گمشدہ شہزادی

گمشدہ-شہزادی

صدیوں پہلےکی بات ہے ایک ملک میں ظالم جادوگر رہا کرتا تھا۔ وہ جسے چاہتا اپنے جادو سے تن کرتا۔ ملک کا بادشاہ بڑا رحمدل تھا ،اس نے بہت دفعہ اپنے سپاہیوں کے ذریعے کوشش کی کہ اس ظالم جادو گر کو گرفتار کیا جائے۔ مگر وہ جادو گر سپاہیوں کو پتھر بنا دیتا تھا۔ بادشاہ نے بہت سوچا آخر اسے کسی نے مشورہ دیا کہ ملک کے شمالی پہاڑوں میں ایک بزرگ رہتے ہیں وہ یہ مسئلہ حل کر سکتے ہیں مگر بادشاہ کو خود ان بزرگ کے پاس جانا پڑے گا۔ بادشاہ نے رعایا کی بھلائی کی خاطر یہ بھی قبول کرلیا اور تین دن کا کٹھن سفر کر کے بزرگ کے پاس پہنچا۔ بزرگ نے بادشاہ سے کہا کہ وہ خود جادوگر کے پاس جائے اور اس سے کہے کہ وہ ملک میں فساد نہ پھیلائے تو اسے بھی اختیارات دئیے جائیں گے۔
بادشاہ یہ سن کر پریشان ہوگیا اور کہنے لگا۔ ’’اگر اسے اختیارات دئیے گے تو وہ ان کا ناجائز استعمال کرے گا۔‘‘
بزرگ نے کہا۔ ’’میں تمہیں ایک انگوٹھی دیتا ہوں یہ اس کے بستر میں رکھ دینا جب وہ تمہارے محل میں رہے یہ انگوٹھی اس کا سارا جادوختم کر د ےگی مگر خیال رہے کہ یہ انگوٹھی کوئی نہ پہنے۔‘‘
بادشاہ نے وہ انگوٹھی لی اور ملک میں واپس محل میں آگیا۔ اس نے انگوٹھی میز پر کپڑا ڈال کے رکھ دی اور خود جادوگر کو بلانے سپاہی بھیج کر اس کا انتظار کرنے لگا ۔ بادشاہ کی ایک ہی بیٹی تھی جس کا نام مہ رخ شہزادی تھا اس نے جب وہ انگوٹھی دیکھی تو اسے اچھی لگی تو اس نے پہن لی مگر اسے پہنتے ہی وہ غائب ہو گئی ایک کنیز یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ وہ دوڑتے ہوئے بادشاہ کے پاس گئی اور سارا منظر بیان کیا۔ بادشاہ بہت پریشان ہوا وہ دوبارہ سفر کر کے بزرگ کے پاس گیا اور انہیں سارا واقعہ سنایا ۔
بزرگ نے کہا۔’’اب اس کا ایک ہی حل ہو سکتا ہے کہ تمہارے ہمسایہ ملک کا شہزادہ سفید پہاڑی پر جائے اور اسی ظالم جادوگر سے مقابلہ کر کے اسے ختم کر دے پھر ہی شہزادی واپس آسکتی ہے۔‘‘
یہ سن کر بادشاہ اپنے ہمسایہ ملک گیا اور وہاں کے بادشاہ سے درخواست کی تو وہ مان گیا اور شہزادہ سفر پر نکلا۔ گھوڑے پر سفر کرتے ہوئے وہ ایک پہاڑی سلسلے میں پہنچا تو وہاں سفید پہاڑی تلاش کرنے لگا۔ اس کو کافی تلاش کے بعد وہ پہاڑی نظر آگئی وہ پہاڑی کے گرد چکر لگانے لگا۔ اچانک ظالم جادوگر سامنے آگیا۔ اس نے تلوار سے شہزادے پروار کرنے کی کوشش کی مگر شہزادے نے ہوشیاری سے مقابلہ کیا اور تیزی سے جادو گر کی گردن پر وار کیا۔ جادو گر کی گردن تن سے جدا ہو گئی اور اچانک سفید پہاڑی میں ایک راستہ سا بن گیا اور ادھر سے شہزادی ماہ رخ باہر نکلتی دکھائی دی ۔اس نے شہزادے کا شکریہ ادا کیا اور دونوں نے گھوڑے پر بیٹھ کر واپسی کا سفر شروع کیا۔ جب وہ وطن پہنچے تو بڑی خوشیاں منائی گئیں ۔ شہزادی ماہ رخ کی شادی شہزادے سے کر دی گئی۔ جب بادشاہ بزرگ کا شکریہ ادا کرنے ان کی ٹھکانے پر پہنچا تو دیکھا وہاں کچھ بھی نہ تھا مگر اس نے خدا کا شکر ادا کیا کہ ان بزرگ کے ذریعے ان کا مسئلہ حل ہوگیا۔ بادشاہ نے اس جگہ پر ایک لنگر خانہ تعمیر کروادیا۔ جس میں ہر وقت لنگر جاری رہتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں