ہوتا ہے کسی نہ کسی سبب سے آتی ہے۔ اب سویرا قریب ہے۔ اگر میرے سامنے تمہاری لاش پھڑکتی ہوتی تو چین آتا۔
قصہ مختصر کہ اس بحث و تکرار میں اذان کا وقت آیا اور بھیڑیے نے اپنی زندگی کا پیمانہ لبریز پیاا تو بصد آہ وزاری کہا اب کی زندہ بچا تو جانوروں سے ملنا چھوڑ دوں گا اور پہاڑ پر جا کر فقیروں کی طرح رہوں گا ۔ خدا کی عبادت اور اطاعت کو اپنا فرض سمجھوں گا۔
لومڑی کا دل بھر آیا اور خود بھی رونا شروع کیا، کہا اب تک میں تیرے ہلاک کرنے کی فکر میں تھی، مگر اب ر حم آتا ہے۔ میر ا دل ترس کھاتا ہے کہ تو بے وقت مرنے چلا ہے۔
یہ ظاہر داری کی باتیں جو کیں تو بھیڑیا بہت خوش ہوا۔ ادھر اتفاق سے لومڑی نے جو آہٹ پائی تو گھبرائی کہ آدمی نہ آتا ہو۔ اس گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ میں اس کا پاﺅں ڈگمگایا تودھڑ سے اسی غار میں گر پڑی۔
تب بھیڑیے نے کہا اب بتاﺅ! اب تومیرے قابو میں ہو۔ کیا سزا دوں؟۔ میری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ اپنے مرنے سے پہلے تمہیں جہنم میں پہنچاﺅں اور کچا ہی کھا جاﺅں۔
لومڑی نے جواب دیا کچا کھانا تو جانوروں کا کام ہے۔ تو تو ہمارا بادشاہ ہے۔
بھیڑیا اس خوشامد سے پھول گیا۔ اپنا رنج اور اپنی مصیبت بھول گیا۔ کہنے لگا ہماری شاہی اور تاج داری کے سب قائل ہیں ایک تم پر کیا فرض ہے۔ سارا زمانہ جانتا ہے کہ ہم تاج دار ہیں۔ جنگل کے کل جانوروں کے سردار ہیں۔ مگر اب یہ بتاﺅ کہ اس مصیبت سے کیوں کر چھوٹوں؟ خدارا جلدی کرو ۔ اب دن چڑھ آیا ہے۔ آدمی ادھر سے آئیں جائیں گے تو ہم کو کھا ہی جائیں گے۔ پھر سوائے افسوس کے اورکچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ کوئی ہماری لاش کا پتا بھی نہ پائےگا۔ ہاتھ مل کے رہ جائیں گے۔ کوئی ہماری بوٹیاں نوچ نوچ کے کھائیں گے۔
لومڑی نے کہا حضور گھبراتے کیوں ہیں میرے ہوتے ہوئے آپ کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔
بھیڑیا بولا مجھے تیری بات کایقین ہے نہ اعتبار ہے۔ اگر کوئی آدمی یہاں نیچے اتر کر آئے گا تو بندہ اسے ایک دم سے کھا جائے گااور اگر اوپرسے ڈھیلے مارے اور پتھر پھینکے تو البتہ مر جاﺅں گا۔ تیری ہی سبب سے اس درجے پر پہنچا ہوں۔ تو نے ہی میرے ساتھ یہ بے ایمانی کی اور یہ میری یہاں تک نوبت پہنچائی۔ تو ہی نے مجھ پر آفت ڈھائی کہ جان پر بن آئی۔
لومڑی نے دیکھا کہ خوں خوار نقصان پہنچانے پر تیار ہے۔ طاقتور اور ہوشیار ہے۔ اس کے پنجے سے اگر چھٹ جاﺅں تو امان پاﺅں۔ ورنہ وحشی تو ہے ہی ضرور مار ڈالے گا۔ کچھ سوچل کر بولی:
حضور ! ایک آدمی سے میرا بڑا دوستانہ ہے۔ میں نے اس کی جان بچائی تھی۔ اب وہ میرے بس میں ہے جو کہوں گا کرے گا۔ اس کو کسی صورت سے بلا لاﺅں تو وہ تم کو اس مصیبت سے چھٹکارا دلا سکتاہے مگر ایک بات کا البتہ کھٹکا ہے بلکہ اندیشہ ہے اور وہ یہ کہ وہ آدمی تمہاری شکل دیکھ کر ڈر جائے گا کبھی پاس نہ آئےگا۔ تم اس کو قسمیں دے دے کر یقین دلا دینا کہ وہ تم سے بالکل نہ ڈرے۔ بس وہ رسی کے ذریعے تمہیں اس غار سے باہر نکال لے گا۔
بھیڑیا ان بھروں میں آگیا۔ کہنے لگا میں تیرے صدقے جاﺅں۔ قربان ہوجاﺅں۔ کسی تدبیر سے اپنے سا غلام کے کام آﺅ۔ تمہارا یہ احسان تا زندگی یاد رکھو ں گا۔ ہمیشہ تمہارے کام آﺅں گا۔
لومڑی نے کہا تو ایک کام کرو۔ اپنی اگلی دونوں ٹانگیں اوپر کردو۔ میں ان پر سوار ہو کر اچک کے گڑھے سے باہر ہو جاﺅں گی اور جلدی جا کے اس آدمی کو بلا لاﺅں کہ جس سے میرابرسوں سے دوستانہ ہے۔ بس ایک ڈر ہے کہ اس نے کتے بہت پال رکھے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی کتا مجھے چیر پھاڑ کھائے اور الٹے لینے کے دینے پڑ جائیں۔
بھیڑا منت کرتے ہوئے کہنےلگا اگر وہ آدمی واقعی تمہارااحسان مند ہے تو اس کے کتے تمہیں کچھ نہیں کہیں گے پھریہ بات بھی تو ہے کہ دوستوں کے کام آتے وقت خطرے کی پروا نہیں کرتے۔ خدا کے لیے جیسے بھی بن پڑے اپنے دوست کو ضرور بلا کر لاﺅ کہ میری اس مصیبت سے جان چھوٹے۔
یہ کہہ کر بھیڑیے نے اپنی ٹانگیں اوپر کیں تو لومڑی ان پر سوار ہو کر اچک کے گڑھے سے باہر کود گئی اور خدا کا شکر ادا کیا کہ موذی کے پنجے سے آزادی نصیب ہوئی۔
بھیڑیے نے کہا بہن! اب وقت ضائع نہ کرو۔ دوڑتی ہوئی جاﺅ اور اپنے دوست کو بلا لاﺅ۔ صبح ہونے میں بہت تھوڑا وقت رہ گیاہے۔
لومڑی بولی ذرا صبر سے کام لو میں وہاں جانے سے پہلے کچھ گانا چاہتی ہوں، دل بہلانا چاہتی ہوں تم فکر نہ کرو کہہ جو دیا کہ ابھی جاتی ہوں۔
بھیڑیے نے گھبرا کر کہا ارے ! ایسا غضب مت کرنا۔ یہ بات خلاف عقل ہے۔گانے بجانے کا یہ کون سا موقع ہے۔ گانے کےلیے تو خوشی کاموقع ڈھونڈا جاتا ہے۔ ماتم کے قوت بھی بھلا کوئی گاتا ہے؟ خدا کے لیے میرے حال پر رحم کرو اور جلدی سے اس آدمی کوبلاکر لاﺅ۔
مگر لومڑی ٹھہری ایک ہی چالاک، لہرا لہرا کر گانے لگی اور بھیڑیے کو پھر سے جلانے اور ستانے لگی۔
بھیڑیے نے سر پیٹ لیا اورکہا سبحان اللہ ! یہ سر جگانے کا تمہیں اچھا موقع ہاتھ آیا ہے۔ کسی کا گھر جلنے اور کوئی کہتا پے اسی موقع پر بولتے ہیں ماتم کے وقت گانا تمہارا ہی کام ہے۔ بہر حال بندہ ہر طرح تمہارا غلام ہے۔
لومڑی نے ہنس کر کہا کچھ پاگل ہوا ہے۔ماتم کا وقت تجھے پہنچا ہوگا۔ یہاں تو چین ہی چین ہے۔ اس وقت میں نے خدا کے فضل سے تجھ سے نجات پائی ورنہ بچنا محال تھا۔ اگر میری زبان یاوری نہ کرتی تو تو مجھے کب کا ہڑپ کر چکا ہوتا۔ بھلا اب میں تیری بات مانوں ! اے توبہ ! کیا مجال ہے کہ میں تیری مدد کو آﺅں۔ یہ تیرا خیال ہے۔ ابھی ابھی میں نے تیرا رنگ دیکھ لیا تو کچا چبانے پر آمادہ تھا۔
بھیڑیے نے پھر رونا شروع کیا اور کہا کیا ہمارا تمہارا ہی اقرار تھا؟ تمہارے وعدے پر ہماری زندگی کادارو مدار تھا اوراب تم اس قسم کی گفتگو کرتی ہو ۔ افسوس ! صد ہزار افسوس! ہم کو دیکھویہ تمہاری ہی وجہ سے اس گڑھے میں گرے اور جب تم کو اپنے قابو میں پایا تو پھر بھی تمہاری مدد کی اورتمہیں یہیں سے باہر نکالا۔ ورنہ اب تک خدا جانے کہاں کے کہاں پہنچے ہوتے۔ تم کوئی خیال چاہیے کہ جب تم نے میرے ساتھ برائی کی تو بھی میں نے تم کو چھوڑ دیا۔
لومڑی بولی ارے پاگل تو نے مجھے اس لیے چھوڑ دیا کہ میں نے تجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تجھے اس مصیبت سے چھٹکارا دلاﺅں گی ورنہ تومجھے کھا جانے پر تیار ہوگیا تھا۔ وہ تو میں نے اپنی عقل سے کام لیا اور تیرے چنگل سے جان بچا لائی۔ تو سچ مچ بڑا احمق ہے کہ اتنابھی نہ سمجھ سکا کہ لومڑی اور آدم زاد کا دوستانہ کیسا۔ کیا آج تک ایسا ہوا ہے؟ مگر عقل سے تجھ کو کوئی سروکار ہی نہیں۔ عقل کے پیچھے تو تو لٹھ لیے گھومتا ہے۔
بھیڑے نے جو یہ تقریر سنی تو آٹھ آٹھ آنسو رونے لگا۔ اب اس کو پورا یقین ہوگیا کہ جان کا بچنا محال ہے۔
لومڑی نے کہا اب مجھے رخصت کرو اور جانے دو۔
بھیڑے نے پھر ایک ٹھنڈی سانس بھری اور زار زار رو کر کہا میں نے تجھے پڑوسی سمجھ کر چھوڑ دیا کہ کیوں پڑوسی کی جان لوں۔ پڑوسیوں کی مدد کرنا آدمیت کا کام ہے۔
لومڑی نے جواب دیا تم گھڑی گھڑی آدمیت اور انسانیت کا نام نہ لو۔ ہم کو اور تم کوآدمیت سے کیا سروکار۔ میں نے جو کچھ کیا اپنی جان بچانے کے لیے کیا۔ پھر کیوں تو بار بارآدمیت او انسانیت کاذکر کرتا ہے۔ کیوں اول جلول واہی تباہی بکتا ہے۔تیری آزادی میری موت کا باعث ہوگی۔ اگر خدانخواستہ تو بچ گیا تو میری شامت ہی آجائے گی۔ کوئی صورت بچنے کی نظر نہ آئے گی۔ جان ایسی عزیز شے ہے تیریے لیے ضائع کروں تو بھلا یہ کون عقل کی بات ہوگی؟ تو مر جائے تو میں مزے مزے سے رنگ رلیاں مناﺅں، منگل گاﺅ۔ تالیاں اوربغلیں دونوں بجاﺅں یہ کہہ کر وہ زور زو سے شور مچانے لگی۔
آخر بھیڑیے نے مایوس ہو کر کہا واقعی سیانوں نے سچ کہا ہے کہ لومڑی کے قول و فعل پر جو اعتبار کرے اس سے بڑھ کے گدھا کوئی نہیں۔ دوسرے یہ کہ لومڑی احسان فراموش ہے اس سے بچ کر رہنا چاہیے۔ ہم نے بھی تجھ پر اعتبار کیا تو اس حال کو پہنچے کہ دم بھر میں موت کا فرشتہ آئے گا ہماری روح قبض کر کے لے جائےگا۔
اس پر لومڑی نے اتنا غل مچایا کہ بھیڑے کا خون خشک ہو گیا ۔ لوگوں نے جو اس کی آواز سنی تو لٹھ لے لے کے دوڑے اور لومڑی نے اپنی راہ لی۔ دیکھتے ہیں توبھیڑے صاحب تشریف فرما ہیں۔ ایک نے کہا چچا جان ! بندگی! دوسرا بولا ماموں اچھے پھنسے ! کسی نے کہا بھئی! اس کو زندہ پکڑ۔ کسی کی رائے ہوئی مار بھی ڈالو۔ جھگڑا ہی چکا دو بس پھر کیا تھا لوگوں نے تاک تاک کے پتھر مارے اور بھیڑیا وہیں ڈھیر ہوگیا۔ جان تن سے نکل گئی۔
کہانی ختم کر کے ملکہ شہر زاد نے پوچھا فرمائیے سلطان عالم ! کیسا قصہ ہے؟۔
سلطان شہریار نے جواب دیا بہت دلچسپ اور نصیحت آموز ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں