لنگور-غائب-ہوگیا

لنگور غائب ہوگیا

EjazNews

شیخ مظفر جب اپنے وطن پہنچاتو میری ماں کواس قافلے کی خبر ہوئی ۔ اس نے مجھے جگایا اورکہنے لگی بیٹا! چلو ، شیخ مظفر کا قافلہ آیا ہے اور اسباب تجارت لایا ہے۔ دیکھیں تو سہی تمہارے لیے کیا لایا ہے۔
میں ماں کے ہمراہ شیخ مظفر کے مکان پر پہنچا۔ اس نے بڑی خندہ پیشانی سے ہمیں بٹھایااورپھر مجھ سے مخاطب ہوا ،اے ابو محمد ! تمہارے لیے ایسا تحفہ لایا ہوں کہ بس یاد ہی کرو گے۔
پھر اپنے ملازم کو اشارہ کیا وہ ایک گنجے لنگور کو لے کے آیا اور میرے سامنے کھڑا کر دیا۔ میں حیرت سے لنگور کی طرف دیکھنے لگے۔ میری ماں بھی حیران تھی۔ آخر وہ شیخ مظفر سے بولی اے شیخ ! کیا مذاق کے لیے ہم غریب ہی رہ گئے ہیں جو تم ہمارے لیے لنگور لے کے آئے ہو؟۔
ماں کے ساتھ ساتھ میں نے بھی کہا اس لنگور کو میں کیا کروں گا۔ اسے تم اپنے ہی پاس رکھو۔
اس پر وہ بولا! تم ماںبیٹا تو یوں ہی بگڑتے ہو۔ یہ لنگور نہیں بلکہ قیمتی خزانہ ہے۔ تم اسے لے جاﺅا ورپھر دیکھو کیا ہوتا ہے۔
میںنے لنگور لیااوراپنی ماں کے ہمراہ گھر آیا۔ راستے میں سوچتا تھا، لو یہ سوداگری کا مال آیا ہے، قسمت نے اچھا چکر دکھایا ہے۔
گھر پہنچا تو ماں سے کہا ،لو سنبھالو اس قیمتی اور نادر تحفے کو ! اسی لیے مجھے اتنی تکلیف دی تھی؟ اب ایک ڈگڈگی بھی منگوادو کہ اسے ساتھ لے کر گلیوں بازاروں میں تماشا دکھایا کروں۔ تمہارا اور اپنا پیٹ بھرا کروں۔
میری ماںنے کہا بیٹا صبر کرو! مجھے یقین ہے کہ اس میں بھی کوئی راز ہے، ورنہ شیخ مظفر اتنا بددیانت اور احمق نہیں ہے کہ دور دراز کے سفر سے بلاوجہ ایک لنگور لے آئے۔
ابھی وہ یہی باتیں کر رہے تھے کہ شیخ مظفر کے نوکر آئے اور کہا ہمارے آقا آئے ہیں اور آپ کے لیے مال و دولت لائے ہیں۔
اور شیخ مظفر نے میرے سامنے اشرفیوں اور زر و جواہر کا انبار لگا دیا۔ گھر بھر دیا۔ دل باغ باغ ہو گیا۔ پوچھا یا شیخ ! یہ کیا راز ہے؟۔ لنگور کے بعداس دولت کی کیا ضرورت تھی؟۔
وہ بولا اے ابو محمد ! یہ سب دولت اس لنگور ہی کے طفیل ہمیں ملی ہے۔یہ لنگور بڑا وفادا ر ، طاقتور اور قیمتی ہے۔ پھر اس نے لنگور کے کارناموں سے مجھے آگاہ کیا تو میں دنگ رہ گیا ۔ شیخ نے کہا:
اگر یہ لنگور نہ ہوتا تو ہم میں سے ایک بھی زندہ واپس نہ آتا۔یوں سمجھو کہ اس لنگور نے ہمیں نئی زندگی دی ہے۔
شیخ کی بات سن کر دل باغ باغ ہو گیا کہ بے مثال تحفہ ہاتھ آیا۔ اب غربت بھاگے گی اور خوش حالی اپنا رنگ جمائے گی۔ پھر میں نے شیخ مظفر کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے ایسا قیمتی تحفہ لا کر مجھے غریبی سے نجات دلائی۔
والدہ نے کہا بیٹا ! خدا نے اتنی دولت دی ہے۔اب بازار جاﺅ، خریدو فروخت کرو اور آدمی بنو۔
ماں کے کہنے پر میںنے چوک میں ایک دکان جمائی اور اپنی حیثیت کے مطابق خوب سجائی۔ لنگور بھی دکان پربیٹھنے لگا اور کھانے پینے میں میرا شریک تھا۔ وہ ہر روز صبح سے دوپہر تک کہیں چلا جاتا اورجب آتا تو ہزاروںاشرفیاں لاتا اور مجھے دے جاتا۔ اس طرح لکھو کھا روپے کی دولت جمع ہو گئی۔ میں نے بہت سی جائیداد خریدی اور اچھی حیثیت بنائی۔ باغات لگائے غلام اورلونڈیاں خریدیں اور کئی دکانیں اوربھی سجائیں۔
ایک روز میں اس گنجے لنگور کے ساتھ فرش پر بیٹھاتھا کہ وہ ادھر ادھر دائیں بائیں دیکھنے لگے میں نے سبب دریافت کیا تو وہ بولا اے ابو محمد !۔
یہ سنتے ہی بدن کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے۔ مگر اس گنجے لنگور نے کہا ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ لنگور میری ذات اور قوم نہیں۔ میں جنات کا سردار ہوں۔
یہ سنکر تو مجھے اور بھی خوف محسوس ہوا۔ بدن پر کپکپی سی طاری ہو گئی۔ یا الٰہی عجیب اسرار ہے۔ جنات کا سردار اور لنگور بنا بیٹھا ہے۔ ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ اگر تم جنوں کے سردار ہو تو لنگور کیوں بنے پھرتے ہو؟۔ کیا یہ روپ بہت پسند ہے تمہیں ؟۔
وہ بولا اے ابو محمد ! یہ بھی ایک کہانی ہے۔میں لنگور اپنی مرضی سے نہیںبنا۔ زبردستی بنا دیا گیا ہوں۔ بہت مدت سے اسی حالت میں زندگی گزار رہا ہوں۔ بہر حال میری سزا پوری ہونے والی ہے اور میں پھر سے جن بن جاﺅں گا۔
میں نے کہا اگر میں تمہارے کسی کام آسکتا ہوں تو بتاﺅ۔
وہ بولا نہیں ۔ میری مصیبت تم سے نہیں ٹالی جا سکتی۔
میںنے کہا مجھے تم سے دلی ہمدردی ہے۔ سچ کہتا ہوں اگر میں تمہارے کسی کام آسکتا ہوں تو کہہ دو۔ میں ہرگز دریغ نہ کروں گا۔ مسلمان ہوں۔ وعدے کا پکا ہوں۔
وہ بولا! اس ہمدردی کا شکریہ، بھائی! میں تمہیں کوئی تکلیف دینا نہیں چاہتا۔
میں نے کہا تم میری تکلیف کی پروانہ کرو ۔ دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے۔
وہ کہنے لگا یہ تو درست ہے لیکن میری مدد کرناتمہارے بس سے باہر ہے۔
میں چپکا ہو رہا اور گھر آکر کل ماجرا ماں سے کہہ سنایا۔ ماں نے سنا تووہ بھی بہت خوف زدہ ہوئی۔ کہنے لگی۔ سنو بیٹا! یہ گنجا لنگور شیخ مظفر کے گھر چھوڑ آﺅ۔ ہم جن کو اپنے نہیں نہیں رکھ سکتے۔ کون جانے کب یہ ہمارا خاتمہ کر کے چلتا بنے۔ میرا تو آدھا خون خشک ہوگیا ہے یہ سن کر۔
میں نے کہا اماں جان! ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ بے شک یہ جن ہے مگر ہمارا دوست ہے۔ ہمیں کچھ نہیں کہے گا۔
ماں بولی بیٹا! جنوں کا کیااعتبار ۔ یہ تو انسان کے دشمن ہیں۔ خدا ہی ان سے پناہ دے۔
میں نے کہا مجھے یقین ہے کہ یہ جن ہمارا وفادار رہے گا۔ لہٰذا تم اپنے دل سے یہ ڈر نکال دو کہ یہ ہمیں کوئی نقصان پہنچائے گا۔ میری اس بات پر ماں کو اطمینان ہو گیا اور پھر اس نے کچھ نہ کہا۔
چند روز بعد لنگور یعنی جن نے مجھ سے کہا کل تم امیرانہ لباس پہن کر میرے ہمراہ شریف سوداگر کے پاس چلو اور اس سے کہو کہ میری خواہش ہے کہ تمہاری بیٹی سے شادی کروں۔پھر ایک ہزار اشرفیاں حق مہر اس کی جھولی میں ڈالنا اور دولت کے زور سے اسے راہ پر لانا۔
میںنے یہ بات مان لی اور دوسرے روزبیش بہا لباس زیب تن کرکے گھوڑے پر سوار ہواا ور جدھر چلا سواری کی سجاوٹ اور سوار کی پوشاک پر لوگ عش عش کرنے لگے۔ دکانوں سے اٹھ اٹھ کے آنے لگے۔ چوک میں شریف کی دکان پر آیا۔ گھوڑے سے اترا، آداب بجالایا۔
اس نے پوچھا آپ کس ضرورت سے تشریف لائے ہیں؟۔ میں نے ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی ہاتھ پر رکھی اور آنے کا سبب بیان کیا۔ شریف نے ذرا دیر سر نیچے کر کے غور کیا اور کہنے لگا۔
اگر تین ہزار اشرفیاں دو تو یہ رشتہ منظور کروںگا۔ کہ ہمارے یہی رسم ہے۔ میں نے تین ہزار اشرفیاں گھر سے منگوادیں وہ جامے میں پھولا نہ سمایا۔ دکان بند کی، احباب کو ہمراہ لیا اور اپنے گھر آیا اور دس روز میںشادی کرنے کا وعدہ کیا۔
میں خوش خوش گھر آیا اور گنجے لنگور سے سب ماجرا کہہ سنایا۔ اس نے سن کر کہا شاباش! بڑی دانائی کی۔ خوش اسلوبی سے یہ کاروائی کی۔ مگر ا یک بات اوریاد رکھو کہ جس کمرے میں دلہن پہلے دن سوئے گی، وہاں ایک چھوٹی سی کوٹھڑی ہے۔ اس کے دروازے پر پیتل کی ایک انگوٹھی رکھی ہے۔ کنجیاں اس انگوٹھی کے نیچے ہیں۔ تم کنجیاں لے کر دروازہ کھولو گے تو وہاں لوہے کا ایک صندوق پاﺅ گے۔ جس کے چاروں طرف جادو کی جھنڈیاں ہیں۔ اندر زرو جواہرات بے شمار ہیں۔ ان جھنڈیوں کو چیر ڈالو اورمال و دولت نکال لو۔ پھر وہ روپیہ لے کر دلہن کے پاس جانا۔ تب تمہیں اوربھی زیادہ دولت ملے گی۔
دس روز بعد میری شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ تمام عزیزوں اور دوستوں نے شرکت کی۔ ایسی شان دار ضیافت کی کہ ہر ایک کو اشرفی لقمہ کھلایا۔ جس نے دیکھا دنگ رہ گیا۔ لگتا تھا کسی شہزادے کی شادی ہے۔ دلہن کو ایسے زیورات پہنائے کہ شہزادیوں کو نصیب نہ ہوئے ہوںگے۔
رات ہوئی تو میں نے گنجے لنگور کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اس کوٹھڑی میں قدم رکھا۔ دیکھا تو واقعی پیتل کی ایک انگوٹھی رکھی تھی۔ انگوٹھی کو اٹھایا تونیچے کنجیاں دکھائی دیں۔ کنجیاں لے کر دروازہ کھولاتو وہاں لوہے کا ایک صندوق پایا۔ چابی لگا کر صندوق کھولا ہی تھا کہ دلہن ہڑ بڑا کر جاگ اٹھی۔ وہ غل مچایا کہ گھر کے سارے لوگ جاگ اٹھے۔ اتنے میں ایک جن آیا اور میری دلہن کو لے بھاگا۔ گھر کے سب لوگوں نے مجھے لعنت ملامت کی کہ یہ کیا حرکت کی! میں اپنی جگہ حیران تھا کہ یا خدا! یہ کیا ہوا؟۔ اسی وقت کانوں میںآواز آئی کہ اب تو یہاں سے دور ہو۔ ورنہ سخت سزا پائے گا۔ بہت مارا پیٹا جائے گا۔ ناکام و نامراد گھر آیا توگنجے لنگور کو غائب پایا۔ میں تاڑ گیا کہ ہونہ ہو اسی کا کام ہے۔ یہ چال اس نے خود کوآزاد کرانے کے لیے چلی تھی۔ ایسے میں مجھے اپنی ماں کی بات یاد آگئی کہ بیٹا جنوں کا کیا اعتبار۔ جانے کب دھوکا دے جائیں۔ اب کیا کر سکتا تھا۔ ہاتھ مل کے رہ گیا۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں