خوابوں کا شہر لاہور

old-lahore-people

لاہور میں نہ صرف تاریخ کے طالب علموں اور ہندوستان کے قدیم نوادر کے متلاشی افراد بلکہ عام قارئین کے لیے بھی دلچسپی کے ہزاروں سامان موجود ہیں۔ یہ شہر اس خطے میں واقع ہے جس سے دنیا کی تمام قوموں کو گہری دلچسپی ہے۔ لاہور سکندراعظم کی مہم جوئی محور رہا ہے۔ پھر یہی خطہ ہندومت اور اسلام کی باہمی آویزشوں اور محاذ آرائی کا مرکز رہا جس کی وجہ سے ہندوستان کی ابتدائی تاریخ میں اسے زبردست اہمیت حاصل رہی ہے۔ یہ شہر اس کنفیڈریشن کا بھی مرکز رہا ہے جس نے دو سو سال تک کامیابی کے ساتھ اسلام کی مزاحمت کی تھی۔ غزنویوں سے لے کر مغلوں تک شمالی ہندوستان کا ہر مسلمان حکمران خاندان اس شہر کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں وابستہ رہا ہے۔ کئی مرتبہ یہ مسلمان حکمرانوں کا پا یہ تخت بھی رہا۔ غرض اس شہر کو ہمیشہ سے بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ سکھوں کی تاریخ میں اسے ارجن کی شہادت اور رنجیت سنگھ کے دارالسلطنت کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ اس وقت بھی لاہور پنجاب کا دارالحکومت ہے ۔ مشرق اور مغرب کے مورخ اور شاعر لاہور کی عظمت کے اعتراف میں مشترکہ طور پر رطب اللسان ہیں۔ ابوالفدانے • چودہویں صدی میں ابن العطیر کے صفحات میں لاہور کے بارے میں یہ پڑھا:’’ہندوستان کے شہروں میں عظیم شہر‘‘۔ ابوالفضل نے سولھویں صدی میں لاہور کوتمام قوموں کا پرشکوہ مسکن قرار دیا ہے۔ ایک مقامی ضرب المثل میں کہا گیا ہے کہ اگر شیراز اور اصفہان کو اکٹھا کیا جائے تو بھی ایک لا ہور نہیں بن سکتا۔ تھیوناٹ نامی سیاح 1665 عیسوی میں اس وقت لاہور میں وارد ہوا جب یہ شہر زوال پذیر تھا۔ اس نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ اس کی آمد سے تھوڑی دیر پہلے تک لاہور شہر اور اس کے نواحی علاقوں کی لمبائی تین میل کے برا بر تھی ۔ برنئیر نے اس شہر کے محلوں ،گلیوں کی لمبائی اور مکانوں کی بلندی کا آگرہ اور دہلی سے موازنہ کیا ہے۔ ہمارے اپنے شاعر ملٹن نے’’ جنت گم گشتہ‘‘ میں لاہور کو قدیم اور جدید دور کا شہرت یافتہ اور دنیا کی طاقتور ترین سلطنتوں کا پایہ تخت قرار دیا ہے۔ اپنے گناہوں سے تائب آدم نے جنت کے پہاڑ سے اس شہر کا مشاہدہ کیا تھا۔( پیراڈائز لاسٹ بک I’XI – 341 337- ) ۔مور نے لاہور کے شاہی محلات مقبروں اور طلائی میناروں پر کھڑے ہو کر اسے طلسماتی شہر قرار دیا جس کی فضائیں لالہ رخ اور فرامرز کی محبت سے معطر تھیں۔
روایتی تاریخ
قدیم ہندو روایات کے مطابق لاہور کو ہندوستان کے کئی دوسرے شہروں کی طرح رامائن کے ہیرو اور اجودھیا (اودھ) کے بادشاہ راما سے منسوب کیا گیا ہے جس کے دو بیٹوں لوہ اورکشن نے لاہور اور قصور کے شہروں کی بنیادرکھی تھی۔ لا ہورصرف مقامی روایات میں ہی مشہورنہیں تھا بلکہ دورا قاد ملکوں کی عسکری روایات اور بہادری کے کارناموں اور جنگوں کے حوالے سے بھی اسے زبردست شہرت حاصل تھی۔ یونانیوں کے مطابق یہ شہر قدیم ہندو ریاستوں کا دارالسلطنت رہا ہے۔ کشمیر کی تاریخ را جا ترنجنی میں لاہور کو ایک وسیع سلطنت کا پایہ تخت قرار دیا گیا ہے۔ جے پور کے فاضل راجا جےسنگھ سوائی کے حکم پر مرتب کی جانے والی کتاب ’’دیش وی بھاگا‘‘ میں لکھا ہے کہ دواپریا پیتل کے دور کے آخر میں بھیم سین نے دس ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ لاہور کے طاقتور شہزادے راجابن مل کے خلاف تین روز تک جنگ لڑنے کے بعد اسے قیدی اور اس کی سلطنت کو باجگزار بنالیا تھا۔ شمالی سرحد کی رزمیہ شاعری میں ’’لاہور کے قریب جنگل‘‘ کا بھی تذکرہ ملتا ہے جسے اس وقت اودھے نگر کہا جاتا تھا۔ اس مقام پر سیالکوٹ کے ہیرو سال واہن کے بیٹے رسالو نے ظالم راکش کو شکست دے کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ تاریخ میں راجپوتانے کی ریاست میواڑ کے حکمران راجپوت خاندان کا بانی کینکیس بھی لاہور سے ہجرت کر کے وہاں گیا تھا۔ انلہارہ پٹن اور جیسلمیر کے بھاٹی، جن کے نام سے اب بھی لاہور کا ایک دروازہ منسوب ہے۔ لاہور کو اپنا اصل وطن قرار دیتے ہیں۔

لاہور شہر کا پرانا نقشہ جس کے مطابق لاہور کے چاروں طرف دروازوں کے اندر آبادی ہوا کرتی تھی۔ اب ان میں سے بیشتر دروازے ماضی کی یادوں میں کہیں کھو گئے ہیں

مسلمانوں کی روایت:
اس کےبرعکس مسلمانوں کی روایت ہے کہ لاہور کے موجودہ شہر اور قلعہ کی بنیاد و غزنوی کے دوست اور مشیر ملک ایاز نے رکھی تھی جس کا مقبرہ ٹکسالی دروازے کے قریب واقع ہے اور مسلمان لاہور کے محسن طور پر اس کا احترام کرتے ہیں۔
ان روایات کا حاصل:
ان دونوں متضاد روایات سے نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اس جگہ پر ہندوؤں کا شہر لاہور موجود تھا لیکن مسلمانوں نے حملہ کر کے شہرکو تباہ کر دیا اور اس کے بعد نئے شہر کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں مفروضے درست ہیں۔ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور کا پرانا شہر اچھرہ کے گاؤں یا موجودہ شہر سے تین میل کے فاصلے پر آباد تھا۔ اچھرہ اور مزنگ گاوں کے باشندے اس روایت کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس روایت کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ اچھرے کا پرانا نام اچھرہ لاہور تھا۔ قدیم دستاویزات میں بھی یہی نام درج ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہندووں کے تمام مقدس مقامات اور عبادت گاہیں ایک علاقے میں واقع ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ان قصے کہانیوں کو تاریخ کا درجہ نہیں دیا جاسکتا لیکن ان قصوں سے ہندوستان کی تاریخ کے نیم افسانوی دور سے لاہور کے قریبی تعلق کی عکاسی ہوتی ہے۔ قدیم سکوں پر ہونے والی ریسرچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ لا ہور میمندی اور اس کے جانشینوں کی سلطنت کا حصہ رہا ہے۔ اس کے بعد سکائتھ خاندان نے شہر پر قبضہ کرلیا اور آخر کار پیشہ ساسانیوں کے ہاتھ میں چلا گیا جو چوتھی سے ساتویں صدی عیسوی کے درمیان لاہور پر حکومت کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سکائتھ خاندان کاکینکیس جو پرنسپ کی تحقیق کے مطابق 100 عیسوی کے لگ بھگ حکمران تھا، میواڑ کاکینکسین یا کشمیر کا کنشکا ہو۔ ان دونوں صورتوں میں لاہور سکا ئتھ خاندان کا پانی تخت رہا ہے۔ راجپوتوں کی بعض روایات سے بھی یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ لاہور کے بانیوں کا تعلق راجپوت نسل سے تھا اور لاہور ہندوستان کے مغرب میں واقع راجپوتوں کی مختلف ریاستوں کا دارالحکومت تھا۔ ہندوستان کی ابتدائی تاریخ سے بھی اس مفروضے کی توثیق ہوتی ہے کہ ساتویں اور دسویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے حملوں سے پہلے لاہور ہندووں کا اہم مرکز تھا جسے دوسری ریاستوں پر بالادستی حاصل تھی۔
لاہور کا نام:
لاہور ( جو بلا شبہ اس کے افسانوی بانی راما کے بھائی کے نام سے منسوب ہے ) صرف پنجاب کا دارالحکومت ہی نہیں بلکہ قدیم راجپوتوں کی نو آبادی افغانستان میں بھی لاہور موجود ہے۔ ایک اور لاہورضلع پشاور میں ہے۔ تیسرالا ہور خاص ہندوستان میں ہے۔ راجپوتانے کی ریاست میواڑ میں لوہار ہے۔ مسلمان مورخوں نے لاہور کے مختلف نام لکھے ہیں جن میں لوہار، لو ہر، لہاور، لہ آور، لو ہاور، لہانور اور لاہور شامل ہیں۔ راجپوتانے کی تاریخ میں اسے لوہ کوٹ اور دیش وی بھاگا میں لوپور کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اردو ادب کے نامور بانی امیر خسرو دہلوی نے تیرہویں صدی کے آخر میں لکھا ہے: ‘
از حد سمانی تا لہانور
ہیچ عمارت نیست مگر در قصور
لاہور کے قریب بہلول خان لودھی کے دور میں تعمیر کیے جانے والے ایک مقبرے پر لاہور کا نام لا ?ھانور لکھا گیا ہے۔ دکنی زبان میں نگر کو اب بھی نور کہا جاتا ہے۔ جیسے کلانور اور کانور وغیرہ۔ لاہور کا نام غالباً مسلمانوں نے رکھا ہے جو اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ پٹھانوں اور مغلوں کے دور میں لاہور آ گرے سے آنے والی عظیم جرنیلی سڑک پر واقع ہے۔ 1809ء کے سالانہ رجسٹر میں ایک گمنام مورخ نے لکھا ہے کہ اسے لاہور میں یہ بتایا گیا ہے کہ لاہور کا قدیم نام اللہ نور تھا۔ ان میں لہ آور سب سے قدیم نام ہے اور بظاہر صحیح نام بھی یہی ہے۔ شہنشاہ محمود غزنوی کے ہم عصر اور ساتھی ابوریحان البیرونی نے ،جسے ہندی ادب میں سند کا درجہ حاصل ہے لاہور کا نام لہ آور ہی لکھا ہے۔ آور کی تشبیہ سنسکرت کے لفظ آور انا سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے ’’قلعہ ‘‘ یا ’’حصار‘‘۔ راجپوتوں کے کئی شہروں مثلاً پشاور، راجاور (جسے عام طور پر راجور کہتے ہیں) اور سوناور میں بھی آور کی تشبیہ شامل کی گئی ہے۔ اس طرح لوہاور کا مطلب ہے لوہ کا قلعہ۔ راجپوتانے کا شہر لوہ کوٹ بھی لہ آور سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔

حضوری باغ کی 1870ء کی ایک تصویر (فوٹو:فیس بک)

بنیاد کی تاریخ:
لاہور شہر کے سنگ بنیادر کھنے کی ہی صحیح تاریخ کا تعین کرنا ممکن نہیں ۔البتہ درج ذیل واقعات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس شہر کوکس دور میں عروج حاصل ہوا تھا۔ اس سے پہلے یہ ذکر ہو چکا ہے کہ اس شہر کی بنیاد ساتویں صدی کے آخر میں رکھی گئی اور اسے ایک عظیم سلطنت کا پایہ تخت قرار دیا گیا۔ دوسری طرف اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ پہلی صدی عیسوی میں اس شہر کا وجود ناپید تھا۔ یونانی مورخوں نے مشرق میں سکندر اعظم کی مہم جوئی کے سلسلے میں اس شہرکا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ برنیز نے سنگالہ نامی شہر کا ذکر کیا ہے جو اس کیتھری کا مضبوط قلعہ تھا جس نے لاہور اور اس کے گردونواح کا علاقہ تسخیر کر لیا تھا۔ اس نے لکھا ہے کہ سنگالہ شہر راوی سے تین کوس کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سکندر اعظم نے لاہور کے قریب راوی کو پار کیا تھا اور غالب امکان یہی ہے کہ وہ جگہ جدید لا ہور شہرہی تھی تاہم اگر اس زمانے میں لاہور مشہور شہر ہوتا تو اس کا تذکرہ ضرور کیا جاتا۔ اس سے اگلے زمانے میں بھی لاہور کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ سٹر یبونے بھی، جس نے 66 قبل مسیح اور 24 عیسوی کے درمیان تاریخ لکھی ہے، لاہور شہر کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ پلسینی نے 22ء اور 79ء کے درمیان دریائے سندھ اور الہ آباد کے درمیان واقع شاہی سڑک کی تفصیل لکھی ہے، اس میں لاہور کا کوئی تذکرہ نہیں۔ اگر چہ لاہور منا در اور سکائتھ خاندانوں کا پایہ تخت رہا ہے لیکن لاہور سے انڈو بیکٹیرین یا انڈ و سکائتھ دور کے کوئی سکے بر آمد نہیں ہوئے۔ سو ہم پورے وثوق کے ساتھ ہی یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ لاہور کی بنیاد پہلی سے ساتویں صدی عیسوی کی درمیانی مدت میں رکھی گئی تھی۔
اسکندریہ میں 150 عیسوی میں تیار ہونے والے جغرافیے میں لبوکلا نامی شہر کا ذکر موجود ہے جو کسپیر یا( کشمیر؟) کے اس علاقے میں دریائے سندھ اور پلیوتھرا کے درمیان واقع تھا جس میں بد اسیتز (جہلم)، سند ابال (چندرابھاگایا چناب) اور آ در یز (راوی) بہتے تھے۔ دلفورڈ نے اس جگہ کے نام اور مقام کے بارے میں تحقیق کے بعد لکھا ہے کہ یہ شہرلا ہور تھا۔ میجر جنرل کننگھم نے حال ہی میں لاہور سے 25 میل دور ایک تباہ شدہ شہر امپاکپی کا سراغ لگایا ہے۔ ٹاڈ کی تحقیق کے مطابق جس وقت اسکندریہ میں پٹولمی کا جغرافیہ لکھا گیا، اس وقت لاہور کو ایک اہم شہرکی حیثیت حاصل تھی۔ ٹاڈنے مزید لکھا ہے کہ شہزادہ کینکسین نے دوسری صدی عیسوی کے وسط میں لاہور سے ہجرت کی تھی۔ ان تمام روایتوں سےیہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ لاہور کی بنیاد پہلی صدی کے آخری دوسری صدی کے شروع میں رکھی گئی تھی۔
لا ہور، مسلمانوں کے حملے سے پہلے:
اس مفروضے سے قطع نظر کہ راجپوتوں نے لاہور کی بنیاد رکھی تھی، مسلمانوں کے حملے سے پہلے اس شہر کی موجودگی کے بارے میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی۔ 203 عیسوی میں روسی سلطنت میں سیاحوں کے لیے جو قابل قدر ہدایت نامہ تیار کیا گیا، اس میں تہورا نامی شہر کا ذکر موجود ہے جو دریائے سندھ سے گنگا کے راستے پر واقع تھا۔ یہ شہرٹھیک اسی جگہ موجود تھا جہاں اب لاہور آباد ہے۔ اس ہدایت نامے میں سپورانامی شہرکا تذکرہ بھی موجود ہے جو دریائے چناب پر واقع تھا۔ سابق میجر جنرل کننگھم کا کہنا ہے کہ یہ لا ہور شہر تھا تاہم الفورڈ اسے تہارا قرار دیتے ہیں جوستلج پر قدیم شہرتھا اور جس کا ذکر مہا بھارت میں کیا گیا ہے۔ فکری نقطہ نظر سے آخر الذکرتحقیق درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ یونانی یالا طینی زبانوں میں سنسکرت کے لفظ اے کو او پکارا جاتا ہے۔ جنرل کننگھم کے مطابق چین کے سیاح وان سانگ نے جو 630 عیسوی میں پنجاب آیا، اپنی یادداشتوں میں لاہور کا مبہم ذکر کیا ہے۔ چینی سیاح کے مطابق پنجاب میں ایک ایسا شہر آباد تھا جس میں ہزاروں خاندان رہتے تھے جو زیادہ تر بر ?ہمن تھے۔ یہ شہر دریائے سندھ سے بیاس تک محیط چیکا سلطنت کی مشرقی سرحدوں پر واقع تھا۔ وہ اس شہر سے مشرق کی جانب سفر کرتا ہوا پہلے چینا پتی اور پھر جالندھرایا جدید جالندھ شہر پہنچا۔ جالندھر لاہور کے مشرق میں واقع ہے اور دونوں شہروں کے درمیان آج بھی پتی نامی گاوں موجود ہے۔ ان شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ چینی سیاح نے جس شہر کا ذکر کیا ہے وہ لا ہور ہی تھا۔
غالب امکان یہ ہے کہ مشرقی ریاستوں کی طرح لاہور کے حکمران بھی تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے رہے ہیں ممکن ہے کہ لاہور کے ابتدائی راجپوت شہزادوں کا تعلق بھی اجودھیا سے ہو جو گجرات اور میواڑ پر حکمرانی کرتے رہے ہیں۔ اس کے بعد اقتدارسولنکی اور بھاٹی راجپوت قبیلوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ جب مسلمان پہلے پہل لاہور میں وارد ہوئی اس وقت اجمیر کا ایک چوہان شہزادہ یہاں کا حکمران تھا لیکن دسویں صدی میں مسلمانوں کے حملے کے وقت لاہور کے ایک برہمن خاندان کی حکومت قائم تھی۔ اس حقیقت سے بھی انکارنہیں کیا جاسکتا کہ محمودغزنوی کے قبضے سے پہلے لاہور ایک تباہ حال شہر تھا۔ اس کی وجہ حکمرانوں کی تبدیلی ہے۔ افغانستان سے ہندوستان آنے والی سڑک پر واقع ہونے کے باعث اس شہرکو بار بار شکست وریخت اور بیرونی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مسلمان مورخ فرشتہ نے لاہور شہر اور صوبہ لاہور کو آپس میں خلط ملط کر دیا ہے۔ مرتضیٰ حسین کی حدیقۃ الاقلیم میں بیان کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے حملے سے پہلے پایہ تخت کو لاہور سے سیالکوٹ یا سلہوان پورمنتقل کر دیا گیا تھالیکن غزنوی بادشاہ مسعود ثانی نے لاہور کو دوبارہ دارالحکومت قرار دے دیا۔ بھاٹیوں کی اس روایت سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے جس میں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ جب وہ لاہور کے حکمران تھے تو ان کا دارالسلطنت سلہو ان پور تھا۔ البیرونی نے اپنی ذاتی معلومات کی بنا پرلکھا ہے کہ محمود غزنوی کے حملے کے وقت لاہور شہر نہیں ایک علاقہ تھا جس کا دارالحکومت مادھو کور تھا۔ عربی زبان میں ایچ اور این اور آر اور ٹی میں مشابہت کی بنا پر یہ مقام منکوٹ یا مندھ کوٹ ہے جو سیالکوٹ کے قریب واقع ہے۔ اس مفروضے کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ شیر شاہ جسے نام نہاد غاصب کہا جاتا ہے لیکن اصل میں وہ مغلوں یا غیر ملکیوں کے مخالف دھڑے کا نمائندہ تھا اپنے پایہ تخت کو لاہور سے اسی مقام منتقل کرنے پرسنجیدگی سے غور کر رہا تھا جو آخری مقامی حکمران خاندان کا دارالسلطنت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نامور عرب جغرافیہ دان مسعودی نے جس نے دسویں صدی عیسوی میں ہندوستان کے بارے میں یادداشتیں قلمبند کیں اور جو خود چند روز تک ملتان میں قیام پذیر رہا (جو جدید لاہور سے تقریبا ًدوسومیل کے فاصلے پر ہے) لا ہور کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔
