ہم احتیاط نہیں کریں گے تو کرونا کے برے اثرات پڑیں گے:وزیراعظم

imran khan
EjazNews

وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا موجودہ حالات میں میری ٹیم نے زبردست کام کیا، خوشی ہے میری ٹیم نے تین ماہ میں صوبوں سے مشاور ت کر کے کام کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بڑا دبائو تھا لیکن ہم دبائو میں نہیں آئے۔ ہمارے مخالفین چاہتے تھے کہ پہلے لاک ڈائون کر دینا چاہیے تھا۔
ایس او پیز سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب ملک میں ایس او پیز پر عمل درآمد سے متعلق روز رپورٹ آیا کرے گی اور جہاں ایس او پیز پر عمل نہیں ہوگا اور وبا پھیل رہی ہو گی، اس جگہ کو بند کیا جائے گا۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ پرائم منسٹر آفس سے جائزہ لوں گا کہ کہاں کہاں کرونا وائرس کے حوالے سے ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ میرے پاس رپورٹ آ گئی ہے کہ تمام صوبوں میں ایس او پیز پر کتنا عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ مجھے اب روزانہ رپورٹ ملے گی کہ بازاروں، دکانوں، مساجد، لوکل ٹرانسپورٹ اور پارکوں میں ان ایس او پیز پر کتنا عمل ہو رہا ہے۔اگر ایس او پیز پر مکمل عمل کریں تو ہم زیادہ نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ افسوس ہے کہ ہمارے عوام لاپرواہی کر رہے ہیں جو بہت خطرناک بات ہے۔
ان کا کہنا تھا پہلے صرف دو ٹیسٹنگ لیبارٹریز تھیں لیکن آج 107 ہیں۔ ہمارے پاس شروع میں صرف 2800 وینٹی لیٹرز تھے مگر اب ان کی تعداد 4 ہزار800 ہے۔ اسی طرح آئی سی یو میں 600 بیڈز تھے جو اب 1300 ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ طبی عملہ اس مشکل وقت کو اپنے لیے جہاد سمجھے۔ ہم بھی ان کے لیے اقدامات کریں گے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر ہسپتال میں اپنے ڈیٹا میجینرز کو بھیجیں گے، جو فیڈ بیک دے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آنے والے دنوں میں اموات بڑھیں گی، ساری دنیا میں اموات کا گراف اوپر سے نیچے جاتا ہے۔ یہ ایک مشکل وقت ہے جو قومیں مل کر مقابلہ کریں گی ان کے لیے یہ وقت اتنا مشکل نہیں ہوگا۔
وزیراعظم کا کہنا تھاجو ہمیں کہتے تھے کہ انڈیا نے اچھا لاک ڈاؤن لگایا، وہ دیکھیں کہ اب وہاں حالات برے ہیں۔ غربت کی وجہ سے نچلا طبقہ پس گیا ہے اور ان کے ہسپتالوں میں لوگوں کو جگہ نہیں مل رہی۔ اب وہ بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مزید لاک ڈاؤن نہیں لگا رہے۔ اب وہ بھی ہماری طرح سمارٹ لاک ڈاؤن کی بات کر رہے ہیں۔
سابق حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 70 سالوں میں کبھی ہسپتالوں پر خرچ نہیں کیا گیا، یہاں حکمرانوں کو کھانسی بھی آتی تھی تو وہ باہر علاج کروانے چلے جاتے تھے۔ ہمارے پاس ہسپتالوں میں اتنی جگہ نہیں ہے، جب تک آپ ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے تو یہ وائرس تیزی سے پھیلے گا اور ہسپتالوں پر دباؤ بڑھے گا۔ اگر ہم احتیاط نہیں کریں گے تو اس کے برے اثرات پڑیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں