گناہوں کا شہر

baia-city

رومی سلطانت نے ایک ایسے شہر آباد کیا تھے جسے میں آج کے لاس ویگاس سے تشبیہ دے سکتے ہیں ۔ یہ وہی شہر تھا جہاں رومن سلطنت کے امراءاور با اختیار طبقہ اپنی عیاشیوں کے لیے جاتاتھا۔ اور اس کا نام بایاBaiaتھا۔
رومن سلطنت ، طاقت، عزت اور وقار کی علامت تھی ۔ رومیوں کے پاس بے پناہ دولت تھی یہ تمام تر دولت انہوں نے جائز اور ناجائز ہر طریقے سے کمائی مگر اس کا مصرف کوئی نہ تھا بے پناہ سرمایہ مگر اخراجات نہ ہونے کے برابر ۔ طرز زندگی عام اور سادہ تھی پر تعیش اشیاءموجود نہ تھیں چنانچہ ان لوگوں نے اپنے لیے ایک انتہائی خوبصورت شہر بسایا۔ تاریخ دان اسے گناہوں کے شہر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔رومی سلطنت کے کونے کونے سے امراءاور رﺅسا اس شہر کا رخ کرتے اور جمعہ کی شام کو یہ شہر آباد ہونا شروع ہو جاتا، پارٹیاں ہوتیں جواءہوتا اور راتیں موسیقی میں بسر ہوتیں۔ صاحب سمندر کے کنارے رومیوں نے ایک شہر بسایا اور یہاں رہائش کے لیے انتہائی آرام دہ کوٹھیاں بنائیں۔ سوئمنگ پول بنائے۔ اور اپنے لیے ہر وہ آسانیا ں پیدا کیں جو اس زمانے میں کر سکتے تھے۔ کوئی بھی شخص اپنے لیے m Naymthaeunکرائے پر لے سکتا تھا ۔چاروں طرف سے سنگ مر مر سے گھرے ہوئے یہ نجی عالی شاہ محل تھا۔ زندگی کی ہر آسائش اس نجی محل یا گروٹو Grottoمیں موجود تھی۔
یہ 2ہزار سال پرانی بات ہے جب رومی شہر بیاہ کو ایک بڑی تفریح گاہ سمجھتے ہیں۔ یہ نیپس کے کوئی 30کلو میٹر کے فاصلے پر بنائی گئی تھی اور مغربی ساحل پر آباد تھی۔ یہاں شعراءبھی آتے اور فوجی سربراہان بھی۔ اور بے شک سیاسی حکمران بھی۔ اپنے زمانے کے معروف خطیب Ciceroاس زمانہ میں اسی ساحل کے بارے میں تقرریں لکھا کرتے تھے جبکہ ورجل نامی شاعر نے بھی شاعری فرمائی اور قدرتی حسن کے بارے میں اور Plinyپلینی نے بھی ان رہائش گاہوں پر بہت کچھ لکھا کہ یہاں کس طرح زندگی راتوں کو جاگتی تھی ۔آثار قدیمہ کے محقق جان سماﺅٹJohn Smout لکھتے ہیں کہ شہر بیاہ کے کھنڈرات آج بھی ہمیں سازشوں کی کہانیاں سناتے ہیں ان کھنڈرات میں بہت کچھ پناہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کلو پتھرا اسی شہر سے ایک کشتی میں فرار ہوئی جب 44قبل از مسیح میں جولیس سیزر کی موت واقع ہوئی، جب جولیا ایگری پینا نے اس کے شوہر Claudiufکی موت کی سازش کی تو وہ اسی مقام پر قتل ہوئی تاکہ اس کا بیٹا نیرو روم کا بادشاہ بن جائے۔ یعنی بایانامی شہر شاہی خاندانوں میں سازشوں کا گھڑ ہوا کرتاتھا۔ حکومت میں آنے کے پلان اسی پر تعیش شہرکے محلات میں جنم لیتے۔
جولیا ایگری پینا نے کلوڈیس کو زہردے کر مار ڈالا ۔جان سموک نے کہا کہ اسے یقینا کوئی زہریلی جڑی بوٹی کھلائی لیکن وہ کسی طرح سے بچ نکلا۔ اس پر اس کا اثر پورانہ ہوا اسی لمحے ایگری پینا نے اپنے ڈاکٹر کو بلایا جس نے اس کے جسم سے زہریلے مادے کے اخراج کے لیے اینیما کیا اور پھر یہ حکمت عملی کامیاب رہی اور وہ کلوڈیس بچ نکلا۔

سمندر کے اندر باقیات

بعد میں دوسری صدی عیسوی کے دوسرے ہاف میں یہ شہر فلنگرینPhlegraeanیا فلیمن کہلاتا تھا۔ شاید اس وجہ سے اسے سینز کہا جانے لگا کہ یہاں کا پانی کھاری اور موسم شدید تھا۔ موسم کی شدت کی وجہ سے یہ ابلتا ہوا شہر کہلایا۔ یہاں زمین سے نکلنے والے کیلڈرز Caldersہی اس شہر کی تباہی اور بربادی کی وجہ بنا۔ اور بالآخر یہ شہر ڈوب کر سمندر کا حصہ بن گیا۔ اس شہر میں جوا اور موسیقی کے علاوہ چند ایک ایجادات بھی ہوئیں۔ اہل روم نے لائم اور آتش فشاں چٹانوں کی مدد سے ایسا سیمنٹ ایجاد کیا جس پر پانی اثر نہیں کرتا تھا انہوں نے ہوا دار مینار بنائے ۔ ماربل استعمال کیا۔ ان کے اپنے وسیع فش فارم تھے اور پر تعیش باتھ ہاﺅسز بھی۔ مگر ا س شہر کی ساکھ اچھی نہ تھی۔ منرل واٹر اور نرم موسم کی وجہ سے اہل روم کے امیر لوگوں کی دلچسپی اس شہر میں بڑھتی جارہی تھی۔ اس زمانہ میں آتش فشاں چٹانیں اور پہاڑ اکثر لاوا اگلا کرتے تھے لیکن ترقیاتی سرگرمیوں کی وجہ سے چٹانوں اور پہاڑی سرگرمیوں میں بھی کمی آئی۔مگر اس کے باوجود وقت کے ساتھ ساتھ زیر زمین ہائیڈرو تھرمل اور سیسمٹ سرگرمیوں کی وجہ سے یہ شہر پانی میں ڈوب گیا اور ابھی تک ڈوبا ہوا ہے۔
سیاحوں کی دلچسپی کے لیے اٹلی کی حکومت 1940ءمیں اس شہر کا ایک ساحلی حصہ بحال کر نے میں یا نیا بنانے میں کامیاب ہوئی۔ جب ایک ہوا باز نے عین اس جگہ کے اوپر سے گزرتے ہوئے اپنے طاقتور کیمرے سے سمندر کی تصویر لی اس تصویر میں سمندر کے پانی میں لیا شہر ڈوبا ہوا نظر آیا۔اس تصویر نے اٹلی میں ماہرین آثار قدیمہ میں تہلکہ مچا دیا۔ تب پتہ چلا کہ ایک عظیم الشان شہر کے کھنڈرات آج بھی سمندر کی تہہ میں دفن ہیں۔ دوعشروں کے اندر اندر اٹلی کے افسران نے آبدوزوں کی مدد سے زیر زمین شہر کے حصوں کا سرو ے کیا۔ ان کی دریافت بہت تعجب خیز تھی، زیر زمین دباﺅ کی وجہ سے یہ شہر کبھی اوپر اور کبھی نیچے جاتا رہا۔اس سے شہر کا ایک حصہ ایک مقام پر کچھ ابھر آیا۔ تاہم ماہرین آثار قدیمہ اس شہر کی حفاظت کے لیے کوئی جا مع منصوبہ بنانے میں ناکام رہے ہیں، اسے پہلی مرتبہ عوام کے لیے 2002ءمیں کھولا گیا اور سمندری جہازوں اور کشتیوں کیلئے اس علاقے کو بند کر دیا گیا ۔اب تھری ڈی سکینگ ٹیکنالوجی اور میرین آرکیالوجی کی مدد سے اس کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔
شہر کی یہ باقیات زیادہ گہرائی میں نہیں ہیں بلکہ کچھ حصہ تو پانی میں 6میٹر کی گہرائی پر دکھائی دیتا۔ سیاح زیر زمین پانی میں شہر میں سڑکوں اور پرپیچ راستوں اور پلازے کی باقیات کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں یہاں بادشاہ پلالیس کی بہن اکتاویا کلوڈیا کا مجسمہ بھی نصب ہے۔ جبکہ شہر میں داخل ہونے کا داخلی را ستہ بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔ ایک پہاڑی پر لیا کاسل بھی قائم ہے۔ اس کے کچھ حصو ں کو 1950ءمیں معروف آرکیالوجسٹ امیدو Amedeo Maiuriنے دریافت کیا تھا اسی نے پمپائی اورہرکولین کے مجسمے بھی دریافت کیے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں