شہزادہ اور تین سوال

Princes

بچو! یہ پرانے وقتوں کی بات ہے۔ شہزادہ ارشم اور شہزدہ ارجم دونوں بے حد گہرے دوست تھےاور اب وہ بڑے عرصے کے بعد ملے تھے اور بے حد خوش تھے۔ اب تو انہیں شکار پر جانے کی خصوصی اجازت بھی مل گئی تھی کیونکہ بادشاہ سلامت شہزادہ ارشم کو اکیلے شکارپرجانے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ دونوں دوست جنگل میں پہنچ کر شکار تلاش کرنے لگے۔ باوجود کوشش کے شکار نہ ملا۔ شہزادہ ارجم کو پیاس محسوس ہوئی تو وہ پانی کی تلاش میں چل پڑا اور شہزادہ ارشم اس کا وہیں پر انتظار کرنے لگا کہ اچانک وہاں پر ایک جن نمودار ہوا۔ بے حد خوفناک کہ شہزادہ اسے دیکھتے ہی بے ہوش ہوگیا اور جن اسے لے کر غائب ہوگیا۔ شہزادہ ا رجم واپس آیا تو شہزادہ ارشم کو نہ پا کر بے حد حیران اور پریشان ہوا کہ شہزادہ کہاں چلا گیا۔وہ پریشانی میں ادھرہی بیٹھ گیا۔ ایک بزرگ کا وہاں سے گزر ہوا۔ بزرگ نے پوچھا کہ کیوں پریشان ہو؟ تو اس نے بتا دیا۔ بزرگ نے کہا کہ اسے ایک جن لے گیا ہے اگر تم اس کے تین سوالوں کے جواب دے دو تو وہ تمہارے دوست کو آزاد کر دے گا۔
وہ سوال کیا ہے؟ بزرگ نے سوال بتا دئیے اور ایک تسبیح اسے دی کہ یہ تمہیں جن کے منتر سے بچائے گی اور اسے جن کے پاس پہنچا دیا۔ شہزادہ ارشم کو وہاں دیکھ کر وہ بے حد خوش ہوا۔ شہزادہ ارشم نے کہا تم یہاں کیوں آگئے جن بے حد ظالم ہے تمہیں بھی ختم کر دے گا۔ تم واپس چلے جائو۔
شہزادہ ارجم نے کہا۔ نہیں میں تمہیں ساتھ لے کر جائو ںگا۔ اتنے میں جن وہاں آگیا اور کہنے لگا یک نہ شد دو شد اب مزہ آئے گا اگر تم نے میرے تین سوالوں کے جواب دے دئیے تو میں تم دونوں کوآزاد کردوں گا۔
میرا پہلا سوال یہ ہے کہ دوستی کی آڑ میں دشمنی پیدا کرنے والی کیا چیز ہے ؟
شہزادہ ارجم نے بتایا کہ ’’یہ تو بے حد آسان ہے اسے خوشامد کہتے ہیں۔‘‘بالکل ٹھیک۔
اب دوسرا سوال کہ وہ کونسی آگ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی؟
شہزادے نے بتایا کہ وہ بغض اور کینہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔‘‘ بالکل ٹھیک ۔
اور اب آخری سوال کہ عقلمند اور دانا کون سب سے زیادہ ہے؟ ۔
شہزادے نے کہا کہ جو دنیا وی مال و دولت اور عیش و عشرت کے بجائے آخرت کی زندگی کو ترجیح دیتا ہے اور نیک اعمال کرتا ہے۔‘‘
بہت خوب، جائو، تم دونوں آزاد ہو اور اسی وقت جن غائب ہوگیا اور وہاں پر ایک خوبصورت نوجوان کھڑا تھا۔ انہوں نے کہا یہ کیا ہوا۔ انہو ں نے کہا یہ میرے ظلم کا حساب تھا جو میں نے ایک مظلوم پر کیا تھا اور اس کے طور پر میری شکل تبدیل کر دی گئی تھی اور شرط کے مطابق تم نے میرے تین سوالوں کے جواب دئیے اسی وجہ سے میں ٹھیک ہو گیا۔
اب کیا تھا شہزادوں کو ایک اور دوست مل گیا۔ اور تینوں گہرے دوست بن گئے اور خوش و خرم زندگی بسر کرنے لگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں