سندھ میں سمہ دور کے سکے اور ان کی تاریخی اہمیت

Sindi-old-coin

ازمنہ قدیم میں سندھ کا رقبہ کافی وسیع اراضی پر مشتمل تھا۔ اس کی حدود شمال میں کشمیر، جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں راجپوتانہ اور جیسلمیر کے صحرا تک اور مغرب میں مکران تک تھیں۔ اس قدیم دور میں بھی سندھ اپنی تہذیب و ثقافت اور خوشحالی اور فارغ البالی کی وجہ سے اہل دُنیا کی نظروں کا مرکز تھا۔
تاریخ سندھ کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے پر ۴۸۰ ق م میں ایرانیوں نے حکومت کی اور ۳۲۷ ق م میں سکندر اعظم مقدونی نے فتح کرکے اپنی حکومت قائم کی۔ ۳۲۳ ق م میں یہاں موریہ خاندان کی حکومت کی بنیاد پڑی۔ ۱۹۰ ق م میں یونانیوں کا اقتدار رہا۔ پہلی صدی قبل مسیح میں بار تھی اور سنتھی قوموں نے یہاں اپنے پائے اقتدار گاڑے اور پھر پہلی صدی عیسوی میں یہاں کشن خاندان کے بادشاہوں نے حکومت کی۔ ۳۲۰ھ میں خاندان گبت کے حکمرانوں نے یہاں اپنا سکہ جاری کیا اور پھر مغربی اقوام نے سندھ میں اپنی تجارتی کوٹھیاں قائم کیں۔ ۴۵۰ء میں سندھ میں رائے خاندان کی حکومت و اقتدار کی بنیاد رکھی گئی، جن سے برہمن خاندان نے اقتدار حاصل کیا۔ اس خاندان کی حکومت کو محمد بن قاسمؒ نے ختم کیا اور اس طرح سندھ میں عرب اقتدار و حکومت کی بنیاد پڑی۔ عربوں کے زوال کے بعد سندھ کی حکومت یہاں کے مقامی باشندوں یعنی سومرہ خاندان کے قبضہ اقتدار میں آئی۔ اس دور کے حکمرانوں میں ’’دو دو چینز‘‘ قابل ذکر ہے۔ سومرہ خاندان کے زوال کے بعد سندھ پر سمہ خاندان کا اقتدار قائم ہوا، سمہ سومرہ خاندان کے دوست تھے۔ یہ دراصل چند رونی راجپوت تھے جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے، ان کا لقب ’’جام‘‘ تھا۔ سندھ پر سمہ خاندان نے تقریباً پونے دو سو سال یعنی ۷۵۱ھ (۱۳۵۰ء) سے ۹۲۳ھ (۱۵۱۹ء) تک حکومت کی۔ سندھ کے سمہ حکمران کبھی خود مختار رہے اور کبھی سلاطینِ دہلی کے زیر سایہ۔
ہر حکومت کے دور میں لین دین اور تجارت کے لیے کوئی نہ کوئی سکہ ہوتا ہے۔ سکے کی ضرورت اس وجہ سے محسوس ہوئی کہ قدیم زمانے میں جب سکے کا رواج نہ تھا تو تجارت اور لین دین کے لیے اشیا کے بدلے اشیا کا رواج تھا، لیکن بعد میں جب دھاتوں کے استعمال کا دور شروع ہوا اور لوگوں نے سونا چاندی، تانبے اور پیتل کے استعمال سے آگاہی حاصل کی تو تجارت او رلین دین کے لیے یہی دھاتیں استعمال ہونے لگیں۔ اب ان دھاتوں کے گول، مستطیل اور چوکور ٹکڑوں پر ان کے خالص اور وزن کے صحیح ہونے کی ضمانت کے طور پر بطور نشان ملک کے حاکم کا نام، خاص نشان، لقب کندہ کیا جانے لگا، اس طرح یہ سکے تجارت کی ترقی اور لین دین میں آسانی کا باعث بنے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، ان سکوں میں اصلاحات کی جاتی رہیں اور آخر یہ یہ سکے وقت کی ایک اہم ضرورت بن گئے۔ سکے نہ صرف یہ کہ ملک کی تجارتی سرگرمیوں کی ایک اہم اوربنیادی ضرورت ہیں، بلکہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ان سے کسی بھی ملک کے کسی بھی دور کے تاریخی حالات و واقعات معلوم کرنے میں کافی مدد ملتی ہے اور یہ کہ ان کے ذریعہ ہمیں جو معلومات حاصل ہوتی ہے وہ دیگر معلومات کے مقابلے میں کافی معقول، یقینی اور سائنٹیفک ہوتی ہیں۔ سکے تاریخ کی ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں جن کی افادیت سے کسی طور پر بھی مجال انکار نہیں۔
سندھ کی تاریخ کے قدیم حالات کے بارے میں سوائے چند کتابوں کے کوئی اور خاص تاریخی کتاب شائع نہیں ہوئی۔ اس وقت جو کتابیں موجود ہیں، ان میں واقعات اور سن میں اختلافات ہیں، چنانچہ ان اختلافات کو دور کرنے کے لیے اور سندھ کی ایک صحیح تاریخ مرتب کرنے کے لیے ہمیں سندھ کے سکوں سے بھی مدد لینی پڑے گی اور ان پر کندہ عبارتوں کی باقاعدہ تحقیق کرکے ہم تاریخ سندھ کے گم شدہ اوراق کو دوبارہ تلاش کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ سکوں پر جو کچھ کندہ ہوتا ہے، اس میں بادشاہ وقت کے ذاتی خیالات، ذہنی رحجانات اور ملک کی سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور مذہبی حالت کا صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

موہنجو داڑو کی تاریخ صدیوں پر مشتمل ہے

درحقیقت سکوں کے ذریعے ہمیں تاریخ کا اتنا حقیقی اور صحیح مواد ملتا ہے جو کسی دوسرے ذریعے سے ملنا محال ہے۔ ہم اس تاریخی مواد کے ذریعے ایک دور کی حقیقی حالت اور کیفیت کو صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ درحقیقت سکوں کا صرف جمع کرنا ہی کافی نہیں بلکہ ان کا مطالعہ کرنا اور ان پر تحقیق کرنا لازم ہے، کیو کہ اس طرح ہم ان سے صحیح فائدہ حاصل کر سکتے ہیں اور پھر تاریخ کی کئی ایک گم شدہ کڑیاں ظاہر ہو سکتی ہیں۔
کسی بھی حکومت کا اپنی ریاست میں سکہ جاری کرتا، اس کی خود مختاری کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن سندھ کے سمہ حکمرانوں نے سکے جاری کرنے کی طرف کوئی دھیان نہ دیا۔ اگرچہ ان میں سے کئی حکمراں خود مختار تھے، تاہم اُنھوں نے اپنی سلطنت میں اپنے نام اور مہر کا سکہ جاری کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی اور ہمسایہ ریاستوں کے سکے یہاں جاری رہے۔ سمہ حکمرانوں کے دور کے بارے میں ابھی تک واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان میں سے کن حکمرانوں نے سکے جاری کیے تھے۔ بعض تاریخی کتابوں میں اس دور کے سکوں کے بارے میں جو کچھ درج ہے وہ نامکمل اور بہت ہی مختصر ہے، ان کے مطالعہ سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ سمہ حکمرانوں کے دور میں ان جکے اپنے جاری کردہ سکے بھی رائک تھے۔ لیکن کن حکمرانوں نے سکے جاری کیے تھے، اس کے بارے میں نہ تو آج تک تحقیق کی گئی ہے اور نہ کچھ لکھا ہے، جب کہ اس قسم کی تحقیق سے ہمیں سندھ کی تاریخ و ثقافت کے متعلق وافر تعداد میں اہم معلومات حاصل ہو سکتی ہیں، ایسی اہم معلومات جن کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ سکتی ہے۔
سندھ کے سمہ عہد کے ہر ایک حکمران کے دور میں ان کے اپنے کون کون سے کے رائج تھے اور کون سے سکے دوسرے حکمرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن سندھ میں رائج تھے، آیئے ہم اس بات کا جائزہ لیں۔
۱۔ جام انٹر ۷۳۷ھ تا ۷۵۳ھ
سمہ دور حکومت کا بانی اور پہلا حکمران جام انٹر تا۔ یہ ہمیر سومرو کے قتل کے بعد ۷۵۱ھ مطابق ۱۳۵۰ء میں سندھ کا حکم بنا اور اپنے کو ’’فیروز الدین شاہ جام انٹر‘‘ کے لقب سے مشہور کیا۔ اس کے دور اور سن حکومت کے بارے میں مورخین میں اختلاف ہے۔ محترم ڈاکٹر نبی بخش بلوچ تعلیقات تاریخ طاہری صفحہ ۳۰۷ پر لکھتے ہیں کہ جام انٹر کا دور حکومت ۷۴۹ھ سے ۷۵۲ھ تک ہے، جب کہ سید حسام الدین راشدی مرحوم نے مکلی نامہ کے صفحہ ۷۴۸ پر ’’شجرہ ب‘‘ نسب نامہ سلاطین سمہ‘‘ میں فیروز الدین شاہ جام انٹر اوّل کا دور حکومت ۷۳۷ھ سے ۷۵۳ھ تک بتایا ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنے دوران سفر سندھ (۷۲۴ھ) میں جام انٹر کے ہاتھوں سیوہن کے حاکم ملک رتن کے مارے جانے کا ذکر کیا ہے۔ ابن بطوطہ کے اس بیان کو ہم کسی طورپر نظر انداز نہیں کر سکتے، کیوں کہ اس کی بنیاد پر ہی ہم سید حسام الدین راشدی مرحوم کے دیے ہوئے سن کو تسلیم کرتے ہیں۔
جام انٹر کے دور میں ہندوستن پر محمد بن تغلق نے ۷۲۵ھ (۱۳۲۵ء) سے ۷۵۲ (۱۳۵۱ء) تک کی حکومت تھی اور سندھ کے اس کے دائرہ اقتدار میں شامل ہونے سے پہلے ملتان، اچ، سیوستان، بکھر اور دوسرے علاقہ اس کی حدود سلطنت میں شامل تھے، سندھ میں سمہ خاندان کے خود مختاری حاصل کرنے کے بعد محمد بن تغلق نے سندھ پر حملہ کیا، لیکن ٹھٹھہ سے اکیس کوس کے فاصلے پر ۲۱ محرم الحرام ۷۵۲ھ کو اس کا انتقال ہو گیا۔ محمد بن تغلق کے انتقال کے بعد یہیں فیروز شاہ تغلق تخت نشین ہوا اور پھر دہلی واپس چلا گیا۔ جام انٹر کو ابہام پور کے قلعے میں حملہ کرکے تماچی کے لڑکے نے قتل کر دیا تھا۔
جام انٹر کے نام کا کوئی بھی سکہ اب تک نہیں ملا ہے، شاید اس نے اپنا کوئی سکہ جاری نہ کیا ہو۔ اس کے دور میں سندھ میں ہندوستان کے سلطان محمد بن تغلق کے سکے دینار، تنکہ، عدلی، نغفی، درکانی اور جیتل رائج تھے۔ دینار سونے کا سکہ تھا اور اس کا وزن ۱۹۹ گرین تھا۔ اس کے ایک طرف گول دائرے میں ’’الوثق بتائید الرحمان محمد شاہ سلطان‘‘ اور چاروں اطراف میں ’’ھذا الدنار۔ بحضرۃ دھلی سنہ سبع و عشرین و سبع مائۃ‘‘ لکھا تھا اور دوسری طرف ’’اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمد عبدہ و رسولہ‘‘ لکھا تھا۔ یہ سکہ ۷۲۵ھ سے ۷۲۷ھ تک ضرب کیا گیا تھا، لیکن یہ سکہ بعد میں بھی ہندوستان اور سندھ میں رائج رہا۔ اس کے علاوہ ایک سونے کا سکہ اور تھا جس کا وزن ۱۷۰ گرین ہے۔ اس کے ایک دائرے میں ’’فی عھد محمد بن تغلق‘‘ اور چاروں طرف ’’ضرب ھذا الدُنیاء بحضرۃ دھلی سندست و ثلثین وبسبع مائہ‘‘ لکھا تھا اور دوسری طرف ’’و اللہ الغنی وانتم الفقرا‘‘ لکا ہوا ہے۔ یہ سکہ ۷۲۷ھ تا ۷۳۳ھ اور ۷۳۶ء میں جاری ہوا۔ تنکہ چاندی کا سکہ ہوتا تھا۔ ۷۳۰ھ میں جاری کردہ تنکہ کے سکے کے ایک طرف کلمہ تحریر ہے اور چاروں طرف سن اور ٹکسال کا نام لکھا ہوا ہے اور دوسری طرف چاروں خلفائے راشدین کے اسمائے مبارک اور درمیان میں ’’المجاھد فی سبیل اللہ محمد بن تغلق شاہ‘‘ لکھا ہوا ہے۔ ۷۳۰ھ میں محمد بن تغلق نے پیتل اور تانبے کے تنکے بھی چاندی کے بدلے چلائے۔ یہ سکے سندھ میں بھی پہنچے اور یہاں کافی عرصہ تک گردش میں رہے۔ تانبے کا ایک تنکہ جس کے ایک طرف ’’من اطاع السطان فقد اطاع الرحمن‘‘ اور اس کے چاروں طرف ’’در اقلیم تغلق پور ترہت سال برہفت صدسہ‘‘ اور دوسری طرف ’’مہر شد تنکہ رائج در روزگار بندہ امیدوار محمد بن تغلق‘‘ لکھا ہوا ہے۔ پیتل کا ایک تنکہ جس کا وزن ۱۱۲ گرین ہے، اس کے ایک طرف ’’لایولا السلطان کا الناس بعضھم بعضا تغلق‘‘ اور دوسری طرف ’’اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول دادلی الامر منکر محمد‘‘ لکھا ہوا ہے۔
اسی طرح سونے، چاندی اور تانبے کے کچھ سکے مصری خلفا کے نام پر بھی جاری کیے گئے۔ ۷۴۷ھ میں جاری شدہ تانبے کے ایک سکے پر جس کا وزن ۵۵ گرین ہے، ایک طرف ’’الحاکم بامر اللہ ۷۴۸ھ۔‘‘ اور دوسری ’’ابوالعباس احمد‘‘لکھا ہوا ہے۔ محمد بن تغلق کے دور کے چند چھوٹے چاندی کے سکے بھی ملے ہیں جن کے ایک طرف ’’محمد بن تغلق شاہ‘‘ اور دوسری طرف ’’السلطان العادل‘‘ کندہ ہے اور کسی پر ’’المجاہد فی سبیل اللہ‘‘ تحریر ہے۔
جیتل تانبے کا سکہ تھا اور چاندی کے سکے تنکہ میں ۶۴ جیتل ہوتے تھے اور ایک جیتل میں چار فلوس یعنی تانب کے چھوٹے سکے۔ یہ سکے بھی سندھ میں ٹھٹھہ، بدین، سیوہن اور اروڑ سے دست یاب ہوئے ہیں، اس سے یہ امر یقینی ہے کہ یہ سکے سندھ میں بھی رائک تھے۔
۲۔ جام صدر الدین اور علاء الدین جام جونا (۷۵۳ھ تا ۷۶۸ھ)
جام انٹر فیروز شاہ کے قتل ہونے کے بعد جام صدر الدین اور علاء الدین جام جونا ۷۵۳ھ (۱۳۵۳ء) میں سندھ کے والی بنے اور مشترکہ طور پر حکومت چلنے لگے۔ اُنھوں نے پورے سندھ کو اپنے دائرہ اقتدار میں لانے کا خیال کیا اور اس طرح ایک بڑے لشکر سے حملہ کرکے بکھر کو ترکوں سے آزاد کرایا اور اس طرح مکمل طور پر خود مختار ہو کر حکمرانی کرنے لگے۔ یہ بات فیروز شاہ تغلق کو پسند نہ آئی اور وہ ۷۶۶ھ میں نوئے ہزار سوار اور چار سو اسی ہاتھیوں سمیت ٹھٹھہ پر حملے کی نیت سے آیا، لیکن سندھ کے لشکر نے اسے واپس جانے پر مجبور کر دیا، اس طرح ٹھٹھہ فتح نہ ہو سکا اور فیروز شاہ تغلق اپنی فوج سمیت گجرات کے راستے واپس چلا گیا۔ لیکن اپنی اس ہزیمت کا بدلہ لینے کے لیے مکمل تیاریوں کے ساتھ ۷۶۸ھ میں دوبارہ ٹھٹھہ پر حملہ آور ہوا، اہل سندھ نے اس کا سخت مقابلہ کیا، چنانچہ فریوز شاہ تغلق نے صلح کی غرض سے سید جلال الدین سرخ بخاری کو درمیان میں ڈالا اور اس طرح سمہ حکمرانوں اور فیروز شاہ تغلق کے درمیان اُنھوں نے صلح کرائی۔ فیروز شاہ تغلق دہلی کو واپسی کے تحت علاء الدین جام جونا اور جام بھانن کو اپنے ساتھ لے گیا اور ۷۶۸ (۱۳۶۷ء) میں دہلی واپس پہنچا اور انھیں شاہی محل کے متصل رہائش دی اور دو لاکھ تنکہ ان کا وظیفہ مقرر کیا۔ جام جونا اور جام صدر الدین کے دور کا جاری کردہ کوئی سکہ اب تک دست یاب نہیں ہوا ہے، جب کہ یہ ان کی خود مختاری کا دور تھا، لیکن اس کے باوجود اس دور میں سندھ میں محمد بن تغلق اور فیروز شاہ تغلق کے دور کے سکے جاری رہے جو سونے، چاندی اور تانبے کے تھے۔ ان میںسے کچھ سکے ان بادشاہوں کے نام کے اور کچھ مصری خلفا کے نام کے ڈھلے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی تجارتی تعلقات کی وجہ سے سندھ میں ایرانی اور عربی سکے بھی رائج تھے۔
۳۔ رکن الدین شاہ جام تماچی اور یر الدین جام توگاچی (۷۶۸ھ تا ۷۷۲ھ)
علاء الدین جام جونا اور جام صدر الدین کے بعد ۷۶۸ھ (۱۳۶۷ء) میں جام انٹر کا لڑکا جام تماچی اور جام جونا کا لڑکا جام توگاچی مشترکہ طور پر حکومت کرنے لگے۔ یہ حکمران بھی بیرونی بالادستی کو پسند نہیں کرتے تھے اور اس وجہ سے کچھ عرصے بعد اُنھوں نے فیروز شاہ تغلق کی اطاعت ترک کر دی اور خود مختاری اختیار کر لی۔ چنانچہ فیروز شاہ تغلق نے حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت سید جلال الدین سرخ بخاری کے ہمراہ جام جونا کو روانہ کیا، چنانچہ علاء الدین جام جونا نے ٹھٹھہ پہنچ کر ۷۷۲ھ (۱۳۷۱ء) میں جام تماچی کو فیروز شاہ تغلق کی خدمت میں دہلی روانہ کیا۔
سندھ کے ان حکمرانوں کا بھی جاری کردہ کوئی سکہ اب تک ہم دست نہیں ہوا ہے، البتہ اس دور سے متعلق فیروز شاہ تغلق کے دور کے کچھ سکے دست یاب ہوئے ہیں۔ ان میں ایک سکہ چاندی کا ہے جس کا وزن ۱۶۰ گرین ہے جس کے ایک طرف ’’فیروز شاہ سلطانی ضربت بحضرت دہلی‘‘ جاور دوسری طرف ’’الخلیفہ امیر المومین خلد خلافتہ ۷۸۱‘‘ درج ہے۔ دوسرا سکہ تانبے کا ہے اس کا وزن ۶۸ گرین ہے۔ اس کے ایک طرف ’’فیروز شاہ ثانی‘‘ اور دوسری طرف ’’دار الملک دہلی‘‘ درج ہے۔ ایک اور سکہ جو تانبے کا ہے ہم دست ہوا ہے، اس کا وزن ۳۶ گرین ہے۔ اس کے ایک طرف ’’سلطان فیروز‘‘ اور دوسری طرف ’’بحضرت دہلی‘‘ درج ہے۔
فیروز شاہ کے دور کا چھوٹے سے چھوٹا سکہ ۱۸ گرین کا اور تانبے کا ہے جس کے ایک طرف ’’فیروز شاہ‘‘ اور دوسری طرف صرف ’’دہلی‘‘ کندہ ہے۔ یہ تمام سکے ۷۶۸ھ سے ۷۷۷ھ کے دوران جاری کیے گئے تھے۔فیروز شاہ کے دور میں اگرچہ سونے کے نئے سکے بھی جاری کیے گئے، لیکن یہ سکے سندھ میں دست یاب نہیں ہیں۔
۴۔ علاء الدین جام جونا (دوسری دفعہ۔ ۷۷۲ھ ۷۹۱ھ)
جام تماچی کے ۷۷۲ھ ۱۳۷۱ء) میں دہلی روانہ ہونے کے بعد علاء الدین جام جونا نے دوبارہ سندھ کی حکومت سنبھالی۔ اس نے اپنے رہنے کے لیے جو جگہ تعمیر کرائی تھی، اس سے ملحق شیخ ترابیؒ کا مزار اب تک موجود ہے۔ اس پر علاء الدین جام جونا کا نام اور سال تعمیر ۷۸۲ھ کندہ ہے۔ اس سے اس بات کا یقینی ثبوت ملتا ہے کہ ۷۸۲ھ میں سندھ پر جام جونا حکمران تھا۔ جام تماچی اور اس کا لڑکا صلاح الدین جام انٹر ثانی ان دنوں دہلی میں رہائش پذیر تھے۔ جام جونا دہلی کے سلطان فیروز شاہ تغلق کا وفادار تھا، کیوں کہ سندھ کے تمام حکمران حضرت جلال الدین جہانیاں جہاں گشت کے عقیدت مند تھے اور وہ ہمیشہ دہلی کے حکمرانوں اور سندھ کے سمہ سلاطین کے درمیان ثالث بن کر صلح کرا دیتے تھے۔ فیروز شاہ تغلق کا انتقال ۷۹۱ھ (۱۳۸۹ء) میں ہوا اور اب اس کی جگہ غیاث الدین تغلق گدی نشین ہوا، اس طرح جام تماچی دہلی سے سندھ واپس آیا اور جام جونا کا دور حکومت ختم ہوا۔
جام جونا کے ور میں جن سکوں کا رواج تھا، ان میں سے کوئی سکہ بھی اس کے دور سے تغلق نہیں رکھتا ہے۔ اس دور میں چوں کہ سندھ پر سلاطینِ دہلی کا اثر تھا، اس لیے فیروز شاہ تغلق کے دور کے سکے عام طور پر ملتے ہیں۔ اس دور میں فیروز شاہ تغلق نے اپنے نام کے علاوہ اپنے لڑکے فتح خاں بن فیروز شاہ کے نام سے بھی سکے جاری کیے تھے جو تانبے چاندی کے ہیں اور اس کا وزن ۱۴۰ گرین ہے۔ اس کے ایک طرف ’’فتح خان فیروز شاہ جل اللہ صلالہ و جلالہ‘‘ اور دوسری طرف اس وقت کے مصرف خلیفہ کا نام ’’فی زمن الام امیر المومنین المعتضد باللہ خلدت خلافتہ‘‘ کندہ ہے اور بعض سکوں پر دوسری طرف ’’فی زمن الام امیر المومنین ابر عبد اللہ خلدت خلافتہ‘ کندہ ہے۔ سلطان فیروز شاہ تغلق کے آخری دور کے سکوں میں ایک طرف ’’فیروز شاہ سلطانی ضربت بحضرۃ دہلی‘‘ اور دوسری طرف ’’خلیفہ ابوعبد اللہ خلد خلافتہ ۷۹۳ھ‘‘ کندہ ہے۔ یہ سکے تانبے اور چاندی کے ہیں، ان سکوں سے مشابہت رکھتا ہوا سونے کا سکہ اب تک سندھ میں دست یاب نہیں ہوا۔ فیروز شاہ تغلق کے انتقال کے بعد بھی یہ سکے کئی سال جاری و ساری رہے۔
۵۔ رکن الدین شاہ جام تماچی (۷۹۱ھ تا ۷۹۵ھ)
فیروز شاہ تغلق کے انتقال کے بعد غیاث الدین تغلق تخت دہلی پر بیٹھا، اس نے تخت نشین ہوتے ہی جام تماچی کو سندھ روانہ کر دیا۔ اس طرح رکن الدین جام تماچی ۷۹۱ھ (۱۳۷۹ء) میں سندھ آیا اور اس نے یہاں کا اقتدار سنبھالا۔
جام تماچی ٹھٹھہ کے بزرگ شیخ حماد جمالی کا بہت عقیدت مند تھا اور اس نے شیخ حماد جمالی کو مکلی می مسجد کی تعمیر کے لیے رقم دی تھی، اسی جام تماچی کا معاشقہ فوری کے ساتھ چلا تھا اور اس طرح نوری نہ صرف سندھ کی ملکہ بنی بلکہ اس کے قبیلے موہانوں سے ٹیکس بھی معاف کر دیا گیا۔ رکن الدین شاہ جام تماچی کا انتقال ۷۹۵ھ (۱۳۹۳ء) میں ہوا۔ اس کے نام کا کوئی سکہ اب تک ہم دست نہیں ہوا۔ درحقیقت فیروز شاہ تغلق کی وفات کے بعد سلاطین دہلیِ کا اثر سندھ سے کافی کم ہو گیا تھا، کیوں کہ اس کے جانشین کافی کمزور تجھے اور حکمرانوں کی پے در پے تبدیلی کی وجہ سے ملک کا استحکام ختم ہو گیا تھا، لیکن اس کے باوجود دہلی کے سکے سندھ میں زیر گردش تھے۔ ان سکوں میں سے ایک سکہ محمد شاہ بن فیروز شاہ تغلق کا ہے جو چاندی کا ہے اور اس کا وزن ۱۶۰ گرن ہے۔ اس سکے کے ایک طرف ’’محمد شاہ فیروز شاہ سلطانی‘‘ اور دوسری طرف ’’خلیفہ امیر المومنین خلد خلافتہ ۷۹۳ھ‘‘ لکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ غیاث الدین تغلق ثانی اور ابوبکر بن ظفر خاں کے سکے بھی سندھ میں رائج تھے۔
سلاطینِ دہلی کے کمزور ہو جانے کی وجہ سے سندھ میں بھی خود مختاری اور پڑوسی ملکوں سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کا رحجان بڑھا۔ سندھ کا ہمسایہ اور طاقتور علاقہ گجرات تھا جو اب خود مختاری تجارت نے بھی ترقی کی۔ سندھ میں گجراتی سکے بھی رائج ہوئے۔ اس زمانے میں گجرات کا حاکم مظفر شاہ (۷۹۳ھ؍ ۷۱۳۹۰)

سندھی تہذیب صدیوں پر مشتمل ہے

۶۔ جام صلاح الدین ۷۹۵ھ تا ۸۰۶ھ
جام تماچی کے انتقال کے بعد اس کا لڑکا جام صلاح الدین جو دہلی سے اس کے ساتھ واپس آیا تھا، ۷۹۵ھ (۱۳۹۳ء میں سندھ کے تخت پر بیٹھا۔ اس نے سندھ میں امن و امان قائم کیا اور اپنی فوجی طاقت کو مضبوط بنایا اور عوام الناس کی بھلائی کے بہت سے کام کیے۔ اس کا دور عدل و انصاف کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ جام صلاح الدین کا انتقال ۸۰۶ھ (۱۴۰۴ء) میں ہوا۔ اس دور میں سندھ سے دہلی کے تعلقات کافی حد تک ختم ہو گئے تھے، کیوں کہ تغلق خاندان کے آخری حکمران اتنے اہل نہ تھے کہ ہمسایہ صوبوں پراپنا تسلط برقرار رکھ سکیں۔ دوسری طرف سندھ کے گجرات سے گہرے تعلقات پیدا ہونے کی وجہ سے اب سندھ کے گجرات کے سکے وافر تعداد میں چلنے لگے تھے۔ اس دور میں بھی ہمیں یہ اب تک معلوم نہیں ہو سکا کہ سمہ حکمرانوں نے اپنا کوئی سکہ جری کیا تھا یا نہیں۔
۷۔ جام نظام الدین جام صلاح الدین۔ ۸۰۷ تا ۸۰۹ھ
جام صلاح الدین کے انتقال کے بعد اس کا لڑکا جام نظام الدین ۸۰۷ھ (۱۴۰۴ء) میں امرا کے مشورے سے تخت پر بیٹھا۔ اس نے تخت نشین ہوتے ہی اپنے چار چچائوں یعنی جام سکندر، جام کرن، جام بہاء الدین اور جام عامر کو قید تھے آزاد کرکے اپنی حکومت میں اہم عہدوں پر فائز کیا اور خو عیش و عشرت میں اپنا وقت گزارنے لگا۔ اس سے اس کے چچائوں کو موقع ملا اور وہ اس کے خلاف سازش کرنے لگے۔ چنانچہ جام نظام الدین گجرات کی طرف بھاگ گی اور وہیں اس کا انتقال ہوا۔ ہمیں اب تک جام نظام الدین کے دور کا کوئی سکہ نہیں ملا ہے، لیکن ہمسایہ ریاستوں اور دہلی کے سکے اس دور میں رائک تھے۔
۸۔ جام علی شیر (۸۰۹ تا ۸۱۵ھ)
جام نظام الدین کے گجرات کی طرف بھاگ جانے کے بعد سرداروں نے اتفاق رائے سے جام تماچی کے لڑکے علی شیر کے ۸۰۹ھ (۱۴۰۷ء) میں تخت پر بٹھایا۔ اس نے ملکی معاملات کو سدھارا اور سندھ سے انتشار کو ختم کیا۔ اس کی یہ عادت تھی کہ وہ چاندنی رات میں کشتی میں بیٹھ کر دریا کی سیر کرتا تھا، ایک دفعہ ایسے ہی موقع پر اس کے چچام جام سکندر، جام کرنا اور فتح خاں نے حملہ کرکے اسے قتل کر دیا۔ جام علی شیر کے دور کا جاری کردہ کوئی سکہ سندھ میں یا باہر نہیں ملا۔ اس کے دور میں بھی ہندوستان اور ہمسایہ ریاستوں کے سکے یہاں زیر گردش تھے۔
۹۔ جام کرن بن خیر الدین جام توگاچی (۸۱۶ھ)
جام علی شیر کے قتل کے بعد ۸۱۶ھ (۱۴۱۳ء) میں جام کرن بن خیر الدین جام توگاچی بن علاء الدین جام جونا تخت پر بیٹھا لیکن عوم اس سے نفرت کرتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ جام کرن ہی جام علی شیر کا قاتل ہے، اس لیے لوگوں نے اس پر حملہ کرکے طہارت خانے میں قتل کر دیا۔ اس کے دور کا بھی کوئی سکہ نہیں ملا۔
۱۰۔ جام فتح خاں صدر الدین سکندر شاہ (۸۱۶ھ ۸۳۱ھ)
جام کرن کے قتل ہونے کے بعد جام فتح خان بن صدر الدین سکندر شاہ تخت نشین ہوا۔ لیکن توضیحات تاریخ معصومی میں جام صد الدین سکندر شاہ کی حکومت کا تذکرہ ۸۱۶ھ میں کیا گیا ہے۔ ذکر کرام کے مؤلف مولوی حفظ الرحمن بہاولپوری نے تحریر کیا ہے کہ جام صدر الدین سکندر شاہ کے دور کا ایک کتبہ جو سرائیکی زبان اور فارسی رسم الخط میں ہے، سنجر پور ضلع رحیم یار خاں (پنجاب) کے قریب ایک غار سے دست یاب ہوا ہے۔ یہ ایک پکی اینٹ ہے جس پر درج ذیل شعر لکھے ہوئے ہیں۔
سلاں سل بندتھپیاں بھگیا نام نصیر کھوہ کھوٹا یا پتر گامن دے انٹر نام ہمیر
وقت سکندر بادشاہ ملک دھنی بھلوان رعیت راضی ایہہ جئی جو بڈھانت جوان
اک لکھ سلاں لگ چکیاں تھیا کھوہ تمام ترے سو بوٹے باغ دے دادھے انٹر جام
جام صدر الدین سکندر شاہ کا سوائے اس کتبے کے کوئی دوسرا ثبوت ہے یا سکہ اب تک نہیں ملا جس سے اس کے دور حکومت کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکیں۔
جام فتح خاں بن صدر الدین سکندر شاہ ۸۱۶ھ (۱۴۱۳ء) میں تخت نشیں ہوا، اس نے حکومت کے پرانے اور فرسودہ نظام کو بدلا اور اس میں کئی اصلاحات کیں اور اس طرح اپنی حکومت کو مستحکم کیا۔ اسی کے دور میں امیر تیمور نے ہندوستان پر حملہ کیا اور اس کے بعد دہلی سے تغلق خاندان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سید گھرانے کو اقتدار ملا۔ اس اقتدار میں تبدیلی کی وجہ سے کئی صوبے خود مختار ہو گئے اور سندھ کا تعلق بھی ہندوستان کے حکمرانوں سے ٹوٹ گیا۔ جام فتح خاں نے سندھ پر تقریباً پندر سال حکومت کی اور اس کا انتقال ۸۳۱ھ (۱۴۲۷ء) میں ہوا۔
جام فتح خان کے دور میں بھی سندھ کے تعلقات ہمسایہ علاقہ گجرات سے کافی گہرے رہے، جس کی وجہ سے وہاں کے حکمراں احمد شاہ (۸۱۴ھ۔ ۸۴۶ھ) کے چاندی اور تانبے کے سکے بھی سندھ میں رائک تھے۔ احمد شاہ گجراتی کا چاندی کا ایک سکہ جس کا وزن تقریباً ۱۷۲ گرین ہو گا۔ اس کے ایک طرف ’’احمد شاہ بن محمد شاہ بن مظفر شاہ خلد خلافتہ ۸۲۸ھ‘‘ کندہ ہے اور دوسری طرف ’’السطان الاعضم ناصر الدُنیا والدین ابوالفتح‘‘ لکھا ہوا ہے۔ اس کا ایک تانبے کا سکہ جس کے ایک طرف ایک سمت میں ’’السلطان احمد شاہ‘‘ اور دوسرے کناروں پر بھی کچھ کندہ ہے جو کٹ جانے کی وجہ سے نہیں پڑھا جا سکا۔ لیکن اس کے دوسری طرف ’’السلطان الاعظم ناصر الدُنیا والدین‘‘ کندہ ہے۔ اس کا دوسرا سکہ تانبے کا ہے جس کا وزن درج بالا سکے سے کچھ کم ہے، اس کے ایک طرف ’’السلطان احمد شاہ‘‘ اور دوسری طرف ’’ناصر الدین والدین‘‘ لکھا ہوا ہے۔ گجرات سکوں کے علاوہ سندھ میں جون پور کے حاکم ابراہیم شاہ کے تانبے کے سکے بھی ہم دست ہوئے ہیں جن میں ایک طرف ’’ابراہیم شاہ سلطانی خلدت ملکتہ‘‘ اور دوسری طرف ’’الخلیفہ امیر المومنین خلدت خلافتہ ۸۱۸ھ‘‘ کندہ ہے۔ یہ سکے سندھ کے کئی حصوں سے دست یاب ہوئے ہیں، لیکن ان میں جام فتح خان کا اپنا جاری کردہ کوئی سکہ نہیں ہے۔
۱۱۔ جام تغلق عرف جونا بن صدر الدین سکندر شاہ (۸۳۱ھ تا ۸۵۷ھ)
جام فتح خان کے انتقال کے بعد اس کی وصیت کے مطابق اس کا چھوٹا بھائی جام تغلق عرف جام جونا ثانی بن صدر الدین سکندر شاہ ۸۳۱ھ (۱۴۲۷ء) میں تخت پر بیٹھا۔ اس نے اپنے اقتدار میں اپنے بھائیوں کو بھی شامل کیا اور انھیں بکھر اور سیولستان کے قلعوں کا حاکم مقرر کیا۔ جام جونا ثانی کو سیرو شکار کا بہت شوق تھا اور اپنا بیشتر وقت اسی میں صرف کرتا تھا۔ اس کے دور میں سندھ کے سمہ خاندان کی گجرات کے حکمرانوں سے رشتے داری بھی قائم ہوئی۔ اس کی ایک بیٹی بیبی مفلی کا نکاح گجرات کے حاکم سلطان محمد بن احمد شاہ (۸۴۶ھ تا ۸۵۵ھ) سے ہوا اور دوسری بیٹی کا نکاح قطب عالم (۷۹۰ھ ۸۵۷ھ) کے صاحب زادے شاہ عالم سے ۸۴۸ھ میں ہوا۔ ان ازدواجی تعلقات کے قائم ہونے کے بعد گجرات کے حکمرانوں کے سندھ کے حکمرانوں سے گہرے تجارتی اور سیاسی روابط قائم ہوئے۔ جامتغلق کا انتقال ۷۵۷ھ (۱۴۵۳ء) میں ہوا۔ اس دور میں سمہ سلطان کا جاری کردہ کوئی سکہ نہیں ملا ہے۔ ہندوستن کے حکمران محمد شاہ (۸۳۷ھ تا ۸۴۷ھ۔ ۱۴۳۳ء تا ۱۴۴۳ء) کے چاندی اور تانبے کی دھات کے ملاوٹ کے سکے جن کا وزن غالباً ۱۴۲ گرین ہو گا، ملے ہیں، جن کے ایک طرف ’’سلطان محمد شاہ بن شاہ بحضرۃ دہلی‘‘ اور دوسری طرف ’’الخلیفہ امیر الممنین خلدت خلافت ۸۴۲ھ‘‘ کندہ ہے۔ اس کے علاوہ تانبے کا ایک چھوٹا سکہ جس کا وزن غالباً ۳۰ گرین ہو گا، اس کے ایک طرف ’’محمد شاہ‘‘ اور دوسری طرف ’’بخضرت دہلی‘‘ کندہ ہے۔ اس کے علاوہ گجرات کے حاکم محمد شاہ (۸۴۶ھ تا ۸۵۵ھ) کے بھی تانبے کے سکے سندھ کے کئی حصوں سے دست یاب ہوئے ہیں، جن کے ایک طرف ’’السلطان محمد شاہ‘‘ اور دوسری طرف ’’قطب الدُنیا والد بن ابوالفضل‘‘ کندہ ہے۔ اس دور میں جون پور کے حکمرانوں کے سکے بھی سندھ میں رائے تھے۔ تانبے کے سکے کے ایک طرف ’’محمود شاہ بن ابراہیم شاہ سلطان خلدت مملکتہ‘‘ اور دوسری طرف ’’الخلیفہ امیر المومنین خلدت خلافتہ ۷۴۵ھ‘‘ کندہ ہے۔
محمود شاہ کے دور کے تانبے کے دوسرے نمونے کے سکے بھی سندھ میں ملے ہیں جن کے درمیان دائرے میں ’’محمود شاہ‘‘ اور اس کے چاروں طرف ’’بن ابراہیم شاہ سلطان‘‘ کندہ ہے، اور دوسری طرف ’’نائب امیر المومنین ۸۴۴ھ‘‘ کندہ ہے۔ گجرات کے ایک دوسرے حکمران غیاث الدین محمد شاہ کے دور کے تانبے کے جو سکے ملے ہیں، ان کے ایک طرف ’’ابوالحامد محمد شاہ السلطان‘‘ اور دوسری طرف ’’السطان الاعظم غیات الدُنیا والدین‘‘ کندہ ہے۔
۱۲۔ جام سکندر ثانی جام محمد عرف انٹر۔ ۸۵۷ھ تا ۸۵۸ھ۔
جام تغلق کے انتقال کے بعد ۸۵۷ھ (۱۴۵۳ء) میں اس کا کم سن لڑکا جام سکندر ثانی تخت پر بیٹھا۔ حکومت کی تبدیلی سے سندھ میں ئی کئی جگہ گڑ بڑ پیدا ہوئی اور سیوہن اور بکھر میں بغاوت بھی ہوئی، چنانچہ جام سکندر ٹھٹھہ سے بکھر روانہ ہوا۔ وہ ابھی نصر پور تک پہنچا تھا کہ ٹھٹھے میں اس کے ایک دربان نے جام مبارک کا خطاب اختیار کرکے تخت پر قبضہ کر لیا، لیکن امرا نے تیسرے دن اسے تخت سے اتار دیا اور جام سکندر کو واپس بلا کر اقتدار اس کے حوالے کیا۔
مولانا علاء الدین منکلوری نے جس نے اپنی کتاب ’’الزیدہ‘‘ کا انتساب جام سکندر کے نام کیا تھا، مقدمہ کتاب میں جام سکندر کا لقب اور نام ’’الملک المعظم محمد المعروف انٹر بن فتح خان بن صدر الدین بن تماچی بن جام‘‘ لکھا ہے۔ جام سکندر ثانی کے دور کا بھی جاری شدہ کوئی سکہ اب تک نہیں ملا۔ اس کے دور میں دہلی کے حکمرانوں کے سکے اور گجرات کے سلاطین اور جون پور کے حکمرانوں کے سکے سندھ میں زیر گردش تھے۔
۱۳۔ جام سنجر عرف جام رائڈ نو (۸۵۸ھ تا ۸۶۶ھ)
جام سکندر ثانی کے انتقال کے بعد جام سنجر عرف جام رائڈ نو جو علاقہ کچھ کا حاکم تھا ایک فوج کے ساتھ ٹھٹھے آیا، یہاں کے امرا نے اسے اپنا سردار منتخب کر لیا اور وہ صدر الدین کے لقب سے تخت پر بیٹھا۔ اس نے اپنی ریاست کی حدود کو وسعت دی اور فوجی طاقت میں اضافہ کیا، اسے ربیع الاوّل ۸۶۶ھ میں زہر دے کر مار ڈالا گیا۔ اس کے نام پر جاری کوئی بھی سکہ اب تک دست یاب نہیں ہوا، البتہ اسی زمانے میں دہلی کے سلطان بہلول لودھی کے سکے سندھ میں ملے ہیں۔ چاندی اور تانبے کی ملاوٹ کا ایک سکہ جس کا وزن ۱۴۵ گرین ہے، اس کے ایک طرف ’’المتوکل علی الرحمن، بہلول شاہ سلطان بحضرت دہلی‘‘ اور دوسری طرف ’’فی زمن امیر المومنین خلدت خلافتہ ۸۵۸‘‘ کندہ ہے۔
اسی طرح جون پور کے حکمران حسین شاہ اور محمد شاہ کے سکے بھی سندھ کے کئی علاقوں سے ملے ہیں۔ تانبے کے ایک سکے پر ایک طرف گول دائرے میں ’’محمد شاہ‘‘ اور اس دائرے کے چاروں طرف ’’بن محمود شاہ بن ابراہیم شاہ سلطان‘‘ اور دوسری طرف ’’نائب امیر المومنین ۸۶۱‘‘ کندہ ہے۔ محمد شاہ کے بھائی حسین شاہ کا ایک سکہ بھی اسی نمونے کا دست یاب ہوا ہے۔ اس سکے میں دائرے کے اندر ’’حسین شاہ‘‘ اور اس دائرے کے چاروں طرف ’’بن محمود شاہ ابراہیم شاہ سلطان‘‘ اور دوسری ’’نائب امیر المومنین ۸۶۵‘‘ کندہ ہے۔ اس کے دور میں جون پور اور دہلی کے سکوں کے علاوہ گجرات کے سکے بھی سندھ میں عام طور پر رائج تھے۔
۱۴۔ جام نظام الدین عرف جام نندا (۸۶۶ھ تا ۹۱۴ھ)
جام نظام الدین ثانی عرف جام نندا، اپنے باپ صدر الدین جام سنجر کی وفات کے بعد ۲۵ ربیع الاوّل ۸۶۶ھ (۱۴۶۱ء) میں تخت پر بیٹھا۔ یہ اعلیٰ اخلاق کا حامل اور علم کا قدران تھا۔ اس کے درد میں عوام الناس خوشحال تھے۔ جام نندا مدرسوں اور خانقاہوں کی خوب نگہداشت کرتا ہے۔ تخت پر بیٹھنے کے بعد جام نندا ایک فوج کے ساتھ ٹھٹھہ سے بکھر پہنچا اور وہاں تقریباً ایک سال قیام کیا اور امن و امان قائم کرنے کے بعد دل شاد نامی ایک غلام کو بکھر کا حاکم مقرر کیا اور پھر ٹھٹھہ واپس چلا گیا۔ جام نظام الدین نندا اتنا پاک باز اور متقی حکمران تھا کہ کوئی مورخ اس کی شخصیت کو نظر انداز نہ کر سکا اور سب نے اس کے دور کو تاریخ سندھ کا عہد زریں قرار دیا ہے۔ جام نظام الدین نندا نے ٹھٹھہ کو ایک نئے انداز سے رونق بخشی اور اس کی خوبصورتی اور کشادگی میں معتدبہ اضافہ کیا۔ ۸۹۰ھ میں قندھار کے حاکم شاہ بیگ ارغون نے سیوی کے قلعے پر حملہ کیا اور جام نظام الدین کے مقررہ کردہ قلعے دار امیر بہادر خاں سے یہ قلعہ چھین لیا اور اپنے بھائی سلطان محمد کو اس کا حکم مقرر کرکے قندھار واپس چلا گیا۔ جب اس واقعہ کی اطلاع جام نظام الدین نندا کو ملی تو اس نے اپنے بہادر سپہ سالار دریا خان کو فوج کے ہمراہ سیوی روانہ کیا جس نے سلطان محمد کو شکست دے کر قتل کر دیا اور سیوی کا قلعہ دوبارہ واپس لے کر جام نظام الدین نندا کے دائرہ اقتدار میں شامل کر دیا۔ اس شکست کے بعد جام نظام الدین نندا کے دور حیات میں دوبارہ شاہ بیگ ارغون کو سندھ پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ جام نظام الدین نندا نے تقریباً پچاس سال سندھ پر حکومت کی اور اپنے علم اور قابلیت سے ملکی انتظام اور فوجی طاقت کو بہتر بنایا۔ اس کا انتقال ۹۱۴ھ (۱۵۰۸ء) میں ہوا۔ اس کا مرقد ٹھٹھہ کے قریب مکلی کی پہاڑی پر موجود ہے جو سنگ تراشی کا بہترین نمونہ ہے۔
جام نظام الدین، سمہ سلاطین میں پہلا حکمران ہے جس کے نام کے سکے سندھ میں دست یاب ہوئے ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی حکومت مکمل طور پر خود مختار تھی اور اس کی ریاست اقتصادی طور پر خوشحال تھی اور بیرون ملک سے تجارت زوروں پر تھی۔ جام نظام الدین نندا کے دور کے سکے تین قسم کے ہیں۔ ان میں صرف وزن اور قیمت کا فرق ہے۔ یہ تینوں سکے تانبے کے میں اور ان پر ایک ہی انداز میں عبارت ہے اور رسم الخط بھی ایک ہے۔ ان سکوں کے ایک طرف گول دائرے میں ’’سلطان جام نظام الدین‘‘ اور دوسری طرف ایک گول دائرے میں اپنے باپ کا نام ’’جام صد الدین‘‘ کندہ کرایا ہے۔ ان سکوں پر نہ سن وغیرہ کا التزام ہے کہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ کس سن میں جاری ہوئے اور نہ ضرب خانے کا تذکرہ ہے، لیکن یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ٹھٹھہ چوں کہ سمہ سلاطین کا پایہ تخت تھا، اس لیے یہ سکے ٹھٹھہ کی ٹکسال ہی میں ڈھالے گئے ہوں گے۔ سکوں کی عبارت کا رسم الخط عربی ہے۔ اس سے یہ اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ اس دور میں عربی زبان لکھنے اور پڑنے میں عام طور پر استعمال ہوتی تھی۔ جام نظام الدین نندا کے ور کا چاندی اور سونے کا کوئی بھی سکہ اب تک دست یاب نہیں ہوا، بلکہ دہلی کے سلطان بہلول لودھی اور سکندر لودھی کے سکے سندھ میں رائک تھے۔ سکندر لودھی کے ایک تانبے کے سکے پر جس کا وزن ۱۴۰ گرین ہے، اس کے ایک طرف ’’المتوکل علی الرحمان سکندر شاہ بہلول شاہ سلطان بحضرت دہلی‘‘ اور دوسری طرف ’’فی زمن امیر المومنین خلدت خلافتہ ۹۰۶‘‘ کندہ ہے۔
گجرات کے حاکم محمود بیگرہ کے ڈھالے ہوئے سکے بھی سند میں عام طور پر رائج تھے۔ یہ مختلف اقسام کے اور تانبے، چاندی اور سونے کے ہیں۔ تانبے کے سکے کے ایک طرف ’’محمود بن محمد شاہ السلطان‘‘ اور دوسری طرف ’’السلطان الاعظم ناصر الدُنیا والدین ۸۶۲‘‘ کندہ ہے۔
دوسرا سکہ تانبے کا ہے جس کے ایک طرف ’’ابوالفتح محمود شاہ السلطان ۸۵۹‘‘ اور دوسری طرف ’’السلطان الاعظم ناصر الدُنیا والدین‘‘ کندہ ہے۔
اس کے علاوہ تانبے کا ایک اور سکہ سندھ میں رائج تھا جو سلطان احمد شاہ کے سکے کی نقل تھا۔ اس کے ایک طرف چوکھنڈی میں ’’السلطان محمود شاہ‘‘ اور چاروں اطراف میں بھی کچھ کندہ ہے اور دوسری طرف ’’السلطان ناصر الدُنیا والدین ۸۸۷‘‘ کندہ ہے۔ اسی طر چاندی کے ایک سکے کے ایک طرف چوکھنڈی میں ’’السلطان محمود شاہ‘‘ اور اس کے نیچے سن ۸۹۷‘‘ کندہ ہے اور دوسری طرف ’’السلطان الاعظم ابوالفتح ناصر الدُنیا والدین‘ کندہ ہے۔ علاوہ ازیں گجرات کی سونے کی اشرافیاں بھی سندھ میں رائج تھیں۔
جون پور کے حاکم سلطان حسین شاہ کے دور کے سکے بھی سندھ میں دست یاب ہوئے ہیں جو اس زمانے میں سندھ میں رائے تھے۔ ان تانبے کے سکوں کے ایک طرف ’’حسین شاہ ن ابراہیم شاہ سلطان خلد مملکتہ‘‘ اور دوسری طرف ’’الخلیفہ ابوعبد اللہ امیر المومنین خلدت خلافتہ ۸۹۷‘‘ کندہ ہے۔ اسی طرح گول کنڈہ اور بیجا پور کی اشرفیاں بھی جنھیں سندھ میں ’’پگوڈا‘‘ کہتے تھے، تجارتی لین دین کے لیے سندھ میں استعمال ہوتی تھیں۔
۱۵۔ جام فیروز شاہ ۹۱۴ھ تا ۹۲۶ھ
جام نظام الدین کی وفات کے بعد اس کا کم سن لڑکا فیروز شاہ، ناصر الدین الفتح سلطان جام فیروز شاہ کے لقب سے تخت نشین ہوا۔ اس نے دریا خان اور سارنگ خان کو اپنا مشیر مقرر کیا اور پھر حکومت کا تمام انتظام ان کے سپرد کر دیا۔ اسی کے دور میں جام صلاح الدین کے پوتے جام صلاح الدین نے تخت پر اپنا دعوی کیا، لیکن امرائے مملکت نے اس کی ایک نہ چلنے دی۔ سلطان مظفر گجراتی کے گھر میں اس کی چچا زاد بہن تھیں، اس رشتے کی بنا پر وہ مدد حاصل کرنے کی غرض سے گجرات بھاگ گیا۔ اسی دوران جام فیروزشاہ نے اپنی غلط حرکتوں سے دریا خان کو ناراض کر دیا تھا جو اپنی کاہان والی جاگیر پر واپس چلا گیا، اسی اثنا میں جام صلاح الدین نے سلطان مظفر کی مدد سے ٹھٹھے پر قبضہکر لیا۔ ان حالات کے پیش نظر جام فیروز کی ماں مدینہ ماجھانی دریا خاں کے پاس گئی اور اسے مدد کے لیے تیار کیا، جس نے دوبارہ واپس آ کر جام صلاح الدین کو شکست دے کر ٹھٹھے سے بھگایا اور دوبارہ جام فیروز شاہ کو ٹھٹھہ کے تخت پر بٹھایا، لیکن اس کا باوجود جام فیروز نے دریا خان سے اپنا رویہ نہ بدلا بلکہ اس کے برعکس وہ مغل امرا کے چنگل میں پھنس گیا، جو دریا خان کے خلاف تھے۔ درحقیقت مغلیہ سردار، جام فیروز کی ماں اور دریا خان کی طات اور اثر و رسوخ سے ڈرتے تھے، لیکن حالات موافق نہ تھے۔ چنانچہ جام فیروز کی ماں نے ۹۲۴ھ میں شاہ بیگ ارغون کو سندھ پر حملہ آور ہونے کی دعوت دی۔ شاہ بیگ ارغون پہلے سے ہی موقع کی تلاش میں تھا، اس نے ۹۲۶ھ میں ٹھٹھہ پر حملہ کر دیا۔ دریا خان فوج لے کر شاہ بیگ ارغون کے مقابلے کے لیے نکلا۔ ٹھٹھہ شہر کے باہر نہر ’’خاں واہ‘‘ کے قریب دونوں فوجوں میں گھمسان کی جنگ ہوئی۔ دریا خان نے شاہ بیگ کی فوجت کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا لیکن بالآخر مارا گیا۔ جام فیروز فرار ہو گیا اور شاہ بیگ ارغون ۱۱ محرم ۹۲۷ھ کو ٹھٹھہ شہر میں داخل ہوا، دس دن ت اس کے لشکر نے ٹھٹھہ کو بری طرح لوٹا اور خوب قتل و غارت گری کی۔ ایک دفعہ پھر جام فیروز کچھ سے پچاس ہزار فوج لے کر شاہ بیگ ارغون کے مقابلے کے لیے آیا، لیکن لیکن کھا کر گجرات چلا گیا۔ یہ واقعہ ۹۳۵ھ میں پیش آیا۔ گجرات میں سلطن بہادر نے اس کا بارہ لاکھ تنکا سالانہ وظیفہ مقرر کر دیا۔ ۹۳۹ھ میں جام فیروز نے اپنی لڑکی سلطان بہادر والی گججرات کے عقد میں دے دی۔ ایک دفعہ پھر جام فیروز سندھ پر حملے کی تیاری کر رہا تھا کہ ہمایوں اور سلطان بہادر میں ۹۴۲ھ میں جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں سلطان بہادر کو شکست ہوئی اور جام فیروز شاہ ہمایوں کے ہاتھوں گرفتار ہوا، جس نے اسے قتل کرا دیا اور اس طرح سندھ کے سمہ حکمرانوں کا اقتدار ختم ہو گیا۔
جام فیروز کے دور میں سندھ میں سمہ حکمرانوں کے اپنے سکے بھی زیر گردش تھے، لیکن یہ تمام سکے تانبے کے تھے۔ کئی ایسے سکے بھی ملے ہیں جن میں چاندی کے ساتھ تانبے کی بھی ملاوٹ ہے، یہ سکے وزن میں دوسرے سکوں کے مقابلے میں بڑے اور بھاری ہیں۔ اس دور کے تین مختلف پیائش کے تانبے کے سکے ملے ہیں۔ لیکن ان تینوں کی عبارت یکساں ہے۔ ایک سکہ تانبے کا ایسا بھی ملا ہے جس پر الٹے حروف کندہ ہیں، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ غالباً سکے ڈھالنے کا سنچہ غط بن گیا تھا، لیکن یہ سکے بھی زیر گردش رہے۔ سکے کے ایک طرف گول دائرے میں ’’جام فروز شاہ‘‘ اور دوسری طرف اپنے باپ کا نام ’’سلطان نظام الدین‘‘ کندہ کرایا ہے۔ ان سکوں پر سن درج نہیں ہے اور عبارت کا رسم الخط عربی ہے۔ ان سکوں کے علاوہ دہلی کے حکمران سکندر لودھی کے دور کے سکے بھی سندھ میں رائے رہے، لیکن ابراہیم لودھی کے دور کا کوئی ایسا سکہ سندھ سے دست یاب نہیں ہوا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں سندھ کا تعلق سلطنت دہلی سے مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا۔ البتہ گجرات کے حکمرانوں سے قریبی تعلقات اور رشتے داری کی وجہ سے سلطان مظفر شاہ بن محمود شاہ اور سلطان بہادر شاہ بن مظفر شاہ کے سکے سندھ میں جاری تھے۔ تانبے کے سکوں کے علاوہ ان کے چاندی کے سکے اور سونے کی اشرفیاں بھی اس دور میں رائک تھیں۔
ہندوستن پر تیمور کے حملے کے بعد اس کی اشرفیاں اور چندی کے سکے بھی سندھ میں بہ سلسلہ تجارت استعمال ہوتے تھے اور تجارتی تعلقات ہی کی وجہ سے عرب سکے بھی سندھ میں رائک تھے اور انھیں قانونی حیثیت حاصل تھی۔ اس طرح سندھ میں مغلوں کے عمل داخل کی وجہ سے افغانی اور تورانی سکے بھی دوسرے سکوں کے ساتھ گردش میں رہے۔ سمہ خاندان کا دور سندھ کی تاریخ کا ایک اہم ترین دور ہے۔ ان حکمرانوں نے اپنے دور میں فوجی طاقت کو مضبوط بنایا اور ملکی انتظام کو درست کیا۔ اس زمانے میں سندھ کی بیرونی تجارت عروج پر تھی اور ہمسایہ حکمرانوں سے سندھ کے سمہ خاندان کے گہرے تعلقات تھے، لیکن سمہ حکمرانوں نے اپنے سکے جاری کرنے کی طرف بہت ہی کم توجہ دی تھی یا پھر یہ کہا جا سکات ہے کہ وہ گردش زمانہ کی وجہ سے محفوظ نہ رہ سکے اور ہم ان سے ناواقف ہیں۔ البتہ سمہ خاندان کے آخری حکمرانوں کے صرف تانبے کے سکے دست یاب ہوئے ہیں، جن کو اب تک ماہرین آثار قدیمہ نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ سمہ دور کے جو سکے ملے ہیں ان پر سن وغیرہ نہیں ہے۔ لیکن ان سکوں کے مطالعہ اور اس دور کی تاریخ کے بہ نظر غائر جائزے سے ہم یہ اندازہ ضرور لگا سکتے ہیں کہ یہ سکے بھی ٹھٹھے کی ٹکسال میں کسی امیر کی زیر نگرانی ڈھالے گئے ہیں، لیکن کسی نے اس بنیادی ضرورت پر دھیان نہیں دیا۔
سمہ دور میں سندھ ایک علمی اور اَدبی مرکز بن گیا تھا۔ یہاں بہت سے علمائے کرام نے مدرسے اور دارالعلوم قائم کر رکھے تھے جن کی سمہ حکمرانوں نے کافی امداد بھی کی۔ سمہ حکمران شریعت کے پابند تھے۔ شراب کی فروخت پر ان کے دور میں مکمل پابندی تھی۔ ان کے دور میں کئی جید علما گزرے ہیں، جن میں حضرت مخدوم بلاول، شیخ حماد جمال، مخدوم اسحاق بھٹی، سخی جام ڈاتار، سخی داد داہی، علیفومیون و نہیوں، درویش سینھڑو معارفانی اور شیخ طاہر قابل ذکر ہیں۔ ان حضرات نے یہاں اسلام، اخوت اور حب الوطنی کی تبلیغ کی اور عوام کو صراط مستقیم پر چلنے کی ہدایت دی۔
عبد اللہ دریارہ (مترجم: رحمت فرخ آبادی ایم اے)

اپنا تبصرہ بھیجیں