مسلمانوں کے حملے سے پہلے کے لاہور کے بارے میں اب تک جو تحقیق ہوئی ہے، اس کا احوال ہم نےیکجا کر دیا ہے۔ اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ لا ہور شہرکو، جس کا سابق نام لوہاور ہے، راجپوتوں نے پہلی اور ساتویں صدی عیسوی میں آباد کیا۔ یہ جلد ہی اہمیت حاصل کر گیا اور اسے دارالحکومت قرار دے دیا گیا۔ بعد میں یہ شہر اجڑ گیا اور پایہ تخت کو سیالکوٹ منتقل کر دیا گیا۔ گیارہویں صدی کے شروع میں محمود غزنوی کے حملے تک سیالکوٹ دارالسلطنت رہا۔ فاتح محمود غزنوی نے تباہ حال لاہور کو دوبارہ اپنا صدر مقام قرار دے دیا اور راجپوتوں کے قدیم کھنڈرات پرنئی دہلی کے پرانے قلعے کی طرز پرلاہور میں قلع تعمیر کرایا۔
لاہور جیسا کہ تھا:
جدید لاہور حجم اور آبادی کے لحاظ سے لکھنو، دہلی اور آگرے بلکہ امرتسر سے بھی چھوٹا شہر ہے۔ اس کا رقبہ تین میل محیط اور گزشتہ مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 97ہزار ہے۔ اس کی گلیاں تنگ و تاریک اور ماسوائے شمالی حصے کے اس کا بیرونی منظر نہ تودلکش ہے اور نہ ہی خوبصورت۔ البتہ شہر کے اندر داخل ہونے سے پہلا تاثر زائل ہو جاتا ہے اور پتا چلتا ہے کہ اندرونی شہر اپنے دامن میں بے پناہ رنگینیاں سمیٹے ہوئے ہے۔ شہر کے گردونواح میں پائے جانے والے کھنڈرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پرانے زمانے میں اس کا رقبہ اور آبادی آج سے کہیں زیادہ تھی۔ شہر کی فصیلوں سے شالا مار، میاں میر اور اچھرے تک کا نصف قطر تین چار میل پر محیط ہے۔ شہر کے گرداگرد زمین مسجدوں، مقبروں محرابی دروازوں اور آرائشی محرابوں کے عملے سے اٹی پڑی ہے۔ شہر کی عظمت رفتہ کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ پرانے زمانے میں پیشتر 36 حصوں میں منقسم تھا جن میں اب صرف نو حصے باقی رہ گئے ہیں جہاں موجودہ شہر ایستادہ ہے۔ بادشاہی مسجد یا مسجد وزیر خان کے کسی مینار پر کھڑے ہو کر اردگردنظر ڈالیں تو ہر طرف تباہی اور بربادی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لاہور کا اصل آباد حصہ موجودہ حدوں سے بھی متجاوز نہیں ہوا اور شہر کے نواح میں جو لب بھرا ہوا ہے، وہ مسمار شدہ مقبروں اور باغ کی دیواروں کا ہے۔ لیکن یہ مفروضہ درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ بعض مقائی اور یورپی عینی شاہدوں کے مطابق جن میں بر نیئر، ٹیورنیئر اور تھیوناٹ شامل ہیں، گنجان آباد شہر کے نواح میں واقع نجی رہائش گاہوں میں کھودے گئے چھوٹے چھوٹے کنووں کے آثار اور امرتسر جانے والی شاہراہ کے دائیں طرف مسلمانوں کے سالانہ تہوار کے مقام عیدگاہ کی تباہ شدہ مسجد سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمارتیں شہر کے اردگر تعمیر کی گئی تھیں۔ نتیجہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ جب عیدگاہ کی مسجد تعمیر ہوئی اس وقت لاہور کے نواح میں کی آبادیاں موجود تھیں۔ اب شہراس مقام سے تین میل کے فاصلے پر ہے اور مسلمانوں نے اس عید گاہ میں نماز ادا کرنا بند کر دیا ہے۔ اکبری عہد کے ایک مسلمان مصنف نے لاہور کی بعض ایسی بستیوں کے نام گنوائے ہیں جو اب صفہ ہستی سے مٹ چکی ہیں لیکن اکبر کے زمانے میں یہ علاقے گنجان آباد تھے۔ آخر میں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کابل، تبریز اور اصفہان سمیت کئی مشرقی شہروں کے نواح میں فصیل سے باہر آ بادیاں موجود ہوتی تھیں جنہیں شہرکا اہم حصہ تصور کیا جاتا تھا۔ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہ جہان کے دور میں جب لاہور کے باشندے خوشحال اور تمول تھے ۔لا ہور شہر 16 یا 17 میل کے رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ شہرکی فصیل سے باہر جو آبادیاں موجود تھیں وہ بازاروں کے ذریعے اصل شہر سے ملی ہوئی تھیں اور ان کے درمیان مقبرے باغات اور مسجد میں تعمیر کی گئی تھیں جن کے آثار آج بھی وہاں موجود ہیں۔ کہا جا تا ہے کہ قدیم لاہور کا موتی محل یا ریجنٹ سٹریٹ موجود ہ سول سٹیشن کے نواح میں واقع تھا۔ اب بھی شدید بارشوں کے موسم میں وہاں سے پرانے سکے اور زیورات برآمد ہوتے ہیں۔
لاہور شہر کی شان و شوکت کا تعین کرنا اس کے حدود تعین کرنے سے کہیں مشکل کام ہے۔ انگریزوں کے حکومت سنبھالنے سے 120 سال پہلے اس شہر نے تباہی اور بربادی کے علاوہ طوائف الملوکی کے جو مناظر پیش کیے، وہ دنیا کے شاید ہی کسی اور شہر میں رونما ہوئے ہوں۔ احمد شاہ ابدالی نے آٹھ مرتبہ لاہور کے راستے ہندوستان میں پیش قدمی کی۔ مرہٹوں اور سکھوں نے غارت گری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جس کے نتیجے میں یہاں کی بیشتر عمارتوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ ہمارے قبضے میں موجود دستاویزات اور ہندووں اور پٹھانوں کے ادوار کے آثار سے پتا چلتا ہے کہ مغلوں سے پہلے شہر میں تعمیراتی حسن ناپید تھا۔ یہ مغل ہی تھے جنہوں نے اعلی تعمیراتی ذوق کو بروئے کارلا کر شہر میں مقبرے باغات، محل ،مساجد ،محرابی دروازے اور آرائشی محرابیں تعمیر کرائیں اور چمکدار ٹائیلوں کے استعمال اور تصویرکشی کے فن کو جلا بخشی اور اسلامی فن تعمیر کو نئے خطوط پر استوار کر کے اسے نئی رفعتوں سے ہمکنار کیا۔ اگر چہ سرکاری عمارتوں کے اعتبار سے لاہور کبھی دہلی کا ہم پلہ نہیں رہا، اس کے باوجود یہاں کی نجی عمارتوں سے دولت کی فراوانی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ جہانگیر کا مقبرہ جہانگیر اور اس کے جانشین شاہ جہاں کے محلات ،مسجد وزیر خان، موتی مسجد، شالا مار باغ اور عالمگیر کی بادشاہی مسجد یہ نادر عمارتیں ہیں جو دنیا بھر میں فن تعمیر کے بینظیر نمونے ہیں۔ شہر کے شمال مشرق میں واقع اورنگ زیب کی مسجد سفید سنگ مرمر سے تعمیر کیے گئے گنبد اور فلک بوس مینار رنجیت سنگھ کی سمادھی، اس کی پیخ و خم والی چھت اور شاندار بالکونیاں، جو نصف اسلامی اور نصف ہندو طرزتعمیر کا بہترین نمونہ ہیں، ان کے سامنے مغلوں کے شاہی محلات اور وسیع وعریض میدان ان سب عمارتوں کی بدولت لا ہور شہنشاہوں کا شہر دکھائی دیتا ہے۔ سکھوں کے ہاتھوں خستہ حال اور انگریزوں کی طرف سے ان میں اضافوں کے پس منظر میں دریائے راوی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ نہایت دلفریب منظر پیش کرتا ہے۔ حد نظر تک پھیلے ہوئے فن عمارت کے یہ انمول خزانے انسان کو مبہوت کر دیتے ہیں۔ کثرت سے لگائے جانے والے باغات منقش دروازے اور بارہ دریاں عجب بہار کا منظر پیش کرتی ہیں۔ یہ سب خوبیاں اس حقیقت کی غمازی کرتی ہیں کہ لاہور کیا زمانے میں واقعی ایک عظیم الشان شہر تھا۔

(لاہور گزیٹئر1883-84۔ نعیم اللہ ملک)

اپنا تبصرہ بھیجیں