islam_truth

ہنسی اڑانا

EjazNews

نازیبا ہنسی ومذاق کرنا اور مسخرہ کرنا بھی خراب عادت ہے۔ اس سے بھی بعض لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے اس لیے قرآن و حدیث میں نازیبا ہنسی کی ممانعت آئی ہے:
ترجمہ: مسلمانو!مرد مردوں پر نہ ہنسیں، عجب نہیں کہ (جن پر ہنستے ہیں) وہ خدا کے نزدیک ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں پر ہنسیں عجب نہیں کہ جن پر ہنستی ہیں وہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو طعنے نہ دو اور نہ ایک دوسرے کے نام دھرو۔ ایمان لائے پیچھے بدتہذیبی کا نام ہی برا ہے اور جو (ان حرکات سے ) باز نہ آئیں تو وہی خدا کے نزدیک ظالم ہیں۔ (الحجرات)
مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو حقیر و ذلیل سمجھنا اور ان کا مذاق اڑانا اچھا نہیں ہے۔ ممکن ہے جن کا مذاق اڑایا جارہا ہے وہ اللہ کے نزدیک اچھے ہوں اور یوں بھی بلا ضرورت ہنسنا سخت دلی کی علامت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ مت ہنسو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ بنا دیتا ہے ۔ (احمد،ترمذی)
خدا کی قسم اگر تم ان باتوں کو جان لیتے جن کو میں جانتا ہوں توزیادہ روتے اورکم ہنستے۔ (بخاری)
ہنسی مذاق سے کسی کی چیز کو لے لینا اچھا نہیں ہے۔
آپ نے اس سے منع فرمایا:کوئی شخص اپنے مسلمان بھائیکے سامان کو نہ ہنسی مذاق سے لے اور نہ سچ مچ لے۔ (ترمذی)
اس لیے اس سے مسلمان کو تکلیف پہنچتی ہے اور مسلمان کو تکلیف دینا ناجائز ہے۔ مندرجہ ذیل ایک لمبی حدیث فائدے کے لیے لکھتے ہیں اس کوزبانی یاد کرکے لائحہ عمل بنالو۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:یارسول اللہ مجھے وصیت کیجئے آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہو اوراس کے حکموں پر چلو اور جس سے منع کیا ہے ا س سے بچتے رہو۔ ایسا کرنے سے تمہارے سارے کام سنور اور سدھر جائیں گے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ اور کچھ زیادہ نصیحت فرمائیے آپ نے فرمایا تم قرآن مجید کی تلاوت اور ذکر الٰہی کولازم پکڑ لو یعنی قرآن مجید کو پڑھتے رہو اورذکر خدا بھی کرتے رہو، جب تم یہ کام کرو گے تو آسمانوں میں تمہارا تذکرہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ تمہارا ذکر خیر فرشتوں کے سامنے کرے گا اور فرشتے بھی تمہارے لیے نیک دعائیں کریں گے اورزمین میں نور یعنی نور معرفت و یقین اور ہدایت کے ظہور سبب ہوگا۔ میں نے عرض کیا اور زیادہ نصیحت کیجئے۔ آپ نے فرمایا بے کار باتوں سے زیاد ہ خاموش رہو ،اس لیے کہ خاموشی شیطان کو ہٹاتی اور دور کرتی ہے اور تمہارے دینی کاموں میں مدد گار ملتی ہے میں نے عرض کیا اورزیادہ نصیحت فرمائیے آپ نے فرمایا زیادہ ہنسنے سے بچتے رہو کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ بناد یتی ہے اور چہرے کے نور کو کھو دیتی ہے اوراس کی رونق کو زائل کر دیتی ہے۔ میں نے کہا اور زیادہ نصیحت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا حق کہہ دیا کرواگر چہ لوگوں کو تلخ اور ناگوار معلوم ہو۔ میں نے عرض کیا اورزیادہ نصیحت فرمائیے آپ نے فرمایا اللہ کے دین کے اظہار کے بارے میں کسی کو ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت ڈرو میں نے عرض کیا اور زیادہ نصیحت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا لوگوں کی عیب جوئی سے پاک رہو۔(مشکوة جلد 3۔1364، الجامع الصغیر (ضعیف الجامع اول صفحہ 232)
اس حدیث میں بڑی بڑی قیمتی سات نصیحتیں ہیں۔ (۱)اللہ سے ڈرنا (۲) قرآن مجید کی تلاوت کرنا(۳) خاموش رہنا (۴) زیادہ ہنسنی سے بچنا (۵) حق کہنا (حق کہنے پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کرنا) (۷) لوگوں کی عیب جوئی سے بچنا
اس حدیث میں زیادہ ہنسنے سے روکا گیا ہے۔ کیونکہ زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اس سے یہ سمجھنا نہ چاہیے کہ ہنسنا بالکل منع ہے بلکہ بوقت ضرورت مسکرانا اظہار مسرت کرنا بھی جائز ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسکرانا ثابت ہے۔ ہاں قہقہہ مارکر آپ نہیں ہنسا کرتے تھے اور یہ قہقہہ ہی زیادہ منع ہے۔ کیونکہ یہ بد تہذیبی میں داخل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں مشورہ کی اہمیت

اپنا تبصرہ بھیجیں