استاد کے حقوق

EjazNews

کسی بھی معاشرے کو بنانے اور بگاڑنے میں اگر کسی کا اہم ترین کردار ہوتا ہے تو وہ استا د ہے۔ کیونکہ بچے استادوں کو دیکھ کر تربیت حاصل کرتے ہیں اور انہی کی تربیت سے آگے معاشرے میں سیکھتے ہیں ۔ اسلام نے استاد کی بڑی اہمیت دی ہے اور استاد کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کے شاگرد اس کا ادب و احترام کریں، اس کے ساتھ عزت، عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آئیں۔ اس کا کہنا مانیں اور جو تعلیم وہ دے، اس پر عمل پیرا ہوں۔ استاد روحانی باپ ہوتا ہے، اس کا حق اپنے شاگردوں پر اتنا ہی ہے، جتنا ایک باپ کا اولاد پر۔ ماں باپ اگر اس کے دنیا میں آنے کا ذریعہ بنتے ہیں، تو استاد اسے اچھی اور باعزت زندگی جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے۔ اسے علم کے زیور سے آراستہ کرکے اس کی اخلاقی تربیت کرتا ہے۔ اس کی شخصیت سازی و کرداری سازی میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے، یعنی پتھر کو تراش کر ہیرا بناتا ہے، تاکہ وہ معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرسکے۔ جس طرح والدین کے احسانات کا بدلہ نہیں چکایا جاسکتا، اسی طرح استاد کے احسانات کا بدلہ بھی نہیں اتارا جاسکتا۔ ماضی کے اوراق مسلمانوں کی عظیم الشان تاریخ، اساتذہ کے ادب و احترام کے بے شمار واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ذیل میں ہم خلیفہ ہارون الرشید کا ذکر کرتے ہیں۔ خلیفہ ہارون الرشید خود بھی علم کے داد رس تھے اور انہوں نے علمی لوگوں کو اور علم کو بڑی اہمیت دی تھی۔ ان دور حکومت میں مسلمانوں کی علمی ترقی میں بڑا اضافہ ہوا۔ وہ مترجم کو اتنے پیسے دئیے کرتے تھے کہ دنیا جہاں سے کتابوں کے تراجم کرنے والے بغداد میں جمع تھے ۔استاد کے ادب و احترام سے متعلق ایک واقعہ ذیل میں قابل ذکر ہے
خلیفہ، ہارون الرشید بذات دور طالب علمی میں اپنے استاد کے جوتے مسجد سے اٹھا کر باہر لایا کرتے تھے جبکہ انہوں نے اپنے بیٹے امین کو مشہور عالم، امام اصمعی کے پاس علم و ادب کی تربیت کے لیے بھیجا۔ کچھ دنوں بعد خلیفہ صاحبزادے کی تعلیم و تربیت کا جائزہ لینے کے لیے بغیراطلاع وہاں پہنچ گئے۔ دیکھا کہ امام اصمعیؒ وضو کرتے ہوئے اپنے پائوں دھو رہے ہیں اور شہزادہ امین پانی ڈال رہا ہے۔ یہ دیکھ کر خلیفہ وقت کو بڑا غصّہ آیا اور امام اصمعیؒ سے کہا کہ ’’حضرت میں نے اسے آپ کے پاس علم و ادب سیکھنے کے لیے بھیجا ہے، آپ کو اسے حکم دینا چاہیے تھا کہ یہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالے اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پائوں دھوئے۔‘‘ ہارون الرشید وہاں سے واپس ہوئے اور اپنے دوسرے بیٹے مامون کو بھی امام اصمعیؒ کے پاس بھیج دیا۔ اب دونوں شہزادوں کا یہ حال تھا کہ جب امام اصمعی مسجد سے نکلنے کا ارادہ کرتے، تو دونوں، ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ان کی جوتیاں اٹھانے کے لیے دوڑ پڑتے۔
حضرت امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ ’’میں ہر نماز کے بعد اپنے استاد اور اپنے والد کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہوں۔ میں نے کبھی بھی اپنے استادِ محترم کے گھر کی طرف اپنے پائوں دراز نہیں کیے، حالانکہ میرے گھر اور ان کے گھر کے درمیان سات گلیوں کا فاصلہ ہے۔ میرا معمول ہے کہ میں ہر اس شخص کے لیے دعائے استغفار کرتا ہوں، جس سے میں نے کچھ سیکھا یا جس نے مجھے علم پڑھایا اور سکھایا۔‘‘ امام ابویوسفؒ فرماتے ہیں کہ ’’کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے نماز پڑھی ہو اور اپنے استاد، امام ابوحنیفہؒ کے لیے دعا نہ مانگی ہو۔‘‘ خلیفہ وقت ہارون الرشید نے امام مالکؒ سے حدیث پڑھانے کی درخواست کی، تو امام مالکؒ نے فرمایا ’’علم کے پاس لوگ آتے ہیں، علم لوگوں کے پاس نہیں جایا کرتا۔ تم اگر کچھ سیکھنا چاہتے ہو، تو میرے حلقہ درس میں آسکتے ہو۔‘‘ چنانچہ، خلیفہ حلقہ درس میں آئے اور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ امام مالکؒ نے جب یہ دیکھا، تو ڈانٹ پلائی اور فرمایا ’’اگر علم حاصل کرنا چاہتے ہو، تو اہلِ علم کا احترام کرو۔‘‘ یہ سنتے ہی خلیفہ باادب انداز میں فوراً کھڑے ہوگئے۔
علم کو حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض قرار دیا گیا ہے۔ اس کے متعلق ہمیں تاریخ اسلام میں بہت سے واقعات بھی ملتے ہیں۔ جس میں استاد نہ صرف معاشرتی طور پر بلکہ مالی طور پر مضبوط ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ استاد کے ادب و احترام کے ساتھ ساتھ ان کے تمام معاملات کو بہتر طور پر حل کیا جائے گا۔ کیونکہ استاد اگر اپنے معاملات میں بہترنہیں ہوگا تو وہ ایک بہترین قوم بنانے میں کیسے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج اساتذہ کو بڑی مشکلات کا سامنا ہے ۔ یہ مشکلات ہر طرح کی ہیں ان کو حل کرنا اور ان کو بہترین ماحول اور ان کے لیے معاشرے میں بہترین آسانیاں پیدا کرنے ہر حکومت کا فرض ہے۔ چاہے وہ معاشرتی ہوں، مالی ہوں ۔ انہیں ہر لحاظ سے پرسکون ہو کر بہتر قوم بنانے کے لیے ماحول مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ استاد کا حق اور ہر معاشرے کا فرض ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں شراب خوری کی سزا

اپنا تبصرہ بھیجیں