Monkey-گنجا_لنگور

گنجا لنگور

EjazNews

ایک روز خلیفہ ہارون الرشید تخت شاہی پر تشریف فرما تھا کہ ایک جوان خواجہ سرا ، تاج شاہی کہ جس میں بیش بہا ہیرے جواہرات ٹکے ہوئے تھے، لیے حاضر ہوا۔ زمین کوبوسہ دیا، آداب بجا لایا اور کہا:
اے امیر المومنین! ملکہ زبیدہ نے فرمایا ہے کہ اس تاج میں ایک بڑے جواہر کی ضرور ت ہے ہر چند تلاش کیا مگر اپنے مطلب کا نہ پایا۔
خلیفہ نے حاضرین دربار سے کہا اگر کوئی اس جواہر کا پتا دے تو ہم اسے بہت سا انعام دیں گے اگر کسی کے پا س ہو تو اس کی منہ مانگی قیمت دیں گے۔
اس پر ایک درباری نے عرض کیا حضور! بصرےمیںایک شخص ابو محمد القرزان کے پاس ایسا جواہر ہے۔
خلیفہ نے بصرے کے صوبے دار کے نام فرمان لکھوایا او ر وزیر مسرور کو بھیج کر ابو محمد کو بلوایا۔ مسرور نے بصرے پہنچ کر صوبہ دار کو خلفیہ کا پروانہ دیا، اسی دم ابو محمد کے مکان پر مع چند سپاہیوں کے آیا اور خلیفہ کا حکم سنایا۔ ابو محمد نے ان سب کی بڑی تعظیم کی ۔مکان کو دیکھا تو جواہرات سے جگمگاتا تھا، شاہی محل کو شرماتا تھا۔ ابو محمد نے انہیں بہترین قسم کے کھانے کھلائے اور خوش بودار شربت پلائے اس کے بعد وہ ان کے ساتھ بغداد روانہ ہوا۔
بغداد میں خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں پہنچے تو خلیفہ نے ابو محمد کو اشارے سے حکم دیا کہ بیٹھ جائو۔ ابو محمد نے حسب اجازت ایک صندوقچہ منگوایا اور اس میں سے ایک عجیب و غریب درخت نکالا جو سارے کا سارا خالص سونے کا بنا ہوا تھا۔ اس کے پتے سفید زمرد کے اور پھل سرخ موتیوں کے تھے۔
اس کے بعد دوسرا صندوق آیا۔ اس میں سے ایک زمردی خیمہ نکالا جس میں انواع و اقسام کے خوش رنگ جواہرات کے علاو ہ سونے کی چڑیاں اور مختلف قسم کے جانور بنے ہوئے تھے۔ ان دونوں تحفوں کو خلیفہ نے بہت پسند کیا۔ اور کہا تم نے یہ تحفے دے کر ہمیں بہت ممنون و مسرور کیا ہے۔
یہ چیزیں دکھا کر ابو محمد نے اجازت لی کہ کچھ ایسے کرتب دکھائے کہ حاضرین دربار کو وجد میں لائے۔ بادشاہ نے بخوشی اجازت دے دی تو ابو محمد نے آنکھ سے یوں ذرا سا اشارہ کیا تو آپ ہی آپ دربار میں قسم قسم کے پرندے میٹھی میٹھی بولیاں بولنے لگے۔ دربار میں موجود سب لوگ یہ تماشا دیکھ کر دنگ رہ گئے۔
خلیفہ نے حیران ہوکر پوچھا یہ عجیب و غریب اور بیش بہا تحفے تم نے کہاں سے حاصل کیے ؟۔سنتا ہوں تمہارا باپ کسی حمامی کے یہاں ملازم تھا اور ٹکا بھی نہیں چھوڑ کر مرا تھا۔
ابو محمد نے جواب دیا۔ اے امیر المومنین! میں لڑکپن میں بڑا سست تھا۔ اسی سب سے مجھے القرزان کہتے ہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ میرا باپ ایک حمامی کا نوکر تھا ۔ والدہ ایک روز پانچ روپے لائیں اور مجھ سے کہا کہ بیٹا! شیخ مظفر چین جانے والے ہیں ۔ چلو ان سے کہیں کہ یہ پانچ روپے لیں اور تمہارے لیے کچھ لیتے آئیں۔ اگر تو نہ چلے گا تو یاد رکھ میں کھانا پینا چھو ڑدوں گی۔
ماں کا حکم ٹالنا مناسب نہ سمجھا۔ اس لیے کہا کہ اچھا ،اماں جان! مجھے اٹھائیے۔ جب جوتا پہن چکا توماں کے سہارے سے اٹھا اور کاہلی کے سبب سے پھونک پھونک کر قدم رکھنے لگا۔ جب شیخ مظفر کے پا س پہنچا اوران سے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو اس نے اپنے ہمراہیو ں سے پوچھا کہ اس نوجوان کو تم میں سے کون جانتا ہے؟۔ ان میں سے بہت سوں نے کہا حضور ! یہ ابو محمد القرزان ہے۔ آج کے سوا کبھی گھر سے باہر نہیں آیا۔ سستی کے ہاتھ اس قدر بک گیا ہے کہ کھانا بھی لیٹے ہی لیٹے کھاتا ہے۔
تب شیخ مظفر نے پوچھا کیوں ابو محمد! کیا یہ سچ ہے؟۔
میں نے جواب دیا جی ہاں! بالکل سچ ہے۔ اس پر وہ بولا اس قدر سستی اور کاہلی کا کیا سبب ہے؟۔
حضور! بس یوں سمجھیے کہ شروع شروع میں آرام طلبی کا چسکا پڑا اور رفتہ رفتہ اس حالت کو پہنچا کہ بستر سے اٹھنا بھی تکلیف محسوس ہونے لگا۔ آج اپنی ما ں کے حکم پر یہاں تک چل کے آیا ہوں اوربخدا سچ کہتا ہوں کہ بڑی ہی تکلیف محسوس کر رہا ہوں۔
شیخ مظفر نے کہا نوجوان! اس قدر سستی و بال جان ہوتی ہے۔ ہمیں یہ معلوم کر کے بہت دکھ ہوا کہ تم جیسا نوجوان سستی کے ہاتھوں اس حالت کو پہنچ چکا ہے کہ بستر سے اٹھ کر کھانا بھی نہیں کھا سکتا۔ ہم تمہارے پانچ روپے اس شرط پر لیتے ہیں کہ آئندہ تم سستی سے منہ موڑ لو گے اور محنت کر کے اپنی روزی پیدا کرو گے۔ بولو یہ شرط منظور ہے؟۔
میں نے جواب دیا حضور! مجھے آپ کی شرط منظور ہے۔ میں آج ہی سے سستی سے ناتا تو ڑوں گا اور محنت مشقت کر کے روزی کمائوں گا۔ خود بھی کھائوں گا اور ماں کو بھی کھلائوں گا۔
تب شیخ مظفر نے مجھ سے پانچ روپے لے لیے اور وعدہ کیا کہ وہ میرے لیے کوئی اچھی سی چیز لائیں گے۔ میں اپنی ماں کے سہارے گھر لوٹ آیا ۔ گھر آتے ہی سب سے پہلا کا م میں نے یہ کیا کہ ایک حمام میں جا کر خوب جی بھر کر غسل کیا اور دور تک چلا پھرا۔ آہستہ آہستہ میری سستی دور ہوتی گئی اور میں بالکل تندرست ہوگیا۔
شیخ مظفر بحری جہاز پر سامان لا د کر روانہ ہوگیا۔ راستے میں اسے یا د آیا کہ ابو محمد کے واسطے کوئی چیز نہیں خریدی۔ حالانکہ ہم نے اس سے وعدہ کیا تھا۔ اس لیے ایک آدھ روز رک جائیں کہ اس کے لیے بھی کوئی شے خرید لیں۔
اس پر باقی آدمیوں نے کہا ،اب زیادہ دن رکنا مناسب نہیں ۔ ہم سب مل کر چندہ جمع کر لیں گے اور پانچ روپوں کے عوض اسے ڈھیر سارے روپے دے دیں گے۔
شیخ مظفر اس بات پر راضی ہو گیا اور چندہ جمع کر کے پھر روانہ ہوا۔ چلتے چلتے ایک جزیرہ نظر آیا۔ جہاز لنگر انداز ہوا اور سوداگر اترے کہ اسباب خریدیں۔ شیخ مظفر نے وہاںایک مقام پر دیکھاکہ ایک شخص دکان پر بیٹھا لنگور فروخت کر رہا ہے اور ان میں ایک گنجا لنگور بھی ہے۔ اس گنجے لنگور کو سب لنگور مل کر تنگ کر رہے ہیں اور وہ سوداگر بھی بے چارے گنجے لنگور کو بیٹھے بٹھائے سزا دیتا تھا اور وہ بے چارہ پریشان ہو ہو جاتا تھا۔ کچھ کرتے دھرتے بن نہیں آتا تھا۔ مظفر نے یہ لنگور پانچ روپے میں خرید لیا اور اس کے مالک نے خوش خوش حوالے کیا۔
یہاں سے یہ لوگ دوسرے جزیرے میں داخل ہوئے تو وہاں غوطہ خوروں نے انہیں گھیر لیا۔ سوداگروں نے غوطہ لگانے کے لیے ان کو بھرپور انعام دیا کہ غوطہ لگائو اور بیش قیمت موتی نکال لائو۔
گنجے لنگور نے بھی ان کی دیکھا دیکھی جہاز سے کود کر غوطہ لگایا اور شیخ مظفر نے غل مچایا کہ لا حول ولا قوۃ! ابو محمد کے لیے یہ لنگور خریدا تھا مگر اب یہ بھی ہاتھ سے جاتا رہا۔ اتنے میں غوطہ خور جو غوطہ لگا کر ابھرے تو خدا کی شان لنگور بھی ان کے ہمرا ہ آیا اور بیش بہا جواہرات شیخ مظفر کے سامنے ڈھیر کر دئیے۔ شیخ مظفر کو سخت حیرت ہوئی کہ یا الٰہی یہ عجیب اسرار ہے ! لنگور اور اتنا سیانا ،اتنا کارآمد!۔
دیکھتے ہی دیکھتے لنگور نے پھر سمندر میں چھلانگ لگائی اور اب کے پھر ڈھیر سا رے موتی نکال لایا۔ شیخ مظفر بہت خوش ہوا اور لنگور کو پاس بٹھا کر تھپکیاں دینے لگا۔ لنگور بھی جواب میں سفید سفید دانت نکال کر خوشی سے چیں چیں کر نے لگتا۔ کچھ دیر کے بعد گنجے لنگور نے پھر سمندر میں چھلانگ لگادی اور اب کے جو باہر آیا تو ایک بہت بڑی مچھلی ساتھ لایا۔ اسی طرح وہ پانچ مرتبہ کودا اور ہر بار بڑی بڑی مچھلیاں نکال کر لایا۔ شیخ مظفر بہت خوش تھا کہ گنجا لنگور نہ صرف عجیب و غریب ہے بلکہ بہت کارآمد بھی ہے۔ اپنے ساتھیوں سے کہا:
ابو محمد بڑا خوش نصیب ہے کہ اس کے لیے ہمیں یہ گنجا لنگور مل گیا۔ اس نے جو ہیرے موتی نکالے ہیں وہ سب ابو محمد کی امانت ہیں۔
اس پر ہمراہیوں نے کہا ،اجی چھوڑئیے ابو محمد کو۔ اسے پانچ روپوں کے عوض سو دو سو اشرفیاں دے دیجیے گا۔ گنجا لنگور آپ اپنے ہی پا س رکھیے۔
مگر شیخ مظفر بولا !تجارت کے اصولوں میں سے ایک اصول دیانت داری بھی ہے۔ ہم نے یہ لنگور ابو محمد کے پیسوں سے اس کے لیے خریدا ہے ،لہٰذا یہ اسی کو دیا جائے گا۔ یہ تو صرف ایک لنگور ہے مجھے اگر پانچ روپوں کے عوض کوئی خزانہ مل جاتا تو بھی میری نیت خراب نہ ہوتی۔
مظفر کی یہ بات سن کر دوسرے تاجر خاموش ہو گئے۔ اور جہاز سمندر کے سینے پر تیرتا ہوا اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگا۔ لنگور چپکا ہو کر مظفر کے پاس بیٹھا رہا اور مظفر غور کرتا رہا کہ یہ لنگور تو واقعی عجوبہ روزگار ہے۔ اس سے پہلے کبھی دیکھا نہ سنا ۔ پھر یہ دیکھنے کے لیے کہ یہ لنگور انسان کی بولی سمجھتا ہے یا نہیں۔ شیخ نے اس سے کہا:
لنگور میاں!سمندر میں چھلانگ لگا کر موتی تو نکال لائو۔
شیخ مظفر نے ابھی یہ الفاظ ادا ہی کیے تھے کہ گنجے لنگور نے سمندر میں غوطہ لگایا اور جب باہر آیا تو بیش قیمت ہیرے جواہرات ساتھ لایا۔ شیخ کی حیرت اور بڑھی کہ یہ تو واقعی انسانوں کی بولی بھی سمجھتا ہے۔ ابو محمد اسے پا کر یقینا بہت خوش ہوگا۔
چلتے چلتے جزیرہ ذنوح میں پہنچے۔ جہاز کو ساحل کے قریب لنگر انداز کیا اور سب لوگ خشکی پر آگئے ۔ یہاں بیٹھ کر کھانے پینے لگے۔ جزیرے میں دور دور تک ہرے بھرے پیڑے اور پھل دار پودے جھومتے دکھائی دیتے تھے۔یہ سب اٹھے اور لذیذ پھلوں سے لطف اٹھانے لگے۔ جب دھوپ تیز ہوئی تو سایہ دار پیڑوں کے نیچے سو رہے۔
اچانک انہیں شوروغل کی آوازیں سنائی دیں۔ سب جاگ اٹھے اور یہ دیکھ کر خوف سے تھر تھر کانپنے لگے کہ ان کوآدم خور حبشیوں نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور خوشی سے دیوانہ وار ناچ رہے ہیں۔ ان کے ہاتھوںمیں بڑے بڑے نیزے اور چمکتے ہوئے چھرے تھے۔ جسم پر صرف پتوں کی بنی ہوئی لنگوٹیاں تھیں۔
شیخ نے اپنے ہمراہیوں سے کہا غلطی ہوئی جو اس جزیرے میں لنگر انداز ہوئے۔ اب یہ آدم خور وحشی ہمیں زندہ نہ چھوڑیں گے۔ ایک ایک کو ہڑپ کر جائیں گے۔ یہ اس لیے دیوانہ وار ناچ رہے ہیں کہ ا کٹھے بہت سے انسان ان کے ہاتھ آئے ہیں۔ سچے دل سے خدا کو یاد کرو ممکن ہے ہماری جانیں بچ جائیں ورنہ یہ وحشی ہمیں بھون کر کھا جائیں گے۔
اتنے میں ان وحشیوں نے نیزے ان کی طرف کیے کہ اٹھو! یہ ڈرتے ڈرتے اٹھ کھڑے ہوئے وہ انہیں ہانکتے ہوئے اپنے بادشاہ کے سامنے لے آئے۔ بادشاہ بھی انہی کی طر ح بد صورت اور وحشی تھا۔ اس کے جسم پر شیر کی کھال تھی اور سر پر انسانی کھوپڑی کا تاج رکھا تھا ۔ قریب ہی اس کی ملکہ بیٹھی تھی۔ اس نے بھی شیر کی کھال سے جسم ڈھانپ رکھا تھا اور گلے میں انسانی ہڈیو ں کی مالا تھی۔
بادشاہ نے سردار سے پوچھا انہیں کہاں سے لائے ہو؟۔
سردار نے جواب دیا یہ ساحل پر درختوں کے سائے میں پڑے سوتے تھے کہ ہم انہیں پکڑ لائے۔
بادشاہ نے پوچھا تم لوگ کون ہو؟ ۔ کہا ں سے آئے اور کہاں جاتے ہو؟۔
شیخ مظفر نے جواب دیا ہم سوداگر ہیں۔ گھر سے تجارت کرنے نکلے تھے۔ بھولے سے اس جزیرے میں اتر پڑے۔
تب بادشاہ نے کہا کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ اس جزیرے میں اترنا منع ہے اور یہاں اترنے والوں کو ہم بھون کر کھاجاتے ہیں ؟۔
بادشاہ نے اپنے سردار سے پوچھا تمہاری کیا رائے ہے ؟۔ انہیں چھوڑ دیا جائے یا بھون کر کھا لیا جائے؟۔
سردار بولا !میرا مشورہ تو یہ ہے کہ ان سب کو کھا لیا جائے آگے آپ کی مرضی۔
بادشاہ نے کہا ہمیں تمہارا مشورہ قبول ہے۔ انہیں لے جائو اور قید خانے میں بند کر دو۔ کل انہیں کاٹا جائے گا اور سب لوگوں کو ایک سا حصہ ملے گا۔
اس پر سردار اور دوسرے حبشیوں نے انہیں ہانکا اور قید خانے میں لے گئے۔قید خانہ کیا تھا ، بھیڑ بکریوں کا ریوڑ خانہ تھا۔ چاروں طرف خار د ار جھاڑیوں کی باڑ تھی، اور یہ اڑ ان اتنی اونچی اور چوڑی تھی کہ بھاگنے والا اسے پھلانگ نہیں سکتا تھا۔ انہیںیہاں بند کر کے سردار نے چند آدمیوں کو پہرے پر کھڑا کیا اور خود دوسرے آدم خوروں کے ساتھ واپس چلا گیا۔
اب سنیے کہ جب یہ سہمے ہوئے بیٹھے تھا۔ گنجا لنگور اٹھا اور پہرے پر کھڑے آ دم خوروں پر یوں جھپٹا جیسے باز چڑیوں پر جھپٹتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پہرے پر کھڑے چاروں حبشی ڈھیر ہو گئے۔ پھر لنگور نے ان چاروں کی تکا بوٹی کر دی اور غصے میں بھپرا ہوا واپس آیا۔ شیخ مظفر اور اس کے ہمراہیوں نے جب یہ تماشا دیکھا تو دانتو ں میں انگلیاں داب کر رہ گئے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایک لنگور نے چار خوف ناک حبشیوں کو اتنی آسانی سے کیوں کر چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ لنگورنے شیخ مظفر کو اشارہ کیا کہ سب لوگ بھاگنے کی فکر کرو، جلد از جلد یہاں سے نکل چلو۔ شیخ مظفر اس کا اشارہ سمجھ گیا اور اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ اب دیر نہ کرو جان بچانے کے لیے بھاگ اٹھو۔ اس پر یہ سب باہر آئے۔ چار آدمیوں نے مرے ہوئے آدم خوروں کے برچھے اور چھرے اٹھا لیے تاکہ وقت ضرورت ان سے کام لیا جا سکے۔
یہ سب بھاگتے جاتے تھے اور پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتے جاتے تھے کہ کہیں آدم خور ان کا تعاقب تو نہیں کر رہے۔ گھنے جنگل میں راستہ بہت دشوار گزار تھا اور پھر انہیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ کس طرف جارہے ہیں اس لیے پکڑے جانے کا خوف ان پر اب تک طاری تھا۔ گنجا لنگور سب سے آگے آگے جارہا تھا۔ یعنی ان کے لیے رہنمائی کا فرض ادا کر رہا تھا۔ جب کبھی یہ سست پڑتے تو وہ انہیں چیخ کر خبر دار کرتا کہ جلدی چلو ورنہ آدم خور سے بچ نہ سکو گے۔
سورج غروب ہو چکا تھا اور اندھیرا ہونے کے باعث ان لوگوں کی رفتار بہت کم ہو گئی تھی۔ البتہ گنجا لنگور اب بھی سب سے تیز بھاگ رہا تھا اور انہیں بھی تیز بھاگنے کو کہہ رہا تھا۔خار دار جھاڑیوں اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے اکثر لوگوں کے پائوں زخمی اور کپڑے تار تار ہو چکے تھے۔ بھوک پیاس کی شدت الگ پریشان کیے ہوئے تھی۔ مگر اس کے باوجود سب بھاگے چلے جارہے تھے کہ جان بڑی قیمتی چیز ہے۔ انسان و حیوان، سب کو عزیز ہے۔
کچھ دور اورآگے گئے تھے کہ ایک ندی راستے میں آگئی۔ پیاس تو سب کو شدت کی لگ رہی تھی، پانی دیکھتے ہی اس پر گر پڑے۔ جی بھر کر پانی پی چکے تو اب مسئلہ یہ سامنے آیا کہ اس ندی کو عبور کیسے کیا جائے؟۔ سب پریشان ہو کر کنارے پر کھڑے رہ گئے۔ بار بار گھوم کر دیکھتے کہ آدم خور تو نہیں آرہے ؟۔جب حد سے زیادہ مایوس ہو ئے تو گنجے لنگور نے شیخ مظفر کو اشارہ کیا کہ اس کی پیٹھ پر بیٹھ جائے۔
شیخ مظفر پہلے تو حیران ہوا پھر اچک کر لنگور کی پیٹھ پر سوار ہو گیا۔ لنگور نے اڑ کر چھلانگ لگائی تو ندی کے پار جا پہنچا۔شیخ مظفر نے لنگور سے کہا مہربانی فرما کر میرے ساتھیوں کو بھی اس پار لے آئو، نیکی کرنی ہے تو پوری کرو۔ لنگور نے فوراً چھلانگ لگائی اور ندی کے پار جا پہنچا۔ ایک ایک کرکے سارے آدمیوں کو ندی کے اس پار لے آیا اور پھر سب مل کر آگے چلے۔
رات اب کافی گہری ہو چکی تھی۔ گھور اندھیرا سانپوں کی طرح پھنکار رہا تھا۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا لیکن پھر بھی یہ لوگ برابر چلتے رہے ۔ یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ جنگل نہ جانے کتنا لمبا چوڑا تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد سورج کی شعاعیں چھن چھن کر جنگل میں آنے لگیں اور انہیں راستہ چلتے میں آسانی ہو گئی۔
ابھی کچھ ہی دور گئے تھے کہ سامنے سے شیر اور شیرنی کا ایک جوڑا نمودار ہوا۔ انہوں نے انہیں دیکھتے ہی دہاڑنا شروع کر دیا۔ چھرے اور برچھیوں والے آدمی آگے آئے تاکہ شیروں کا مقابلہ کیا جائے۔ اتنے میں شیر نے چھلانگ لگائی اور ایک آدمی کو مار گرایا۔ ایک ہی پنجے سے اسے چیر کر رکھ دیا ۔ یہ دیکھ کر باقی آدمی ادھر ادھر بھاگنے لگے۔
شیر دوبارہ حملہ آور ہوا اور سیدھا شیخ مظفر کی طرف آیا مگر وہ بڑی پھرتی سے ایک درخت کی آڑ میں ہوگیا۔جوں ہی شیر زمین پر آیا ، گنجے لنگور نے چیخ کر چھلانگ لگائی اور شیر کی پیٹھ پر سوار ہوگیا۔ شیرنی بپھر کر آگے بڑھی کہ شیر کو لنگور سے چھڑائے۔ مگراتنی دیر میں لنگور نے شیر کو چیر کر رکھ دیا تھا ۔ شیرنی اور بھی بھپری اور لنگور پر حملہ آور ہوئی مگرآفرین ہے اس گنجے لنگور پر کہ چشم زدن میں اس کو بھی ڈھیر کر دیا۔اس پر زورسے چیخا جیسے فتح کا نعرہ بلند کررہا ہو۔ بھاگتے ہوئے لوگ ایک بار پھر اکٹھے ہوگئے اور لنگور کا شکریہ ادا کرنے لگے کہ اس نے جان پر کھیل کر انہیں شیر سے بچایا۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں