گنجے_لنگور_کا_انجام

گنجے لنگور کا انجام

EjazNews

دوستوںنے یہ منحوس خبر سنی تو ہمدردی کے لیے آئے۔ شیخ مظفر بھی سن کر آیا۔ میں نے ان سے کہا یا حضرت ! خوب تحفہ دیا تھا آپ نے۔ وہ گنجا لنگور اصل میں جن تھا۔ کم بخت میری دلہن کو لے گیا ہے۔
شیخ مظفر نے جواب دیا بھائی! مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ کم بخت جن ہے۔ اگر یہ جانتا تو اسے خریدتا ہی کیوں۔ اورپھر اس نے ہم لوگوں پر اتنا احسان کیا کہ اس سے بے وفائی کی توقع نہ ہوسکتی تھی۔
ایک دوست نے کہا ابو محمد ! اب صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ دولت کی تمہارے پاس کمی نہیں۔ کسی اور جگہ شادی کر لینا۔ جو ہونا تھا ہو چکا ۔ اب دل لگا کر اپنا کام کرو۔ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔
مگر میری حالت نہ سنبھلی۔ مایوسی نے بہت تنگ کیا تو ایک روز جنگل کی راہ لی۔ شام کو صحرا میں ایک مقام پر کھڑا ہاتھ مل رہاتھا کہ ایک بھورا اور ایک سفید سانپ نظر آیا۔ دونوں گٹھے ہوئے لڑے رہے تھے ۔ میں نے ایک ڈھیلا ماراتو بھورا سانپ ٹھنڈا ہوگیا اورسفید سانپ جا کے تھوڑی دیر میں دس سانپ اور لے آیا۔ ان سب نے مردہ سانپ کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ اور صرف سر باقی رہنے دیا۔
میں تھکا ہوا تو تھا ہی، ایک سایہ دار درخت کے نیچے سو رہا ۔ اچانک آنکھ کھلی تو ایک آواز آئی مگر صورت نہ دکھائی۔ اس کے بعد کسی نے یوں تسلی دی کہ اے مسلمان ! شیطانی خیال د ل سے نکال دے۔ ذرا خوف نہ کر۔ خدا مدد فرمائے گا۔

گنجا لنگور

میںنے دل کو مضبوط کرکے پوچھا خدا کے لیے سامنے آﺅ اور نام بتاﺅ!۔ تو ایک صورت نظر آئی۔ اس نے کہا کہ خوف کا مقام نہیں۔ تمہارا ہم پر احسان ہے۔ ہماری ساری قوم جنات تمہاری شکر گزار اور احسان مند ہے۔ اگر کوئی ضرورت ہو تو بتاﺅ اور مراد پاﺅ۔
میںنے کہا میں نے تم پر کون سا احسان کیا ہے؟۔ مجھے تو کچھ پتا نہیں۔
جن نے کہا سنو! تم نے جس بھورے سانپ کو مار ڈالا، وہ میرے بھائی سفید سانپ کا دشمن تھا۔ ہم سب تمہارے احسان مند ہیں۔ وہ لنگور جو تمہاری بیوی کو لے گیا ہے وہ بھی جن ہے۔
اس پر میں نے کہا اگر تم میری مدد کرنا چاہتے ہو تو اس جن سے میری بیوی کو چھڑا لاﺅ اور مجھ پر احسان کرو۔
جن بولا ہم اس جن کوقتل کر دیں گے اور تمہاری دلہن کو واپس لے آئیںگے اور تمام عمر تمہاری دوستی کا دم بھریں گے۔
اس کے بعد جن نے بڑے زور سے چیخ ماری۔ اس کے ساتھ ہی ایک لشکر امنڈ آیا اور ایک سپاہی نے اس لنگور کا پتا بتایا کہ شہر جنات میںاس کا مکان ہے۔ یہی اس کا سراغ و نشان ہے کہ اس شہر میں سورج کی کرن تک نہیں جاتی۔ روشنی کبھی صورت نہیں دکھاتی۔
پھر اس جن نے کہا اے ابو محمد ! میرا ایک ملازم تم کو وہاں لے جائے گا اور کل کارروائی بتائے گا۔ مگر خدا کا نام ز بان پر نہ لانا۔ ورنہ یہ جن تم کو پھینک دے گا اور اپنے گھر کی راہ لے گا۔
چنانچہ ایک جن نے مجھے اپنے کاندھے پر سوار کیااور لے اڑا۔ جن اڑ کر آسمان پر پہنچاتو ستارے پہاڑ کی مانند نظر آئے اور فرشتوں کی آواز سنائی دی کہ حمد باری تعالیٰ کر رہے ہیں۔ اتنے میں ایک شخص سبز لباس پہنے، ہاتھ میںنیزہ لیے سامنے آیا اور بولا ابو محمد ! اللہ اکبر، اللہ اکبر! لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ زبان پرلا۔ ورنہ اس نیزے سے قتل کر ڈالوں گا۔
میں نے فوراً کلمہ پڑھا ،اس پر اس مرد نورانی چہرہ نے اس جن کو نیزے سے مار ااور اس میں گرا تو گرتے گرتے سمندر میں آن گرا اوریہی سمجھا کہ بس زندگی تمام ہوئی۔
اسے میری خوش قسمتی سمجھئے یاکچھ اور کہ جب میں سمندر میں گرا تو ایک بہت بڑی لہرنے مجھے اٹھایااور ساحل پر پھینک دیا۔ کافی دیر بعد ہوش آیا تو صبح کی خوش گوار دھوپ دور دور تک پھیل چکی تھی۔ سمندر کی بھپری ہوئی موجیں ایک دوسرے کا پیچھا کرتے ہوئے ساحل سے ٹکرا رہی تھیں۔ جہاں تک نگا ہ جاتی تھی سمندر ہی سمندر نظر آتا تھا۔ ساحل سے اس طرف دور تک ریت کا لمبا چوڑا میدان پھیلا ہوا تھا اور اس میں دور دور تک کسی درخت یا جھاڑی کا نام نشان تک نہ تھا۔ ایک طرف پانی اور دوسری طرف ریت۔ میں سوچتا یا خدا اب کیا کروں ؟۔ کہاں جاوں ؟۔ کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا کہ اس وقت کہاں ہوں۔ اپنے وطن سے کتنی دور ہوں اور جہاں اس وقت کھڑا ہوں، یہ کون سی جگہ ہے۔ بہت دیر تک یہی سوچا کیا اور آخر خدا کویاد کر کے جدھر قدم اٹھے، چل پڑا۔

پتھر کی مورتوں والا شہر

چلتے چلتے دوپہر ہو گئی۔ سورج کی تپش نے برا حال کر دیا۔ اوپر سے دھوپ سیدھی سر میں اترتی اورنیچے سے گرم ریت پاﺅں جلاتی ۔ پیاس یہاں تک بڑھی کہ حلق سوکھ کر کانٹا بن گیا۔ ہونٹوں پر پٹپریاں جم گئیں۔ پاﺅں لڑ کھڑانے لگے اور آنکھوں تلے اندھیرا چھانے لگا۔ موت سامنے دکھائی دینے لگی۔ بڑا دکھ ہوا کہ تقدیر نے کہاں لا کے مارا، جہاں نہ کوئی اپنا ہے نہ پرایا۔ مرتے ہی صحرائی جانور ہڈیاں تک چبا ڈالیں گے۔ خدا اس گنجے لنگور کا خانہ خراب کرے کہ جس نے اس حالت کو پہنچایا۔ آبادی سے نکالا ، صحرا میں لا پھینکا۔
پیاس کی شدت اور ھوپ کی تپش کا مقابلہ کرتے ہوئے میں چلتا رہا۔ یہاں تک کہ شام ہو گئی۔ دن بھر آگ برسانے کے بعد سورج غروب ہوگیا۔ فضا میں کچھ خنکی آگئی۔ میں ریت کے ایک اونچے ٹیلے پر لیٹ گیا اور ایک ایک کرکے نمودار ہونے والے ستاروں کو دیکھنے لگا۔
رات ٹھنڈی تھی۔ ہلکی ہلکی ہوا مشرق سے مغرب کی سمت چل رہی تھی۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ میلوں تک پھیلے ہوئے صحرا میں شاید میں اکیلا انسان تھا جو تقدیر کے رحم وکرم پر تھا۔ جوں جوں رات گہری ہوتی جارہی تھی، مجھ پر خوف طاری ہو رہا تھا کہ نہ جانے کب کوئی درندہ اس طرف آنکلے اور مجھے پھاڑ کر رکھ دے۔نیند سے آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں مگر میں جاگنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں ڈرتا تھا کہ اگر سو گیا تو ممکن ہے سوتے میں کسی درندے کا شکار بن جاﺅں۔
میں ابھی اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ مغرب کی جانب سے کسی گھڑ سوار کی آہٹ سنائی دی اور پھر یکایک کوئی میرے قریب آگیا۔ خوف کے مارے پسینہ چھوٹ گیا۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اتنے میںآواز آئی اے ابو محمد ! ڈرونہیں۔ میں سفید سانپ کا بھائی ہوں۔ میں نے تم کو بہت تلاش کیا۔ اب جا کر تمہاری خبرپائی۔ اٹھو! اس گھوڑے پر سوار ہو جاﺅ۔ میں ابھی تم کو اس جن کے شہر میں لے چلتا ہوں ،جو گنجے لنگور کے روپ میں تمہارے پاس تھا۔ یہ کہہ کر مجھے گھوڑے پر بٹھایا اور نامعلوم سمت کو لے اڑا۔
جب اس شہر میں پہنچے تو اس نے مجھے گھوڑے سے اتارا۔ اور ایک تلوار دیتے ہوئے بولا یہ طلسمی تلوار ہے۔ جب تک یہ تمہارے ہاتھ میں رہے گی تمہیں کوئی بھی نہ دیکھ سکے گا۔ جسے چاہو گے پل بھر میں ڈھیر کر دو گے۔
میں نے تلوار لی اوربلا خوف آگے بڑھا تو کئی عجیب و غریب آدمی دیکھے۔ انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا ہم اس سانپ کے بھائی ہیں ۔ وہ خاتون اس وقت جن کے پاس ہے۔ پھر ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس چشمے کے پاس دیکھو کہ پانی کس رخ جاتا ہے۔ اسی راہ پر چلتے جاﺅ اور اس کو دیکھ آﺅ۔
میں ان کے بتائے ہوئے راستے پر چل پڑا ۔ کچھ دور جا کر ایک شہر نظر آیا ۔ چلتے چلتے ایک محل میں پہنچا تو وہاں اپنی بیوی کو سونے کے تخت پر بیٹھا دیکھا۔ لباس اور زیورات بھی بالکل شہزادیوں کے تھے۔ مجھے اس نے دیکھا تو پہچانا اورسلام کر کے کہا کہ آپ کو یہاں کون لایا؟ کس نے یہ پتا بتایا ؟۔
میں نے جواب میں اپنی پوری سرگزشت سنا دی ،میری آپ بیتی سن کر وہ کہنے لگی فلاں مقام پر ایک طلسم ہے۔ اس کو آگ سے جلاﺅ تو تمام جن حاضر ہو جائیں گے اور جو حکم دو گے، بجا لائیں گے۔
میںنے ایسا ہی کیا اور جب بہت سے جنات حاضر ہوئے تو میں نے کہا جو جن اس عورت کو لایا ہے اس کو مشکیں باندھ کے لاﺅ۔

لنگور غائب ہوگیا

جنات نے حکم کی تعمیل کی اور آن کی آن میں اس جن کو پکڑ لائے۔ جن کیا تھا پہاڑ تھا پہاڑ ۔ پاﺅں زمین پرتو چوٹی آسمان پر۔ کوئی انسان دیکھ پائے تو دیکھتے ہی غش کھائے۔ میں نے غصے سے چلا کر کہا ۔ کیوں نمک حرام ! گنجے لنگور ! ہم نے تیرے ساتھ دوستانہ سلوک کیا اور تو نے ہمیں اس کا یہ اجر دیا؟۔ کیا بھلائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں؟۔ احسان کرنے والے کو دغا دیتے ہیں؟۔
وہ رو رو کرکہنے لگا اے ابو محمد ! مجھ پررحم کر ! ایک بار معاف کر دے۔ ساری زندگی تیری غلامی کا دم بھروںگا۔ جو حکم دے گا ، بجالاﺅں گا۔ کبھی دغا نہ دوں گا۔
اس پر میں نے دوسرے جنات کی طرف دیکھا کہ وہ کیا کہتے ہیں؟وہ میرا مطلب سمجھ گئے اور ایک زبان ہو کر بولے آپ اس کی باتوں میں نہ آئیے حد درجے کا دھوکے باز ہے۔ جس تھالی میں کھائے اسی میں چھید کرے اسے ایسی سزا دیجیے کہ عمر بھر یاد کرے۔
تب میں نے حکم دیا اس ملعون کو ایک پیتل کی بوتل میں بند کر کے اس پر سیسا لگا دو، اور خوب زور سے جما دو! انہوں نے ایسا ہی کیا، میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس دغا باز کو پیتل کی بوتل میں بند کر کے اس پر سیسے کی ڈاٹ لگا دی اور بوتل کو سمندر میں پھینک دیا۔
پھر میں نے اپنی بیوی کو ساتھ لیااورگھر واپس آیا۔ جنوں کی فوج کو لا کر حکم دیاکہ میرا گھر سونے چاندی اور ہیرے جواہرات سے بھر دو۔ انہوں نے حکم کی تعمیل کی اور میرے گھر میں زرو مال کے انبار لگا دئیے۔
ابو محمد القرزان نے یہ قصہ سنا کرکہا ۔ اگر خلیفہ کو کسی شے کی ضرورت ہو تو جنوں کو حکم دوں اور ابھی حاضر کروں ؟۔
امیر المومنین ہارون الرشید کو یہ داستان سن کر بڑی حیرت ہوئی۔ کہا ہم اس عجیب و غریب کہانی سے بے حد مسرور ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے ایسا دلچسپ قصہ کبھی نہیں سنا۔ یہ کہہ کر ابو محمد القرزان کو ڈھیروں انعام و اکرام دیا، عزت بخشی، مرتبہ بڑھایا۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں