shikarpur-2

سندھ کا شہر شکارپور، درانئیوں کے عہد میں

EjazNews

سندھ کے مشہور شہر شکارپور میں دائود پوتروں کا اقتدار ختم ہونے کے بعد میاں نور محمد کلہوڑہ کی حکومت قائم ہو گئی۔ لیکن اسی دوران نادر شاہ کو باغیوں نے مشہد میں قتل کر دیا اور اس طرح نادر شاہی سلطنت پارہ پارہ ہو گئی۔ چنانچہ افغانستان پر نادر شاہ کے ایک افغان جنرل احمد خان ابدالی نے قبضہ کر لیا جس نے اپنے وطن کو ایرانی تسلط سے آزاد کرانے کے بعد ’’دولت دورانیہ‘‘ کا اقتدار قائم کیا۔ احمد شاہ ابدالی اپنے دور کا ایک بلند اقبال حکمران تھا۔ اپنی حکومت و اقتدار کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کے بعد، اس نے اپنے پیشروئوں کی طرح ہندوستان فتح کرنے کا ارادہ کیا۔ ۱۱۲۱ھ میں سندھ کے کلہوڑہ حاکم میاں نور محمد نے نئے تاجدار سے عقیدت کا اظہار کیا، جس کے صلے میں اسے سندھ پر حکومت کرنے کا پروانہ ملا اور ساتھ ہی اسے شاہ نواز خان کے خطاب سے سرفراز کیا گیا۔ ۱۱۲۲ھ میں احمد شاہ ابدلی درہ بولان کے راستے سندھ آیا۔ اس کی آمد کی اطلاع پاکر میاں نور محمد نے اپنے مشیر دیوان گدومل کو اس کی خدمت میں اظہار عقیدت و وفاداری کے لیے روانہ کیا۔ دیوان گدو مل سکھر میں شاہی کیمپ میں آیا لیکن بدقسمتی سے وہ احمد شاہ ابدالی کے غیظ و غضب سے بچنے کے لیے جیلمیر کے علاقے میں روپوش ہو گیا۔ دیوان گدومل نے نوشہرو فیروز میں احمد شاہ ابدالی کی خدمت میں بازیابی حاصل کی۔ اس اطلاع پر میاں نور محمد جیسلمیر سے دوبارہ واپس چلا لیکن اس کی حیات مستعار کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا، اس لیے راستے ہی میں انتقال کر گیا۔ میاں نور محمد کے انتقال کے بعد احمد شاہ ابدالی نے سندھ کا نظام حکومت اپنے ہاتھ میں مکمل طور پر لے لیا اور سندھ کا مالیہ جمع کرنے کا کام اپنے کارندوں کے حوالے کر دیا۔ اس تمام عرصے میں دیوان گدومل احمد شاہ ابدالی کو راضی کرنے کی فکر میں لگا رہا اور آخر کار وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔ اس طرح احمد شاہ ابدالی نے میاں نور محمد کے بڑے لڑکے میاں محمد مراد یاب خاں کو سر بلند خان کا خطاب دے کر سندھ پر حکومت کرنے کا پروانہ عطا کیا اور شکار پور کے علاقے کو اپنی حدود سلطنت میں شامل کرکے اور خراج وصول کرکے دہلی کی طرف کوچ کر گیا۔ اس طرں ۱۷۷۵ء سے ۱۸۲۵ء تک شکار پور افغانستان کی حکومت کے تحت رہا۔ کیپٹن ایف، جی گولڈ سمڈ نے اپنی کتاب ’’شکار پور کی تاریخ یاد داشت‘‘ کی توضیحات میں درانی حکومت کی طرف سے شکار پر مقرر کردہ نوابوں کی مکمل فہرست دی ہے۔ یہ تفصیل تاریخی لحاظ سے قابل مطالعہ ہے۔ سطورکا ذیل میں ذکر کریں گے۔ احمد شاہ ابدالی کے دور اقتدار (۱۷۵۵ء تا ۱۷۷۳ء) میں مندرجہ ذیل نواب یا گورنروں نے شکارپور پر حکومت کی۔
۱۔ بوغرا خاں نورزئی:
یہ احمد شاہ ابدالی کے مقربین میں سے تھا۔ یہ ایک اچھا سیاستدان اور بہادر سپاہی تھا۔ یہ ساٹھ سال کی عمر میں شکارپور کا نواب مقرر ہو کر آیا تھا۔ اس نے آتے ہی شہر میں مکمل طور پر لاقانونیت کا خاتمہ کیا اور امن و امان بحال کیا۔ اس نے شکار پور پر تقریباً پانچ سال حکومت کی تھی۔
۲۔ رحمن خاں نور زئی:
اس کے دور میں شکار پور میںلاقانونیت کا بازار بری طرح گرم تھا۔ یہ انصاف اور سول انتظام کی طرف سے مکمل طور پر بے پروا تھا۔ یہ بھی صرف پانچ سال ہی اپنے عہدے پر فائز رہا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے عبد الرحیم خان بامزئی اور محراب خان سدوزئی نواب مقرر ہوئے لیکن یہ بھی کامیاب حکمران ثابت نہ ہو سکے۔
احمد شاہ ابدالی کے بعد اس کا لڑکا تیمور شاہ تخت کا حق دار تھا لیکن احمد شاہ ابدالی کے وزیر شاہ ولی خان کے بغض و حسد کی بنا پر بستر مرگ پر ابدالی اپنے بیٹے کا چہرہ تک نہ دیکھ سکا۔ شاہ ولی خان کی خواہش تھی کہ دولت درانیہ کے تخت پر تیمور شاہ کے بجائے اس کے چھوٹے بھائی سلیمان کا قبضہ ہو، جو اس کا ایک ہم مشرب شخص تھا۔ ان حالات کے تحت تیمور شاہ، ولی خان اور سلیمان کی مشترکہ فوج سے مقابلہ کرنے کے لیے قندھار کی طرف روانہ ہوا اور ایک خوں ریز جنگ کے بعد شاہ ولی خان مارا گیا اور تیمور کے چھوٹے بھائی سلیمان نے اس کی اطاعت قبول کر لی۔ اس طرح اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد تیمور شاہ نے بیس سال تک نہایت امن و چین سے حکومت کی۔ تیمور شاہ کے دور میں سندھ کے حکمران میاں عبد النبی کلہوڑے کی امداد کے لیے کئی افغان سردار سندھ آئے جن کا تفصیلی تذکرہ ’’فتح نامہ‘‘ میں دیا گیا ہے۔ تیمور شاہ کے دربار سے مندرجہ ذیل افراد سندھ کے گورنر مقرر ہو کر آئے۔
۱۔ غلام صدیق خان:
یہ ۱۷۷۳ء سے ۱۷۸۲ء تک شکارپور کا گورنر رہا۔ یہ ایک دانا اور ہوشیار حکمران تھا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ علم دوست اور شاعر بھی تھا۔ افسوس ہے کہ اب اس کا نمونہ کلام کہیں دست یاب نہیں ہے۔ وہ صاحب ڈنو صاحب کے کلام کا نہایت ذوق و شوق سے مطالعہ کرتا تھا۔ اس نے علاقے کی زرعی ترقی کی طرف خاص توجہ دی۔ گڑھی یاسین، محمد باغ اور بختیاور پور کے علاقے میں کئی نہریں کھدوائیں اور اس طرح زمین کی سرسبزی و سیرابی کے لیے پانی کافی وافر مقدار میں پھیل گیا۔ شکار پور قلعے کے شمال کی طرف اس نے ایک بہت بڑی حویلی عتمیر کرائی۔ یہ محلہ اب بھی ’’صدیق حویلی‘‘ کے نام سے منسوب ہے۔ شکار پور میں اپنا عرصہ اقتدار مقبول کرنے کے بعد وہ بکھر کا نواب مقرر ہوا، جہاں اسے شکار پور کے خزانے سے ایک ہزار روپیہ ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔
۲۔ صادق خاں ولد مرزا خان:
۱۷۸۲ء سے ۱۷۹۲ء تک شکارپور کا گورنر ہوا۔ اس کا والد مرزا خان، کشمیر میں ڈیرہ جات کا گورنر تھا۔ اس کے دور اقتدار میں اناج کے گوداموں میں اناج خراب ہو جانے کی وجہ سے بہت سخت قحط پڑا جس کی وجہ سے اہل شکار پور کو سخت تکالیف اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔
اس دور میں سندھ ایک انقلابی کیفیت سے گزر رہا تھا۔ نور محمد کلہوڑہ کی وفات کے بعد اس کا بڑا لڑکا میاں مراد یاب خان گدی نشین ہوا تھا، جسے بعد میں معزول کر دیا گیا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد میاں غلام شاہ اور میاں عطر خاں کے درمیان جو دونوں بھائی تھے، باہمی خلفشار نے سر اُٹھایا جس نے سندھ کو ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اس باہمی خلفشار میں آخر کار میاں غلام شاہ کامیاب و کامران ہوا اور کلہوڑا اور اقتدار کی گدی پر رونق افروز ہوا۔ میاں غلام شاہ سندھ کے کلہوڑہ حکمرانوں میں سب سے زیادہ کامیاب و کامران حکمران ثابت ہوا، اس کا دور اقتدار سندھ کی تاریخ کا عہد زریں کہلاتا ہے۔ اس کے انتقال کے بعد اس کا لڑکا میاں سرفراز خاں تخت نشین ہوا۔ یہ ایک ادیب اور عالم شخص تھا، لیکن اصول حکمرانی و سیاست سے پوری طرح واقف نہ تھا، یہی وجہ تھی کہ اپنے دور کی سایست کے پیچ و خم میں پھنس کر وہ اپنا اقتدار تک گنوا بیٹھا۔ میاں محمد سرفراز خاں کے بعد کلہوڑہ دور اقتدار کا زوال شروع ہو گیا۔ میاں سرفراز خان کے میاں عبد النبی تحت نشین ہوا، جس کے دور میں سندھ اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہا تھا۔ کافی عرصے سے تیمور شاہ کے دربار میں ایک عباسی شہزادہ عزت یار خان سندھ کی گدی کا دعویدار بنا ہوا تھا اور دوسری طرف کلہوڑہ حکمرانوں نے کافی عرصے سے سالانہ خراج بھی شاہی خزانے میں جمع کرایا تھا۔ ان حالات میں تیمور شاہ نے عزت یار خان کو اپنے ایک سردار محفوظ خان کے ہمراہ سندھ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ اس فوج نے شکار پور میں قیام کیا۔ ان حالات میں میر بجار کلہوڑہ فوج کو لے کر عزت یار خان کے مقابلے کے لیے نکلا اور بکھر کے قریب کشتیوں کے پل کے ذریعے دریائے سندھ عبور کرکے شکار پور آیا۔ شکار پور کے قلعے کے پاس دونوں فوجوں میں مقابلہ ہوا، جس میں میر بجار کو فتح نصیب ہوئی۔ اس وقت شکار پور کا گورنر صادق خان تھا۔ اس نے بھاگ کر شکار پور کے قلعے میں پناہ لی لیکن میر بجار نے قلعے کا محاصرہ کر لیا اور اس طرح ایک معمولی مقابلے کے بعد شکار پور کے قلعے پر بھی میر بجار کا قبضہ ہو گیا۔ قلعے پر قبضے کے بعد میر بجار نے اپنی فوج کو لوٹ مار کرنے سے سختی سے منع کر دیا تھا اور یہ اعلان کرا دیا تھا کہ ’’یہ شہر بادشاہ کا ہے اور ہم سب اس کے خادم ہیں۔‘‘ اس کامیابی کے بعد میر بجار نے ہر ایک افغان سردار کو خلعت اور گھوڑا دے کر رخصت کیا۔ تیمور شاہ کو اپنے سردار محفوظ خاں کی میر بجار کے ہاتھوں شکست کا حال سن کر سخت غصہ آیا، چننچہ وہ ایک زبردست لشکر کے ساتھ میر بجا کو سزا دینے کے لیے قندھار سے روانہ ہوا۔ جب تیمور شاہ شکارپور سے ایک منزل کے فاصلے پر تھا تو میر بجار کا سفیر اس کے سامنے میر بجار کی طرف سے نذرانے لے کر حاضر ہوا، اسی دوران میر بجار خاں بھی تیمور شاہ کی قدم بوسی کے لیے آ گیا اور اس نے تیمور شاہ کو اپنے حق میں ہموار کر لیا۔ اس طرح تیمور شاہ میر بجار کو معاف کرنے کے فوراً بعد قندھار واپس چلا گیا اور میر بجار شکار پور خالی کرکے خدا آباد کی طرف روانہ ہو گیا۔ لیکن جلد ہی میر بجار اور کلہوڑہ حکمران میاں عبد النبی خان کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا اور اس طرح یہ بہادر سردار میاں عبد النبی خان کے منصوبے کے تحت کان میں ایک بات سننے کے بہانے جیسلمیر کے دو اجنبی باشندوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ میر بجار کی شہادت نے تالپور میروں اور میاں عبد النبی کے درمیان ایک نیا تنازع پیدا کر دیا اور اس طرح سندھ ایک مرتبہ پھر افغان فوج کی لوٹ مار اور کشت و خون کی نذر ہو گیا۔ لیکن شکارپور چونکہ درانی سلطنت کا ایک حصہ تھا، اس لیے وہ ان کی دست برد سے محفوظ۔ مدد خاں کی طاقت کے سامنے میروں کو جھکنا پڑا اور اس طرح میاں عبد النبی ایک مرتبہ پھر سندھ کا حکم بن گیا، لیکن افسوس کہ میاں عبد النبی اب بھی اپنی غلط حرکتوں سے باز نہ آیا اور میر عبد اللہ جو اس وقت تالپور میروں کا مہندار تھا، اس کی سازش سے قتل کر دیا گیا۔ چنانچہ تالپوروں نے میر فتح علی خان کی سرداری میں میاں عبد النبی سے انتقام لینے کا عزم کیا اور اس کے مقابلے کے لیے نکلے اور جنگ ہالانی میں میاں عبد النبی اپنے تخت و تاج سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیا گیا اور اب سندھ پر تالپور میروں کا قبضہ ہو گیا۔
۱۷۹۲ء میں تیمور شاہ نے اپنے مشہور جنرل پایندہ خان کو سندھ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ اس حملے کی وجہ غالباً یہ تھی کہ تالپور میروں نے اپنی نوزائیدہ حکومت کے لیے نہ تو تیمور شاہ سے حکومت کرنے کا پروانہ حاصل کیا تھا اور نہ اُنھوں نے مقررہ خراج درانی خزانے میں داخل کیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اس حملے میں میاں عبد لنبی کا بھی کچھ ہاتھ ہو جو تیمور شاہ کے دربار میں تالپور میروں کے خلاف فریاد لے کر گیا تھا۔ پایندہ خان ایک لشکر جرار لے کر آیا اور شکارپور میں منزل انداز ہوا۔ جب اس کی اطلاع میر فتح علی خان کو ملی تو وہ خدا آباد سے پایندہ خان سے ملاقات کرنے شکارپور آیا اور اس سے عقیدت و محبت کا اہظار کیا اور پھر کافی بحث و تمحیص کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ سندھ پر حکومت کرنے کی سند تالپور میروں کو عطا کی جائے اور یہ کہ تالپور سردار، کلہوڑہ حکمرانوں کی طرح خراج شاہی خزانے میں داخل کرتے رہیں گے۔ دولت درانیہ کا مصنف اس معاہدے کو ’’عہد نامہ شکارپور‘‘ کے نام سے یاد کرتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد پایندہ خان قندھار واپس چلا گیا اور میر فتح علی خاں نے اپنے مشیر دیوان جسپت رائے کو بے بہا تحائف کے ساتھ شکار پور سے تیمور شاہ کی خدمت میں بطور سفیر روانہ ہو کیا۔ تیمور شاہ کا انتقال ۱۷۹۳ء میں ہو گیا اور اس کی جگہ اس کا بڑا لڑکا زمان شاہ کافی چپقلش کے بعد گدی نشین ہوا۔ اس کے دور میں مندرجہ ذیل گورنروں نے شکار پور پر حکومت کی۔
۱۔ شیر خان پوپلزئی ۱۷۹۳ء سے ۱۷۹۵ء تک
۲۔ رحمت اللہ خاں قلندری ۱۷۹۵ء سے ۱۷۹۷ء تک
۳۔ شربت خاں پوپلزئی ۱۷۹۷ء سے ۱۷۹۹ء تک
۴۔ دوست محمد خان پوپلزئی ۱۷۹۹ء سے ۱۸۰۱ء تک
زمان شاہ کے اقتدار کے آخری دور میں اس کے بھائیوں ہمایوں اور محمود نے بغاوتیں کیں۔ ہمایوںکو گرفتار کرکے زمان شاہ کی خدمت میں پیش کیا گیا جس نے آنکھیں نکلوا کر اندھا کر دیا، لیکن محمود اپنی بغاوت میں کامیاب رہا۔ اس کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ زمان شاہ اپنے سپہ سالار اور وزیر پایندہ خان بار کزئی سے بدگمان ہو گیا تھا اور اسی لیے اس نے بعد میں پایندہ خان کو قتل کر دیا تھا اور پایندہ خان کا لڑکا فتح خاں سے مل گیا۔ اس پر آشوب وقت میں جب کہ زمان شاہ پنجاب آیا ہوا تھا، اپنے لیے میدان صاف دیکھ کر محمود خان نے بغاوت کی اور بڑی آسانی سے کابل پر اس کا قبضہ ہو گیا۔ محمود خان کی بغاوت کا سن کر زمان شاہ پنجاب کو رنجیت سنگھ کے حوالے کرکے فوراً افغانستان واپس ہوا، لیکن درہ خیبر کے نزدیک زمان شاہ اور محمود شاہ کی فوجوں میں مقابلہ ہوا، جس میں محمود شاہ کو کامیابی ہوئی اور زمان شاہ شکست کھا کر قید ہوا۔ چنانچہ اب محمود شاہ نے اپنے سگے بھائی ہمایوں کے قصاص میں افغانستان کے بدقسمت حکمران زمان شاہ کی بھی آنکھیں نکلوا دیں۔ محمود شاہ افغانتان پر صرف تین سال حکومت کر سکا۔ اس کے دور میں شکارپور پر مندرجہ ذیل گورنروں نے حکومت کی۔
۱۔ شاہ سرور خان بار کزئی:
کہتے ہیں کہ یہ کافی بوڑھا آدمی تھا، صرف چھ ماہ شکارپور کا گورنر رہا۔
۲۔ امام بخش مغل:
یہ شیعہ تھا، محرم کے موقع پر اس نے لوگوں کو تابوت بنانے کے لیے اکسایا جس پر علما نے اس کی بہت سخت مخالفت کی، اس کی مخالفت میں حضرت حفیظ اللہ علوی پیش پیش تھے۔ علما نے نواب پر حملہ کیا اور تابوت بنانے والوں کو قتل کر دیا اور تابوتوں کو توڑ دیا۔ اس کے بعد اُنھوں نے ایک درخواست محمود شاہ کے دربار میں روانہ کی چنانچہ محمود شاہ نے اسے ہاتھی کے پیروں سے کچلوا کر مروا ڈالا۔
۳۔ سردار محمد اعظم خاں:
یہ ایک بہادر، نیک اور انصاف پسند حکمران تھا۔ اپنے عہدے پر تقریباً ایک سال تک فائز رہا۔
۴۔ بڈھل خاں مغل:
معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق شکارپور ہی سے تھا، یہ نرم مزاج اور سخی طینت حکمران تھا۔
۵۔ دیوان سکو سنگھ:
یہ ایک چالاک مگر اچھا حکمران تھا۔ افغان حکومت میں ایک ہندو کا اس اہم ترین عہدے پر فائز ہونا، اس بات کی دلیل ہے کہ اس دور میں بھی مسلمانوں کا اقلیت کے ساتھ کتنا اچھا سلوک تھا۔
تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ درانی خاندان نے کس طرح اپنا اتحاد و اتفاق ختم کرکے خود کو مصائب میں مبتلا کیا۔ اس پرآشوب دور میں محمود شاہ بھی ہمیشہ اقتدار پر قابض رہنے والی شخصیت نہیں تھی۔ اس کی کمزور پالیسی ہی رنگ لائی۔ شاہ شجاع الملک اور محمود شاہ کے درمیان کشمکش جاری رہی۔ فتح خان نے اپنی سی بہت کوشش کی لیکن عوام بگڑ چکے تھے، آخر محمود شاہ کی حیثیت ایک قیدی کی سی بن گئی اور شاہ شجاع الملک آخر کار تخت و تاج حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ شاہ شجاع الملک کے دور میں شکار پور پر مندرجہ ذیل گورنروں نے حکومت کی۔
۱۔ پوپلزئی: ۱۸۰۲ء سے ۱۸۰۵ء تک
۲۔ نواب مدد خان پوپلزئی: یہ ایک علم دوست اور انصاف پسند حکمران تھا۔ شکارپور کی اناج منڈی میں اس کی تیار کردہ مسجد آج تک موجود ہے۔ اس نے اپنی زندگی کا آخری دور برطانوی حکومت کے زیر سایہ پٹے دار کی حیثیت سے گزارا۔
۳۔ بڈھل خاں مغل: یہ دوسری دفعہ شکار پور کا گورنر مقرر ہوا تھا۔
۴۔ جہانگیر خاں مغل: ۱۸۰۷ء سے ۱۸۰۸ء تک
۵۔ پایندہ خان پوپلزئی: ۱۸۰۸ء سے ۱۸۰۹ء تک
۶۔ محمد رضا خان مغل: ۱۸۰۹ء سے ۱۸۱۰ء تک
اسی دوران شاہ شجاع اپنی خود فریبیوں کا شکار ہو گیا اور اس نے وہ فاش غلطیاں کیں جن کی وجہ سے اس کی حکومت مشکلات میں گھر گئی۔ اس کی پہلی غلطی یہ تھی کہ اس نے اپنی بہترین، تجربہ کار اور آزمودہ فوج کشمیر پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کی جہاں اسے بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف اس نے میر واعظ نامی ایک درویش کو اپنے ہاتھوں قتل کیا، میر واعظ کا افغان پر کافی اثر تھا، اس کے اس اقدام سے اس کی مخالفت شروع ہو گئی۔ اس دوران قندھار میں شاہ شجاع کے بھتیجے قیصر مرزا نے محمود کے سپہ سالار فتح خاں کو گرفتار کرکے اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر دیا۔ اس نازک دور میں جبکہ افغانستان میں اس کے خلاف بری طر بغاوت پھیلی ہوئی تھی، شاہ شجاعت سندھ پر حملے کی غرض سے بڑھا۔ اس کے فوج مہندار شیر محمد نے اسے اس اقدام سے باز رکھنا کی بہت کوشش کی لیکن کچھ پیش نہ گئی۔ اسی دوران محمود شاہ بالاحصار سے بھاگ جانے میں کامیاب ہو گیا۔ شیر محمد، شاہ شجاع کی غلط حرکتوں کی وجہ سے پہلے ہی اس سے بہت نالاں تھا، اس نے موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے شجاع الملک کی جگہ قیصر مرزا کو بادشاہ بنا دیا۔ یہ تمام اطلاعات شاہ شجاع کو ملتی رہی تھیں۔ قیصر مرزا اور شیر محمد اب پشاور کی طرف قیش قدمی کر رہے تھے کہ یہیں شاہ شجاع سے مقابلہ ہوا، جس میں شیر محمد مارا گیا۔ ۱۸۰۹ء میں شاہ شجاع اور محمود کی افواج میں مقابلہ ہوا، جس میں شاہ شجاع کو بری طرح شکست ہوئی اور وہ پہاڑی علاقے میں روپوش ہو گیا۔ اس طرح تخت پر محمود شاہ کا دوبارہ قبضہ ہو گیا۔ محمود شاہ کے اقتدار کے اس دوسرے دور میں شکار پور مندرجہ ذیل گورنروں نے حکومت کی۔
۱۔ سید عبد اللہ خاں: ۱۸۱۰ء سے ۱۸۱۴ء تک
۲۔ نصیر خاں: ۱۸۱۴ء سے ۱۸۱۸ء تک
۳۔ سردار عبد الصمد: ۸۱۸ء سے ۱۸۲۰ء تک
۴۔ محمد رضا خاں: ۱۸۲۰ء سے ۱۸۲۱ء تک۔ اسے ڈیرہ غازی خان کے نواب نے گرفتار کرکے اپنی قید میں رکھا تھا۔
محمد رضا خان کے بعد جن نوابوں نے شکارپور پر حکومت کی، ان کا عرصہ اقتدار بہت ہی کم ہے۔ مثلاً کسی کا اقتدار دو ماہ رہا اور کسی کا اقتدار چار ماہ رہا۔ اسی دوران محمود شاہ اپنے وزیراعظم فتح خان سے ناراض ہو گیا اور اس کی آنکھیں نکلوا کر اسے اندھا کر دیا جس کی بنا پراس کے بھائی امیر دوست محمد نے محمود شاہ پر حملہ کیا لیکن شکست کھا کر ایران کی طرف بھاگ جانے پر مجبور ہوا اور وہیں ۱۸۲۱ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔
شاہ شجاع اپنا تاج و تخت گنوا کر بھی خاموش نہ رہا اور کافی عرصے تک اس نے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی۔ ۱۸۱۵ء میں وہ اپنا کوہ نور ہیرا گنوا کر راجہ رنجیت سنگھ کی قید سے بھاگ نکلا اور کشمیر کے راستے حیدر آباد آیا۔ تالپور میروں کو جب اس کی آمد کا پتا چلا تو وہ اس کے استقبال کے لیے آئے اور اس کی خدمت میں تحفے پیش کیے۔ وہاں سے وہ شکار پور کی طرف آیا، جہاں اس وقت شہزادہ محمد تیمور شاہ سدوزنی نواب تھا۔ اس نے بھی شاہ سجاع کو خوش آمدید کہا اور شکارپور اس کے حوالے کر دیا۔ شاہ شجاع شکار پور میں ایک سال نہایت آرام و سکون سے رہا۔ غالباً اسی زمانے میں شاہ شجاع نے جیٹھمل نامی ایک دولت مند ہندو کی بہن سے شادی کرکے اسے اپنے حرم میں داخل کیا تھا۔ جب محمود شاہ کو شاہ شجاع کی شکار پور میں موجودگی کی اطلاع ملی تو اس نے فتح خان کے بھائی سردار محمد اعظم خان کو شکار پور حملہ کرنے کے لیے رونہ کیا۔ اعظم خاں کی آمد کی اطلاع پاکر شاہ شجاع حیدر آباد روانہ ہو گیا اور اس نے شہزادہ تیمور شاہ کو معزول کرکے اس کی جگہ ملا محمد خان غلزئی کو شکار پور کا گورنر مقرر کیا۔ شہزادہ تیمور شاہ کا لڑکا شہزادہ پیر محمد انگریزوں کے وظیفہ خوار کی حیثیت سے شکارپور میں انتقال کر گیا تھا۔ محمود شاہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد کچھ عرصہ افغانستان پر باز کزئی برادران قابض رہے۔ اس زمانے میں شکارپور کا نواب منصور خان تھا جو رحمدل بار کزئی کا بھانجا تھا۔ رحمدل بارکزئی نے اپنی موجودگی میں منصور خاں کو شکار پور کا گورنر مقرر کیا تھا اور پھر اپنے بھائیوں شیر دل خاں اور ببر دل خان کے بلانے پر وہ قندھار روانہ ہو گیا تھا کیونکہ وہاں اس کے یہ دونوں بھائی امیر دوست محمد خان کے خلاف جنگ میں مصروف تھے۔ افغان حکومت کی کمزور حالت کو دیکھ کر میر کرم علی خان کے دل میں جو اس وقت حیدر آباد کا امیر تھا، شکار پور کو فتح کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ اسی دوران راجہ رنجیت سنگھ نے بھی شکار پور پر قبضہ کرکے اپنے دائرہ اقتدار میں توسیع کرنا چاہی۔ چنانچہ راجہ رنجیت سنگھ کا مشہور جنرل وینتورا، ڈیرہ غازی خاں تک آ گیا تھا۔ تالپور امیر، رنجیت سنگھ کے اس منصوبے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، چنانچہ موقع سے فائدہ اُٹھانے کی غرض سے میر کرم علی خان نے نواب والی محمد خان لغاری کو ایک کثیر فوج کے ساتھ شکار پور پر حملہ اور قبضہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ نواب ولی محمد خان نے شاہی باغ میں اپنا فوجی کیمپ قائم کیا اور پھر نواب منصور خان کو ایک خط کے ذریعے کل حقیقت بیان کر دی، جس کے مطابق شکار پور پر تالپور امیروں کا قبضہ نہایت ہی ضروری تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ سکھوں کے دبائو اور اثر سے بچنے کے لیے صرف یہی تجویز کارگر نظر آتی تھی۔ خط روانہ کرنے کے بعد نواب ولی محمد خان نے نواب منصور خان کے ایک معتمد جمعہ خان کو حکمت عملی سے اپنے ساتھ کر لیا۔ جمعہ خان کے مشورے نے نواب منصور خان کو اس امر کے لیے قائل کر دیا کہ وہ شکار پور کا قبضہ تالپور میروں کو دے دے۔ جون ۱۸۲۴ء میں نواب ولی محمد خان کی فوج کا ایک سردار دلاور خدمت گار ایک مختصر فوجی دستے کے ساتھ شکار پور شہر میں داخل ہوا اور میلا رام ہندو کی بیٹھک کو اس نے اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا۔ اسی شام نواب منصور خاں شاہی باغ میں نواب ولی محمد خاں لغاری سے ملا اور شکارپور شہر کے آٹھوں دروازوں کی کنجیاں اس کے حوالے کر دیں، اس کام سے فارغ ہو کر منصور خاں گڑھی یاسین چلا گیا۔ ایک ہفتے کے بعد اسے نواب ولی محمد خاں کا یہ حکم ملا کہ وہ گڑھی یاسین سے بھی چلا جائے، چنانچہ منصور خاں نے اس حکم کی تعمیل کی اور قندھار چلا گیا اور اس طرح شکار پور سے درانیوں کے قبضہ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔
درانیوں کے دور حکومت میں شکارپور نے بہت ترقی کی۔ اس دور میں یہاں کی آبادی کم و بیش ۳۰ ہزار نفوس پر مشتمل تھی اور یہاں کے لوگ بہت خوشحال اور مالدار تھے، یہاں کے ہندو اس زمانے میں بہت دولت مند سمجھے جاتے تھے اور تجارت کرتے تھے۔ درانیوں نے شکارپور پر کم و بیش پچاس سال کی حکومت کی۔ یہ تمام دور شکار پور کے لیے امن و سلامتی کا دور تھا کیونکہ یہاں پر افغان اقتدار قائم ہونے کی وجہ سے بیرونی طاقتوں کو اس علاقے پر حملے کی جرأت نہ ہو سکی۔ اگرچہ اس عرصے میں افغانستان میں کئی انقلاب آئے مگر ان کا کسی طور پر بھی شکارپور پر کوئی اثر نہ پڑا۔
پروفیسر لطف اللہ بدوی مرحوم(مترجم: رحمت فرخ آبادی ایم۔ اے)

اپنا تبصرہ بھیجیں