ہماری جسمانی معدنیا ت اور صحت

health-minral

پروٹین ، وٹامنز وغیرہ کی طرح معدنیات (Minerals) ہماری صحت اور جسمانی نشوونما کے لئے بے حد اہم ہیں۔ ان کی کمی سے جسم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے ،اسی لئے شدید گرمی کے موسم میں پانی کے ساتھ نمکیات کے استعمال پر زور دیا جاتا ہے تاکہ جونمکیات پسینہ کے ساتھ جسم سے خارج ہو گئے ان کی کمی کو پورا کیا جاسکے ورنہ صحت خراب ہونے کا اندیشہ ہو جاتا ہے۔
معدنیات کی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک جو بڑی وزنی ہوتی ہیں جیسے فاسفورس، کیلشیم، پوٹاشیم، سلفر، فلورین، آئیوڈین، بورون، زنک، سیلی کون، سیلسیم وغیرہ۔
اگر یہ تمام معدنیات غذا میں شامل نہ ہوں تو انسانی جسم کی پرورش رک جاتی ہے۔ ان معدنیات سے ہی جسم اپنی توانائی برقرار رکھتا ہے۔ یہ زندہ خلیوں کی تعمیر و فعالیت کیلئے بھی ضرورت ہیں۔ معدنیات ہی کی بدولت جسم کے اندرکا موجود پانی برقرار رہتا ہے اور ان معدنیات سے کیمیائی مادوں کو خلیوں کے اندر جانے اور باہر نکلنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر معدنیات کا بیلنس خراب ہو جائے تو جسم میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔ ان کی مقررہ مقدار خون اور بافتوں کے سیال کو اضافی الکلی سے بچاتی ہیں۔ ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انسانی جسم میں پچاس ہزارسے زائد انزائم (enzymes) کی نشوونما اور توانائی کا انحصار ان معدنیات پر ہے۔ خون میں منرلز کی کمی سے صحت ایک دم گر جاتی ہے اور بیماری آجاتی ہے۔ اس لئے مختصراً ان کے بارے میں بتایا جارہا ہے۔ توجہ سے پڑھیں اور عمل کریں۔
کیلشیم:
یہ منرل جسم میں موجود ہو تو ہڈیاں اور دانت مضبوط رہتے ہیں۔ دل و جسم کی عمدہ کارکردگی کیلئے کیلشیم بے حد ضروری ہے۔ یہ خون کو منجمد نہیں ہونے دیتی ہے اور معدہ کو مضبوط کرتی ہے۔ کیلشیم حاصل کرنے کیلئے دودھ اور اس کی مصنوعات بہترین ہیں۔ سبز پتوں والی سبزیاں جیسے چولائی کا ساگ، شلجم، گوبھی، گاجر ، اروی ، میتھی اور مولی بھی کیلشیم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ کیلشیم کی کمی سے مختلف پرابلمز پیدا ہونے لگتی ہیں جیسے سستی، کاہلی، چڑا چڑاپن ، بے خوابی، دل کی دھڑکن کاتیز ہونا،پٹھے چڑھ جانا، ذہنی انتشار، بد حواسی، لڑکیوں میں بلوغت میں تاخیر، انفیکشن کے خلاف مزاحمت میں کمی، حیض کی بےقاعدگی اور تکلیف د ہ تیزابیت وغیرہ۔ اگر کسی عورت میں کیلشیم کم ہو تو یہ تمام پرابلمز بچے میں بھی آجاتے ہیں، اس لئے اس سلسلے میں توجہ دینا ضروری ہے۔
فاسفورس:
یہ بالوں کی نشوونما، دل و گردوں کی کارکردگی بہتر بناتی ہے اور بدن کو تھکاوٹ اور جھلاہٹ سے محفوظ رکھتی ہے۔ جسم میں موجود پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس کی طرح یہ بدن میں جزو بدن بن کر توانائی میں منتقل ہوتے ہیں جب انہیں فاسفورس کا کیمیائی عمل میسر ہو۔ گویا فاسفورس کے بغیر غذاؤں میں شامل معدنیات، وٹامنز ، پروٹین، کاربوہائیڈریٹس جسم میں جذب نہیں ہوتے اور انسان کمزور اور بیمار پڑ جاتا ہے۔ خون نہ بننے کی بیماری کی بھی ایک اہم وجہ خون میں فاسفورس کی کمی ہے۔ اس کی کمی سے ہڈیاں بھی کمزور اور ٹیڑھی ہو جاتی ہیں۔
کلورین:
یہ ہارمونز کے اخراج کے عمل کو موثر بناتی ہے۔ اس کی کمی سے دانت اور بال گرنے لگتے ہیں۔ یہ سوڈیم والی غذاؤں میں پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر املی کے پتے، تربوز ، خربوزہ، بیگن، پھول گوبھی، میتھی کے پتے ، مکئی، دال چنا، باجرہ، سفید چنے، گندم، جوار، دال مونگ ، انناس وغیرہ اس کے لئے اہم ذرائع ہیں۔ یہ پینے کے پانی کی صفائی کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے کیونکہ یہ جراثیم کش ہوتی ہے خوردنی کلورین اور کلورین گیس میں فرق ہوتا ہے۔ کلورین گیس زہریلی ہوتی ہے اور سانس میں چلی جائے تو پھیپھڑوں میں ورم آجاتا ہے۔
کرومیم:
اگر اصل غذا میں کرومیم کی مقدار کم ہےتو شوگر لیول بڑھ جاتا ہے اور ذیابطیس ہو جاتی ہے۔کرومیم جسم میں جذب نہیں ہوتی اور پیشاب میں خارج ہوجاتی ہے اس کی زیادتی کینسر اور ایگزیما پیدا کرتی ہے ۔ یہ انناس، شریقہ، پان ، ٹماٹر ، اناج، گاجر ، اروی وغیرہ میں پائی جاتی ہے۔
تانبا:
یہ معدنی عنصر انسانی خون میں شامل ہوتا ہے جس کی وجہ سے صحت قائم رہتی ہے۔ تانبا، فولاد کو خون کے سرخ اور اہم ذرات ہیمو گلوبین میں تبدیل کرتا ہے۔ اگر تانبا خون میں کم ہوجائے تو جگر، دل ، دماغ ، گردوں کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔ حمل کے دوران خواتین کو اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔یہ ہاضمے میں بھی اہم رول ادا کرتا ہے۔ یہ امینوایسڈز ، جلد اور بالوں کا رنگ متعین کرتا ہے۔ اس کی کمی سے اینیمیا کی شکایت سے لے کر جسمانی کمزوری ، سانس کی تکلیف اور جوڑوں میں درد پیدا ہو جاتا ہے۔ تانبا ان غذاؤں میں پایا جاتا ہے ۔ گندم کا آٹا ،چوکر سمیت، لو بیہ سفید، سویا بین، کالے چنے، سفید چنے، چقندر، پیاز، ٹماٹر، آلو، ناریل ، اخروٹ وغیرہ۔
فولاد:
یعنی آئرن ہمارے جسم کا بے حد اہم جز ہے۔ کلیجی، گوشت، انڈے کی زردی، اس کے بہترین ذرائع ہیں۔ پالک اور سبز پتوں والی سبزیوں میں بھی یہ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے اور جسم میں خون بنانے میں بے حد اہم کر دار ادا کرتا ہے۔ فولاد کی کمی کا اثر ہڈیوں کے گودے میں موجود فولاد کی کمی سے شروع ہوتا ہے جس کی بدولت خون کے سرخ خلیوں کی تعداد اور حجم کم ہو جاتا ہے اور ان میںموجود ہیمو گلوبین کی مقدار کم ہو کر جان کا خطرہ بھی پیدا کر سکتی ہے۔
فولاد کی کمی سے رنگت زرد ہو جاتی ہے، معمولی کام سے سانس پھول جاتا ہے۔ پیٹ خراب رہتا ہے، ناخن اندر کی طرف دب جاتے ہیںا ور ہونٹوں کے اطراف وزبان پر ورم آجاتا ہے ۔ اس لئے صحت مند رہنے کیلئے ضرورت ہے کہ خون میں فولاد کی مقدار نارمل رہے۔
یہ یاد رکھنے کی بات ہے بلکہ کوشش کریں کہ سال میں ایک بار بلڈ ٹیسٹ سے ضرور معلوم کروالیںکہ آپ کے جس میں معدنیات کی کیا صورتحال ہے۔ اپنا معدنیاتی چارٹ اور جو کمی ہو اس کا غذا اور دوا سے ازالہ کریں اگر آپ صحت مند رہنا چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں