kasmir-want-freedom

کرفیو کی وجہ سےکشمیری لوگ گھروں میں مر رہے ہیں، لیکن عالمی برادری کو ان کی آواز نہیں سنائی دے رہی

EjazNews

5فروری کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے باہر نکلتی ہے۔ اور اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ملی یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ گزشتہ سات 5اگست کو بھارتی حکومت نے کشمیریوں کا سپیشلس سٹیس ختم کر کے انہیں اپنی ایک ریاست بنانے کی کوشش کی ۔ کیونکہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اس لیے اس کا سپیشل سٹیٹس ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن انڈیا کی پر تشدد ختم یہ کر گئی اور دنیا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ گزشتہ سال 5اگست سے لے کر تادم تحریر تک مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا ہوا تھا اور لوگ اپنی ہی زمین پر قیدی بنے ہوئے تھے ۔ دندناتے انڈین فوجی ہی نظر آرہے تھے۔ اسی حوالے سے عفیفہ حیات نے نمل یونیورسٹی کے طالب علم ادریس کا انٹرویو کیا۔ ادریس ایک ڈبیٹر ہیں ۔ اس انٹرویو سے ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ نوجوان مقبوضہ کشمیر کے متعلق کیا جانتے ہیں اور کس قدر ان کے جذبات کشمیریوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔
س:کشمیری یکجہتی کے دن کا مقصد کیا ہے؟
ج:جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہر سال 5فروری کو ہم کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن مناتے ہیں۔میں بتانا چاہتا ہوں اس دن کا مقصد صرف یہ ہے کہ عالمی برادری کو ہم باور کراتے ہیں کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت کا حق دینا چاہیے اور ہم ان کے ساتھ کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑے ہوئے ہیں اور کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،لہٰذا ان کو حق خود ارادیت دینا چاہیے۔
س:کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے اقدام میں کون کون لوگ شامل ہوتے ہیں؟
ج:اس دن میں پاکستان کے ہر طبقہ کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہوتے ہیں ،کسی وقت میں صرف عام لوگ ہوتے تھے لیکن اب صدر سے وزیراعظم اور ہر طبقہ ہائے شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے باہر نکلے ہوئے ہیں۔اس طرح عالمی برادری کو ایک اچھا پیغام جاتا ہے اور کشمیریوں کا پیغام ہمارے ذریعے پوری دنیا کو جاتا ہے اور اس دن کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہم کشمیریو ں کے ساتھ کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔
س:کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
ج:جب تقسیم ہوئی تو ریاستوں کو حق دیا گیا کہ وہ جس کے ساتھ چاہیں مل جائیں ۔کچھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور کچھ نے انڈیا کے ساتھ۔کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے تھے لیکن راجہ نے انڈیا کے ساتھ الحاق کر دیا جبکہ جونا گڑھ ریاست کے راجہ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا جسے انڈیا نہ یہ کہہ کر قبضہ کر لیا کہ عوام انڈیا کے ساتھ ہیں۔ اور یہی سے ایک نئی جنگ شروع ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:  جب تک طلبہ یونینز بحال نہیں ہو جاتیں ہماری کوششیں جاری رہیں گی
ادریس(طالب علم نمل یونیورسٹی و ڈبیٹر)

س:مودی کے اقدام کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
ج:گزشتہ سال پانچ اگست کو کیے گئے اقدام کا ایجنڈا پرانا ہے اور مودی سرکار نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ، جس سے کشمیر کا سپیشل سٹیٹس ختم ہو گیا اور اس سے کشمیری اپنی ہی زمین کے مالک نہیں رہے۔
س:کشمیریوں کا اس سے کیا نقصان ہوا؟
ج: یہ کشمیریوں کا علاقہ ہے، کوئی بھی باہر سے یہاں پر زمین نہیں خرید سکتا تھا، لیکن سپیشل حیثیت ختم ہونے کے بعد ہندو وہاں پر زمینیں خریدیں گے اور وہاں پر اپنی آبادی کو بڑھائیں گے ۔ اور اس وقت حق خودارادیت کی ووٹنگ کروا ئی جائے گی جب زمینیں خرید کر ہندو اکثریت میں آجائیں گے۔
س:مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی ہنگامہ آرائی سے کس طرح زیادہ نقصان ہوا؟
ج: اس سے کشمیریوں کو بہت نقصان ہوا۔ کشمیر میں انڈیا نے اپنی فوج بڑھا دی اور 5فروری تک 185دن ہو چکے ہیں کہ کشمیر میں کرفیو لگا ہوا ہے مظالم ہو رہے ہیں لوگ گھروں میں مر رہے ہیں ، لیکن عالمی برادری کو ان کی آواز نہیں سنائی دے رہی۔ ہم اس دبی ہوئی آواز کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  شادی سے پہلےایک ٹیسٹ کروا کر آنے والی نسل کو اس مرض سے بچایا جاسکتا ہے

س: مسلم دنیا کی اس پر کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
ج: مسلم دنیا کی ذمہ داری سے ہمیں باہر نکلنا ہوگا، یہ صرف کشمیر کا معاملہ نہیں ہے۔ فلسطین پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے، شام کی مثال لے لیجئے ، وہاں پر ظلم و ستم ہو رہا ہے۔ یہ ہمارے مسلم ورلڈ کی کمزوری ہے۔ اسی وجہ سےغیر مسلم ملک حاوی ہو چکے ہیں۔ حضور ﷺ نے جہاد ہند کے بارے میں فرمایا تھا کہ خراسان سے ایک لشکر اٹھے گا، خراسان کا علاقہ افغانستان اور فاٹا کے علاقے ہیںاس کے ساتھ ایران کے بھی کچھ علاقے ہیں۔اگر میں اپنی رائے کا اظہار کرو ں تو مجھے لگتا ہے پہلے چین انڈیا پر حملہ کرے گااور اس کے بعد یہاں سے لشکر اٹھے گا جن کے پاس کالے جھنڈے ہوں گے۔ جو بیت المقدس میں بھی جھنڈے گاڑیں گے۔پھر پوری دنیا پر ایک اسلامی خلافت کا نظام رائج ہوگا۔اور پوری دنیا پر اسلامی حکومت ہوگی اور خلافت کا دور دوبارہ آئے گا۔ اس میں بہت سی نشانیاں مل رہی ہیں۔آپؐ نے فرمایا تھا کہ عرب ہلاک ہو جائیں گے اور فارس تباہ ہو جائے گا اور یہ نشانی آپ کو آج کل نظر آرہی ہے۔ فارس کی تباہی کے ساتھ اگر آپ عرب دنیا پر نظر دوڑائیں تو وہ فحاشی میں اس قدر غرق ہیں کہ وہ سب کچھ بھول چکے ہیں۔وہ غرق ہونے کی جانب جارہے ہیں۔ یہ بھی ایک نشانی ہے۔
س: کیاانڈیا انٹرنیشنل کورٹس کی بات مانے گا؟
ج: انٹرنیشنل کورٹس کا معاملہ صرف یہ ہوتا ہے کہ سب اپنی حدود میں رہیں ۔ وزیراعظم کی یو این او میں کی گئی تقریر بہت اچھی تھی لیکن اس ڈبیٹ کا کوئی اثر نہیں رہتا ، وہاں ڈبیٹ کے بعد بات ختم ہو جاتی ہے۔وہاں پر وہی ہوتا ہے جو ویٹو کنٹری چاہ رہے ہوتے ہیں ۔ امریکہ جو چاہے گا وہاں پر وہی ہوگا۔ اور امریکہ میرے خیال میں اس کو حل نہیں ہونے دینا چاہتا ہے۔
س: کیا پاکستان کشمیر کے معاملے پر مسلم دنیا کو اکٹھاکر سکتا ہے؟
ج: ایک دور تھا مسلمان حکمران پوری دنیا پر حکومت کرتے تھے اور پھر ہم اپنے نظریات کو چھوڑ کر ویسٹ کے نظریات کی طرف راغب ہو گئے ،چاہے وہ سوشل ازم ہو ، نیشنل ازم ہو ۔ اور ہماری سب سے بڑی خرابی نیشنل ازم ہے۔ اس میں آپ نیشن کے انٹرسٹ میں کچھ بھی کر جاتے ہیںتاکہ آپ کے نیشنل انٹرسٹ میں کوئی خراب نہ آئے ۔ جب تک یہ نیشنل انٹرسٹ سائیڈ پر رکھ کر امہ کے بارے میں نہیں سوچا تب تک مسلم دنیا ایک پلیٹ فارم پر نہیں آئے گی۔ امریکہ اپنے خطے میں کوئی جنگ نہیں لڑتا وہ ساری جنگیں اپنے خطے سے باہر لڑ رہا ہے اور لڑا رہا ہے۔
اگر آپ تھوڑا غور کریں تو 371کے ختم ہونے کے بعد ہر طرف کشمیر کیلئے آوازیں اٹھ رہی تھیں چاہے میڈیا ہو سیاست دان ہو یا پھر کوئی بھی ہو وہ کشمیریوں کیلئے آواز اٹھا رہا تھا۔اور آہستہ آہستہ یہ خبریں سکڑتی گئیں ہیں اور میرے خیال میں اس کا آخری حل جہا د ہند ہی ہے۔ اگر پاکستان واقعی اس کا حل چاہتا ہے تو اس کو چاہے کہ ساری مسلم دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے۔
انٹرویو: عفیفہ حیات

یہ بھی پڑھیں:  ریڈیو پاکستان سامعین کے دلوں میں بستا ہے:نزاکت شکیلہ

اپنا تبصرہ بھیجیں