گناہوں کا کفارہ

Islam_sukarguzari
EjazNews

فرامین الٰہیہ ہیں: (ترجمہ):
1۔(نبی مکرم ﷺ فرما دیجئے کہ) اے اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والو! اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو جاؤ، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخشنے والا ہے۔ اور وہ غفور الرحیم ہے۔
2۔اور وہ لوگ جو گناہ کرتے اور اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں (جب وہ) اللہ کو یاد کرتے اور گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں (تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے) اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کون گناہوں کو بخشنے والا ہے۔ اور یہ لوگ اپنے افعال پر ڈٹے نہیں رہتے اور یہ جانتے ہیں (کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے)۔
3۔بے شک اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کو معاف نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ جس کو چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے تو اس نے بہت بڑا گناہ کمایا ہے۔
4۔اور جو شخص گناہ کرتا یا اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو رحم کرنے والا بخشنے والا پاتا ہے۔
احادیث رسول ﷺ
1۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص موذن کی آواز سن کر یہ دعا پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے‘‘۔ دعا درج ذیل ہے:
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہٗ رَضِیْتُ بِاﷲِ رَبًّا وَّ بِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا (مسلم)
2۔رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اچھے طریق سے وضو کرے تو اس کے جسم کے تمام گناہ نکل جاتے ہیں حتی کہ اس کے ناخنون کے تلے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں‘‘۔ (صحیح مسلم)۔
3۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر ایک نہر تمہارے گھر کے سامنے سے بہتی ہو اور ہر روز پانچ بار کوئی اس میں غسل کرے تو بتاؤ کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہے گی؟‘‘۔ صحابہ کرام y نے عرض کی نہیں، کوئی میل باقی نہیں رہے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے تمام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری)۔
6۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر اور بازار کی نماز سے پچیس (۲۵) گنا زیادہ اجر و ثواب والی ہوتی ہے۔ یہ اس لئے کہ بندہ جب وضو کرے تو اچھی طرح سے کرے۔ پھر صرف اور صرف نماز پڑھنے کے لئے گھر سے نکلے۔ اس کے ہر قدم کے بدلے ایک گناہ مٹایا جاتا اور ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ جب نماز پڑھتا ہے تو فرشتے اس پر نماز کے اختتام تک رحمت کی دعائیں بھیجتے رہتے ہیں۔ یعنی اے اللہ! اس پر رحم کر، اس پر برکت نازل فرما۔ اور جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہتے ہو اس وقت تک نماز میں ہی ہوتے ہو‘‘۔ (صحیح بخاری)۔
7۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ہر رات آسمانِ دُنیا پر نزول فرماتا ہے؛ رات کے آخری پہر میں نازل ہو کر فرماتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارتا ہے میں اس کی دُعاؤں کو قبول کروں گا۔ جو مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو عطا کروں گا۔ معافی چاہتا ہے تو میں بخش دوں گا‘‘۔
7۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’آدمی اپنے گھر، مال اور پڑوسی کے متعلق آزمایا جاتا ہے۔ نماز روزہ اور صدقہ و خیرات سے ان غلطیوں کا کفارہ ادا ہو جاتا ہے‘‘۔
8 ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص حالت ایمان میں ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گذشتہ گناہ معاف فرما دیتا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری)۔
9۔پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص رمضان کی راتوںمیں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری)۔
10۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص لیلۃ القدر کی رات کو قیام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گذشتہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔
11۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سبحان اﷲ و بحمدہٖ‘‘ ایک سو بار پڑھنے والے کے تمام (صغیرہ) گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں‘‘ـ (بخاری ومسلم)
12۔سیدنا ابوقتادہ t سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے یومِ عاشوراء کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا‘‘۔ (صحیح مسلم)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیانی عرصے کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مقبول کی جزا صرف اور صرف جنت ہے‘‘۔ (صحیح مسلم)۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’یومِ عرفہ سے زیادہ کسی اور دن جہنم سے آزادی نہیں ملتی۔ یعنی سب سے زیادہ اس دن بخشش کی جاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے‘‘۔
ایک مرتبہ رسولِ اکرم ﷺ اُمّ سائب r کی عیادت کے لئے تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے اُمّ سائب! تم کانپ کیوں رہی ہو؟‘‘۔ اُمّ سائب r نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ یہ بڑا بے برکت بخار ہے۔ آپ t نے فرمایا: ’’بخار کو برا نہ کہو؛ اس سے تو بنی آدم کے گناہ صاف ہوتے ہیں جس طرح لوہے کو بھٹی میں ڈال کر صاف کیا جاتا ہے‘‘ (بخاری و مسلم)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مومن کو کوئی بھی تکلیف رنج و غم بیماری اور پریشانی آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے مومن کے گناہوں کو بخش دیتا ہے‘‘۔ (صحیح مسلم)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے، بہت سی مختلف قسم کے باتیں کرے پھر اٹھتے وقت یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس مجلس کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے‘‘ دعا درج ذیل ہے:
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ

اپنا تبصرہ بھیجیں