shab_e_barat

لیلة البراة یعنی شب برات

EjazNews

شعبان المعظم اسلامی کیلنڈر کاآٹھواں مہینہ ہے اوریہ بڑا ہی بابرکت ہے،کیونکہ پیارے نبی حضرت محمد مصطفیﷺ کا ارشاد گرامی ہے:رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور شعبان المعظم میرا مہینہ ہے۔
اس رات میں اللہ رب العزت کی خوب عبادت کرنی چاہیے،نوافل پڑھنے چاہئیں،قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہیے،درود شریف پڑھنا چاہیے۔صلوٰة التسبیح پڑھنی چاہیے،جتنا ہوسکے ذکر و اذکار میں مشغول رہنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی چاہیے۔
امام بیہقی نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا: عائشہؓ تم جانتی ہو یہ کیسی رات ہے ؟ یعنی نصف شعبان کی رات،میں نے کہا یا رسول اللہﷺ اس میں کیا ہوتا ہے ؟آپ نے فرمایا: اولادِ آدم میں سے اس سال میں جو بچہ پیدا ہونے والا ہو،اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے،اور سال بھر میں جتنے انسان مرنے والے ہوتے ہیں، ان کا نام لکھ دیا جا تا ہے،اور اس میں بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں،اور اس رات بندوں کے رزق نازل کیے جاتے ہیں۔حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بے شک،اس رات اللہ تعالیٰ مغفرت فرمادیتا ہے، اپنی تمام مخلوق کی،مگر مشرک اور کینہ رکھنے والے کی بخشش نہیں فرماتا۔ ( مشکوٰ ة)
صحیح حدیث شریف میں وارد ہے کہ اللہ رب العزت شعبان کی پندرھویں رات کو اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنی مخلوق کی مغفرت فرماتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ پرور شخص کے۔
( سلسلة الحادیث الصحیحة حدیث نمبر 1144 جلد نمبر 3 صفحہ 135 )۔
حضرت امام بیہقی سیدنا ابوثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ سے آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: ”شعبان کی پندرھویں رات کو اللہ تعالیٰ مخلوقات کی طرف(بہ نگاہ رحمت خاصہ)متوجہ ہوتے ہیں۔مومنوں کی مغفرت فرماتے ہیں اور کافروں کو مہلت دیتے ہیں۔
(بحوالہ فضائل لیلة النصف من شعبان للشیخ عبدالحفیظ ملک عبدالحق المکی)۔
ہمارے مولا ومعبودِ حقیقی یوں تو ہر لمحہ اپنے سیہ کار بندوں کہ جانب نظر رحمت کیے ہوئے ان کی توبہ کے منتظر ہیں یہاں تک کہ اپنے پیارے حبیب امام الانبیاءسرورِ کائنات ،شفیع عاصیاں محمد مصطفی ،احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے اپنے بندوں کا حوصلہ و ڈھارس بندھوائی کہ اگر اس قدر گناہ بھی ہوجائیں کہ آسمان کہ چھت کو جالگیں،بس مجھ سے(توبہ کی شرائط کے ساتھ) معافی مانگ لینا میں سبھی معاف کردونگا۔(بحوالہ اربعین النووی )۔
حضرت عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ رسالت ماب نے ارشاد فرمایا:جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ عزو جل کی جانب سے (ایک پکارنے والا) پکارتا ہے۔ کیا کوئی مغفرت کا طلب گار ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے عطا کر دوں؟اس وقت پروردگار عالم سے جو مانگتا ہے،اسے ملتا ہے ،سوائے بدکار عورت اور مشرک کے۔ “(بیہقیشعب الایمان )
حضرت ابوثعلبہ خشنیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا”جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو رب ذوالجلا ل اپنی مخلوق پر نظر ڈال کر اہل ایمان کی مغفرت فرما دیتا ہے، کافروں کو مہلت دیتا ہے، اور کینہ وروں کو ان کے کینے کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے تاوقت یہ کہ وہ توبہ کر کے ،کینہ وری چھوڑ دیں“۔(بیہقی شعب الایمان )
آہ! جسے اپنے مولا سے پیار ہو بھلا وہ کیسے رات بھر سو سکے گابلکہ وہ تو ستھرالباس زیب تن کرکے اپنے رب کے حضور لمبے سجدے کرکے خوب نیازمندی ظاہر کرے گا۔
اسی طرح حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ شعبان کو روزہ رکھنے کا بھی حکم فرمایا:(بحوالہ شب برات،فضائل و احکام(شعب الایمان للبیہقی )۔
سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی مبارک میں ایک بار اس رات قبرستان بھی تشریف لے گئے اور مرحومین کےلئے دعا و استغفار فرمایا
مختلف احادیث میں وارد ہوا کہ کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی بخشش نہیں ہوگی(جب تک کہ سچی توبہ نہ کرلیں)جن میں:
1-شرک کرنے والا۔ 2-کینہ رکھنے والا۔ 3-قطع رحمی کرنے والا۔ 4-شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا۔ 5-والدین کی نافرمانی کرنے والا۔ 6-شراب پینے والا۔ 7-ناحق قتل کرنے والا۔ 8-زنا کرنے والا۔
چنانچہ سچی توبہ کرکے حق تعالی کے دامن رحمت میں جگہ پائی جاسکتی ہے۔
مندرجہ ذیل کاموں سے بچیں:
1-آتش بازی۔2-پیسے کا بے جا خرچ۔3-حلوے مانڈے کی تقسیم۔ 4-جماعت کی صورت میں مخصوص سورتیں مقرر کرکے مخصوص تعداد میں نوافل۔ 5-جہاں تک طبیعت ہشاش بشاش رہے نفلی عبادت کریں پھر آرام کرلیں تاکہ تہجد اور نماز فجر باجماعت طبیعت کے نشاط کے ساتھ ادا ہوسکے۔6-گھروں پر لائٹیں وغیرہ لگانے اجتناب کریں،رقم صدقہ کرنا افضل ہے۔
آئیے روٹھے رب کو منالیتے ہیں۔آئیں تو سہی وہ ضرور لاج رکھیں گے، وہی تو ہمارے مولا ہیں۔ جنہیں اپنے بندوں کی آہوں،سسکیوں،کپکپاتے ہاتھوں اور لرزتی زبان کے ساتھ ”یا اللہ معافی دے دیں،یااللہ معافی دے دیں،یا اللہ معافی دے دیں“کہنا بہت محبوب ہے ایسے بندے کی تڑپ پہ فرشتے بھی رشک کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں