hazrat_ibrahim_as-4

حضرت ابراہیم علیہ السلام (حصہ چہارم)

EjazNews

بادشاہ کو دعوت اسلام اور اس سے مناظرہ:
اس زمانہ میں عراق کے بادشاہ کالقب نمرود ہوتا تھااوریہ رعایا کے صرف بادشاہی نہیں ہوتے تھے بلکہ خود کو ان کارب اور مالک جانتے تھے اور رعایا بھی دوسرے دیوتاﺅں کی طرح اس کو اپنا خدا اور معبود جانتی اور اس کی بھی اسی طرح پرستش کرتی تھی جس طرح دیوتاﺅں کی بلکہ ان سے بھی زیادہ پاس و ادب کے ساتھ، اس لئے کہ وہ صاحب عقل و شعور بھی ہوتا تھااور صاحب تخت و تاج بھی۔
نمرود کو جب معلوم ہوا تو بہت برا فروختہ ہوا اورسوچنے لگا کہ اس شخص کی پیغمبرانہ تبلیغ و دعوت کی سرگرمیاں اسی طرح جاری رہیں تو یہ میری ربوبیت ، ملوکیت اور الوہیت سے بھی سب رعایا کو برگشتہ کر دے گا اور اس طرح باپ دادا کے مذہب کے ساتھ ساتھ میری یہ سلطنت بھی زوال میں آجائیگی۔ اس لئے اس قصہ کا ابتدا ہی میں خاتمہ کر دینا بہتر ہے۔ یہ سو چ کر اس نے حکم دیاکہ ابراہیم کو ہمارے دربار میں حاضر کرو۔ ابراہیم علیہ السلام جب نمرود کے دربار میں پہنچے تونمرود نے گفتگو شروع کی اور ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا کہ تو باپ دادا کے دین کی مخالفت کس لئے کرتا ہے اور مجھ کو رب ماننے سے تجھے کیوں انکار ہے؟۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میں خدائے واحد کاپرستار ہوں، اس کے علاوہ کسی کو اس کا شریک نہیں مانتا ساری کائنات اورتمام عالم اسی کی مخلوق ہے اور وہی ان سب کا خالق و مالک ہے تو بھی اسی طرح ایک انسان ہی جس طرح ہم سب انسان ہیں پھر تو کس طرح رب یا خدا ہو سکتا ہے اور کس طرح یہ گونگے بہرے لکڑی کے بت خدا ہو سکتے ہیں ؟ میں صحیح راہ پر ہوں اورتم سب غلط راہ پر ہو اس لئے میں تبلیغ حق کو کس طرح چھوڑ سکتا ہوں اورتمہارے باپ دادا کے خود ساختہ دین کو کیسے اختیار کر سکتا ہوں ؟۔
نمرود نے ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اگر میرے علاوہ تیرا کوئی رب ہے تو اس کا ایسا وصف بیان کر کہ جس کی قدرت مجھ میں نہ ہو۔ تب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میرا رب وہ ہے جس کے قبضہ میں موت و حیات ہے وہی موت دیتا ہے اور وہی زندگی بخشتا ہے۔ کج فہم نمرود، موت و حیات کی حقیقت سے نا آشنا نمرود کہنے لگا ۔ اس طرح موت و حیات تو میرے قبضہ میںبھی ہے اور یہ کہہ کر اسی وقت ایک بے قصور شخص کے متعلق جلا دکو حکم دیا کہ اس کی گردن مار دو اور موت کے گھاٹ اتار دو۔ جلا د نے فوراً حکم کی تعمیل کر دی ا ور ایک قتل کے سزا یافتہ مجرم کو جیل سے بلا کر حکم دیا کہ جاﺅ ہم نے تمہاری جان بخشی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی جانب متوجہ ہو کرکہنے لگا دیکھا میں بھی کسی طرح بخشتا اور موت دیتا ہوں۔
ابراہیم علیہ السلام سمجھ گئے کہ نمرودیا موت و حیات کی اصل حقیقت سے نا آشنا ہے اور یا جمہور او رعایا کو مغالطہ دینا چاہتا ہے تاکہ وہ اس فرق کو نہ سمجھ سکیں کہ زندگی بخشنا اس کانام نہیںہے بلکہ نیست سے ہست کرنے کا نام زندگی بخشنا ہے اور اسی طرح کسی کوقتل یا پھانسی سے بچا لینا موت کا مالک ہونا نہیں ہے۔ موت کا مالک وہی ہے جو روح انسانی کو اس کے جسم سے نکال کر اپنے قبضہ میں کر لیتاہے۔ اس لئے بہت سے دار رسیدہ اور شمشیر چشیدانسان زندگی پاجاتے ہیںاور بہت سے قتل و دار سے بچائے ہوئے انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور کوئی طاقت ان کو نہیں روک سکتی اور اگر ایسا ہو سکتا تو ابراہیم علیہ السلام سے گفتگو کرنے والا نمرود سریر آرائے سلطنت نہ ہوتا بلکہ اس کے خاندان کا پہلا شخص ہی آج بھی اس تاج و تخت کا مالک ہوتا مگر نہ معلوم کہ عراق کی اس سلطنت کے کتنے مدعی زیرزمین دفن ہو چکے اور ابھی کتنوں کی باری ہے۔
بہر حال ابراہیم علیہ السلام نے سوچا کہ اگر میں نے اس موقع پر موت و حیات کے دقیق فلسفہ پر بحث شروع کر دی تونمرود کا مقصد پورا ہو جائے گا اور وہ جمہور کو مغالطہ میں ڈال کر اصل معاملہ کو الجھا دے گا اور اس طرح میرا مقصد فوت ہو جاتا ہے اور تبلیغ حق کے سلسلہ میں سر محفل نمرود کو لا جواب کرنے کا موقع ہاتھ سے جاتا ہے۔ کیونکہ بحث و مباحثہ اور جدل و مناظرہ میرا اصل مقصد نہیں ہے بلکہ لوگوں کے دماغ و قلب میں خدائے واحد کا یقین پیدا کرنا میرا مقصد وحید ہے۔ اس لئے انہوں نے اس دلیل کو نظراندا ز کر کے سمجھانے کا ایک دوسرا پیرایہ اختیار کیا اور ایسی دلیل پیش کی جس کا صبح و شام ہر شخص آنکھوں سے مشاہدہ کرتا اور بغیر کسی منطق دلیل کے روزوں شب کی زندگی میں اس سے دو چار رہتا ہے۔
ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میں اس ہستی کو اللہ کہتا ہوں جو روزانہ سورج کو مشرق سے لاتا اور مغرب کی جانب لے جاتا ہے ۔پس اگر تو بھی اسی کی طرح خدائی کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کے خلاف سورج کو مغرب سے نکال اور مشرق میں چھپا۔ یہ سن کر نمرود مبہوت اورلاجواب ہو کر رہ گیا اور اس طرح ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے نمرود پر خدا کی حجت پوری ہوئی۔
نمرود اس دلیل سے مبہوت کیوں ہوا اور اس کے پاس اس کے مقابلہ میں مغالطہ کی گنجائش کیوں نہ رہی؟ یہ اس لئے کہ ابراہیم علیہ السلام کی دلیل کا حاصل یہ تھا کہ میں ایک ایسی ہستی اللہ کو مانتا ہوں جس کے متعلق میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ ساری کائنات اور اس کا سارا نظام اس ہی نے بنایا ہے اور اس نے اس پورے نظام کو اپنی حکمت کے قانون سے ایسا مسخر کر دیا ہے کہ اس کی کوئی شے نہ وقت مقررہ سے پہلے اپنی جگہ سے ہٹ سکتی اور نہ ادھر ادھر ہو سکتی ہے۔ تم اس پورے نظام میں سے آفتا ب ہی کو دیکھو کہ عالم ارضی اس سے کس قدر فائدے حاصل کرتا ہے با اینہمہ اللہ تعالیٰ نے اس کے طلوع و غروب کا بھی ایک نظام مقرر کر دیا ہے۔ پس اگر آفتاب لاکھ بار بھی چاہے کہ وہ اس نظام سے باہر ہو جائے تو وہ اس پر قادر نہیں ہے کیونکہ اس کی باگ ایک خدا کے قبضہ و قدرت میں ہے۔ اس کو بیشک یہ قدرت ہے کہ جو چاہے کر گزرے لیکن وہ کرتا وہی ہے جو اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔
لہٰذا اب نمرود کے لئے تین ہی صورتیں جواب دینے کی ہو سکتی تھیں یا وہ یہ کہے کہ مجھے آفتاب پر پوری قدرت حاصل ہے اور میں نے ہی یہ سارا نظام بنایا ہے مگر اس نے یہ جواب اس لئے نہیں دیا کہ وہ خود اس کا قائل نہیں تھا کہ یہ ساری کائنات اس نے بنائی ہے اور آفتاب کی حرکت اس کے قبضہ قدرت میں ہے بلکہ وہ تو خود کو اپنی رعایا کا رب اور دیوتا کہلاتا تھا۔
دوسری صورت یہ تھی کہ وہ کہتا میں اس عالم کو کسی کی مخلوق نہیں مانتا اور آفتاب ، تو خود مستقل دیوتا ہے اس کے اختیارات میں خود بہت کچھ ہے مگر اس نے یہ بھی اس لئے نہ کہا کہ اگر وہ ایسا کہتا تو ابراہیم علیہ السلام کا وہی اعتراض سامنے آجاتا جو انہوں نے جمہور کے سامنے آفتاب کی ربوبیت کے خلاف اٹھایا تھا کہ اگر یہ رب ہے تو عابدوں اورپجاریوں سے زیادہ اس معبود اور دیوتا میں تغیرات اور فنا کے اثرات کیوں موجود ہیں۔ رب کو فنا اور تغیر سے کیا علاقہ، اور کیا اس کی قدرت میں یہ ہے کہ اگر وہ چاہے تو وقت مقررہ سے پہلے یا بعد طلوع یا غروب ہو جائے۔
تیسری صورت یہ تھی کہ ابراہیم علیہ السلام کی تحدی (چیلنج) کوقبول کرلیتا اور مغرب سے نکال کر دکھا دیتا۔ مگر نمرود چونکہ ان تینوں صورتوں میں کسی صورت میں بھی جواب پر قادر نہ تھا اس لئے مبہوت اور لاجواب ہو جانے کے علاوہ اس کے پاس دوسرا کوئی چارہ کار باقی نہ رہا۔
قرآن عزیز نے سورة بقرہ میں اس واقعہ کو مختصر مگر لطیف پیرایہ میں بیان کیا ہے۔
ترجمہ: کیا تو نے نہیں دیکھا اس شخص کا واقعہ ، جس کو اللہ نے بادشاہت بخشی تھی اس نے کس طرح ابراہیم سے اس کے پروردگار کے بارہ میں مناظرہ کیا؟ جب کہا ابراہیم نے میرا پروردگار تو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے۔ بادشاہ نے کہا میں بھی زندگی بخشتا ہو اور موت دیتاہوں، ابراہیم نے کہا بلا شبہ اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے پس تو اس کو مغرب سے نکال کردکھلا، بس وہ کافر مبہوت اور لاجواب ہو کر رہ گیا اور اللہ ظلم کرنے والوں کو راہیاب نہیں کرتا۔(بقرہ)
الحاصل حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی ۔ پیغام حق سنایا اورراہ مستقیم دکھائی، اس کے بعد عوام اور جمہور کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اورسب کو امر حق تسلیم کرانے کے لئے فطرت کے بہترین اصول و دلائل کو پیش کیا اورنرمی، شیریں کلامی مگر مضبوط و محکم اور روشن حجت و دلیل کیساتھ ان پر حق کو واضح کیا اورسب سے آخر میں بادشاہ نمرود سے مناظرہ کیا اور اس پر روشن کیا کہ ربوبیت والوہیت کا حق صرف خدائے واحد ہی کے لئے سزا وار ہے اور بڑے سے بڑے شہنشاہ کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس کی ہمسری کا دعویٰ کرے۔ کیونکہ وہ اور کل دنیا اسی کی مخلوق ہے۔ مگر اس کے باوجود کہ بادشاہ ، آزر اور جمہور، ابراہیم علیہ السلام کے دلائل سے لا جواب تھے اور دلوں میں قائل، بلکہ بتوں کے واقعہ میں تو زبان سے اقرار کرتے تھے کہ ابراہیم جو کچھ کہتا ہے وہی حق ہے اور صحیح و درست تاہم ان میں سے کسی نے راہ مستقیم کو اختیار نہ کیا اور نہ وہ قبول حق کیلئے آمادہ ہوئے بلکہ اس کے برعکس اپنی ندامت و ذلت سے متاثر ہو کر زیادہ غیظ و غضب میں آگئے اوربادشاہ سے ر عایا تک سب نے متفقہ فیصلہ کر دیا کہ دیوتاﺅں کی توہین اور باپ دادا کے دین کی مخالفت میں ابراہیم کو دہکتی آگ میں جلا دینا چاہیے کیونکہ ایسے سخت مجرم کی سزا یہی ہو سکتی ہے اور دیوتاﺅں کی تحقیقر کا انتقام اسی طرح لیا جاسکتا ہے۔
آگ کا سرد ہونا:
اس مرحلہ پر پہنچ کر ابراہیم علیہ السلام کی جدو جہدکا معاملہ ختم ہوگیا اور اب دلائل و براہین کی قوت کے مقابلہ میں مادی طاقت و سطوت نے مظاہرہ شروع کر دیا ۔باپ اس کا دشمن، جمہور اس کے مخالف اور بادشاہ وقت اس کے درپے آزار، ایک ہستی اور چہار جانب سے مخالفت کی آواز، دشمنی کے نعرے اور نفرت و حقارت کے ساتھ سخت انتقال اور خوفناک سزا کے ارادے تھے۔ ایسے وقت میں اس کی مدد کون کرے اور اس کی حمایت کا سامان کس طرح مہیا ہو؟۔
ابراہیم علیہ السلام کو نہ اس کی پرواہ تھی اور نہ خوف وہ اسی طرح بے خوف و خطر اور لومة لائم کی پرواہ کیے بغیر اعلان حق میں سرشار اور دعوت رشد و ہدایت میں مشغول تھے ۔البتہ ایسے نازک وقت میں جب تمام مادی سہارے ختم ،دنیوی اسباب ناپید، اور حمایت و نصرت کے ظاہر ی اسباب مفقود ہو چکے تھے ۔ابراہیم علیہ السلام کو اس وقت ایک ایسا بڑا زبردست سہارا حاصل تھا جو تمام سہاروں کاسہارا اور تمام نصرتوں کا ناصر کہا جاتا ہے اور وہ خدائے واحد کا سہارا تھا۔ اس نے اپنے جلیل القدر پیغمبر، قوم کے عظیم المرتبت ہادی اور رہنما کو بے یارو مددگار نہ رہنے دیا اور دشمنوں کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔ ہوا یہ کہ نمرود اورقوم نے ابراہیم علیہ السلام کی سزا کے لئے ایک مخصوص جگہ بنوائی اور اس میں کئی روز مسلسل آگ دہکائی گئی حتیٰ کہ اس کے شعلوں سے قرب و جوار کی اشیاءتک جھلسنے لگیں جب اس طرح بادشاہ اور قوم کو کامل اطمینان ہوگیا کہ اب ابراہیم اس سے بچ نکلنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی، تب ایک گوپھن میں ابراہیم ؑ کو بٹھا کر دہکتی آگ میں پھینک دیا گیا۔
اس وقت آگ میں جلانے کی تاثیر بخشنے و الے نے آگ کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم ؑپر اپنی سوزش کا اثر نہ کرے اور نازی عناصر کا مجموعہ ہوتے ہوئے اس کے حق میں سلامتی کے سرد پڑ جائے آگ اسی وقت حضرت ابراہیم ؑ کے حق میں ”برود سلام “ بن گئی اور دشمن ان کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا سکے اور ابراہیم علیہ السلام دہکتی آگ سے سالم و محفوظ دشمنوں کے نرغنہ سے نکل گئے۔
اس مقام پر ایک مذہبی انسان کی طمانیت قلب اور سکون خاطر کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ آگ کے بردو سلام ہو جانے کو اس لئے صحیح اور مبنی بر حقیقت سمجھے کہ اس نے اپنی عقل اور اپنے شعور سے اول اس امر کا امتحان کر لیا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم وحی الٰہی کی تعلیم ہے اور اس کی لانے والی ہستی کی زندگی کا ہر پہلو پیغمبرانہ معصومیت کے ساتھ وابستہ ہے اور یہ کہ وہ جن معجزانہ حقائق کی اطلاع بہم پہنچاتا اور وحی الٰہی کے ذریعہ ہم کو سناتا ہے وہ عقل کے لئے اگرچہ حیران کن ہیں لیکن عقل کی نگاہ میں محالااور نا ممکن نہیں اس لئے ایک مخبر صادق (کہ جس کی زندگی کی صداقت کا ہر پہلو سے امتحان کر کے اطمینان کر لیا گیا ہے) کی اس قسم کی خبریں بلاشبہ صحیح اور حق ہیں ۔
بہر حال قرآن کریم میں ابراہیم علیہ السلام کے اس معجزہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔
ترجمہ: وہ سب کہنے لگے اس کو جلا ڈالو اور اپنے دیوتاﺅںکی مدد کرو اگر تم کرنا چاہتے ہو ہم نے حکم دیا اے آگ تو ابراہیم کے حق میں سرد اور سلامتی بن جا اور انہوں نے ابراہیم کیساتھ مکر کا ارادہ کیا، پس ہم نے ان کو ان کے ارادہ میںناکام بنادیا، انہوں نے کہا اس کے لئے ایک جگہ بناﺅ اور اس کو دہکتی آگ میں ڈالو ، پس انہوں نے اس کے ساتھ ارادہ بد کیا تو کر دیا ہم نے ان کو پست و ذلیل اور کہا ابراہیم نے میں جانیوالا ہوں اپنے پروردگار کے پاس قریب ہے وہ مجھے راہیاب کریگا۔ (الصافات)
حدیث بخاری:
ابراہیم علیہ السلام کے واقعاتمیں قرآن کریم نے اس موقع پرجبکہ ابراہیم علیہ السلاماور قوم کے بعض افراد کےدرمیان میلے کی شرکت کے لئے گفتگو ہو رہی تھی ابراہیم علیہ السلام کا یہق ول نقل کیا ہے ’دقال انی سقیم “ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میں بیمار ہوں اورجب بتوں کی شکست و ریخت کے سلسلہ میں انس ے دریافت کیا گیات وان کا جواب اس طرح منقول ہے۔
ترجمہ : ابراہیم نے کہا بلکہ ان میں سے سب سے بڑے بت نے یہ کیا ہے۔ پس ان سے پوچھو اگر یہ بول سکتے ہیں؟۔
ان دونوں جملوں کے متعلق ایک خالی الذہنانسان ایک لمحہ کے لئے بھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ ان میں جھوٹ کا بھی کوئی شائبہ ہو سکتا ہے ؟ ”انی سقیم “ میں علالت طبع کا ذکر ہے۔
جس کو ابراہیم علیہ السلام ہی خوب جان سکتے ہیں کہ وہ کیا بیمارہیں۔ اس میں دوسرے کو خواہمخواہ شک اور تردد کاکونسا موقع ہے حتیٰ کہ اگر ایک شخص ظاہر بین نگاہوں میں تندرست نظر آتا ہو تب بھی ضروری نہیں ہے کہ واقعی تندرست ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کا مزاج کسی وجہس ے حد اعتدال پر نہ ہو اور ایسی تکلیف میں مبتلا ہو جس کا اظہار کئے بغیر دوسرا اس کو نہ سمجھ سکے۔ اسی طرح دوسری آیت کا معاملہ ہے اس لئے کہ دو مختلف الخیال انسانوں کے درمیان اگر مناظرہ اور تبادلہ خیالات کی نوبت آجاتی ہے تو معمولی حرف شناس بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ اپنے حریف کو اس کی غلطی پر متنبہ کر کے اورلاجواب کردینے کابہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے مسلمات میں سے کسی مسلمہ عقیدہ کو صحیح فرض کر کے اس طرح اس کا استعمال کرے کہ اس کا ثمرہ اور نتیجہ حریف کے خلاف اور اپنے موافق ظاہر ہو۔
ابراہیم علیہ السلام نے یہی کیا ، ان کی قوم کا یہ عقیدہ تھا کہ ان کے دیوتا سب کچھ سنتے اور ہماری مرادوں کو پورا کرتے ہیں وہ اپنے پجاریوں اور معتقدوں سے خوش اور پانے دشمنوں اور مخالفوںسے سخت انتقال لیتے ہیں، ابراہیم علیہ السلام نے جب ان دیوتاﺅں کوت وڑ پھوڑ ڈالا تو بڑے بت کو چھوڑ دیا، آخر جب پوچھ گچھ کی نوبت آئی تو انہوں نے مناظرہ کا وہی بہترین اسلوب اختیار کیا جس کا تفصیلی آچکا ہے۔ اور نتیجہ یہ نکلا کہ کاہنوں پجاریوں اور ساری قوم کو یہ اعتراف کرناپ ڑا کہ ہم ہی غلطی پر ہیں اور تو خود حقیقت شناس ہے کہ ان میں گویائی کی طاقت نہیں ہے۔
لہٰذا اندونوں جملوں میںایکب ات بھی ایسی نہیں ہے جس کو حقیقةً یا صورةً جھوٹ کہا جاسکے ، یہ دو باتیں تو قرآن کریم میں مذکور ہیں لیکن ایک تیسری بات بخاری، مسلم اور دوسری کتب حدیث کی ایک روایت میں موجود ہے اور اس میں مسطور ہ بالا ان دونوں باتوں کا بھی ذکر ہے وہ حدیث ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔
بخاری جلد 6میں حدیث مذکور ہے : نہیں جھوٹ بولا کبھی ہرگز ابراہیم نبی علیہ السلام نے مگر تین جھوٹ ۔ الخ ۔
اور پھر تفصیل کے ساتھ ان تینوں کو شمار کیا ہے۔ ان میں سے دو کا ذکر ابھی ہو چکا اور تیسری یہ مذکور ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کا جب مصر سے گزر ہوا تو انہوں نے مصر پہنچنے سے پہلے اپنی زوجہ مطہرہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا سے یہ فرمایا کہ یہاں کابادشاہ جابر و ظالم ہے۔ اگر کسی حسین عورت کو دیکھتا ہے تو اس کو زبردستی چھین لیتا ہے اور اس کے ساتھ مرد کو اگر وہ اس عورت کا شوہر ہے تو قتل کر ڈالتا ہے اور اگر کوئی دوسرا عزیز ہے تو اس سے کوئی تعرض نہیں کرتا۔ تم چونکہ میری دینی بہن ہو اور اس سرزمین میں میرے اورتمہارے علاوہ دوسرا کوئی مسلمان نہیں ہے اس لئے تم اس سے کہہ دینا کہ یہ میرا بھائی ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جب شب میں اس نے ارادہ بد کیا تو اس کا ہاتھ شل ہو کر رہ گیا اور وہ کسی طرح حضرت سارہ کو ہاتھ نہ لگا سکا ،یہ دیکھ کر اس نے سارہ ؓ سے کہا اپنے خدا سے دعا کر کہ میرا ہاتھ درست ہو جائے تو میں تجھ کو رہا کر دوں گا سارہ نے دعا کی مگر اس نے پھر ارادہ بدکیا، دوبارہ اس کا ہاتھ شل ہو گیا ، تیسری مرتبہ پھر یہی تمام قصہ پیش آیا تب اس نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے یہ ”جن “ ہے انسان نہیں ہے اس کو میرے پاس سے جلد لیجاﺅ اورساتھ ہی ہاجرہ ؓ کو حوالہ کر کے کہا کہ اس کو بھی اپنے ساتھ لیجا میں نے تیرے حوالہ کیا۔ جب سارہ ؓ، ہاجرہؓ، کو ساتھ لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچیںتو انہوں نے حال دریافت کیا۔ سارہ ؓ نے مبارکباد دی اورکہا شکر ہے خدائے عزوجل کا کہ اس نے ہم کو اس فاسق و فاجر سے نجات دی اور آپ کے لئے ایک خادمہ اور ساتھ کر دی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ حدیث نقل کر کے فرمایا ”اے شریف النسب اہل عرب یہ ہیں وہ ہاجرہ جو تم سب کی ماں ہیں۔“
یہ حدیث مختلف طریقوں سے کتب احادیث میں منقول ہے ۔اس کے علاوہ بخاری میں ایک اور طویل حدیث ہے جو حدیث شفاعت کے نام سے موسوم ہے ا ور متعد ابواب بخاری مثلاً سورة بقرہ کی تفسیر کے باب میں ”کتاب الاسترقاق میں اور کتاب التوحیدمیں مذکور ہے۔ اس میں حضرت ابراہیم کا جو تذکرہ ہے اس کا حاصل یہ ہے:
میدان حشر میں جب سب مخلوق آدم ، نوح علیہما السلام اور دوسرے انبیاءسے شفاعت کے لئے کہہ چکی تو حضرت ابراہیم کے پاس پہنچی اوران سے کہا کہ آپ خلیل الرحمن ہیں آپ ہماری سفارش بارگاہ الٰہی میں کیجئے کہ جلد فیصلہ ہو۔ تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ کوشرم آتی ہے اس لئے کہ میں نے دنیا میں تین جھوٹ باتیں کہی تھی۔ انی سقیم ، بل فعلہ کبیرھم اور اپنی بیوی سے کہا تھا کہ انی اخوک۔
بخاری کے علاوہ یہ روایت مسلم ، مسند احمد، صحیح ابن خزیمہ، مستدرک حاکم ، معجم طبرانی، مصنف ابن ابی شیبہ، ترمذی اور مسند ابی غوانہ میں مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
یہ روایت کتب حدیث میں اجمال و تفصیل کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے روایت کی گئی ہے۔ بعض میں صرف اجمالی طور پر اسی قدر تذکرہ ہے کہ ہر نبی اس وقت اپنی لغزش کو بیان کرکے معذرت کرینگے کہ وہ شفاعت نہیں کر سکتے اوربعض میں ابراہیم علیہ السلام کے جواب میںفقط ”ثلث کذبات “ ہی کاذکر ہے اور بعض روایات میں ان تینوں کی تفصیل ہے اور ان ہی میں بعض روایات میں یہ تصریح بھی موجو دہے۔
ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابراہیم علیہ السلام کے ان تینوں جھوٹ میں سے ہر ایک صرف اللہ تعالیٰ کے دین کی مدافعت و حمایت ہی کے لئے بولا گیا ہے۔
بہر حال یہ دونوں روایات صحیحین(بخاری و مسلم) کی ر وایات ہیں جو ہرقسم کے سقم روایت سے پاک اور صاف ہیں۔ یہ روایات ابراہیم علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر اور مجدد انبیاءکی جانب ”کذب “ کی نسبت کر رہی ہیں اگرچہ انہی روایات کے بعض طریق روایت نے یہ صاف کر دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ”کذب “ سے مراد وہ عام معانی نہیں لئے جو اخلاقی بول چال میں نہایت شنیع اور گناہ کبیرہ میں شمار ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس یہ واضح کیا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے یہ تینوں باتیں نہ ذاتی غرض کے لئے کہی ہیں اور نہ دنیوی مصلحت کے پیش نظر بلکہ دشمنان خدا کے مقابلہ میں خالص اللہ تعالیٰ کے دین کی حمایت میں کہی ہیں مگر پھر بھی جو بات دل میں کھٹکتی اورقلب پر ایک بھاری بوجھ محسوس ہوتی ہے وہ حدیث کی یہ تعبیر ہے۔
یہ تسلیم کہ روایت کب بعض تصریحات نے اس کو ”کذب “ کے عام معنی سے جدا کردیا تاہم اول تو یہ ”زیادت “ صحیحین میں مذکور نہیں اگرچہ صحیح روایت میںموجود ہے ۔دوسری جبکہ ”صدق لسانی“ انبیاءعلیہم السلام کی غیر منفک اور عصمت نبی کے لئے ایک ضروری صفت ہے نیز جبکہ خصوصیت کیساتھ قرآن کریم نے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق حسب ذیل امتیازات کا صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے تو پھر ان کے ساتھ صورة ًبھی کذب کی نسبت کیسی؟۔
ترجمہ: اور یاد کر کتاب میںابراہیم کاذکر بیشک تھا وہ صدیق نبی۔ (مریم)
”صدیق “ مبالغہ کا صیغہ ہے اور اسی ہستی پر اس کا اطلاق کیا جاتا ہے ”صدق “ کی ذاتی اور نفسیاتی صفت ہو۔
ترجمہ: بیشک ابراہیم تھا راہ ڈالنے والا حکم بردار، خالص اللہ کی طرف جھکنے والا اور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے، خدا کی نعمتوں کا شکر گزار تھا ،خدا نے اس کو چن لیا تھا اورسیدھی راہ کی اس کو ہدایت دی ۔(النمل)
مجتبیٰ اور مہدی ایسی صفات ہیں کہ جن کے ساتھ کذب نہ حقیقةً جمع ہو سکتا ہے اور نہ صورةً۔
ترجمہ: پھر ہم نے تیری طرف وحی بھیجی کہ تو ملت ابراہیم کی پیروی کر جو ابراہیم کہ خالص خدا کی جانب جھکنے والا ہے۔ (النحل)
یہ وہ ابراہیم جن کی ملت کی اقتدا اور پیروی کا حکم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت مرحومہ کو دیا جارہا ہے۔
ترجمہ: اور بلا شبہ ہم نے ابراہیم کو رشد و ہدایت شروع ہی سے بخش دی تھی اور ہم ہی اس کو جاننے والے ہیں (الانبیائ)
یہ اور اسی قسم کی بہت سی آیات حضر ت ابراہیم کی ان خصوصی صفات کا ذکر کرتی اور نصوف قطعیہ پیش کر تی ہے کہ کن کے بعد ایک لمحہ کے لئے بھی اس جیسی مقدس اور جلیل القدر ہستی کے متعلق ”کذب “ کا تصور نہیں ہوسکتا۔ چہ جائیکہ وقوع اور عمل خواہ وہ کذب حقیقی معنی میں ہو یا محض کذب کی صورت میں۔
زیر بحث مسئلہ:
اس مقام پر پہنچ کر یہ واضح کر دینا بھی ضروری ہے کہ مسئلہ زیربحث یہ نہیں ہے کہ ”العیاذ باللہ “ ابراہیم علیہ السلام نے واقعی جھوٹ بولا۔ کیونکہ قرآن کریم کی قطعی نصوص اور زیر بحث روایات کے علاوہ احادیث نصوص ابراہیم علیہ اسلام کو نبی پیغمبر اور رسول بتاتی اور ان کی امتیازی صفات صدیق مجتبیٰ، مہدی، نبی ، حنیف اور رسول ثابت کرتی ہیں۔ نیز زیر بحث روایت میں بھی یہ واضح ہے کہ ان کے یہ کلمات خدا کے دین کی حمایت و مدافعت کے لئے تھے نہ کہ کسی اور غرض سے۔ لہٰذا ایک لمحہ کیلئے بھی اس میں تردد کی گنجائش نہیں ہے کہ ”کذب “ ان سے اس طرح دور ہے جس طرح دن سے رات اور روشنی سے تاریکی اور بلاشبہ وہ ایک نبی معصوم ہیں اور ہرقسم کی معصیت و گناہ سے پاک۔
البتہ زیر بحث مسئلہ یہ ہے کہ ان دو صحیح روایات میں ان تینوں باتوں کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جلیل القدر پیغمبر کے بارہ میں ”کذب“ کی تعبیر کیوں فرمائی جبکہ آپ کی ذات اقدس ضروریات دین اور عقائد اسلامی کے بارہ میں ابہام اور گنجلک کو دور کرنے کا باعث ہے نہ کہ ابہام والتباس پیدا کرنیکا ؟۔ خصوصاً جبکہ یہ تینوں باتیں خود اپنی جگہ کسی حال میں نہ صورت میں کذب ہیں اور حقیقی معنی میں۔
بلاشبہ حضرت سارہ حضرت ابراہیم کی دینی بہن تھیں اور بیوی کے رشتہ سے اسلامی اخوب کا رشتہ منقطع نہیں ہوجاتا۔ نیز ابن کثیر اور دوسرے مورخین کی تحقیق میں وہ ان کے چچا حاران کی بیٹی تھیں۔ اس لئے چچا زاد بہن بھی تھیں اور بلاشبہ ان کا مزاج ناساز تھا گوسخت بیماری نہ سہی اس لئے ”انی سقیم “ ہر حیثیت سے صحیح ہے اور بلاشبہ انہوں نے مناظرانہ طرز خطابت میں دشمن کو لا جواب کرنے کے لئے فرمایا ”بل فعلہ کبیرھم “ اور یہ علمی دنیا میں کسی حیثیت سے بھی جھوٹ نہیں تھا۔ تو پھران ہر دو احادیث میں اس قدر سخت تعبیر کیوں اختیار کی گئی؟ ۔اس اشکال کے جواب میں علماءاسلام نے دور اہیں اختیار فرمائی ہیں۔
(۱) یہ اخبارآحاد ہیںاس لئے جرا¿ت کے ساتھ یہ کہہ دینا چاہئے کہ اگرچہ یہ روایتیں صحیحین کی ہیں اور اس لئے مشہور کی حد تک پہنچ گئی ہیں مگر راوی کو ان روایات میں سخت مغالطہ ہوا ہے، لہٰذا ہرگز قابل قبول نہیں ہیں اس لئے کہ ایک نبی کی جانب کذب کی نسبت کے مقابلہ میں راوین کی غلطی کااعتراف بدر جہا بہتر اور صحیح طریق کا رہے۔
امام رازی رحمة اللہ علیہ کا رجحان اسی جانب ہے اور انہوں نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
(۲) یہ قطعی اور یقینی عقیدہ ہے کہ نبی اور رسول کی جانب ”کذب “ کی نسبت کسی حال میں درست نہیں ہے۔ ایسی صورت میںاگر مستند اور صحیح روایات میں جو کہ حدشہرت و تواتر کو پہنچ چکی ہوں اس قسم کی کوئی نسبت موجود ہو ،جو نبی کی نبوت کے شان کے منافی ہو توان روایات کوصحیح مانتے ہوئے ان خصوصی جملوں کی اسی توجیہ کرنی چاہئے جس سے اصل مسئلہ پر بھی زد نہ پڑے اورصحیح روایات کاانکار بھی لازم نہ آئے پس چونکہ صحیحین کی یہ روایات ”تلقی بالقبولی “کی وجہ سے صحت اورشہرت کے اس درجہ اور مرتبہ کو پہنچ چکی ہیں جو اخبارآحاد میں شمار نہیں ہو سکتیں اس لئے ان روایات کو مردود قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ ”ثلث کذبات “کے جملہ کی یہ توجیہ کرنی چاہئے کہ اس مقام پر کذب سے مراد یہ ہے کہ ایسا کلام جو صحیح اور پاک مقصد کے لئے بولا گیا ہولیکن مخاطب اس کا وہ مطلب نہ سمجھے جو متکلم کی مراد ہے بلکہ ان الفاظ کو اپنی ذہنی مراد کے مطابق سمجھے اوریہ معنی صرف ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کے لئے ہی نہیں تراشے گئے بلکہ علم بدیع کی اصطلاح میں اس کو معاریض کی اقسا میں شمار کیا گیا ہے اور فصحاءوبلغاءکے کلام میں اکثر رائج ہے۔
اس طرح روایات کا انکار بھی لازم نہیں آئے گا اور صداقت نبی کا مسئلہ بھی اپنی جگہ بغیر کسی غل و غش کے صحیح رہے گا ۔ چنانچہ حدیث شفاعت کے وہ الفاظ ”مامنھا کذبة الاماحل بدعن دین اللہ “ہماری اس توجیہ کی تائید کرتے ہیں جمہور علماءاسلام کی یہی رائے ہے اور وہ امام رازی اوران کے ہمنوا علماءکی پہلی رائے کو غلط قرار دیتے ہیں۔
مشہور مصری عالم عبد الوہاب بخار نے قصص الانبیاءمیں امام رازی کی ر ائے کیساتھ موافقت کی ہے اور مصری علماءعصر کی رائے کے خلاف جو دراصل جمہورکی تائید میں نجار کی رائے پر تنقید کی شکل میںظاہر کی گئی ہے کافی شرح وبسط کے ساتھ لکھا ہے جس میں حضرت ابراہیم ؑ و سارہ کے اس واقعہ سے انکار کیا ہے۔
مولف کی رائے:
مگر ان ہر دو آراءسے الگ اورصاف راہ یہ ہے کہ صحیح حدیث کے انکار اور اس کے الفاظ کی رکیک تاویل کیے بغیر ہی مسئلہ کو اس طرح حل کر دیا جائے کہ اصل مسئلہ ”عصمت پیغمبر“ پر بھی حرف نہ آنے پائے اور اس قسم کے مواقع سے ناجائز فائدہ اٹھانیوالوں اور احادیث نبوی ے ساتھ تمسخر اور مذاق کرنیوالوں کوبھی الحاد کی جرا¿ت نہ ہو سکے۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ”عصمت پیغمبر “ کا مسئلہ بلا شبہ اصول دین اور مہمات عقائد میں سے ہے بلکہ دین و مذہب کی صداقت کی اساس و بنیاد صرف اسی ایک مسئلہ پر قائم ہے کیونکہ یہ تسلیم کرلینے کے بعد کہ بعض حالات میں نبی اورپیغمبر بھی ”کذب“ کی کوئی نہ کوئی شکل و صورت اختیار کر سکتا ہے خواہ وہ حمایت حق ہی کے لئے کیوں نہ ہو ۔ اس کی لائی ہوئی تمام تعلیم سے یہ امتیاز اٹھ جائے گا کہ اس میں سے کونسا جزءاپنی حقیقی مراد کے ساتھ وابستہ ہے اور کونسا ”کذب “ کے رنگ میں رنگا ہوا اور اگر یہ مان لیا جائے توپھر دین، دین نہیں رہ سکتا اور نہ مذہب مذہب ۔
اس لئے قرآن کریم کا یہ منصوص عقیدہ عصمت پیغمبر اپنی جگہ غیر متبدل عقیدہ ہے اور اس لئے بلاشبہ جو اس عقیدہ کی صداقت پر حرف گیری کا باعث بنے وہ خود اپنی جگہ یا قابل ردو انکار ہے اوریا اپنی صحت تعبیر کیلئے جوابدہ ۔ پس اس محکم عقیدہ کو اپنی جگہ سے ہٹنے کی ضرورتپیش نہیں آئےگی۔ بلکہ اس سے معارض شے کو یا اس کے مطابق ہوناپڑیگا ورنہ تو مٹ جانا ہوگا۔
اسی طرح یہ امر بھی مسلم ہے کہ قرآن کی تفسیر و تشریح صرف لغت عرب سے یہ نہیں کی جاسکتی بلکہ جس طرح اس کے مفہوم سمجھنے کے لئے لغت کی معرفت ضروری ہے اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اعمال اور احوال کی معرفت کی ضرورت ہے جو کلام اللہ کی صحیح توجیہ تفسیر اور تشریح کے حامل ہیں۔
بلا شبہ یہ حقیقت ہے کہ مثلاً قرآنی احکام ” اقیمو الصلو، اتوا الزکوة ، اتمو الحج والعمرة ، فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ“ میں نماز ، زکوٰة، حج اور روزہ کے مفہوم اور معنی کو ہم کسی طرح بھی ”لغت عربی“ کے ذریعہ متعین نہیں کرسکتے اورتنہایہ لغوی معنی و مفہوم ،قرآن احکام کا مصداق نہیںبن سکتے بلکہ ان کی معرفت کے لئے ہم مجبور ہیں کہ پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وسلم کے ان اقوال و اعمال کی طرف رجوع کریں جو ان فرائض کی تفسیر وتشریح میں کہے گئے یا کیے گئے ہیں اور یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ صرف تعامل کے ذریعہ ہم ان فرائض کی حقیقت سے آگاہ ہو سکیں۔
اس لئے کہ اگر وقت نظر سے کام لیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ تعامل کا مبدا بھی آخر کار قول و عمل رسول پر ہی جا کر منتہی ہوتا ہے۔ لہٰذا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول و عمل کو بھی جزو دین سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے اور بغیر اس تسلیم و رضا کے آیت ۔
ترجمہ: بلا شبہ خدا کے پیغمبر میںاس شخص کیلئے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ اورآخرت کے دن پر امید لگاتا ہے۔
کے کوئی معنی نہیں بنتے کیونکہ یہ اسوہ حسنہ خود قرآن عزیز اور اس کی آیات نہیں بلکہ اس پیغمبر کا قول ، عمل اور حال ہی اسوہ حسنہ ہے اور جبکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ اقوال اعمال اور احوال جز ءدین ہیںتو ضروری تھا کہ ان کی حفاظت کا ایسا سامان مہیا ہو جو خاتم النبین کی امت کیلئے رہتی دنیا تک محفوظ طریقے سے پہنچ سکے اوراس جو ہر خالص میں جب کبھی کھوٹ کی ملاوٹ کی جائے تواس کے محافظین اورفن کے ماہرین فوراً دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی کر کے کھرے کھوٹے کو الگ کر سکیں ۔پس اسی طریقہ حفاظت کا نام روایت حدیث اور نقد حدیث ہے۔ اور اسی فن کو فن حدیث کہتے ہیں اوریہی وہ شریف اور مقدس خدمت ہے جس نے اپنوں سے نہیںبلکہ غیروں سے بھی خراج تحسین حاصل کیا ہے اور اس خدمت کو اسلام کا امتیازی نشان تسلیم کرایاہے۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اقوال و اعمال کی روایت کی حفاظت کے سلسلے میں کھرے اور کھوٹے کے امتیاز کے لئے زمانہ نبوت سے اب تک جو خدمت ہوتی آرہی ہے اس کی اہمیت اس سے ظاہر ہو سکتی ہے کہ روایت حدیث کافن تقریباً چودہ فنون اور شاخوں میں منقسم ہے۔
لہٰذا از بس ضروری ہے کہ ہم کسی ایک ایسی روایت یا روایت کے جملہ کو جو اپنی لفظی اور ظاہری تعبیر میں مسلمہ عقیدہ کے بارے میں ابہام پیدا کرتا ہو صحیح اور مقبول مشہو راور متواتر روایات حدیث کے انکار پر حجت و دلیل قائم نہ کرلیں اور اس کو انکار حدیث کا ذریعہ بنا کرقرآن کریم کو ایک ایسی اجنبی کتاب نہ بنا دیں جس کی تعبیر کے لئے نہ کسی پیغمبر کی تفسیری اقوال ہیں اور نہ تشریحی اعمال بلکہ وہ کسی ویرانہ یا پہاڑ پر نازل ہوئی ہے اور صرف اپنی زبان کی لغت اور ڈکشنری سے حل کی جاسکتی ہے۔
ان دونوں باتوں کوپیش نظر رکھنے کے بعد اب مسئلہ زیر بحث کو اس طرح حل کیا جاسکتا ہے کہ بخاری کی احادیث کو بلا شبہ تلقی بالقبول حاصل ہے اور یہ کہنا جرح و نقد پر کسے جانے اور پرکھے جانے کے بعد امت میں شہرت وقبولیت کا وہ درجہ رکھتی ہے کہ کتاب اللہ کے بعد اس کو اصح الکتب کہا جاتا ہے تاہم یہ ممکن ہے کہ روایت بالمعنی ہونے کی وجہ سے اس کی کسی روایت میں راوی سے لفظی تعبیر میں سقم ہوگیا ہو اور روایت اگرچہ اپنے سلسلہ سند اورمجمعہ متن کے اعتبارسے اصولاً قابل تسلیم ہو مگر اس کے اس جملہ کی تعبیر کو سقیم سمجھا جائے اوراصل روایت کو رد کرنیکی بجائے صرف اس کے سقم کو ظاہر کر دیاجائے اس کی بہترین مثال بخاری کی حدیث معراج ہے۔
محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ مسلم کی حدیث اسریٰ عن انس رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں بخاری کی حدیث عن عبد اللہ بن ابی نمرہ میں سقم ہے اور اس کی ترتیب میں غلطیاں ہیں اور مسلم کی روایت ان اسقام و اغلاط سے پاک صاف ہے ۔حالانکہ یہ دونوں روایتیں نفس روایت کے اعتبارسے صحیح اور قابل تسلیم ہیں۔
پس بغیر کسی اور تردد کے یہ تسلیم کرناچاہئے کہ حضرت ابراہیم ؑ سے متعلق دونوں طویل روایات ” روایت بالمعنی “ کی قسم میں داخل ہیں اوریہ دعویٰ ہر گز نہیں کیا جاسکتا کہ الفاظ اورجملوں کی یہ پوری نشست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان حق ترجمان کے نکلے ہوئے الفاظ اور جملوں کی نشست ہے بلکہ آپ کے مفہوم اور معنی کو ادا کرتی ہیں لہٰذا ہو سکتا ہے کہ ہردو روایات میںبیان کردہ واقعات کی صحت کے باوجود زیربحث الفاظ سلسلہ ئمند کے کسی راوی کے اختلال لفظی کا نتیجہ ہوں اور اس سے یہ تفسیری سقم پیدا ہو گیا ہو۔
اس کے لئے یہ قرینہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم و سارہ اورشاہ مصر کا یہ واقعہ توراة میں بھی مذکور ہے اوروہاں اس قسم کے غیر محتاط جملے بکثرت موجود ہیں، لہٰذا یہ ممکن ہے کہ راوی سے اس اسرائیلی روایت اورصحیح روایت کے درمیان تعبیر میں غلط ہو گیا ہو اور اس لئے اس نے معاملہ کی تعبیر زیر بحث الفاظ سے کر دی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں