23مارچ 1940ء سادگی اور خدمت خلق کے ساتھ منایا جارہا ہے

23_Marach_1947_pakistani_flag

مارچ 1940 کے دن لاہور کے منٹوپارک میں مسلم لیگ کے اجتماع میں تاریخی قرارداد پاکستان کی منظوری دی گئی تھی جس کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔ 23مارچ یوم پاکستان ہے اور یہ ہر سال بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں اس دن کا جوش و جذبہ قابل دید ہوتا ہے لیکن کرونا وائرس کی وبا کے باعث 23مارچ کی تقریبات تقریباً منسوخ کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی جگہ پر لوگ جمع نہ ہوں اور اس وائرس کا پھیلائو رکا رہے۔ احتیاطی تدابیر کو دیکھا جائے تو مختلف شہروں میں سناٹے کا سا سما ہے ۔ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو ایک ا چھی علامت ہے لوگ اپنے آپ کو قرنطینہ کیے ہوئے ہیں۔امسال فوجی پریڈ کو بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔
صدر مملکت نے اپنے ایک ٹویٹر میں 23مارچ سے متعلق اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’’میں 23 مارچ یوم پاکستان پر قائد اعظم کے 1947 میں کہے ہوئے الفاظ سے بہتر پیغام نہیں دے سکتا۔ میرے پیارے پاکستانیو! انکا ہر لفظ آپ کے لئے ہے اور پاکستان میں آج کرونا وائرس کے بحران پر منطبق ہوتا ہے۔ ہمت سےکام لو، ایک دوسرے کی مدد کرو، کسی کو بھوکا نہ رہنےدو، اللہ مدد کرے گا۔‘‘


قائداعظم محمد علی جناح کے وہ الفاظ جو صدر مملکت نے سوشل میڈیا پر شیئر کیے ہیں سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں اور یہ الفاظ آج کے دور میں پہلے سے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔
’’ہم آگ سے گزر رہے ہیں، مگرمجھے پورا یقین ہے کہ اتحاد، ایمان، اور تنظیم کے ساتھ ہم دنیا کی کسی بھی قوم کے ساتھ موازنہ کر سکیں گے۔ ہمیں لوگوں کی خدمت کرنے کےلئے پر عزم ہونا چاہیے۔ ہم خوف، خطرہ، اور مشکلات کے دور سےجو گزر رہے ہیں ہمارے لئے اتحاد، ایمان، اور تنظیم لازم ہے۔ ایم اے جناح‘‘

یہ ویڈیو کسی نے مجھے شیئر کی تھی اتنی اچھی لگی کہ آپ لوگوں سے شیئر کیے بغیر نہیں رہ سکے یہ ہیں ہم پاکستانی

23مارچ کا دن پاکستانیوں کیلئے بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ہر سال اس سال کوپورے جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے یوم پاکستان کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ

وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ 23 مارچ ہماری قومی تاریخ کا وہ سنہرا دن ہے جب برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے ہندو اکثریت کے ظلم و جبر اور غلامی کی زنجیروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایک آزاد اور خود مختار مسلم ریاست کے قیام کا فیصلہ کیا-اس روز قائد اعظم کی قیادت میں متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنی تہذیب و تمدن کے تحفظ، اپنی بقا اور سماجی و معاشی ترقی کے لئے اس بے مثال جستجو کا آغاز کیا۔جس کے نتیجے میں دنیا کے نقشے پر ایک آزاد و خود مختار مسلم ریاست معرض وجود میں آئی۔
قیام پاکستان کی بدولت برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو اپنے تہذیبی تشخص کو پروان چڑھانے، مذہبی آزادی اور ترقی کے مساوی حقوق میسر ہوئے جو متحدہ ہندوستان کی ہندو اکثریت نے سلب کرنے پر تلی تھی۔گذشتہ ستر سال کے حالات و واقعات ہمارے آباء و اجداد کی بصیرت اور سوچ کی وسعت و صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔
آج کا دن ہمیں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے افکار اور بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔تاکہ ہم ان مقاصد کا حصول ممکن بنائیں جو قیام پاکستان کے وقت بحیثیت قوم ہمارا نصب العین تھے اور جن کے حصول کے لئے ہمارے آباء و اجداد نے اپنا سب کچھ قربان کیا۔
مجھے یہ کہتے ہوئے نہایت فخر محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم کسی بھی مصیبت اور مشکل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس سال یوم پاکستان مناتے ہوئے ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد، نظم و ضبط اور جذبے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اس آفت کا مقابلہ کرسکیں جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔میں اپنے ہم وطنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ خوف میں مبتلا نہ ہوں بلکہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔میں بذات خود اس وبا سے مقابلہ کرنے کیلئے حکومتی اقدامات کی نگرانی کر رہا ہوں۔ انشا ء اللہ، ہم اس آزمائش میں کامیاب ہوں گے۔آج ہم مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام سے بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہیں جو 231 دنوں سے اپنی ہی سرزمین پر نہ صرف مقید ہیں بلکہ بھارت کے ریاستی ظلم و جبر کا دلیری سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ تنازعہ کشمیر بر صغیر پاک و ہند کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔آج کے دن ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ پاکستان مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی جدوجہد کی بھرپور اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔اللہ تعالی ہمیں اپنے قومی مقاصد کے حصول میں کامیابی عطا فرمائے اور موجودہ آزمائش میں ہمیں ثابت قدم رہنے کا حوصلہ و ہمت عطا فرمائے۔ آمین۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں