طلسمی بونا

magic

آدھی رات گزر چکی تھی چاند نکلا ہوا تھا۔ سمندر ، پہاڑیوں پر خاموشی تھی۔ سمندر میں لہریں گزررہی تھی اور سمندر کے کنارے دو سپاہی پہرہ دے رہے تھے۔ پہاڑیوں کے پیچھے بادشاہ کا محل تھا اور بادشاہ اپنے کمرے میں جاگ رہا تھا۔
اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ کبھی وہ بستر پر لیٹ جاتا اور کبھی اٹھ کر ٹہلنے لگتا۔ ایسا لگتا تھا کہ بادشاہ بہت پریشان ہے تھوڑی دیر کے بعد اس نے تالی بجائی اور اپنے وزیر کو بلایا وزیر نے اندر آکر کہا کیا حکم ہے بادشاہ سلامت؟۔
بادشاہ نے پوچھا کیا طلسمی بونے کا پتہ چلا؟۔
وزیر نے کہا ہمارے جاسوس نے اطلاع دی ہے کہ وہ سمندر کی سیر کر رہا ہے کنارے پر پہرے دار کھڑے ہیں اور اگر وہ کنارے کی طرف آیا تو اس کو گرفتار کر لیا جائے گا ۔
بادشاہ نے تھوڑی دیر سوچ کر کہا تم جانتے ہو کہ طلسمی بونے نے ہماری حکومت میں گڑ بڑ پھیلا دی ہے۔ وہ شہزادی سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اس نے دھمکی دی ہے کہ اگر شہزادی کی شادی اس سے نہ کی گئی تو وہ سب کچھ تباہ کر دے گا۔
میں اچھی طرح جانتا ہوں بادشاہ سلامت لیکن ہم اس کو ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ وزیر نے سینہ پھلا کر کہا۔ بادشاہ سلامت میں نے اعلان کر دیا ہے کہ جو کوئی طلسمی بونے کو شکست دے گا اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔
تم نے بہت اچھا کیا ہے بادشاہ نے کہا اور وزیر سلام کر کے چلا گیا۔
دوسرے دن لوگ شہر میں گھوم پھر رہے تھے۔ دکانیں کھلی تھیں اور بادشاہ اپنے محل میں وزیر وں سے بات چیت کر رہا تھا۔ کہ شہر میں افرا تفری پھیل گئی۔ وہ ایک دوسرے سے لڑنے لگے۔ دکانیں بند ہو گئیں لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ لڑائی کس وجہ سے ہوئی ہے دیکھتے ہی دیکھتے پانچ چھ آدمی مر گئے۔ کئی دکانیں جل گئیں۔۔۔۔
لوگ لاشیں اٹھا کر محل کے سامنے آئے اور ایک دوسرے پر الزام لگانے لگے کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ کہتا۔ لیکن کوئی یہ نہ بتاتا کہ لڑائی کیسے شروع ہوئی۔ ایک شخص نے بتایا کہ سب سے پہلے کسی نے اس کی ٹوپی اتاری اور اپنے سر پر رکھ لی۔ جب میں نے ان سے پوچھا میری ٹوپی تم نے کیوں اتاری ہے۔
بادشاہ اور وزیر نے ساری بات سن کر اندازہ لگایا کہ سب کارروائی طلسمی بونے کی ہے اور اگر لوگوں کو بتایا گیا کہ طلسمی بونا شہر میں گھس آیا ہے تو لوگ گھبرا جائیں گے اس لئے انہوں نے لوگوں کوسمجھا کر بھیج دیا اور جس کا کوئی نقصان ہوا تھا اسے پورا کر دیا اور کہا ہم ہر شہری کی حفاظت کریں گے ۔ تم پریشان نہ ہونا۔
جب لوگ چلے گئے تو بادشاہ اور وزیر خاص کمرے میں آئے، بادشاہ نے کہا۔ طلسمی بونے کے ہاتھوں سب تنگ آگئے ہیں اس کا ضرور بندوبست ہونا چاہئے۔
وزیر نے جواب دیا۔ بادشاہ سلامت! طلسمی بونا بڑا خطرناک لگتا ہے میری رائے یہ ہے کہ شہزادی کی شادی اسی سے کر دینی چاہئے ورنہ ہم سب مارے جائیں گے۔
ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔
تم اعلان کر دو کہ جو کوئی طلسمی بونے کو شکست دے گا میں شہزادی کی شادی اس سے کروں گا۔
بہت اچھا بادشاہ سلامت، وزیر یہ کہہ کر چلا گیا۔ تو شہزادی اندر آئی اس نے کہا۔ آپ پریشان نظر آتے ہیں۔
نہیں شہزادی! میں پریشان نہیں ہوں۔ بادشاہ نے کہا لیکن ابا حضور مجھے نظر آرہا ہے کہ آپ پریشان ہیں اگر آپ نے مجھے اپنی پریشانی نہ بتائی تو میں کھانا پینا چھوڑ دوں گی شہزادی نے جواب دیا۔ جب شہزادی نے بہت ضد کی تو بادشاہ نے طلسمی بونے کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔
شہزادی نے کہا کہ آپ فکر نہ کریں میں طلسمی بونے کا مقابلہ کروں گی، شہزادی نے کہا لیکن تم ایک لڑکی ہو وہ طلسمی بونا ہے۔
بادشاہ نے شہزادی کوبڑا سمجھایا کہ وہ باز آجائے شہزادی اس کے سامنے مان گئی اور جب بادشاہ وزیر کے پاس گیا تو شہزادی اپنے کمرے میں گئی اس نے جلدی جلدی ماہی گیر لڑکے کا بھیس بدلا اور چپ چاپ محل سے باہر گئی، شہزادی لڑکے کے بھیس میں سمندر کی طرف جارہی تھی۔ تو اسے ماہی گیروں کی جھونپڑی نظر آئیں۔ وہ اس طرف چل پڑی۔ راستے میں اسے ایک ماہی گیر لڑکا ملا لڑکے نے اسے دیکھا اور پوچھا تم کون ہو؟۔
شہزادی نے کہا میں ماہی گیر کا بیٹا ہوں اور میرا باپ مر گیا ہے میں دوسرے شہر سے آیا ہوں ۔ تمہارا کیا نام ہے، ماہی گیر لڑکے نے جواب دیا میرا نام شاہو ہے اور میں ماہی گیروں کے مرشد کا بیٹا ہوں جو سمندر کے سات راز جانتا ہے اور مچھلیوں کی زبان سمجھتا ہے۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے مجھے اپنے باپ کے پاس لے جائو شہزادی نے کہا ۔ لیکن تمہارا کیا نام ہے شاہو نے پوچھا۔
میرا نام تن تارا ہے شہزادی نے جواب دیا۔
شاہو شہزادی کو لڑکا سمجھ کر اپنے باپ کی جھونپڑی میں لے آیا اور باپ سے کہا بابا تن تارا بہت بہادر لڑکا ہے اسے اپنے پاس رکھ لو۔ ہم دونوں تمہارے بیٹے بن کر خدمت کریں گے۔
شاہو کے باپ نے شہزادی کو اپنے پاس رہنے کی اجازت دے دی۔ شاہو اور شہزادی ایک دوسرے کے دوست بن گئے اور شہزادی نے پہلے دن ہی شاہو کے باپ سے مچھلیوں کی زبان سمجھ لی۔۔۔۔شام ہو گئی تو پھر شہزادی نے کہا۔
شاہو ! آئو ذرا سمندر پر سیر کرنے جائیں۔
شاہو نے کہا ۔ نہیں میں تمہیں سمندری پہاڑوں کی سیر کرائو ں گا۔
وہاں سے سمندر دور تک نظر آتا ہے اور وہاں موتی اور سپیاں بہت ہی ہوتی ہیں۔ شاہو اور شہزادی وہاں سے نکل کر سمندری پہاڑوں پر آئے دونوں سیر کر رہے تھے کہ اچانک کسی نے شاہو کو دیکھا اور دھکا دیا اور شاہو سمندر میں گر گیا شہزادی گھبرا گئی اس نے بھی سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ جب وہ سمندر میں گری تو کیا دیکھتی ہے کہ وہ طلسمی بونے کی قید میں ہے اور ایک طرف شاہو جیل میں ہے۔
شہزادی سمجھ گئی کہ طلسمی بونے نے اس پر وار کر دیا ہے لیکن وہ گھبرائی نہیں اس نے آنکھ سے شاہو کو کچھ اشارہ کیا تھوڑی دیر بعد طلسمی بونا سر پر تاج رکھے لمبی داڑھی کو لہراتا ہوا نظر آیا وہ ایک بڑے مینڈک پر سوار تھا اور اس کے آگے پیچھے مینڈکوں کی فوج تھی۔ جو ٹرا رہے تھے۔
طلسمی بونے نے وہاں آکر سب سے پہلے شہزادی کو گھور کر دیکھا اورپھر الو کی زبان میں بولا۔
اے لڑکے تم نے سمندری پہاڑی پر آکر جرم کیا ہے۔
شہزادی نے دل میں شکر ادا کیا کہ طلسمی بونے نے اس کو پہچانا نہیں۔ شہزادی نے کہا جناب مجھے معلوم نہیں تھا کہ سمندری پہاڑیوں پر تمہارا قبضہ ہے۔ اس لئے ہمیں معاف کر دو اور ہم ہر خدمت کے لئے تیار ہیں۔ طلسمی بونے نے خوش ہو کر کہا میں تمہیں معاف کرتا ہوں لیکن تم ایک کام کرو گے۔
ہاں ضرور کر یں گے۔ شہزادی نے کہا، یہ بات ہے تو تم میرے پاس رہو اور جب میں شہزادی سے شادی کر کے واپس آئوں گا تو تمہیں اپنا وزیر بنا لوں گا۔
طلسمی بونے کی بات سن کر شہزادی نےکہا میں اور شاہو تمہاری شادی کا زبردست بندوبست کریں گے تم بادشاہ بننے کے لائق ہو لیکن۔۔۔کیا طلسمی بونے نے پوچھا بات یہ ہے طلسمی بونے کہ شہزادی تم سے شادی کیسے کرے گی۔ شہزاد ی نے پوچھا۔
طلسمی بونا مینڈک کی آواز میں بولا۔ میں اسے دھوکا دوں گا اور شہزادہ بن کر اس کے سامنے جائوں گا۔
یہ ٹھیک ہے اور دیکھو تم ہمیں باہر بھیج دو ہم بادشاہ سلامت کو کہیں گے کہ ایک بہت بڑا شہزادہ آرہا ہے اور تم شہزادی کی شادی اس سے کر دو بادشاہ مان جائے گا۔
طلسمی بونا یہ سن کر خوش ہوگیا۔ اس نے شہزادی اور شاہو کو ہیرے جواہرات دئیے اور یہ میری طرف سے بادشاہ کو تحفے میں دینا اور میں شہزادہ بن کر پرسوں آئوں گا۔
بالکل ٹھیک ہے شہزادی نے جواب دیا۔ پھر طلسمی بونے نے دونوں کو ہیرے جواہرات دئیے اور انہیں سمندر سے نکال کر کنارے پر پہنچا دیا اور خود غائب ہو گیا۔ شاہو نے کہا۔
تم بہت عقل مند ہو تم نے طلسمی بونے کو خوب چکر دیا ہے۔ شہزادی نے کہا اب یہ بتائو کہ کیا کریں۔
شاہو نے کہا میرا خیال ہے کہ با دشاہ کو بتا دیں اور جب طلسمی بونا شہزادہ بن کر آئے تو اسے پکڑ لینا چاہئے۔
نہیں سب سے پہلے بابا سے مشورہ کرنا چاہئے۔ شہزادی نے کہا اور دونوں بابا کے پاس آئے بابا نے ساری بات سن کر کہا۔
دیکھو بیٹا یہ طلسمی بونا بہت خطرناک دشمن ہے اس میں بڑی طاقت ہے ایسا نہ ہو کہ تمہارا دشمن بن جائے۔۔۔۔
پھر اس نے کہا۔
تم ایسا کرو کہ رات جب چاند نکلے تو سمندر کے کنارے آگ جلانا آگ جلانے سے ایک مینڈک باہر آئے گا وہ بڑی خوفناک شکل والا ہوگا۔ لیکن تم اس سے ڈرنا نہ جب مینڈک تمہارے پاس آئے تو تم فوراً اس پر جال پھینکنا اور پھر مینڈک کو میرے پاس لے آنا شاہو اور شہزادی نے آدھی رات کو سمندر کے کنارے آگ جلا دی۔
آگ جلتے ہی ایک خوفناک شکل والا مینڈک سمندر سے باہر نکلا شہزادی اس کو دیکھ کر ڈر گئی اور بولی۔
شاہو یہ مینڈک نہیں کوئی جن لگتا ہے۔
شاہو نے جواب دیا۔ کچھ بھی ہو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں یہ کہہ کر شاہو نے اس پر جال پھینکا اور مینڈک کو گھسیٹ کر بابا کے پاس لے آئے۔ بابا نے مینڈک کو چھری سے چیرا تو اس میں سے ایک موتی نکلا۔ یہ موتی انڈے کی شکل کا تھا اور اس کا رنگ نیلا تھا۔ بابا نے موتی دھویا اور اس میں چھید کر کے دھاگا ڈالا اور اسے شاہو کے گلے میں ڈال کر کہا ۔ بیٹا اس کی حفاظت کرنا ورنہ تم طلسمی بونے کو کبھی شکست نہیں دے سکو گے اور اب سو جائو۔
شاہو اور شہزادی جھونپڑی میں سو گئے، صبح کو ان کی آنکھ کھلی تو منادی والا منادی کر رہا تھا زمین خدا کی اور حکم بادشاہ کا۔
یہ آواز سن کر سب ماہی گیر بچے، مرد عورتیں اور بوڑھے جھونپڑیوں سے باہر آگئے اور منادی والا کا اعلان سننے لگے منادی والے نے کہا شہزادی گم ہو گئی جو کوئی شہزادی کو تلاش کرے گا۔ بادشاہ اسے انعام دے گا ۔ شاہو نے جب یہ اعلان سنا تو بولا۔ اگر مجھے شہزادی مل جائے تو مجھے انعام مل سکتا ہے۔
شہزادی نے کہا عجیب پاگل ہو تمہیں شہزادی کیسے مل سکتی ہے۔ صبح کو دونوں نے جھونپڑی میں آکر ناشتہ کیا اور سمندر ی چٹانوں کی طرف نکل گئے۔ چٹانوں کے اوپر آکر انہوں نے دیکھا کہ طلسمی بونا چٹان سے سمندر میں چھلانگ لگاتا ہے اور سمندر میں ایک مچھلی اسے دوبارہ اچھال کر چٹان پر پہنچا دیتی ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ طلسمی بونا بہت ہی خوش ہے۔
دونوں کافی دیر تک طلسمی بونے کا کھیل دیکھتے رہے اور جب طلسمی بونا دوبارہ مچھلی کے پیٹ میں چلا گیا تو شاہو نے کہا۔ اب ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ طلسمی بونا مچھلی کے پیٹ میں رہتا ہے۔ اگر ہم جال پھینک کر پکڑ لیں تو کام بن سکتا ہے۔
آئو پھر گھر سے جال لاتے ہیں شہزادی نے کہا۔
دونوں واپس جھونپڑیوں میں آئے تو بادشاہ کے سپاہی کھڑے تھے اور ان کے بابا سے پوچھ ر ہے تھے کہ کیا تم نے شہزادی کو اس طرف دیکھا ہے۔ بابا نے کہا۔ ہم نے شہزادی کو نہیں دیکھا ہے۔
لیکن محل کے ملازموں نے بتایا ہے کہ شہزادی ماہی گیر کا بھیس بدل کر اس طرف آئی ہے۔
شہزادی نے یہ سنا تو شاہو سے کہا شاہو آئو تم بادشاہ کے پاس جائو اور اس کو کہو کہ وہ شہزادی کو تلاش کر سکتا ہے اور طلسمی بونے کو بھی تباہ کر سکتا ہے۔ شاہو نے کہا میں طلسمی بونے کو تو گرفتار کر سکتا ہوں لیکن شہزادی کو کہاں تلاش کروں گا۔
شہزادی کو میں تمہیں تلاش کر دوں گی۔ اور تم بادشاہ کے پاس تو جائو شہزادی کی بات سن کر شاہو نے شہر کا رخ کیا اور بادشاہ کے محل کے سامنے جا کر اونچی آواز میں بولنے لگا۔
بادشاہ سلامت! میں شہزادی کو تلاش کروں گا اور طلسمی بونے کو بھی تباہ کروں گا۔
بادشاہ اور وزیر اس کی بات سن کر باہر نکلے اور ایک ماہی گیر لڑکے کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بادشاہ نے کہا۔
اگر تم نے دونوں کام کر دئیے تو میں شہزادی کی شادی تم سے کردوں گا۔
شاہو نے بادشاہ کو اپنا پتہ بتایا اور جانے لگا تو اچانک محل کی چھت سے طلسمی بونے نے اپنی داڑھی ہلائی داڑھی ہلانے سے تیز ہوا چلنے لگی۔ شاہو نے اوپر دیکھا تو طلسمی بونے کو دیکھ کر پہلے تو ڈرا پھر حوصلہ کر کے بولا ۔ اے ذلیل طلسمی بونے میں تمہیں جلا دوں گا۔
طلسمی بونا یہ سن کر ہنسا اور بولا۔ ا ے چھوکرے تمہاری کیا مجال کہ تم میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکو۔
شاہو نے سینہ پھیلا کر کہا۔ تمہارے دن پورے ہو چکے ہیں اگر ہمت ہے تو نیچے اتر کر دیکھ۔
طلسمی بونا چھت پر سے نیچے اترا اور اس نے شاہو کو گردن سے پکڑ لیا۔ دونوں میں زبردست کشتی ہونے لگی۔
طلسمی بونا جب شاہو کو پکڑ کر اٹھانے لگتا تو شاہو کا وزن بڑھ جاتا اور طلسمی بونا تھک جاتا۔ بادشاہ طلسمی بونے اور شاہو کے درمیان کشتی دیکھ کر سوچنے لگا۔ یہ لڑکا تو بڑے کام کا ہے۔
اب بہت سارے لوگ جمع ہو گئے تھے، طلسمی بونے اور شاہو کے درمیان کشتی دیکھنے لگے ایک دفعہ شاہو نے آنکھ بچا کر طلسمی بونے اور شاہو کے درمیان کشتی دیکھنے لگے ایک دفعہ شاہو نے آنکھ بچا کر طلسمی بونے کو پکڑ لیا وہ زور زور سے چیخنے لگا اور شاہو نے اسے گھما کر ہوا میں اچھالا تو وہ ہوا میں غائب ہو گیا۔
بادشاہ شاہو کے پاس آیا اور اسے شاباش دے کر بولا۔ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ تم طلسمی بونے کو شکست دے سکتے ہو۔
بادشاہ اسے محل کے اندر لایا سب وزیر کبیر اکٹھے ہو گئے اوربادشاہ نے اس کو ایک تلوار اور ڈھال دی ۔ پھر کہنے لگا ماہی گیر لڑکے تمہیں جس قسم کی مدد کی ضرورت ہو تم مانگ سکتے ہو۔ لہٰذا اگر شہزادی تمہیں مل گئی تو میں اس کی شادی تمہارے ساتھ کر دوں گا لیکن طلسمی بونا کسی طرح قابو میں آنا چاہئے۔
شاہو بہت خوش ہوا۔ تلوار اور ڈھال لے کر جھونپڑیوں میں آیا۔ تو اسے راستے میں شہزادی مل گئی شاہو نے اسے بتایا کہ کس طرح بادشاہ کے محل کے سامنے اس کی کشتی طلسمی بونے سے ہوئے اور اس نے طلسمی بونے کو پکڑ ا اور وہ ہوا میں غائب ہوگیا۔ جب شہزادی نے یہ سنا کہ بادشاہ اس کی شادی ماہی گیر لڑکے سے کرنے کے لیے تیار ہے تو اس نے شاہو سے کہا اب تم میرے ساتھ مل کر طلسمی بونے کو پکڑنے کی تدبیر کرو۔ کیونکہ جب تک طلسمی بونا زندہ ہے تمہاری شادی شہزادی سے نہیں ہو سکتی۔
شاہو نے کہا تم بھی عجیب آدمی ہو شہزادی کا تو پتہ نہیں کہا ہے۔
اس کابھی پتہ چل جائے گا شہزادی نے کہا۔
تو پھر کیا کیا جائے شاہو سے پوچھا۔ جال لے کر سمندر کے کنارے جاتے ہیں اور نیلی مچھلی کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہزادی نے کہا۔
ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ شہر سے لوگ بھاگتے ہوئے آئے بابا نے ان سے پوچھا۔ کیا بات ہے تم اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو ؟۔
ایک شخص نے بتایا کہ بادشا ہ کے محل کو آگ لگ گئی ہے اوربادشاہ نے سب سے کہا ہے کہ وہ محل کی آگ بجانے کے لئے سمندر سے پانی لائیں۔
شہزادی اور شاہو دوسرے لوگوں کے ساتھ برتن پانی سے بھر کر شہر کی طرف روانہ ہوئے تو شہر میں افرا تفری مچی ہوئی تھی۔ سب لوگ محل کی آگ بجھانے میں لگے ہوئے تھے۔
تھوڑی دیر میں محل کی آگ بجھ گئی اور شہزادی شاہو کے ساتھ جھونپڑی میں آگئے۔
شاہو نے کہا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم طلسمی بونے کو کیسے ختم کر سکتے ہیں۔ وہ میرے سامنے آجائے میں اس کی ہڈی پسلی ایک کردوں۔ شاہو نے کہا۔
ہمیں اس کے گھر پر حملہ کرنا چاہئے۔ آئو ہم چھپ کر سمندری چٹانوں میں بیٹھ جاتے ہیں ۔ اور جب صبح کو وہ نہانے کے لئے مچھلی کے پیٹ سے نکلے گا تو ہم اس کو پکڑنے کی کوشش کریں گے۔
یہ ٹھیک ہے۔ شاہو نے کہا اور اپنی تلوار ، ڈھال لے کر شہزادی کے ساتھ سمندری چٹانوں پر چلا گیا انہوں نے وہ رات سمندری چٹانوں پر گزاری اور جب صبح ہوئی تو سورج کے نکلنے کے بعد نیلی مچھلی نے سمندر سے منہ باہر نکالا۔اور اس میں سے طلسمی بونا باہر نکلا پھر اچھل کر چٹان پر آگیا۔اچانک اس کی نظر شاہو اور شہزادی پر پڑی۔ تو اس کی آنکھوں سے آگ نکلنے لگی اس نے زور سے شاہو کو للکارا۔ اب میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑں گا۔
طلسمی بونے نے ہوا میں ہاتھ ہلایا تو اس کے ہاتھ میں ایک تلوار آگئی اس نے تلوار پکڑ کر شاہو پر وار کیا۔ شاہو نے تلوار کا وار اپنی تلوار پر روکا اور پھر دونوں میں زبردست لڑائی ہونے لگی۔
آخر لڑتے لڑتے طلسمی بونے کا دم پھول گیا۔
اس نے شاہو کو جھانسا دے کر چٹان کے کنارے پر آنے دیا اور پھر لڑتے لڑتے دونوں سمندر میں جا گرے۔ شہزادی یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ ہو گئی۔ اس کویقین ہو گیا کہ اب شاہو کا بچنا مشکل ہے لیکن شاہو بہت اچھا تیرنا جانتا تھا اس نے سمندر کے اندر ڈبکی لگائی اور طلسمی بونے کی نظروں سے غائب ہو گیا۔ طلسمی بونے نے نیلی مچھلی کو حکم دیا کہ اس کو گرفتار کرلے لیکن نیلی مچھلی نے اس کے گلے میں موتی دیکھ کر شاہو کو چھوڑ دیا اور شاہو ایک طرف سے باہر نکلا تو شہزادی اس کوزدہ دیکھ کر خوش ہو گئی۔ شہزادی نے کہا شاہو اب واپس چلیں کیونکہ طلسمی بونے کو پکڑنا آسان نہیں۔
شاہو نےاب واپس جانا فضول ہے یا تو طلسمی بونے کو گرفتار کروں گا یا مر جائوں گا۔
پھر شاہو نے شہزادی کو ہوشیار رہنے کی ہدایت کی اور خود تلوار لے کر سمندر میں کودگیا۔ سمندر کی لہروں میں ہلچل پیدا ہوئی۔ تھوڑی دیر تک شہزادی کو کچھ پتہ نہ چل سکتا کہ سمندر میں کیا ہو رہا ہے لیکن اچانک اسے طلسمی بونا نظر آیا۔ اس کے ہاتھ میں تلوارتھی وہ پاگلوں کی طرح تلوار چلا رہا تھا۔ دائیں بائیں آگے پیچھے کبھی وہ سمندر میں چلا جاتا کبھی وہ پانی کی سطح پر آجاتا پھر اسے شاہو نظر آیا جو ایک ڈبکی لگاتا تھا اور دور جا کر نکلتا تھا پھر ایسا ہوا کہ دونوں پانی کی سطح پر آکر ایک دوسرے سے لڑنے لگے اچانک شاہو نے طلسمی بونے کی داڑھی پر تلوار ماری داڑھی آدھی کٹ گئی تو طلسمی بونا چیخ و پکار کرنے لگا ۔ اس نے آگے بڑھ کر تلوار شاہو پر ماری تو شاہو پانی میں غائب ہو گیا۔ اور طلسمی بونے کی تلوار سے نیچے مچھلی دو ٹکڑے ہو گئی۔
سمندر پر خون پھیلنے لگا تو شاہو نے اچھل کر طلسمی بونے پر وار کیا۔ طلسمی بونا خود کو بچا نے کے لئے کنارے کی طرف آیا تو شہزادی نے جھٹ اس پر جال پھینک دیا۔ طلسمی بونا جال میں پھنس کر بہت تڑپا اور اس نے تلوار سے جال کاٹنے کی کوشش کی تو شاہو نے اس کی تلوار پر تلوار ماری۔
تلوارطلسمی بونے کے ہاتھ سے چھوٹ کر سمندر میں گر گئی شاہو فوراً کنارے پر آیا۔ اور شہزادی کے ساتھ مل کر جال کو باہر نکالا۔ جس میں طلسمی بونا پھنس چکا تھا۔
اب بتائو طلسمی بونے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ۔
بونے نے کہا مجھے معاف کر دو۔
شاہو نے کہا اب بادشاہ ہی تمہاری قسمت کا فیصلہ کرے گا۔ یہ کہہ کر شاہو نے اسے کندھے پر اٹھایا اور اسے شہزادی کے ساتھ شہر میں لے آیا۔
دربانوں نے بادشاہ کو اطلاع دی تو بادشاہ اپنے وزیر وں اور امیروں کے ساتھ باہر نکلا۔ تو طلسمی بونے کوشاہو کی قید میں دیکھ کر خوش ہو گیا اس نے شاہو کو گلے لگا کر کہا۔
تم انعام کے حق دار ہو۔ اگر آج شہزادی بھی مل جائے تو ابھی تمہاری اس سے شادی کر دوں ۔
شاہو نے کہا۔۔۔اب میں شہزادی کو بھی تلاش کروں گا۔اچانک شہزادی نے آگے آکر ٹوپی سر سے اتار ی اور کہا شہزادی حاضر ہے۔
شاہو اسے دیکھ کربڑا حیران ہوا کہ جس کو لڑکا سمجھتا رہا وہ توشہزادی نکلی۔ بادشاہ نے شاہو کو فوراً سینے سے لگایا اور اعلان کر دیا کہ آج شہزادی کی شادی شاہو سے ہوگی اسی وقت انتظامات ہونے لگے تو طلسمی بونے نے کہا۔
بادشاہ سلامت!
شہزادی کے ملنے کی خوشی میں مجھے رہا کردو۔
اس کا فیصلہ شہزادی خود کرے گی۔ بادشاہ نے کہا۔ شہزادی نے آگے بڑھ کر حکم دیا کہ طلسمی بونے کو آگ میں جلا دیا جائے۔ اس کی راکھ سمندر میں پھینک دی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں