عقلمند شہزادی

queen

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ بہت ہی نیک اور عقلمند تھا ۔ہر وقت اپنی رعایا کو خوش رکھتا تھا۔ تمام ملک خوشحال تھا ،اس کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا مگر اولاد جیسی نعمت سے محروم تھا مگر اللہ نے اس کی سن لی اور اسے چاند جیسی بیٹی سے نوازا، اس نے بیٹی کا نام گل رکھا اور اس کی پرورش اچھے طریقے سے کی، ایک دن بادشاہ بیمار پڑ گیا۔ اس کا علاج کسی حکیم کے پاس نہ تھا، بادشاہ بیماری کی وجہ سے اس دنیا فانی سے چلا گیا اور سلطنت اپنے عظیم بادشاہ سے محروم ہو گئی۔
بادشاہ کے مرتے ہی ملک کی بادشاہت کا مسئلہ پیدا ہو گیا ۔بادشاہ کے وزیر نے اقتدار اس وقت تک اپنے قبضے میں لے لیا جب تک شہزادی گل اس قابل نہ ہو جائے کہ اپنا اقتدار سنبھال لے۔ملک کا اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیر ملک کو چلانا شروع ہو گیا ۔ ایک دن شہر سے دور گائوں کے بہت سے لوگ وزیر کے پاس شکایت لے کر آئےکہ ان کا پانی آنا بند ہوگیا، سب لوگ بڑے پریشان تھے ،اسی پریشانی کی حالت میں لوگ وزیر کے پاس آنے لگے۔کیونکہ اقتدار وزیر کے پاس تھا۔ لوگوں نے وزیر سے کہا کہ ہمارے پاس والی ندی سے پانی آنا بند ہو گیا ہے ۔جس کی وجہ سے ہماری فصل نہیں پک رہی اور لوگ مر رہے ہیں تو وزیر نے چند سپاہیوں کو ندی پر جانے کے لیے کہا۔ سپاہی تین دن بعد واپس آئے ۔انہوں نے کہا کہ ندی کے سامنے ایک دیو نے گھر بنا لیا ہے اور وہاں پر اس نے ایک بڑا پتھر رکھ دیا ہے تو وزیر نے کہا کہ میں اس دیو کو ضرور سبق سکھائوں گا۔ وزیر کے کہنے پر سب لوگ لاٹھیاں اٹھائے ندی پر پہنچے تو وزیر نے کہا اے دیو! ہمارا پانی ہمیں دے دے ورنہ ہم مار مار کر تیرا کچومر نکال دیں گے۔اس بات پر دیو کو غصہ آگیا اور اس نے وزیر کو اٹھا کر زمین پر دے مارا اور وزیر کا یہ حال دیکھ کر سارے لوگ بھاگنے لگے ۔
اس کی خبر شہزادی گل کے پاس گئی کہ ملک کے ایک حصے میں پانی کا مسئلہ چل رہا ہے اور دیو نے اس کے وزیر کو مارا ہے۔
شہزادی نے کہا ۔’’کہ میں دیو کو ضرور کہوں گی کہ وہ ہمارا پانی دے ۔ ‘‘
صبح ہوئی تو شہزادی ندی کے پاس پہنچی تو اس نے پکارنا شروع کر دیا۔ ’’اے پیارے دیو ! سامنے آئو۔‘‘
شہزادی کو دیو نے دیکھ کر کہا ۔ ’’تمہیں بھی اسی وزیر نے بھیجا ہوگا۔‘‘
شہزادی نے کہا۔ ’’اے پیارے دیو میں تیرے لئے تحفہ لائی ہوں۔‘‘
دیو تحفے کو دیکھ کر خوش ہوگیا دیو نے کہا کہ ’’میں تمہیں اس کے بدلےمیں ننھی پری کیا دوں۔‘‘
شہزادی نے کہا۔’’ہمارا پانی ہمیں دے دو۔‘‘
’’کیوں نہیں‘‘۔ اس طرح دیو نے ندی پر سے پتھر ہٹا دیا اور پانی کا بہائو بھی تیز ہو گیا اور سب خوش ہو کر نعرے لگاتے رہے، ہمارے ملک کی ملکہ شہزادی گل۔
وزیر یہ سب کچھ دیکھ حیران رہ گیا کہ کس طرح ننھی شہزادی نے اپنے ملک کا ایک بڑا مسئلہ محض عقل مندی اور اچھی الفاظ سے حل کر لیا۔ اس طرح ملک چند دن میں ایک بار پھر خوشحال ہوگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں