hazrat_ibrahim_as_1

حضرت ابراہیم علیہ السلام (حصہ دوئم)

EjazNews

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر قرآن میں:
قرآن کریم میں رشد و ہدایت کا پیغام چونکہ ملت ابراہیمی کا پیغام ہے اس لئے اس نے جگہ جگہ حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر کیا ہے اور جیسا کہ گزشتہ سطور میں کہا جا چکا ہے حضرت ابراہیم کا ذکر مکی اور مدنی دونوں قسم کی صورتوں میں موجود ہے۔
سورۃ البقرہ، آل عمران، النساء، الانعام، التوبہ، ہود، ابراہیم، النحل، الانبیاء، اشعراء، الاخراب، صٓ، الزخرف، النجم، الممتحنہ، یوسف، الحجر، مریم ، الحج، العنکبوت ، الصافات ، الشوریٰ، الذاریات، الحدید، الاعلیٰ ۔25سورتوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کاذکر موجود ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصہ کے ساتھ دوسرے چند انبیاء علیہ السلام کے قصص بھی وابستہ ہیں۔ مثلاً حضرت لوط ؑ کا قصہ ا س لئے کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے بھی ہیں اورا ن کے پیرو بھی۔ اسی طرح ان کے صاحبزادو ں حضرت اسمٰعیل و حضرت اسحق علیہما السلام کےقصے ۔اس لئے کہ اسمٰعیل علیہ السلام کی ولادت کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر ستاسی سال تھی اور حضرت اسحق کی ولادت کے وقت ا ن کی عمر پورے سوسال تھی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کل عمر ایک سوپچھتر سال ہوئی۔
مگر ان تینوں پیغمبروں کے تفصیلی واقعات مستقل عنوان میں درج کئے جائینگے اور یہاں صرف حضرت ابراہیم ؑ کے واقعہ کے ضمن میں کہیں کہیں ذکر آئے گا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ:
قرآن کریم میں حضرت ابراہیم ؑ کے واقعات کو کسی جگہ اختصار کے ساتھ کسی جگہ مختلف شئون و اوصاف کے پیش نظر اور کسی جگہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ،اس لئے ہم اس جگہ مناسب ترتیب سے ان کا تذکرہ کرینگے۔
تورات یہ بتاتی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) عراق کے قصبہ اَور کے باشندے اور اہل قدان میں سے تھے اور ان کی قو م بت پرست تھی اور انجیل برنا با میں تصریح ہے کہ ان کے والد نجاری کا پیشہ کرتے اور اپنی قوم کے مختلف قبائل کے لکڑی کے بت بناتے اور فروخت کیا کرتے تھے۔
مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو شروع ہی سے حق کی بصیرت اور رشد و ہدایت عطا فرمائی تھی اور وہ یہ یقین رکھتے تھے کہ بت نہ سن سکتے ہیں ، نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کسی کی پکار کا جواب دے سکتے ہیں اور نہ نفع و نقصان کا ان سے کوئی واسطہ اور نہ لکڑی کے کھلونوں اور دوسری بنی ہوئی چیزوں کے اوران کے درمیان کوئی فرق و امتیاز ہے۔ وہ صبح و شام آنکھ سے دیکھتے تھے کہ ان بیجان مورتوں کو میرا باپ اپنے ہاتھوں سے بناتا اور گھڑتا رہتا ہے اور جس طرح اس کا جی چاہتا ہے، ناک، کان، آنکھیں اور جسم تراش لیتا اور پھر خرید نیوالوں کے ہاتھ فروخت کر دیتا ہے۔ کیا یہ خدا ہو سکتے ہیں یا خدا کے مثیل و ہمسر کہے جاسکتے ہیں؟ حاشا وکلا پس بعثت سے سرفراز ہو کر سب سے پہلے انہوں نے اسی طرف توجہ فرمائی۔
بعثت:
قرآن کریم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس حقیقت میں اور بصیرت افروز رشد و ہدایت کا سا طرح ذکر کرتا ہے۔
ترجمہ:اور بلا شبہ ہم نے ابراہیم کو اول ہی سے رشد و ہدایت عطا کی تھی اور ہم اس کے (معاملہ کے) جاننے والے تھے، جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا ’’یہ مجسمے کیا ہیں جن کو تم لیے بیٹھے ہو ‘‘ کہنے لگتے ہم نے اپنے باپ دادا کو ان ہی کی پوجا کرتے پایا ہے ’’ابراہیم نے کہا ‘‘ بلاشبہ تم اور تمہارے باپ دادا کھلی گمراہی میں ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کیا تو ہمارے لئے کوئی حق لایا ہے یا یوں یہی مذاق کرنے والوں کی طرح کہتا ہے ۔ ابراہیم ؑ نے کہا (یہ بت تمہارے تمہارے رب نہیں ہیں ) بلکہ تمہارا پروردگار زمینوں اور آسمانوں کاپروردگا ہے۔ جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور میں اسی بات کا قائل ہوں۔ (الانبیاء)
اور جبکہ اس جلیل القدر ہستی پر اللہ تعالیٰ کے جو دو کرم اور عطاء و نوال کا فیضا ن بے غایت و بے نہایت و سرعت رفتار کے ساتھ ہو رہا تھا تو اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ اس نے انبیاء علیہم السلام کی صف میں نمایاں جگہ پائی اور اس کی دعوت و تبلیغ کا محور و مرکز دین حنیف قرار پایا۔
اس نے جب یہ دیکھا کہ قوم بت پرستی اور ستارہ پرستی میں اس قدر منہمک ہے کہ خدائے برتر کی قدرت مطلقہ اور اس کی احدیت و صمدت کا تصوربھی ان کے قلوب میں باقی نہیں رہا اور ان کے لئے خدا کی وحدانیت کے عقیدہ سے زیادہ کوئی اچبھے کی بات نہیں رہی، تب اس نے کمر ہمت چست کی اور ذات واحد کے بھروسہ پر ان کے سامنے دین حق کا پیغام رکھا اور اعلان کیا۔
اے قوم! یہ کیا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بتوں کی پرستش میں مشغول ہو، کیا تم اس قدر خواب غفلت میں ہو کہ جس بیجان لکڑی کو اپنے آلات سے گھڑ کر مجسمے تیار کرتے ہو اور اگر وہ مرضی کے مطابق نہ بنے تو اس کو توڑ کر دوسرا بنا لیتے ہو اور بنا لینے کے بعد اس کو پوجنے اور نفع و ضرر کا مالک سمجھنے لگتے ہو تم اس خرافات سے باز آئو، خدا کی توحید کے نغمے گائو اور اسی ایک مالک حقیقی کے سامنے سر نیاز جھکائو جو میرا تمہارااور کل کائنات کا خالق و مالک ہے۔
مگر قوم نے اس کی آواز پر مطلق کان نہ دھرا اور چونکہ گوش حق نیوش اور نگاہ حق میں سے محروم تھی اس لئے اس نے جلیل القدر پیغمبر کی دعوت حق کا مذاق اڑایا اورزیادہ سے زیادہ تمردو سرکشی کا مظاہرہ کیا۔
باپ کو دعوت اسلام اور باپ بیٹے کا مناظرہ:
اس سلسلہ میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو مخاطب کیا اور دعوت حق کو خاندان ہی سے شروع کیا اور بتایا کہ ان کی یہ قدیم راہ گمراہی کی راہ ہے۔اور میں جس راہ کی دعوت دیتا ہوں وہ صراط مستقیم ہے مگر والد پر مطلق اثر نہ ہوا اور اس کے برعکس آزر نے بیٹے کو دھمکایا کہ اگر تو بتوں کی برائی سے باز نہ آئے گا تو میں تجھ کو سنگسار کر دوں گا۔ ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ اب معاملہ حد سے آگے بڑھ گیا ،ایک جانب باپ کے احترام کا مسئلہ ہے اور دوسری جانب ادائے فرض، حمایت حق اور اطاعت امر الٰہی کا سوال انہوں نے سوچا اور آخروہی کیا۔ جوایسے برگزیدہ انسان اور اللہ کے جلیل المرتبت پیغمبر کے شایان شان تھا ۔انہوں نے باپ کی سختی کاجواب سختی سے نہیں دیا، تحقیر و تذلیل کا رویہ نہیں برتا، بلکہ نرمی ملاطفت اور اخلاق کریمانہ کے ساتھ یہ جواب دیا، اے باپ اگر میری بات کا یہی جواب ہے تو آج سے میرا تیرا سلام ہے۔ میں خدا کے سچے دین اور اس کے پیغام حق کو نہیں چھوڑ سکتا اور کسی حال بتوں کی پرستش نہیں کر سکتا میں آج سے تجھ سے جدا ہوتا ہوں مگر غائباہ تیرے لئے درگاہ الٰہی میں بخشش طلب کرتا رہوں گا تاکہ ہدایت نصیب ہو اور تو خدا کے عذاب سے نجات پائے۔
سورۃ مریم میں اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:
ترجمہ:اور (اے پیغمبر )الکتاب میں ابراہیم ؑ کا ذکر کر، یقینا وہ مجسم سچائی تھااور للہ کا نبی تھا۔ اس وقت کا ذکر جب اس نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ توکیوں ایک ایسی چیز کی پوجا کرتا ہے جو نہ تو سنتی ہے نہ دیکھتی ہے ، نہ تیرے کسی کام آسکتی ہے؟۔ اے میرے باپ میں سچ کہتا ہوں، علم کی ایک روشنی مجھے مل گئی ہے جو تجھے نہیں ملی۔ پس میرے پیچھے چل میں تجھے سیدھی راہ دکھائوں گا اے میرے باپ ! شیطان کی بندگی نہ کر، شیطان تو خدائے رحمن سے نافرمان ہو چکا ہے۔ اے میرے باپ میں ڈرتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو۔ خدائے رحمن کی طرف سے کوئی عذاب تجھے گھیرے اور تو شیطان کا ساتھی ہو جائے!۔باپ نے (یہ باتیں سن کر )کہا ابراہیم کیا تو میرے معبود سے پھر گیا ہے ؟ یاد رکھ اگر تو ایسی باتوں سے باز نہ آیا تو تجھے سنگسار کر کے چھوڑونگا۔ اپنی خیر چاہتا ہے تو جان سلامت لے کر مجھ سے الگ ہو جا ، ابراہیم نے کہا اچھا میرا سلام قبول ہو (میں الگ ہو جاتا ہوں) اب میں اپنے پروردگار سے تیری بخشش کی دعا کرونگا وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے میں نے تم سب کو چھوڑا اور انہیں بھی جنہیں تم اللہ کے سوا پکارا کرتے ہو، میں اپنے پروردگار کو پکارتا ہوں ۔ امید ہے، اپنے پروردگار کو پکار کے میں محروم ثابت نہیں ہونگا۔(مریم)
اور سورۃ انعام میں آزر کو حضرت ابراہیم ؑ کی نصیحت کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔
ترجمہ: اور (وہ وقت یاد کر) جب ابراہیم ؑ نے اپنے باپ آزر سے کہا ’’کیا ٹھہراتا ہے تو بتوں کو خدا میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھتا ہوں۔(انعام)
قوم کو دعوت اسلام اور اس سے مناظرہ:
باپ اور بیٹے کے درمیان جب اتفاق کی کوئی صورت نہ بنی اور آزر نے کسی طرح ابراہیم علیہ السلام کی رشد و ہدایت کو قبول نہ کیا تو حضرت ابراہیم ؑ نے آزر سے جدائی اختیار کرلی اور اپنی دعوت حق اور پیغام رسالت کو وسیع کر دیا اور اب صرف آزر ہی مخاطب نہ رہا بلکہ پوری قوم کو مخاطب بنا لیا۔ مگر قوم اپنے باپ دادا کے دین کو کب چھوڑنیوالی تھی اس نے ابراہیم (علیہ السلام ) کی ایک نہ سنی اور دعوت حق کے سامنے اپنے باطل معبود کی طرح گونگے، اندھے اور بہرے بن گئے۔
ان کے کان موجود تھے مگر حق کی آواز کے لئے بہرے تھے ، پتلیاں آنکھوں کے حلقوں میں زندہ انسان کی آنکھوں کی طرح حرکت ضرور کرتی تھیں مگر حق کی بصارت سے محروم تھیں ، زبان گویا ضرور تھی لیکن کلمہ حق کے اعتبار سے گنگ تھی۔
ترجمہ: ان کے دل ہیں پر سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں پر دیکھتے نہیں اوران کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں، یہ چوپائوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ ہیں۔ یہی ہیں جو غفلت میں سر شار ہیں۔ (الاعراف)
اور جب ابراہیم علیہ السلام نے زیادہ زور دے کر پوچھا کہ یہ تو بتائو کہ جن کی تم پر ستش کرتے ہو یہ تم کو کسی قسم کا بھی نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟ تو کہنے لگے کہ ان باتوں کے جھگڑے میں ہم پڑنا نہیں چاہتے ہم تو یہ جانتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا یہی کرتے چلے آئے ہیں لہٰذا ہم بھی وہی کر رہے ہیں تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک خاص انداز سے خدائے واحد کی ہستی کی جانب توجہ دلائی۔ فرمانے لگے میں تو تمہارے ان سب بتوں کو اپنا دشمن جانتا ہوں یعنی میں ان سے بخوف و خطر ہو کر ان سے اعلان جنگ کرتا ہوں کہ اگر یہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہیں تو اپنی حسرت نکال لیں۔
البتہ میںصرف اس ہستی کو اپنا مالک سمجھتا ہوں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے جس نے مجھ کوپیدا کیا اور راہ راست دکھائی ، جو مجھ کو کھلاتا پلاتا یعنی رزق دیتا ہے اور جب میں مریض ہو جاتا ہوں تو جو مجھ کوشفا بخشتا ہے اور جو میری زیست و موت دونوں کا مالک ہے اور اپنی خفا کاری کے وقت جس سے یہ طمع کرتا ہوں کہ وہ قیامت کے روز مجھ کو بخش دے اور میں اس کے حضور میں یہ دعا کرتا رہتا ہوں۔
اے میرے پروردگار تو مجھ کو صحیح فیصلہ کی قوت عطا کر اور مجھ کو نیکو کاروں کی فہرست میں داخل کر اور مجھ کو زبان کی سچائی عطا کر اور جنت نعیم کے وارثوں میں شامل کر۔
نصیحت و موعظت کے اس موثر انداز خطابت کو جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے والد اور قوم کے سامنے پیش کیا سورۃ شعراء میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
ترجمہ: اورسنا دے ان کو خبر ابراہیم ؑ کی جب کہا اپنے باپ کو اور اپنی قوم کو تم کس کو پوجتے ہو وہ بولے ہم پوجتے ہیں مورتوں کو پھر سارے دن انہی کے پاس لگے بیٹھے رہتے ہیں کہا کچھ سنتے ہیں ۔تمہارا کہا جب تم پکارتے ہو ، یا کچھ بھلا کرتے ہیں تمہارا یا برا ، بولے نہیں۔ پر ہم نے پایا اپنے باپ دادو ں کو یہی کام کرتے کہا، بھلا دیکھتے ہو جن کو پوجتے رہے ہو، تم اور تمہارے باپ دادے اگلے، سو وہ میرے دشمن ہیں مگر جہان کا رب جس نے مجھ کو بنایا سو وہی مجھ کو راہ دکھاتا ہے او ر وہ جو مجھ کو دکھلاتا ہے اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوں تو وہی شفا دیتا ہے اور وہ جو مجھ کو مارے گا اور پھر جلائیگا اور جس سے مجھ کوتوقع ہے کہ بخشے میری تقصیر انصاف کے دن۔ اے میرے رب مجھ کو حکم اورملا مجھ کو نیکوں میں اوررکھ میرا بول سچا پچھلوں میں ۔اور کر مجھ کو وارثوں میں نعمت کے باغ کے اور معاف کر میرے باپ کو وہ ہے راہ بھولے ہوئوں میں اور رسوا نہ کر مجھ کو جس دن سب جی کر اٹھیں۔ جس دن نہ کام آئے کوئی ما ل اور نہ بیٹے۔ مگر جو کوئی آیا اللہ کے پاس لے کر بے روگ دل۔ (شعراء)
مگر آزر اور قوم کے دل کسی طرح قبول حق کے لئے نرم نہ ہوئے اور ان کا انکار اور حجود حد سے گزر تا ہی رہا۔
حضرت ابراہیم ؑ کی قوم بت پرستی کے ساتھ ساتھ کواکب پرستی بھی کرتی تھی اور ان کا یہ عقیدہ تھاکہ انسانوںکی موت و حیات، ان کا رزق ان کا نفع و ضرر خشک سالی اور قحط سالی فتح و ظفر اور شکست و ہزیمت ، غرض تمام کار خانہ عالم کا نظم و نسق کواکب اور ان کی حرکات کی تاثیر پر چل رہا ہے اور یہ تاثیر ان کے ذاتی اوصاف میں سے ہے اس لئے ان کی خوشنودی ضروری ہے اور یہ ان کی پرستش کے بغیر ممکن نہیں۔
اس لئے حضرت ابراہیم ؑ نے جس طرح ان کو ان کے سفلی معبودان باطل کی حقیقت و اشگاف کر کے راہ حق کی طرف دعوت دی اسی طرح ضروری سمجھا کہ ان کے علوی معبودان باطل کی بے ثباتی اورفنا کے منظر کو پیش کر کے اس حقیقت سے بھی آگاہ کر دیں کہ تمہارا یہ خیال قطعاً غلط ہے کہ ان چمکتے ہوئے ستاروں، چاند اور سورج کو خدائی طاقت حاصل ہے ہرگز نہیں۔ یہ خیال خام اور باطل عقیدہ ہے مگر یہ باطل پرست جبکہ اپنےخود ساختہ اصنام سے اس قدر خائف تھے کہ ان کو برا کہنے والے کے لئے ہر آن یہ تصور کرتے تھے کہ وہ ان کے غضب میں آکر برباد و تباہ ہو جائے گا تو ایسے اوہام پر ستوں کے دلوں میں بلند ستاروں کی پرستش کے خلاف جذبہ پیدا کرنا کچھ آسان کا م نہ تھا۔ اس لئے مجدد انبیاء، ابراہیم علیہ السلام نے ان کے دماغوں کے مناسب ایک عجیب اوردلچسپ پیرائیہ بیان اختیار فرمایا۔
تاروں بھری رات تھی، ایک ستارہ خوب روشن تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کو دیکھ کر فرمایا میرا رب یہ ہے؟۔ اس لئے کہ اگر ستارے ربوبیت کر سکتے ہیں تو بیان سب میں ممتاز اور روشن ہیں لیکن جب وہ اپنے مقرر ہ وقت پر نظر سے اوجھل ہوگیا اور اس کویہ مجال نہ ہوئی کہ اپنے پرستاروں کے لئے ایک گھڑی اور رونمائی کراسکتا اور نظام کائنات سے منحرف ہوکر اپنے پوجنے والوں کیلئے زیرت گاہ بنا رہتا ۔ تب حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا میں چھپ جانیوالے کو پسند نہیں کرتا۔ یعنی جس شے پر مجھ سے بھی زیادہ تغیرات کا اثر پڑتا ہو اور جو جلد ان اثرات کو قبول کر لیتا ہو وہ میرا معبود کیونکر ہو سکتا ہے پھر نگاہ اٹھائی تو دیکھا کہ چاند آب و تاب کے ساتھ سامنے موجود ہے۔ اس کو دیکھ کرفرمایا ’’یہ میرا رب ہے؟۔ اس لئے کہ یہ خوب روشن ہے اور اپنی خنک روشنی سے سارے عالم کو بقعہ نور بنائے ہوئے ہے پس اگر کواکب کو رب بنانا ہی ہے تو اسی کو کیوں نہ بنایا جائے کیونکہ یہی اس کا زیادہ مستحق نظر آتا ہے۔
اب سحر کا وقت ہونے لگا تو قمر کے بھی ماند پڑ جانے اور روپوش ہو جانے کا وقت آپہنچا اور جس قدر طلوع آفتاب کا وقت قریب ہوتا گیا چاند کا جسم دیکھنے والوں کی آنکھوں سے اوجھل ہونے لگا تو یہ دیکھ کر ابراہیم علیہ السلام نے ایک ایسا جملہ فرمایا جس سے چاند کے رب ہونے کی نفی کے ساتھ ساتھ خدائے واحد کی ہستی کی جانب قوم کی توجہ اس خاموشی کے ساتھ پھیر دی جائے کہ قوم اس کا احساس بھی نہ کر سکے اور اس گفتگو کا جو مقصدو حید ہے یعنی صرف خدائے واحد پر ایمان وہ ان کے دلوں میں بغیر قصد و ارادے کے پیوست ہو جائے، فرمایا اگر میرا حقیقی پروردگار میری ر ہنمائی نہ کرتا تو میں بھی ضرور گمراہ قوم ہی میں سے ایک ہوتا۔
پس اس قدر فرمایا اور خاموش ہو گئے اس لئے کہ ابھی اس سلسلہ کی ایک کڑی اور باقی ہے اور قوم کے پاس ابھی مقابلہ کے لئے ایک ہتھیار موجود ہے اس لئے اس سے زیادہ کہنا مناسب نہیں تھا۔
تاروں بھری رات ختم ہوئی چمکتے ستارے اور چاند سب نظر سے اوجھل ہوگئے ،کیوں ؟۔ اس لئے کہ اب آفتاب عالمتاب کا رخ روشن سامنے آرہا ہے دن نکل آیا اور وہ پوری آب و تاب سے چمکنے دمکنے لگا۔
ابراہیم علیہ السلام نے اس کو دیکھ کر فرمایا یہ ہی میرا رب ہے کیونکہ یہ کواکب میں سب سے بڑا ہے اور نظام فلکی میں اس سےبڑا ستارہ ہمارے سامنے دوسرا نہیں ہے؟۔ لیکن دن بھر چمکنے اورروشن رہنے اور تمام عالم کو روشن کرنے کے بعد وقت مقررہ پر اس نے بھی عراق کی سرزمین سے پہلو بجانا شروع کر دیا اورشب آہستہ آہستہ سامنے آنے لگی۔ اور آخر وہ نظروں سے غائب ہو گیا ۔ تو اب وقت آپہنچا کہ ابراہیم علیہ السلام اصل حقیقت کا اعلان کر دیں اور قوم کو لاجواب بنا دیں کہ ان کے عقیدہ کے مطابق اگر ان کواکب کو ربوبیت اور معبودیت حاصل ہے تو اس کی کیا وجہ ہے کہ مجھ سے بھی زیادہ ان میں تغیرات نمایاں ہیں اور یہ جلد جلد ان کے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں اور اگر معبود ہیں توان میں’’ افول‘‘ کیوں ہے جس طرح چمکتے نظر آتے تھے اسی طرح کیوں چمکتے نہ رہے چھوٹے ستاروں کی روشنی کو ماہتاب نے کیوں ماند کر دیا اور ماہتاب کے رخ روشن کو آفتاب کے نور نے کس لئے بے نور بنا دیا۔
پس اے قوم! میں ان مشرکانہ عقائد سے بری ہوں اور شرک کی زندگی سے بیزار ، بلاشبہ میں نے اپنارخ صرف اسی ایک خدا کی جانب کر لیا ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا خالق ہے میں ’’حنیف‘‘ ہوں اور ’’مشرک‘‘ نہیں ہوں۔اب قوم سمجھی کہ یہ کیا ہوا، ابراہیم علیہ السلام نے ہمارے تمام ہتھیار بیکار اور ہمارے تمام دلائل پامال کر دئیے۔ اب ہم ابراہیم علیہ السلام کے اس مضبوط و محکم برہان کا کس طرح رد کریں اور اس کی روشن دلیل کا کیا جوا ب دیں ؟ وہ اس کے لئے بالکل عاجز و ماندہ تھے اور جب کوئی بس نہ چلا تو قائل ہونے اور صدائے حق کو قبول کرلینے کی بجائے ابراہیم ؑ سے جھگڑ نے اور اپنے معبودان باطل سے ڈرانے لگے کہ وہ تیری توہین کا تجھ سے ضرور انتقال لینگے اور تجھ کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کیا تم مجھ سے جھگڑتے اور اپنے بتوں سے مجھ کو ڈراتے ہو حالانکہ خدائے تعالیٰ نے مجھ کو صحیح راہ دکھادی ہے اور تمہارے پاس گمراہی کے سوا کچھ نہیں، مجھے تمہارے بتوں کی مطلق کوئی پروا نہیں جو کچھ میرا رب چاہے گا وہی ہوگا۔ تمہارے بت کچھ بھی نہیں کر سکتے کیا تم ان کو باتوں سے کوئی نصیحت حاصل نہیںہوتی؟ ۔تم کو تو خدا کی نافرمانی کرنے اوران کےساتھ بتوں کو شریک ٹھہرانے میں بھی کوئی خوف نہیں آتا جس کے لئے تمہارے پاس ایک دلیل بھی نہیں ہے اور مجھ سے یہ توقع رکھتے ہو کہ خدائے واحد کا ماننے والا اور امن عالم کا ذمہ دار ہو کر میں تمہارے بتوں سے ڈر جائوں گا کاش کہ تم سمجھتے کہ کون مفسد ہے اور کون مصلح و امن پسند ہے؟۔
بہرحال اللہ تعالیٰ کی یہ وہ عظیم الشان حجت تھی جو اس نے ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے بت پرستی کے خلاف ہدایت و تبلیغ کے بعد کواکب پرستی کے رد میں ظاہر فرمائی اور ان کی قوم کے مقابلہ میں ان کو روشن دلائل و براہین کے ساتھ سر بلندد عطافرمائی۔
اس سلسلہ میں سورۃ انعام کی یہ آیات شاہد عادل ہیں:
ترجمہ: اور اسی طرح ہم ن ابراہیم کو آسمانوں کی اورز مین کی بادشاہت کے جلوے دکھا دئیے تاکہ وہ یقین رکھنے والوں میں سے ہو جائے۔ پھر (دیکھو) جب ایسا ہوا کہ اس پر رات کی تاریکی چھا گئی تو اس نے ایک تارا دیکھا۔ اس نے کہا یہ میرا پروردگار ہے،لیکن جب وہ ڈوب گیا تو کہا نہیں میں انہیں پسند نہیں کرتا جو ڈوب جانیوالے ہیں۔ پھر جب ایسا ہوا کہ چاند چمکتا ہوا نکل آیا ، تو ابراہیم نے کہا یہ میرا پروردگار ہے لیکن جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے پروردگار تونے مجھے راہ نہ دکھائی ہوتی تو میں ضرور اسی گروہ میں سے ہو جاتا جو راہ راست سے بھٹک گیا ہے ؟۔ پھر جب صبح ہوئی اور سورج چمکتا ہوا طلوع ہوا تو ابراہیم ؑ نےکہا یہ میرا پروردگار ہے کہ یہ سب سے بڑا ہے لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو اس نے کہا اے میری قوم ! تم جو کچھ خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو میں اس سے بیزار ہوں میں نے تو ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف اسی ہستی کی طرف اپنا رخ کر لیا ہے جو آسمان و زمین کی بنانیوالی ہے۔ اور میں ا ن میں سے نہیں جو اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے ہیں ! اور پھر ابراہیم سے اس کی قوم نے ردوکدرکھی ۔ ابراہیم نے کہا کہ تم مجھ سے اللہ کے بارے میں ردوکد کرتے ہو حالانکہ اس نے مجھے راہ حق دکھا دی ہے جنہیں تم نے خدا کا شریک ٹھہرا لیا ہے میں ان سے نہیں ڈرتا، میں جانتا ہو ں کہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی مجھے نقصان پہنچانا چاہے۔ میر ا پروردگار اپنے علم سے تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔پھر کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے اور دیکھو میں ان ہستیوں سے کیونکر ڈر سکتا ہوں جنہیں تم نے خدا کا شریک ٹھہرا لیا ہے جبکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ دوسروں کوشریک ٹھہرائو جن کے لئے اس نے کوئی سند و دلیل تم پر نہیں اتاری؟۔بتلائو ہم دونوں فریقوں میں سے کس کی راہ امن کی راہ ہوئی اگر علم و بصیرت رکھتے ہو ۔ جن لوگوں نے خدا کو مانا اور اپنے ماننے کو ظلم سے (یعنی شرک سے)آلودہ نہیں کیا تو انہی کے لئے امن ہے اور وہی ٹھیک راستہ پر ہیں ۔ اور دیکھو یہ ہماری حجت ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر دی تھی۔ ہم جس کے مرتبے بلند کرنا چاہتے ہیں اسے علم و دلیل کا عرفان دے کر بلند کر دیتے ہیں اور یقیناً تمہارا پروردگار حکمت والا علم رکھنے والا ہے۔ (انعام)

اپنا تبصرہ بھیجیں