گدھا بنا جنگل کا بادشاہ

donkey-king

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شہر سے بہت دور ایک گائوں تھا۔ اس گائوں کے نزدیک ایک جنگل تھا ۔ گائوں میں ایک کچے سے مکان میں ایک غریب آدمی رہتا تھا ۔اس آدمی کے پاس ایک گدھا تھا جواس کی روزی کمانے کا ذریعہ تھا۔ وہ لکڑیاں گدھے پر لاد کر شہر لے جا کر بیچتا تھا۔ گدھے نے کبھی جنگل نہ دیکھا تھا اس نے سن رکھا تھا کہ جنگل میں جانور آزادانہ زندگی گزارتے ہیں اور جنگل کا بادشاہ شیر ہے۔ گدھے کو جنگل کا بادشاہ بننے اور جنگل کی سیر کرنے کا بہت شوق تھا۔ وہ دن رات جنگل کا بادشاہ بننے کا خواب دیکھتا رہتا۔
ایک دن گدھے نے اپنے مالک سے درخواست کی کہ میں جنگل کا بادشاہ بننا چاہتا ہوں اور جنگل کی سیر کرنا چاہتا ہوں۔مجھے اجازت دیں ۔مالک نے اجازت دے دی اور گدھا جنگل نکل گیا ۔جنگل میں پہنچ کر ایک درخت کے نیچے کھڑے ہوکر زور زور سے ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے لگا۔ یہ آواز سن کر شیر ، گیدڑ ،لومڑ ، بھیڑیا ، خرگوش ، بندر وغیرہ تمام جانور درخت کے نیچے اکٹھے ہو گئے اور گدھا اونچی آواز میں کہنے لگا آج سے میں جنگل کا بادشاہ ہوں۔ یہ سن کر شیر غصے میں آگیا کہ جنگل کا بادشاہ تو میں ہوں تم یہاں کون آگئے ہو۔ بادشاہ بننے والے۔
شیر نے گدھے سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔اور کہا کہ آئو ہم طاقت کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ہم دونوں میں سے جو جیت گیا یہ بادشاہت اس کی ہو گی، گدھا مان گیا۔دونوں مقابلے کرنے چلے۔ راستے میں ایک بہت اونچی دیوار آئی تو شیر نے کہا کہ جو اس دیوار کو پھلانگ لے گا وہ طاقتور ہوگا اور جیت جائے گا۔ گدھا دل ہی دل میں کوئی ترکیب سوچنے لگا کہ کیسے دیوار پھلانگنے کابہانہ کرے کیونکہ وہ تو چھلانگ نہیں لگا سکتا تھا۔ شیر ایک ہی جست میں دیوار پار کر گیا، اب گدھے کی باری تھی۔ گدھا فوراً بولا بھائی اچھلنا کودنا ہماری شان کے خلاف ہے ۔ آئو یہ تھوڑی دور مضبوط دیوار کھڑی ہے اسے گرائیں ۔دیکھتے ہیں کہ کس میں اتنی طاقت ہے کہ اس دیوار کو گرادے ۔
گدھا شیر سے کہنے لگا پہلے تم طاقت آزمائو ،شیر فوراً بڑھا اور دیوار کو زور دار سے ٹکر ماری لیکن دیوار نہ ہلی۔ دوسری ٹکر ماری پھر تیسری اس کے بعد کئی ٹکریں ماری لیکن دیوار نہ گری۔ شیر تھک کر کھڑا ہوگیا۔
اب گدھے نے دیکھا کہ شیر کے ٹکریں مارنے سے دیوار کچی ہو گئی ہے۔ اب تو ایک ٹکر سے گر جائے گی۔ شوخی سے بولا کہ اب ہماری طاقت دیکھنا کہ ایک ہی ٹکڑ سے دیوار لرز کر دھڑام سے گر جائے گی۔ گدھے نے فوراً ایک لات ماری تو دیوارگر پڑی۔ گدھا اپنی طاقت پر فخر کرنے لگا ۔ شیر سوچنے لگا کہ واہ گدھا تو بڑا طاقتور ہے۔
آگے گئے تو ایک کنواں آیا۔ گدھا کہنے لگا کہ میری طاقت تو اتنی ہے کہ اگر میں کنوئیں کے پانی کی طرف دیکھوں تو پانی میری دہشت سے لرز نے لگتا ہے۔ گدھے نے شیر سے کہا کہ تم پہلے کنوئیں کے پانی کو دیکھو۔ شیر نے جب کنوئیں کے پانی کو دیکھا تو پانی ساکت رہا۔ اس کے بعد گدھے نے چپکے سے ایک پتھر پانی میں پھینک دیا۔ جس کی وجہ سے پانی لرزنے لگا ۔گدھا بولا کہ دیکھو ہماری دہشت سے کنوئیں کا پانی لرزنے لگا۔ شیر نے سوچا کہ گدھا تو واقعی بڑا طاقتور ہے۔ اس نے اعلان کر دیا کہ آج سے جنگل کا بادشاہ گدھا ہے۔ گدھا بے حد خوش تھا کیونکہ اس کا خواب پورا ہوگیا تھا۔ گدھا ایک درخت کے نیچے کھڑا ہوگیا اور تمام جانوروں کو جمع کر کے یہ حکم دیا کہ میرے آگے جھک جائو۔ تمام جانور اپنے بادشاہ کی تعظیم کے لئے اس کے آگے جھک گئے۔ گدھا بڑے فخر سے اونچی جگہ کھڑا تھا اور تمام جانور اس کے آگے سر جھکائے کھڑے تھے۔
جب شام ڈھل گئی تو گدھے کے مالک نے سوچا کہ شاید گدھے کو کسی نے پکڑ لیا ہے۔ بڑا جنون سوارتھا جنگل کا بادشاہ بننے کا بھلا شیر نے گدھے کو جنگل میں گھسنے دیا ہوگا۔ گدھے نے بھی مزہ چکھ لیا ہوگا۔ جنگل کا بادشاہ بننے کا، وہ جنگل کی طرف اپنے گدھے کی تلاش میں نکل پڑا۔ جب اس درخت کے قریب پہنچا تو یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا کہ شیر سمیت تمام جانور گدھے کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہیں۔ گدھے کے مالک نے سوچا کہ واقعی گدھے نے بادشاہ بن کر دکھایا اور آج جنگل کے تمام جانور اسے بادشاہ تسلیم کئے ہوئے ہیں اور میں بار برداری کے کام کے لئے واپس جانا چاہتا ہوں۔ لہٰذا جنگل کے نئے بادشاہ کو یہیں رہنے دیناچاہیے۔ یووہ آدمی یہ سوچ کر حیران ہو کر شرمندہ واپس اپنے گھر لوٹ گیا۔کہ جنگل کا بادشاہ اب گدھا ہے شیر نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں