1883-84میں لاہور کے باشندوں کے حالات

Lahore
EjazNews

حصہ اول: اعدادوشمار
ضلع لاہور میں سو براو¿ں سرسنگھ اور بڈھانہ بڑے زرعی دیہات ہیں تا ہم بیشتر آبادی خاص طور پر تحصیل شرقپور میں لوگ عام طور پر چھوٹے چھوٹے دیہات اور جھونپڑوں میں رہتے ہیں۔ بہت سے دیہات راوی اور ستلج کے کناروں پر آباد ہیں۔ چونیاں اورتحصیل شرقپور کی بار کے علاقے میں آبادی بہت کم ہے۔ 1869ءکے سیٹلمنٹ آفیسر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے:
دیہی علاقوں میں اب تحفظ کا احساس پیدا ہو گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیہاتیوں میں اپنے کنوو¿ں پر مکان بنانے کی عادت فروغ پارہی ہے اور اگر حکومت لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے تو اس رجحان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے مجھ سے یہ درخواست کی ہے کہ انہیں اپنی زمینوں پر رہائشی مکان تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے۔ میں نے کہا ہے کہ انہیں ایسا کرنے کی کھلی چھٹی ہے۔ اس سے پہلے میں نے محسوس کیا کہ کسانوں کوکھیتی باڑی کے لیے اپنی زمینوں پر پہنچنے کے لیے روزانہ چار میل کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ ضلع کا رقبہ اس قدر وسیع ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے خاصا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔
1881ءکی مردم شماری کے بارے میں ڈسٹرکٹ رپورٹ میں یہ ریمارکس درج ہیں:
تیسری نسل میں مشترکہ خاندانوں کی روایت دم توڑ رہی ہے حالانکہ دوسری نسل تک مشترکہ خاندانی نظام کامیابی کے ساتھ چل رہا تھا جس میں باپ ،چچا اوربھی بڑے بھائی کا حکم چلتا تھا۔ خاندانوں کو اکٹھار کھنے میں خواتین کا کردار بے حد اہم تھا۔ غیر شادی شدہ بھائی مل جل کر اتفاق سے اکٹھے رہتے ہیں لیکن جب ان کی شادی ہو جاتی ہے تو خاندان کو اکھٹا ر کھنے کا انحصار ان کی بیویوں کے طرز عمل پر ہوتا ہے۔
نقل مکانی:
ضلع لاہور کی کل آبادی 186297 ہے جس میں 97068 مرد اور 89229 عورتیں شامل ہیں۔ لاہور کے پیدائشی 78992 افراد پنجاب کے دوسرے علاقوں میں رہ رہے ہیں جن میں 41602 مرد اور 37,390خواتین شامل ہیں۔ مردم شماری رپورٹ میں لاہور سے نقل مکانی کرنے والے اور نقل مکانی کے نتیجے میں لاہور آنے والوں کے بارے میں درج ذیل ریمارکس دیے گئے ہیں:
پنجاب کے دارالحکومت میں نقل مکانی کرنے والوں کے لیے بے پناہ کشش موجود ہے۔ اس کے علاوہ باری دوآب نہر کی وجہ سے ضلع لاہور میں کاشتکاری کو بڑا فروغ حاصل ہوا ہے۔ پچھلے دس بارہ برسوں میں زراعت کو خاص طور پر زیادہ تر قی ملی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سیالکوٹ گجرات اور گوجرانوالہ ضلعوں کے لوگ بھی بڑی تعداد میں نقل مکانی کر کے لاہور میں آباد ہو گئے ہیں کیونکہ ان ضلعوں میں لاہور کے مقابلے میں آبادی کا دباﺅ زیادہ ہے۔ جھنگ کے بہت سے لوگ بھی لاہور آ گئے ہیں کیونکہ وہاں آبپاشی کا کوئی انتظام نہیں ۔منٹگمری اور فیروز پور میں نہری پانی کی دستیابی کے بعد بہت سے لوگ نقل مکانی کر کے وہاں آباد ہو گئے ہیں کیونکہ ان اضلاع میں زیرکاشت یا قابل کاشت رقبے کے مقابلے میں آبادی بہت کم ہے۔ ملتان اور پشاور میں بڑے بڑے تجارتی مراکز اور چھاو¿نیوں کے قیام اور راولپنڈی اور جہلم میں محنت مزدوری کے عارضی مواقع دستیاب ہونے کی وجہ سے بھی نقل مکانی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ آبادی کے باہم تبادلے کا سلسلہ کسی حد تک اب بھی جاری ہے۔ بیشترنقل مکانی مستقل بنیادوں پر ہورہی ہے تاہم پشاور راولپنڈی اور جہلم میں ہی سلسلہ عارضی نوعیت کا ہے۔ مجموئی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کا تناسب 237فیصد ہے اور اندازہ ہے کہ امرتسر فیروز پور اورمنٹگمری میں نہروں کی تعمیر کے بعد اس کا تناسب 601فیصد ہوجائے گا۔
آبادی میں کمی بیشی:
1868ءکی مردم شماری رپورٹ میں ضلع لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے 1854ءکی مردم شماری کے ساتھ اس کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے ضلع لاہور اورتحصیل سب ڈویژنوں کی حدودمیں واقع ہونے والی کئی تبدیلیوں کی وجہ سے موجودہ مردم شماری کا 1854ءکی مردم شماری کے ساتھ موازنہ کرنا بہت مشکل ہے۔ جہاں تک 1854ءکی مردم شماری کا تعلق ہے، اس کے بعد کئی دیہات کو لاہور میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور کے کئی دیہات دوسرے ضلعوں میں شامل کر لیے گئے ہیں جس کی بنا پرضلع کی آبادی میں کمی بیشی ہوئی ہے۔
مجھے یہ معلوم نہیں کہ 1854ءکی مردم شماری کے وقت کتنا رقبہ زیر کاشت تھا البتہ 1855ءمیں کل زیر کاشت رقبے کی تفصیلات سیٹلمنٹ رپورٹ اور 1867ءمیں زیر کاشت رقبے کی تفصیلات اگلے گوشوارے میں درج ہیں۔
قصور اور چونیاں کے پرگنوں میں توقع کے مطابق زیرکاشت رقبے تھے اور آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ مردم شماری کے بعدضلع لاہور میں باری دوآب نہ تعمیر ہونے کی وجہ سے کھیتی باڑی کو خاصا فروغ حاصل ہوا ہے۔ نہر کے باعث لاہور پر گنے میں بھی زراعت کو فروغ ملا ہے البتہ اس پر گنے میں زراعت کے مقابلے میں آبادی میں زیادہ اضافی نہیں ہوا۔
لاہور پر گنے کے مقابلے میں دونوں باری دوآب پرگنوں کی آبادی بڑھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عرصے میں لاہور شہر اور میاں میر چھاو¿نی کی آبادی کم ہوگئی ہے۔ موجودہ مردم شماری کے مطابق لاہور شہرکو چھوڑ کر انارکلی سٹیشن اور میاں میر چھاو¿نی کی آبادی 1,97,540ہے جبکہ 1854ءکی مردم شماری کے مطابق یہ آبادی 1,67,491 تھی۔ اس طرح لاہور پر گنے کی آبادی میں 17.9 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا جوقصور اور چونیاں پرگنوں کی آبادی میں اضافے کے برابر ہے۔
شرقپور پر گنے میں کوئی نہر نہیں ہے لیکن وہاں پچھلی مردم شماری کے بعد بڑی تعداد میں کنوئیں کھودے گئے ہیں۔ لوگوں کو آبپاشی کے لیے کوئی سہولت دستیاب نہیں اس لیے گو وہاں آبادی میں خاصا اضافہ ہوا ہے لیکن ضلع کے دوسرے علاقوں کی نسبت ہی معمولی اضافہ ہے۔
آبپاشی میں توسیع کے باعث لاہورتحصیل کی زراعت پیشیر آبادی میں حقیقی اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب ریلوے اور دوآب نہر کی توسیع اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر اور لاہور کے قرب و جوار میں سرکاری اور غیر سرکاری طبقوں کی آبادکاری کے باعث محنت کش اور زراعت پیشہ لوگوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ہے۔ 1868ءکے بعد اب تک مردوں کی آبادی میں11.9 فیصد اور عورتوں کی آبادی میں 12.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس تناسب سے58.6 برسوں میں مردوں اور54.6 برسوں میں عورتوں کی آبادی دو گنا ہو جائے گی۔
عمر، جنس اور شہری حالات:
ضلع لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے مردم شماری رپورٹ میں لکھا ہے۔
عام طور پر خوشحال غیر زراعت پیش طبقوں میں جو شہروں اور قصبوں میں رہتے ہیں 9 سے 12 سال کی لڑ کیوں کی شادی کر دی جاتی ہے اور وہ 14سے 15 سال کی عمر میں مائیں بن جاتی ہیں۔ اس کے برعکس دیہات کے کاشتکار 15 سے 20 سال کی عمر میں بیٹیوں کو بیا ہتے ہیں اور ان کی اولاد شہر کی عورتوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوتی ہے۔ دیہاتی لوگ صرف کام کے روز کچہری جاتے ہیں اور کبھی کبھار ہجوم کا سامنا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔ شہروں میں رہنے والے مردوں کے بال 40 سے 50 سال کی عمر کے در میان سفید اور ان کے چہرے زرد ہو جاتے ہیں لیکن اس کے برعکس سادہ لوح دہقانوں کا رنگ بادامی ہوتا ہے اور وہ تنومند اور تندرست رہتے ہیں تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ شہروں اور دیہی دونوں علاقوں کے باشندوں کی عمریں زیادہ نہیں ہوتیں اور دونوں کی موت کے اسباب یکساں ہیں۔ یہ درست ہے کہ دیہات میں رہنے والے لوگ دن کا بیشتر وقت صحت مند ماحول میں گزارتے ہیں لیکن رات کو وہ مویشیوں اور گوبر کے قریب سوتے ہیں جس سے وہ بیمار پڑ جاتے ہیں۔ ان کا لباس بھی میلا کچیلا ہوتا ہے جو انہیں موسمی اثرات سے محفوظ نہیں رکھتا۔ یہ لوگ بیماری کی صورت میں علاج بھی نہیں کراتے شہروں کے لوگ دن رات متعفن ماحول میں رہتے ہیں اور بیمار پڑنے پر وہ بھی دوائی نہیں لیتے۔ ان کے نزدیک ورزش اور تازہ ہوا کی کوئی اہمیت نہیں اور اگر آپ کسی شہری تا جر کوتازہ ہوا اور ورزش کے فوائد بتائیں گے تو وہ آپ کی ہنسی اڑائے گا۔ جسمانی طاقت کے اعتبار سے مختلف مذاہب کے لوگوں کی درجہ بندی اس طرح کی جاسکتی ہے: اول مسلمان ،دوم سکھ ، سوم ہند و، چہارم عیسائی اور پنجم جین۔
برہمنوں، کھتریوں اروڑوں اور راجپوتوں میں دوسری شادی کی ممانعت ہے، البتہ اس پابندی کو ہٹانے کے لیے تحریک جاری ہے۔ مسلمان بیواو¿ں کو دوبارہ شادی کرنے کی اجازت ہے۔ مطلقہ ہندو عورتوں پر بھی دوبارہ شادی کرنے پر پابندی ہے۔ نچلے درجے کے ہندوو¿ں اور جاٹوں میں بیواو¿ں کو دوبارہ شادی کرنے کی اجازت ہے تاہم دوسری شادی کو کر ویوایا چادراندازی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جس کا مقصد اسے شادی کی عموی تقریب سے ممیزکرنا ہے۔
دختر کشی :
بیٹیوں کو کم سنی میں زہر دے کریا تشدد کے ذریعہ قتل کرنے کا سنگین جرم بہت کم ہے البتہ اونچے درجے کے ہندوو¿ں میں دختر کشی کی مکروہ رسم اب بھی موجود ہے جس کا مقصد شادی اور جہیز کے اخراجات بچانا ہے۔ غریب لوگوں کا بس چلے تو وہ غربت کے خوف سے بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کو کم سنی میں ہی موت کے گھاٹ اتار دیں۔ زراعت پیشہ لوگوں میں دختر کشی کی رسم ختم ہوگئی ہے کیونکہ وہ اپنی بیٹیوں کی پرورش کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ زمیندار دولہا یا اس کے والدین سے شادی کے موقع پر بیٹی کی قیمت بھی وصول کرنے لگے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں اسقاط حمل عام ہے لیکن اس کی نشاندہی بہت مشکل ہے۔ میرا خیال ہے کہ لوگوں کو اسقاط حمل کی دو فیصد وارداتوں کا بھی انہیں چلتا۔
یورپی اور یوریشین آبادی
اب ہم لاہور میں رہنے والے یورپی باشندوں ان کی زبان اور جائے پیدائش کی تفصیلات درج کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں