سفید پوش طبقہ اور لاک ڈاؤن

white_colar

ملک بھر میں کرونا کو لے کر سختی پہلے سے کہی زیادہ ہوچکی ہے۔ آنے جانے والوں کو پوچھ گچھ بھی کی جارہی ہے کہ وہ بغیر وجہ سے گھر سے نہ نکلیں۔ اگر کوئی ضروری کام ہو تو پھر ہی گھر سے باہر نکلیں۔
یہ وہ تمام باتیں تھیں جو گزشتہ دنوں سے ہو رہی ہیں لیکن اس ساری صورتحال میں ان لوگوں کا خیال رکھنا بھی اہم ہے جو کسی سے مانگ نہیں سکتے، جو ہاتھ پھیلا نہیں سکتے۔ جن کی سفید پوشی بھوکے رہنے پر تو انہیں مجبور کر دے گی لیکن وہ مانگیں گےنہیں۔ ایسے تمام افراد کا زیادہ تر تعلق تنخواہ دار طبقہ سے یاپھر چھوٹے کاروبار سے ہوتا ہے ۔ اور یہ کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔
حکومت ان کیلئے کچھ نہیں کر سکتی ،خاص کر ہم جیسی حکومتیں جن کے پاس بہت معمولی سطح کا ڈیٹا ہوتا ہے ایسے معاملات میں بہت کمزور ہوتی ہیں۔ لیکن حکومت ایک کام تو کر سکتی ہے ہر اس شخص کی تنخواہ جو یکم تاریخ یا پانچ تاریخ کو ادا ہوتی ہے دو تین دن پہلے ادا کر دی جائے۔اور تمام بڑے چھوٹے سہوکاروں کو اس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ اپنے ملازمین کو تنخواہ ادا کریں۔ اگر ان کو تنخواہ وقت سے پہلے ادا کر دی جائے تو یہ لوگ بھی اس مشکل وقت میں اپنے گھر والوں کےساتھ رہ کر آسانی سے گزر بسر کر سکتے ہیں۔او ر اس لاک ڈائون پر بہتر طریقے سے عمل کر سکتے ہیں۔
فی الحال معاملات جس طرف بھی جارہے ہیں اس کا کسی کو علم نہیں ۔ کیا ہو گا کیسے ہوگا کس طرح ہوگا یہ سارے سوالا ت ایسے ہیں جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے لیکن یہ تو ہو سکتا ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے اس کے ان لوگوں کو فائدہ ہو گا جوواقعی حق دار ہوتے ہیں ۔
ملک بھر میں کرونا سے مجموعی اموات کی تعداد 7ہو گئی ہے جبکہ مزید کیسز بھی ملک بھر میں سامنے آرہے ہیں۔ ان دنوں پورے ملک میں تقریباً احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں ۔ملک بھر میں متاثر ین کی مجموعی تعداد 990ہو گئی ہے۔جبکہ 14مریض سندھ میں صحت یاب ہو چکے ہیں۔
پنجاب حکومت کے تعلیمی اداروں میں چھٹیاں 31مئی تک بڑھا دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ پنجاب حکومت نے ایک آرڈیننس بھی منظور کر لیا ہے جس کے تحت کسی بھی بیمار شخص کو سکیورٹی ادارے ہسپتال زبردستی لے جاسکتے ہیں۔
سندھ حکومت نے رات 8بجے کے بعد دکانیں بند کرنے کا گزشتہ روز ہی حکم جاری کر دیا تھا جبکہ سینٹ سیکرٹریٹ بھی5اپریل تک بند ہو چکا ہے۔
جو غربت سے نچلی سطح پر ہوتے ہیں وہ غربت کی وجہ سے امداد حاصل کرتے ہیں ، جو امیر ہوتے ہیں انہیں کسی امداد کی ضرورت نہیں ہوتی،لیکن یہ درمیانی طبقہ سب سے مظلوم ہو تا ہے جس کی داد رسی اس وقت بہت اہم ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں