ہیپاٹائٹس بھی خاموش قاتل ہے

health-cancer
EjazNews

2016ء میں عالمی ادارۂ صحت نے ہیپاٹائٹس سے متعلق ایک عالمی حکمتِ عملی وضع کی، جس کے تحت 2030ء تک ہیپاٹائٹس کے خاتمے کا ایجنڈا تیار کیا گیا، تاکہ اس مرض کا پھیلائو روکنے اور علاج کے لیے کلیدی اقدامات کیے جاسکیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے اہداف میں 2030ء تک وائرل ہیپاٹائٹس سے ہونے والی اموات میں 65فیصد تک اور نئے مریضوں کی تعداد میں 90فیصد تک کمی لانا شامل ہے۔
پاکستان میں ہیپاٹائٹس پر قابو پانا آسان نہیں۔ اس حوالے سے ہمیں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ یہاں طبّی آلات کو جراثیم سے درست طور پر پاک کرنے کی سہولتیں نہ ہونے کے سبب انفیکشن کے پھیلائو کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ غیر محفوظ انتقالِ خون، سوئیوں، سرنجز کے دوبارہ استعمال جیسے عوامل مرض میں مسلسل اضافے کی وجہ بن رہے ہیں۔ پاکستان میں انجیکشن کے ذریعے علاج کی شرح پوری دُنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہاں اوسطاً ہر فرد سال میں کم از کم12ٹیکے لگواتا ہے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت نے ایک سے دو ٹیکوں کی شرح مقرر کر رکھی ہے۔ دیگر عوامل میں غیر مستند دندان سازوں سے دانتوں کا علاج اور انفرادی خطرات جیسے ٹیٹوز بنوانا، جِلد پرکندہ کاری، انجیکشن کے ذریعے منشیات کا استعمال یا اور جنسی بے راہ روی وغیرہ شامل ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ مُلک میں ہیپاٹائٹس کے پھیلائو کی شرح بُلند ہے، بلکہ ہمارے یہاں عمومی طور پر مرض کی تشخیص اُس وقت ہوتی ہے، جب مرض بگڑ کر جگر میں اتنی تباہی پھیلا چُکا ہوتا ہے کہ اس کی پیچیدگیاں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ جیسے خون کی الٹیاں، بے ہوشی کے حملے، پیٹ میں پانی بَھر جانا، گُردوں کا کام نہ کرنا اور جگر کا سرطان وغیرہ۔ اِسی وجہ سے اب ہیپاٹائٹس کو ’’خاموش قاتل‘‘ کہا جانے لگا ہے۔
مرض کی تشخیص میں تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عام لوگ اس کے پھیلائو کے طریقوں ہی سے ناواقف ہیں، جبکہ ہمارے یہاں سکریننگ کی بھی ایسی سہولتیں موجود نہیں کہ عام لوگوں میں وائرس کی موجودگی کی بروقت تشخیص ہو سکے، حالانکہ عالمی ادارۂ صحت کا فوکس اب ایسے لوگوں پر زیادہ ہے، جو جسم میں وائرس کی موجودگی کے باوجود اس سے بے خبر ہیں۔ اگرچہ کچھ لوگ ہیپاٹائٹس کا خطرہ محسوس کرتے ہیں، کیوںکہ وہ رِسک فیکٹرز سے منسلک ہوتے ہیں، مثلاً ان کے خاندان کے قریبی افراد اس مرض میں مبتلا ہوں۔ وہ کوئی سرجری کروا چُکے ہوں۔ کسی غیر مستند معالج سے دانت کا ٹریٹ منٹ کروایا ہو۔ انتقالِ خون ہوا ہو وغیرہ وغیرہ۔ مگر وہ پھر بھی اسکریننگ نہیں کرواتے اور اس کی ایک وجہ مناسب سہولتوں کا فقدان اوردوسری وجہ لوگوں کا وہ امتیازی روّیہ ہے، جو عموماً ہیپاٹائٹس کے مریضوں سے روا رکھا جاتا ہے۔پاکستان میں علاج تک رسائی بھی ایک اہم مسئلہ ہے، کیوںکہ ادویہ اور تشخیصی ٹیسٹس وغیرہ کا خرچہ عام طور پر مریض کو خود ہی برداشت کرنا ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں، جہاں ایسے مریض زیادہ ہیں، یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہے کہ ہیپاٹائٹس کے مہنگے علاج تک رسائی ایک کم آمدنی والے خاندان کی پہنچ سے تو باہر ہی ہے۔
ہیپا ٹائٹس کا پھیلائو روکنے کے ضمن میں سب سے اہم قدم تو حکومتی ترجیحات ہیں۔ مفت تشخیص کی سہولتیں دستیاب ہوں۔علاج اتنا سستا ہو کہ ایک عام آدمی اس کا متحمل ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں