پتے کی پتھری علامات اور بچاو

EjazNews

پتہ میں پتھری اکثر لوگوں کو ہو جاتی ہے لیکن ہر شخص کو ایسی کوئی تکلیف نہیں ہوتی جس سے اسکی موجودگی کا شبہ یا اندازہ ہو سکے کیونکہ علامات کے بغیر دنیا میں کافی لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں۔ پتے کوانگریزی گال بلیڈر(Gallbladder)کے نام سے بلاتے ہیں۔ یہ چھوٹا سا عضو جگر کے نیچے دائیں جانب پایا جاتا ہے۔اس میں سیال بائل یا صفرا(Bile)ہوتا ہے جو چربی اور مخصوص وٹامنز ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ بعض وجوہ کی بنا پر اسی پتے میں پتھری بن جاتی ہے جوزیادہ ترکیسزمیں کوئی علامت ظاہر نہیں کرتی، لیکن بعض اوقات اس سے ہونے والی پیچیدگیاں بےحد خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
پتھری بنانے میں پتہ کا اپنا کردار بھی اہم ہے اگر وہ تندرست ہو تو عام حالات میں وہ پتھری بننے نہیں دیتا۔ پتہ میں اگر کسی وجہ سے سوزش ہو جائے تو پھر سوزش والے مقام پر کولیسٹرول جمنا شروع ہو جاتا ہے۔ پتھریوں میں اگر کیلشیم کی مقدار زیادہ ہو تو ایکسرے میں نظر آجاتی ہیں ورنہ ان کی تشخیص کا بہترین طریقہ الٹرا ساؤنڈ ہے جس کی مدد سے نہ صرف پتھریوں کا پتہ چل سکتا ہے بلکہ ان کا صحیح سائز بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر خاندان میں کسی کو اس کی شکایت ہو تو بھی قریبی رشتے داروں میں اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

علامات

اگر بات علامات کی کی جائے تو ایک سے تین فی صد مریضوں میں علامات ظاہر ہوتی ہیں۔لیکن باقی مریضوں کو پتہ میں پتھریوں کے باوجود کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور پتھریوں کی موجودگی کا پتہ اتفاقاً چلتا ہے اس لئے زیادہ تر علامات پتھری کی وجہ سے نہیں بلکہ ان سے ہونے والے مسائل سے ہوتی ہیں۔ جیسے کہ نالیوں میں رکاوٹ کی وجہ سے پتہ میں سوزش ،نالیوں میں رکاوٹ کی وجہ سے لبلبہ میں سوزش ، بڑی عمر کے مریضوں میں پتہ میں کینسر ہو جاتا ہے، پتہ اور چھوٹی آنت کے درمیان ایک سوراخ بن کر صفرا کے اخراج کا براہ راست غلط راستہ بن جاتا ہے جس میں بھی کوئی پتھر پھنس کر رکاوٹ یا پھر یرقان اور پیٹ کے اندر دوسرے خطرات اور حوادث کا باعث ہو سکتا ہے۔
پتے میں پتھری کی ایک عام پیچیدگی پتے کا اندورنی یا بیرونی ورم ہے۔90فی صد مریضوں میں پتے کا ورم اس میں موجود پتھری اور نالی میں رکاوٹ کے سبب ہوتا ہے۔مریض مسلسل درد کی شکایت کرتا ہے،جو عموماً کئی گھنٹوں بعض اوقات تو کئی دنوں تک رہتا ہے،جبکہ علامات میں بخار، پیٹ درد، متلی اور قے وغیرہ شامل ہیں۔اگرمعالج پیٹ کے دائیں حصے کو دبائے، تو مریض درد کی شدت سے اچھل پڑتا ہے۔واضح رہے کہ صرف تیس فیصد مریضوں میں اگر پتا پھول جائےتو ہاتھ لگانے سے محسوس کیا جاسکتا ہے، جبکہ دس سے پندرہ فیصد میں پتے میں مواد بھر جانے اور پھٹ جانے سے سرجیکل ایمرجنسی پیدا ہو جاتی ہے۔بعض اوقات پتے کی پتھری، پتے سے نکل کر صفرے کی نالی میں بھی پھنس جاتی ہے،جس کے نتیجے میں یرقان، نالی میں مواد بھر جانے یا پھر لبلبے میں انفیکشن جیسی پیچیدگیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں پائی جانے والی چند خطرناک بیماریاں

اس کی عام علامات میں پیٹ کے دائیں جانب درد، بخار، الٹی اور بھوک نہ لگنا شامل ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کروایا جائے، تو پتاپھٹ جانے کے سبب فاسد مواد پورےپیٹ میں پھیل جاتا ہے۔علاج کے لیے فوری طور پر اینٹی بایوٹکس دی جاتی ہیں اور پتےمیں ایک آلے کی مدد سے سوراخ کرکے مواد اور پانی نکال دیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ اس حالت میں پتے کا آپریشن ہرگز نہیں کیا جاتا ہے۔پتےمیں پتھری کی پیچیدگیوں میں ایک پیچیدگی پتے کا سرطان بھی ہے، مگر اس کی شرح بہت کم ہے۔ زیادہ تر اُن معمر افراد میں جن کے پتے میں برس ہا برس سے پتھری موجود ہو، اس کے امکانات پائے جاتے ہیں۔


پتے میں پتھری کی تشخیص کے لیے پیٹ کا الٹرا سائونڈ کیا جاتا ہےجو نہ صرف92فی صد درست نتائج دیتا ہے،بلکہ اس کی بدولت99فیصد ان پتھریوں کی بھی تشخیص ممکن ہے،جو حجم میں دو ملی میٹر سے بڑی ہوں، جبکہ صفرے کی نالی میں پتھری کی تشخیص کے لیے بھی یہ طریقہ کار 50فی صد کامیاب ہے۔ ماضی میں جب الٹراسائونڈ کی سہولت دستیاب نہیں تھی تو ایکسرے کے ذریعے پتے اور نالی کی پتھری کی تشخیص کی جاتی تھی ۔مریض کو رات سونے سے قبل مخصوص دوا کھلائی جاتی اورصبح ایکسرے کرلیا جاتا، جبکہ دوسرے طریقۂ کار میں انجیکشن کے ذریعے مریض کے جسم میں ایک ڈائی داخل کی جاتی، جو ایکسرے میں پتھریوں کو واضح طور پر ظاہر کردیتی تھی۔اگرچہ تشخیص کے یہ دونوں ہی طریقے درست نتائج دیتے ہیں، لیکن اب تقریبا مسترد کیے جاچکے ہیں۔ رہی بات سی ٹی سکین کی، تو20فی صد مریضوں میں پتھریاں ظاہر نہیں ہوتیں، لیکن پیچیدگی کی تشخیص خصوصا پتے میں مواد بھر جانے یا پھٹ جانے کے لیے یہ ایک کامیاب ٹیسٹ قرار دیا گیا ہے۔تاہم اینڈو اسکواپک الٹرا سائونڈکے ذریعے پتّے کی پتھری، ریت اور مٹّی(Sludge)کی بھی تشخیص ممکن ہے۔ زیادہ تر معالجین تشخیص کے لیے یہی طریقہ کار تجویز کرتے ہیں کہ اس کے نتائج سو فیصد درست ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جسمانی صحت، ذہنی صحت سے جڑی ہے

بچاو

جو کا دلیہ پیشاب آور ہے پتہ کے مریضوں کے لئے یہ دلیہ از حد مفید ہے یہ خون کی کولیسٹرول کو کم کرتا ہے۔پتہ کی بیماریوں کو پیدا کرنے میں چکنائیوں کا بڑا عمل دخل ہے، بیمار ہونے کے بعد مریض کی غذا میں چکنائی کی موجودگی اس کی بیماری میں اضافہ کا باعث ہوتی ہے۔ایسے حالات میں کوئی ایسی چیز جو بذات خود چکنائی ہو ‘اس سے بیماری میں اضافہ کا امکان موجود رہتا ہے۔
بعض کیسز میں پتے میں پتھری کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ کسی اور مرض کی تشخیص کے لیے الٹراساونڈ کروایا جاتا ہے اور پتھری ظاہر ہوجاتی ہے۔ اس صورت میں اگر تو مریض کو درد نہیں تو پھر آپریشن میں تاخیر کی جاسکتی ہے اور کبھی کبھار درد ہونے کی صورت میں دافع درد دوا استعمال کی جاسکتی ہے، لیکن اگر درد بار بار ہوتو بہتر ہوگا کہ معالج کے مشورے سے آپریشن کروالیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی پیچیدگی سے بچا جاسکے۔ماضی میں پسلیوں کے نیچے دائیں طرف کافی بڑا چیرا لگا کر پتا، پتھریوں سمیت نکال کر مریض کو کم از کم ایک ہفتے تک ہسپتال میں رکھا جاتا تھا۔لیکن اب’’ Laparoscopic Cholecystectomy‘‘کی جاتی ہے، جس کے ذریعے مریض جلد صحت یاب ہو کر تیسرے دن گھر چلا جاتا ہے۔ شاید اس لیے کہ اس میں پیٹ چابی کے سوراخ کی طرح تین سوراخ کیے جاتے ہیں۔ ایک سوراخ کے ذریعے کیمرا داخل کیا جاتا ہے، دوسرے سوراخ سے پتا نکالا جاتا ہے توتیسرے سوراخ کے ذریعے ایک نلکی داخل کرکے صفائی کی جاتی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکا میں پتے کی پتھری کے سالانہ سات لاکھ آپریشن ہوتے ہیں، جن میں80فیصد لیپرو اسکوپی کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔تاہم، پتے کے سرطان میں مبتلا مریضوں میں مذکورہ آپریشن زیادہ کامیاب نہیں کہ زیادہ تر کیسز میں سرطان، پتے سے نکل کر صفرے کی نالی اور جگر تک پھیل چکا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں جگر کا کچھ حصہ نکالنے سے بھی فائدہ نہیں ہوتا،جبکہ کیمو اور ریڈیو تھراپیز بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتیں۔ مریض زیادہ سے زیادہ چھےماہ جی پاتا ہے۔ صرف پانچ فیصد مریض ہی سروائیو کرتے ہیں اور وہ بھی پانچ سال تک زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہ کر انتقال کرجاتے ہیں۔بدقسمتی سے اتائی اور نیم حکیم یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے پاس پتے کی پتھری کا بغیر آپریشن کامیاب علاج موجود ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گُردے کی پتھری اگر حجم میں چھوٹی ہو تو مائع اشیاء کے زیادہ استعمال سے گردے سے مثانے تک پہنچ کر قدرتی طور پر خارج ہوسکتی ہے، مگر پتے کی پتھری کے اخراج کا ایسا کوئی قدرتی طریقہ نہیں۔ اگرچہ کئی برس قبل پتے کی پتھری کے آپریشن کا متبادل طریقہLithotripsyمتعارف کروایا گیا، جس میں شعاؤں کے ذریعے پتھری توڑ کر اس کا سفوف بنادیا جاتا اور بعد ازاں مریض کو ایک مخصوص دوا دی جاتی،جسے ختم ہونے تک پابندی کے ساتھ استعمال کی سخت تاکید کی جاتی، مگر یہ طریقۂ علاج بھی زیادہ کامیاب نہ ہوسکا،کیوں کہ سفوف دوبارہ گٹھلیوں کی شکل میں جمع ہوکر پتھری بنا دیتا ہے، لہٰذا یہ طے ہے کہ پتے کی پتھری نکالنے کے لیے آپریشن کے سوا کوئی دوسرا طریقۂ علاج موجود نہیں۔ سو تشخیص کی صورت میں اتائیوںنیم حکیموں کے جھانسے میں آنے کی بجائے کسی مستند، تجربہ کار معالج سے رجوع کیا جائے تاکہ درست علاج کی بدولت پیچیدگیوں کے امکانات معدوم ہوجائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ایکس ڈی آر ٹائی
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں