یو گ کے مختلف آسن

yoga_asan

اس دنیامیں جتنے بھی جاندار ہیں اتنے ہی آسن ہیں۔ لیکن ہم عام زندگی کے لیے مفید اور اہم آسنو ں کاہی ذکر کریں گے۔
سدھ آسن:
بائیں پاﺅں کی ایڑی کو مقعد اعضائے تناسل کی جڑ کے درمیان میں اس طرح مضبوطی سے لگائیں کہ اس کا تلا دائیں پاﺅں کی جانگھ کو چھوئے۔ اسی طرح دائیں پاﺅں کی ایڑی کے اعضائے تناسل کی جڑ کو اوپر کے حصے میں اس طرح رکھیں کہ اس کا تلا بائیں پاﺅں کی جانگھ کو چھوئے۔ اس کے بعد بائیں پاﺅں کے انگوٹھے کو دائیں جانگھ اور پنڈلی کے بیچ لے لیں۔ اسی طرح دائیں پاﺅں کے انگوٹھے کو بائیں جانگھ اور پنڈلی کے بیچ لے لیں ۔ اسی طرح دائیں پاﺅں کے انگوٹھے کو بائیں جانگھ اور پنڈلی کے بیچ لے لیں۔ جن لوگوں کے گھنٹوں ٹخنوںمیں درد رہتا ہو ان کو اس کی مشق متواتر کرنی چاہیے۔
فاعدے: یہ تمام آسنوں میں سب سے اعلیٰ ترین آسن ہے ۔ یہ آسن 72ہزار ناڑیوں کی گندگی کو صاف کرتا ہے۔ دھیان لگانے کے لیے بہت ہی آسان اور مناسب آسن ہے۔ دیرج سے متعلق سبھی طرح کی خرابیاں دور کرتا ہے۔ شادی شدہ لوگوں کو ایک گھنٹہ سے زیادہ اس آسن میںنہیں بیٹھنا چاہئے۔
پدم آسن:
دائیں پاﺅں کوبائیں جانگھ کی جڑ پر اور بائیں پاﺅں کو دائیں جانگھ کی جڑ پر رکھیں۔ دھیان لگانے کے لیے ہاتھوں کو گیان مدرا میں رکھیں ریڑھ کی ہڈی سیدھی رہے۔
فاعدے: یہ آسن بھی دھیان، بندگی ، عبادت کے لیے بہت اچھا ہے۔ پرانا یام (سانس کی ورزش) تو بغیر پدم آسن کے سدھ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کے باقاعدہ کرنے سے قوت ہاضمہ بڑھتی ہے اور جانگھیں اورپنڈلیاں خوب مضبوط بنتی ہیں۔
وجر آسن:
دونوں پاﺅں کے تلوﺅں کو مقعد کے دونوں طر ف پچھلے حصے میں لگا کر گھٹنوں کے بل پر بیٹھ جائیں۔ گھٹنے کے نچلے حصے سے پاﺅں کی انگلیوں تک کا حصہ زمین کو چھوتا رہے گا۔ گردن ا ور ریڑھ کی ہڈی سیدھی رہے گی اور گھٹنے آپس میں ملے رہیں گے۔
فاعدے: یہ آسن بھی دھیان، عبادت، بندگی کے لیے اعلیٰ درجے کا ہے۔ اس کے کرنے سے جسم و جرجیسا مضبوط ہو جاتا ہے۔ اس لیے اسے وجر آسن کہتے ہیں۔ جن کو بہت زیادہ نیند آتی ہے یا جن کو نیند کم آتی ہے دونوں ہی حالتوں میں فائدہ مند ہے۔ یہ آسن کھانا کھانے کے بعد کرنے سے کھانا جلدی اور صحیح ڈھنگ سے ہضم ہوتا ہے۔ اور سود اوی تکلیف دور ہوتی ہے۔ گھٹنوں، پاﺅں اور پنڈلیوں کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔ یہ اونچے خون دباﺅ (بلڈ پریشر) ، تناﺅ ، امراض دل، سپانڈی لائٹس کے لیے اعلیٰ ہے۔ اس کے علاوہ یہ آسن طالب علموں کے لیے بہت ہی فائدہ مند ہے۔ اس سے ان کے جسم سے سستی دور ہو کر چستی اور مضبوطی آتی ہے۔ طالب علموں کو چاہئے کہ اس کی مشق 15-20 منٹ آنکھیں بند کر کے دل کو یکسو کر کے کریں۔ جن کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا اس آسن کی متواتر مشق کرتے رہنے سے پڑھائی میں دل لگنے لگے گا۔
سواس تھک آسن:
اس میں دونوں پاﺅں کے پنجوں کو گھٹنوںکے پیچھے جانگھوں اور پنڈلیوں کے درمیان چھپا کر دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھ کر سامنے دیکھتے ہوئے بیٹھتے ہیں۔ اس سے دونوں ایڑیاں آپس میں کراس کرینگی۔
فاعدے: دھیان، عبادت، بندگی کے لیے سواس تھک آسن کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اس آسن کی مشق سے پاﺅں کا درد، پاﺅں میں پسینہ آنا یا پاﺅں میں پسینہ آنے سے پاﺅں میں بدبو آنا بھی دور ہو جاتا ہے ۔ جن کے پاﺅں سردیوں میں بہت ٹھنڈے ہو جاتے ہیںا ور گرمی میں بہت زیادہ پسینہ آتا ہے انہیں یہ آسن 20منٹ ضرور باقاعدہ کرنا چاہیے۔
سنگھ آسن:
سب سے پہلے دونوں ایڑی نیچے ملا لیں۔ اس کے بعد ایڑی کواوپر کی طرف اٹھاتے ہوئے اس پر اس طرح بیٹھ جائیں کہ مقعد کے نزدیک سیونی ناڑی پر پاﺅں کی ایڑی لگ جائے۔ اس حالت میں جسم کا پورا وزن پنجوں کے اوپر ہوگا۔ اس کے بعد ٹھوڑی کو کنٹھ کوپ سے لگاتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو منہ کو کھولتے ہوئے زبان کو پوری طرح باہر نکالتے ہوئے آنکھوں سے دونوں ابروﺅں کے درمیان حصہ پر دیکھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے ”گیان مدرا“ بناتے ہوئے ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھیں ۔ کمر سیدھی رکھتے ہوئے اس آسن میں بیٹھیں۔
فاعدے: یہ آسن خاص طور پر گلے کے امراض جیسے ٹانسل وغیرہ کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس آسن کی مشق کرنے سے تھائی رائیڈ گلینڈز میں خاص فائدہ ہوتا ہے۔ ڈرپوک لوگوں کو یہ آسن ضرور کرنا چاہئے۔ اس آسن کے کرنے سے مقعد سے متعلقہ امراض بھی دور ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں