کیا کے الیکٹرک کا یہ پہلا سال ہے جب وہ کراچی میں بجلی فراہم کر رہی ہے؟

K_electric
EjazNews

گزشتہ روز کے الیکٹرک سے جاری کردہ بیان بجلی کی بندش کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ شدید گرم اور مرطوب موسم کی وجہ سے بجلی کی طلب 3 ہزار 450 میگاواٹ سے تجاوز کرچکی ہے۔ مارکیٹ میں فرنس آئل مناسب سطح تک دستیاب نہیں ہے جس کے نتیجے میں یومیہ 800 ایم ٹی شارٹ فال کا سامنا ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے آر ایل این جی میں 50 ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی نے بھی چیلنج میں اضافہ کیا ہے اور ہوا کی رفتار میں کمی کی وجہ سے بھی توانائی میں کمی آئی ہے۔ ان تمام عناصر کے باعث ہماری سپلائی 3ہزار 150میگاواٹ سے کم ہوکر 2 ہزار 800 میگاواٹ ہوگئی ہے۔وزارت توانائی کو اس صورتحال سے آگاہ کیا جارہا ہے اور فرنس آئل کی درآمد کے فیصلے کے تناظر میں آئندہ دنوں میں حالات معمول پر آنے کا امکان ہے۔

گرمی سے بچاؤکیسے ممکن ہے؟

وزارت توانائی سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کے الیکٹرک کو 800 میگاواٹ بجلی فراہم کررہی ہے اور اضافی 500 میگاواٹ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کےالیکٹرک کے نظام میں موجود خامیاں اضافی بجلی کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے مناسب سطح پر اور مناسب سرمایہ کاری کے ساتھ سسٹم اپ گریڈ نہیں ہوا۔ وفاقی کابینہ نے شہروں میں مقیم افراد کی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے نیشنل گرڈ سے اضافی ایک ہزار 100 میگا واٹ کی فراہمی کی منظوری دی تھی۔کےالیکٹرک کا سسٹم اس وقت اضافی بجلی برداشت کرنے کے قابل نہیں اور اضافی سپلائی کو مکمل طور پر برداشت کرنے کے لیے اپ گریڈیشن 2022 سے 2023 تک جاری رہے گی۔ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) دستیاب ہے لیکن آئین کے آرٹیکل 158 کی وجہ سے بجلی فراہمی کا ادارے کی جانب سے صرف ایک محدود مقدار حاصل کی جارہی ہے۔سوئی سدرن گیس کمپنی مجموعی طور پر 250 سے 290 ایم ایم سی ایف ڈی گیس بشمول 75 سے 100 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی فراہم کررہی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے کے الیکٹرک کے پاور پلانٹس چلانے کے لیے پاکستان کے ریزیڈیول فرنس آئل (آر ایف او) کی 80 فیصد سپلائی کے انتظامات کیے ہیں۔اس کے ساتھ ہی وفاقی حکومت نے فوری طور پر کےالیکٹرک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ذخیرہ کیے گئے آر ایف او میں سے 30 ہزار ٹنز کی فراہمی کے انتظامات بھی کیے ہیں۔
حالیہ گرمی اور کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن والے علاقوں میں بجلی کی بندش کی وجہ سے عوام کو ہونے والی ‘شدید مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے نیپرا نے تمام تقسیم کار کمپنیوں کو فوری طور پر تمام مسائل حل کرنے کی ہدایت کردی۔
نیپرا نے کہا کہ ‘ تقسیم کار کمپنیاں اپنے لائسنسز کی متعلقہ دفعات کے تحت صارفین کو بجلی بلاتعطل اور قابل اعتماد فراہمی کے پابند ہیں۔نوٹس میں کہا گیا کہ ‘تمام تقسیم کار کمپنیوں کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ لوڈ شیڈنگ کو کم سے کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور اس سلسلے میں اتھارٹی کو فوری رپورٹ بھی جمع کروائیں۔

کرونا وبا کے ساتھ ہیٹ سٹروک بھی، بس احتیاط ضروری ہے

کراچی کے مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ گزشتہ چند روز سے جاری ہے اور مسلسل کئی گھنٹے بجلی بند رہنے سے شہریوں کو دشواری کا سامنا ہے۔ شہر کے وہ علاقے جو کےالیکٹرک کے زیادہ نقصان والی فہرست میں شامل نہیں وہاں بھی ایک دن میں 3 مرتبہ 2، 2 گھنٹوں کے بجلی بند کی جارہی ہے۔
آپ ساری صورتحال کا جائزہ لیں۔اور زمینی حقائق کو پر غور کریں۔ کیا کے الیکٹرک کو پتہ نہیں ہے کہ ہر سال گرمی پڑتی ہے اور کراچی میں ہیٹ سٹروک کے مسائل بھی ہیں۔ کیا کے الیکٹرک اس بات سے بے خبر ہے کہ گرمیوں میں پاکستان میں موسم کیسا ہوتا ہے ۔

ہمیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے

اگر آپ صدق دل سے ایک بات کو مان لیں تو آپ کو بات سمجھ میں آجائے گی کہ جب مجھے اس بات کا خطرہ نہیں ہوگا کہ میں جو چاہے کر لو ں مجھے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے تو میں جو چاہے کر جائو ںگا اور اگر مجھے پتہ ہوگا کہ اگر میں نے کچھ بھی غلط کیا تو مجھے پوچھنے والے ہیں تو میں پوری احتیاط کروں گا کہ کچھ غلط نہ ہو ۔ بس یہی معاملہ کے الیکٹرک کے ساتھ بھی ہے۔
کے الیکٹرک کا یہ کوئی پہلا سال نہیں ہے جب یہ کمپنی کراچی کے شہریوں کو بجلی فراہم کر رہی ہو یا پھر یہ ان کی پہلی گرمیاں نہیں ہیں کہ پیدا ہونے والے بچوں کو پتہ ہی نہ ہو کہ گرمی اور سردی ہوتی کیا ہے۔ اگر فرنس آئل کی کمی ہے تو کیا ان کے پاس سٹاک نہیں ہونا چاہیے تھا ، کیا ان کا سسٹم اتنا اپ گریڈ نہیں ہونا چاہیے تھا کہ وفاقی حکومت ان کو اگر ایک ہزار میگا واٹ دینا چاہتی تو وہ اس سے لے سکتے ۔ مگر کیا کریں کوئی پرسان حال بھی تو نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں