vegetable

ہمارے جسمانی مدافعتی نظام کی محافظ غذائیں

EjazNews

جسم کی دفاعی قوت ہماری صحت کی حفاظت میں ایک ڈھال کا کردارادا کرتی ہے۔ یہ ہمارا مدافعتی نظام ہے جس کی بدولت سینکڑوں اقسام کے مہلک جراثیم ہمیں بیمار نہیں کر پاتے۔ غذائی تحقیق دانوں نے تجربات کے نچوڑ میں ان غذاﺅں کی فہرست پیش کی جو انسان کے مدافعتی قوت کا تحفظ کرتے ہیں آئیے ہم ان غذاﺅں کی افادیت جانیں۔
اناج:
اناج میں شامل زنک، حیاتین بی اور پروٹین ہمارے جسم میں صحت مند چکنائی کی سطح برقرار رکھتے ہیں۔ اس میں ریشہ کی کثیر مقدار میٹابولزم کے عمل میں تحریک پیدا کرتی ہے۔ دانتوں، جلد اور ہڈیوں کی جواں عمری قائم رکھنے کیلئے اناج کے سیریل، دلیہ ان جیسی غذاﺅں کا دن میں ایک مرتبہ استعمال بہت ضروری ہے۔ اناج میں حیاتین ”کے“ کی خاص مقدار پائی جاتی ہے ۔ جو چوٹ ،رگڑ اور گہری خراشوں کو تیزی سے مند مل کرتے ہیں۔

پنیر:
صحت مند جسم کیلئے پنیر کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ پنیر کی سب سے اہم خصوصیت یہی ہے کہ یہ منہ کے جراثیم کا صفایا کرتا ہے ۔کم چکنائی کا پنیر جسمانی توانائی کی سطح گرنے سے بچاتا ہے اس میں کیلشیم، فاسفورس اور سوڈیم کا خزانہ موجود ہے جوجسم کے اہم اعضاءکی کارکردگی میں رد ہم قائم رکھتا ہے۔ پنیر سے جسم کو اہم روغنی مادے حاصل ہوتے ہیں جو جلد کی تندرستی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔وہ بیکٹر یا جو جلد پر حملہ آور ہوتے ہیں ان سے بچاﺅ کیلئے صحت مند ہونا ضروری ہے۔ پنیر غذائیت کا منبع ہے ناشتے میں پنیر کا استعمال نزلہ، زکام، فلو جیسے وائرس کے خلاف تحفظ عطا کرتا ہے۔
بند گوبھی، بروکلی ، پھو ل گوبھی:
بند گوبھی، بروکلی اور پھول گوبھی سبزیوں کے ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں شامل گوٹامائن پنیتھوتھینک(Pantothenic) ایسڈ معدے میں موجود ان مضر صحت جراثیم کا خاتمہ ہیں۔ جو بیماریوں کے باعث بنتے ہیں ان سبزیوں میں اہم معدنی نمکیات کے علاوہ میگنیشم کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے جو ہمارے پٹھوں، عضلات اور آنتوں کو صحت مند رکھ کر جسم کے جملہ افعال کو درست رکھتاہے۔
گہرے سبز رنگ کی دیگر سبزیوں میں ایک (Indoles)انڈولز نام کا ایک خاص جز موجود ہے جو خون میں زہریلے مادوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ صحت مند خون ہی تندرست جسم کی بنیاد ہے۔ بہتر ہے ان تمام سبزیوں کو سادہ طریقے سے پکا کر استعمال کیا جائے۔
سرخ رنگ سبزیاں:
ٹماٹر، گاجر اور سرخ مرچوں میں لائیکوپن (Lycopene) پایا جاتا ہے تاہم اس کی سب سے زیادہ مقدار ٹماٹر میں پائی جاتی ہے۔ لائیکوپین سرطانی خلیات کا جڑ سے خاتمہ کر نے پر قدرت رکھتا ہے۔ سرخ رنگ پھلوں اور سبزیوں میں ایسے فلیور ونڈ ائڈ (Flavonolds) محفوظ ہیں جو خلیات کے توڑ پھوڑ کے عمل کو سست کرتے ہیں جسم کو ہر نوع کے انفیکشن سے بچاتے ہیں۔ بیٹا کیروٹین جلد کی نشوونما کیلئے ضروری ہے جو کیل دانے مہاسے جلد کے سرطان اور دیگر مسائل سے تحفظ کے ضامن ہیں۔
مشروم:
مشروم ایک قدرتی جراثیم کش دوا کی طرح ہے۔جو جسم میں کہیں بھی بننے والی رسولیوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کرتے ہیں۔ مشرومز میں منرلز سیلینیم حیاتین ”ڈی“ رائبو فلاوین (Riboflavin) اور نایا سین ہمارے جسمانی اعضا کی کارکردگی میں بہتری لاتے ہیں۔ یہ مانع تکسیر سے بھرپور ہے۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ مشروم کینسر سے بچاﺅ کاقدرتی ذریعہ بھی ہے۔
مچھلی کاخوردنی تیل:
کستورا مچھلی کا خوردنی تیل صحت مند زندگی کا ضامن ہے۔ Oyesterکا روغنی تیل خون میں مضر صحت چربیلے مادوں کو توڑ پھوڑ کر شریانوں میں خون کے بہاﺅں کو یقینی بناتا ہے۔ یہ آنکھوں کی صحت ، جگر کی تندرستی کے ساتھ دل کے تحفظ کیلئے بہت ضروری ہے یہ جسم کی کھوئی توانائی بحال کر کے مدافعتی قوت کو مضبوط بناتا ہے۔ بیمار افراد کو بالخصوص خوردنی مچھلی کے تیل کی خاص خوراک دی جاتی ہے تاکہ انہیںبیماریوں سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت حاصل ہو سکے۔ سرجری کے مراحل سے گزرنے والے مریضوں کیلئے یہ بطور خاص ایک نعمت ہے۔ کیونکہ یہ زخموں کو مند مل کر کے انہیں بیرونی جراثیم اور انفیکشن سے محفوظ رکھتی ہے۔
لہسن:
لہسن کی تیز خوشبو کے باعث اس کا استعمال مغربی ممالک میں بہت کم کیا جاتا تھا لیکن تجربات نے ثابت کیا لہسن خون کے بہاﺅ میں روانی قائم رکھتا ہے اس میں ہرقسم کادرد ختم کرنے کی قدرتی صلاحیت موجود ہے۔ یہ آنتوں، معدے او ر منہ میں پلنے والے جراثیم کو مار کر جسم کی تندرستی قائم رکھتا ہے۔ تپ دق کے مرض کے خاتمے کیلئے یہ حیرت انگیز اثرات کا حامل ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ اس میں شامل ایک خاص جزایلیم (Allium) فالج کے مریلئے بہترین دوا کی حیثیت رکھتا ہے۔رعشہ، الزائمیر اور ہیضے جیسے امراض میں لہسن کا استعمال بہت مفید ہے۔یہ جسم میں چھپے ایسے زہر کیلئے تریاق کا درجہ رکھتا ہے جو چھوت کی بیماریوں کو پھیلنے میں مدد دیتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں لہسن سے تیار کیپسول بے شمار امراض میں افاقے کیلئے تجویز کئے جاتے ہیں۔ لہسن سے تیار کیپسول بے شمار امراض میں افاقے کیلئے تجویز کئے جاتے ہیں لہسن میں شامل امائینو ایسڈز حافظے کی قوت کو تیز کرتے ہیں یہ جسم کے دفاعی نظام کی حفاظت کے ساتھ جسم کو فوڈ پوائزن کے خطرے سے بھی بچاتا ہے۔
اسٹرابیری:
ہفتہ بھر میں تین مرتبہ اسٹرابیری کھانے سے نہ صرف جسم کے دفاعی نظام کو تقویت ملتی ہے بلکہ یہ پھل یادداشت کی بہتری کیلئے بہت معاون ہے۔ اسٹرابیری میں ایسے انزائم موجود ہیں جوجسم کو ہر قسم کے موسمی شدت سے تحفظ دیتے ہیں یہ خوش ذائقہ پھل اس کاربک ایسڈ سے بھرپور ہیں جو وبائی امراض کے علاج میں معاون ہے۔ ماہرین کی رائے میں ہر کھانے کے بعد اسٹرابیری کھانے سے دانتوں کی تندرستی قائم رہتی ہے۔ یہ مسوڑھوں کو نقصان پہنچانے والے بیکٹریا ختم کر کے دانتوں کو قدرتی سفیدی عطا کرتے ہیں ۔ان میں شامل مائع تکسید کوانتھو سائنن (Anthocyanins) کہا جاتا ہے جو بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں