کولیسٹرول کو قابو رکھنے کیلئے درست غذاﺅں کا انتخاب

Vegetable

معقول غذائی رد و بدل یقینی طور پر کولیسٹرول میں کمی لاتا ہے اور ہارٹ اٹیک کے خطرے کو دور کرتا ہے۔ زیر بحث موضوع کے حوالے سے کون سی غذائیں آپ کے لیے درست اور مناسب ہیں اور کون سی غذائیں ایسی ہیں جن سے آپ کو پرہیز کرنا چاہیے ان پر بات کی جائے گی۔
پھل اور سبزیاں :
پھلوں اور سبزیوں میں نہ صرف وٹامنز اور معدنیات کی فراوانی ہوتی ہے بلکہ یہ ہمیں روز مرہ غذا کی صورت میں ریشہ (FIBRE) بھی فراہم کرتی ہیں۔ ریشہ دار غذاوں کا وافر استعمال بلڈ کولیسٹرول کی مقدار کم کر کے ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم کرتا ہے۔
خوش قسمتی سے برصغیر میں ہمیں مختلف النوع موسمی سبزیاں میسر ہوتی ہیں۔ یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ جو لوگ سبزیوں کا استعمال زیادہ کرتے ہیں، ان میں دل کے مرض کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ سبھی سبزیوں میں کیلوریز کی مقدار کم ہوتی ہے اور جب تک انہیں بھونا نہ جائے ان میں کولیسٹرول یا چکنائی نہیں ہوتی۔ چنانچہ اچھے ماہر امراض قلب دل کے مریضوں کو یا دل کے مرض کا خطرہ رکھنے والوں کو سبزیوں کا استعمال دوگنا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ سبزیوں کے استعمال کے ضمن میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ سبزیوں کو زیادہ درجہ حرارت پر رکھنا ،تر چکنائیوں میں فرائی کرنا، بھوننا یا دیسی گھی میں پکانا صحت کے لیے ان کی افادیت کو ختم کردیتا ہے۔ بہت سے لوگ ابلی یا بھاپ میں پکی سبزیاں کھانا پسند کرتے ہیں۔ اگر آپ اس طرح کی پکی ہوئی سبزیاں استعمال کرنا پسند نہیں کرتے تو پھر انہیں بھوننے کے لیے بہت تھوڑی مقدار میں کنگ آئل استعمال کریں۔ سبزیوں کے سالن میں بہت ساگھی ڈال دینے سے ان کا ذائقہ تو اچھا ہو جاتا ہے لیکن آپ کے دل کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔
نارنگی، مالٹے اور کینو میں چونکہ کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں اور چکنائی یا کولیسٹرول تو بالکل نہیں ہو تا چنانچہ ان کا استعمال ،براہ راست یا جوس کی صورت میں دل کے لیے بہت زیادہ مفید ہے۔ لیمن جوس بھی مکمل طور پر چکنائی اور کولیسٹرول سے پاک ہوتا ہے۔ جبکہ وٹامن سی کا بہترین ذریعہ ہونے کی بدولت یہ آپ کے دل کے لیے زبردست غذاہے۔
انگور میں بھی وٹامنز کی بہتات ہوتی ہے اور چکنائی اور کولیسٹرول سے خالی ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ بھی دل کے لیے بہت اعلیٰ چیز ہے۔
دودھ دہی اور لسی :
دودھ ہمارے لیے پروٹین، کیلشیم، فاسفورس اور وٹامنز کا ایک عمدہ ذریعہ ہے۔ مغربی ممالک میں دودھ تین چار اقسام کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے۔ وہاں 1 فیصد 24 فیصد اور 4 فیصد چکنائی رکھنے والا مکمل دودھ اور چکنائی کے بغیر یعنی بالائی اتر ا دودھ ہروقت دستیاب ہوتا ہے۔ دل کی شریانوں کے مرض سے محفوظ رہنے کے لیے بالائی اترا دودھ ایک مثالی غذا ہے۔ بالائی اترے دودھ کا ایک کپ 60 کیلوریز رکھتا ہے جبکہ مکمل دودھ کے ایک کپ میں 160 کیلوریز ہوتی ہیں۔
ڈیری کی مصنوعات میں دہی اور پنیر کا استعمال مغربی ممالک میں عام ہے۔ برصغیر میں لوگ گرمیوں کے موسم میں روزانہ ایک گلاس لسی پینا پسند کرتے ہیں۔مغرب میں دودھ سے بنے یوگرٹ (دہی) کی مختلف اقسام ہوتی ہیں جن میں 0سے لے کر 4 فیصد تک چکنائی پائی جاتی ہے۔ کئی قسم کے دہی (یوگرٹ) مختلف قسم کے پھل اور ذائقوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ یوگرٹ کا استعمال بھی بلڈ کولیسٹرول کم کرتا ہے۔ چکنائی کے بغیر یوگرٹ اور مکھن کے بغیر کسی دل کو صحت مند رکھنے کے لیے بہترین غذائی انتخاب ہے۔
ڈبل روٹی چپاتی اور چاول :
مختلف ناموں کے ساتھ روٹی دنیا بھر میں اہم اور مقبول ہے۔ اسے بریڈ، چپاتی اور نان بھی کہا جاتا ہے۔ روٹی اگر سالم آٹے یعنی ان چھنے آٹے سے تیار کی گئی ہو تو نباتاتی ریشے کی بڑی مقدار رکھتی ہے جو دل کے لیے بہت مفید ہے۔ کیونکہ ریشے بلڈ کولیسٹرول کی مقدار کم کرتے ہیں۔ چھنا ہوا آٹا ان چھنے ہوئے آٹے جیسی افادیت نہیں دیتا۔ روٹی یا چپاتی کئی قسم کے اجناس کے آٹے سے تیار کی جاتی ہے جن میں مکئی ، جوار، باجرہ، چاول اور سویابین شامل ہیں۔ مختلف آٹے ملا کر روٹی تیار کرنے سے نہ صرف روٹی کا ذائقہ بہتر ہو جاتا ہے بلکہ اس کی غذائیت بھی بڑھ جاتی ہے۔
روٹی میں جس قدر کم چکنائی شامل کی جائے گی۔ یہ اسی قدر آپ کے دل کے لیے مفید ہوگی۔ پچھلے چند برسوں سے چکنائی اور کولیسٹرول سے پاک روٹی کا استعمال تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ گھر میں چپاتی تیار کرتے ہوئے بھی بہتریہ ہے کہ آٹے میں گھی اور نمک شامل نہ کریں۔
ان چھڑے یا بھوسی سمیت ،براون چاول، ریشے کا زبردست ذریعہ ہیں۔ چھڑائی کے ذریعے ان کا چھلکا یعنی بھوسی اتار دی جاتی ہے۔ چنانچہ اس کا مفید جزو ضائع ہو جاتا ہے۔ کچھ ملکوں میں چاولوں کے چھلکے سے بنی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ جو ریشے کے مفید جزو سے مالامال ہوتی ہیں۔
ریشے دار غذائیں :
ریشہ دار غذاو¿ں کا زیادہ استعمال دل کی شریانوں کے مرض شوگر اور موٹاپے کے امکانات کو کم کردیتا ہے۔ حل ہو جانے والے ریشے بلڈ کولیسٹرول کو 10 سے 25 فیصد تک کم کردیتے ہیں۔ جن کا چھلکا حل ہو جانے والے ریشوں میں سرفہرست ہے۔ یہ کولیسٹرول کو اعضائے ہضم میں بہت کم جذب ہونے دیتا ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران مغربی ممالک میں جئی کے چھلکے کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔ اسپغول اعلی چھلکا رکھتا ہے۔ اس کا چھلکا برصغیر میں خوب دستیاب ہے۔ اسپغول کا چھلکا جئی کے چھلکے کے مقابلے میں کولیسٹرول کی مقدار کم کرنے میں 8 گنا زیادہ موثر ہے۔ عام طور پر تمام غلے اور اناج چھلکے رکھتے ہیں اور اسی خوبی کی بدولت دل کے لیے بہت مفید ہیں۔
بادام اور دیگر مغز :
بادام اور دیگر مغز چر بیلے تیزاب (چکنائی )اور پروٹین رکھتے ہیں۔ بادام میں مونو سیچوریٹڈ چکنائی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس طرح کی چکنائی کا استعمال مجموئی کولیسٹرول اور LDL کولیسٹرول کی سطح گرادیتا ہے۔ کیلی فورنیا میں کیے گئے ایک سروے کے دوران کچھ افراد کو چکنائی کے لیے بادام ،روغن بادام کا تیل استعمال کرایا گیا۔ چار ہفتوں کے بعد دیکھا گیا کہ مجموعی منفی کولیسٹرول (LDL) کی مقدار عورتوں اور مردوں دونوں میں کم ہو گئی تھی۔ اس تحقیقی سروے کے دوران دیگر اقسام کی چکنائیوں کا استعمال بہت کم رکھا گیا تھا۔ چنانچہ ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بادام کا استعمال کولیسٹرول کم کرنے کی تاثیر رکھتا ہے۔ عام طور پر روزانہ 10 سے 20 عدد بادام استعمال کرنا صحت کے لیے انتہائی موزوں ہے۔
باداموں کے علاوہ اخروٹ اور مونگ پھلی بھی مفید مغز ہیں۔ برصغیر میں لوگوں کی اکثریت بادام اور اخروٹ جیسے مہنگے مغز خریدنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ مونگ پھلی ان کے لیے بہترین متبادل ہے۔ مونگ پھلی کا تیل خشک چکنائی سے لبریز ہو تا ہے۔ اس لیے یہ دیسی گھی یا کسی بھی اور تر چکنائی سے زیادہ بہتر اور مفیدہے۔
نقصان دہ غذائیں :
لوگوں کی اکثریت میں مرغن (چکنائی والی ) اور کولیسٹرول سے لبریز غذائیں کھانے کارجحان پایا جاتا ہے۔ اس رجحان کے نتیجہ میں یہ لوگ شوگر، موٹاپے، ہائی بلڈ کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی شریانوں کے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ امراض پیدا کرنے والی غذائیں درج ذیل ہیں۔ ان سے گریز کیجئے اور جہاں تک ممکن ہے ان کا استعمال کم سے کم کیجئے۔
سرخ گوشت (RED MEAT) :
گوشت کی یہ قسم بھیڑ، بکری، گائے یا چھوٹے بڑے گوشت پر مشتمل ہے۔ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ان کا زیادہ استعمال دل کی بیماری کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔سرخ گوشت کا استعمال کبھی کبھار ہی کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس مرغی کا گوشت زیادہ استعمال میں لانا چاہیے۔ لیکن یہ تندوری یا کولوں پر بھنا ہونا چاہیے۔ گھی میں تلا ہوا یا بھنا ہوا مرغی کا گوشت اس لیے زیادہ مفید نہیں رہتا کہ اس میں چکنائی کی زیادہ مقدار شامل ہو جاتی ہے۔
انڈے اور پنیر :
انڈے کی سفیدی میں ایلیومن ہوتی ہے اور یہ انڈے میں پروٹین والا حصہ کہلاتی ہے۔ جبکہ زردی میں صرف کولیسٹرول ہوتے ہیں۔ ایک اوسط درجے کے انڈے میں 250 سے 300 ملی گرام کولیسٹرول ہوتے ہیں۔ چونکہ کولیسٹرول کا روزانہ حصول 300 ملی گرام سے زیادہ نہیں ہونا چاہے اس لیے روزانہ ایک سے زیادہ انڈے کھانا نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ دن بھر میں کولیسٹرول مہیا کرنے والی دیگر غذائیں بھی کھائی جاتی ہیں اس لیے روزانہ ایک انڈہ کھانا بھی مناسب نہیں۔ روز مرہ غذا میں کولیسٹرول کا حصول کم کرنے کے لیے بہتر یہی ہے کہ آپ انڈہ استعمال کرتے ہوئے اس میں سے زردی نکال دیں۔ صحت مند دل کے لیے ایک ہفتہ کے دوران تین یا چار انڈے کھانا ہی مناسب معمول ہے۔
پنیر میں پروٹین اور کیلوریز کی موجودگی اسے مرغوب غذا توبناتی ہے لیکن اس کی بہت زیادہ چکنائی اور کیلوریز کی مقدار ہی اسے مسائل پیدا کرنے کا سبب بناتی ہے۔ پنیران لوگوں کے لیے قطعی نامناسب ہے جو پہلے سے زیادہ وزن اور زیارہ کولیسٹرول کے مسئلہ کا شکار ہیں۔ اب مغربی ممالک میں کم چکنائی والا پنیر دستیاب ہے۔ اسے استعمال کرنا یقینا بہتر انتخاب ہے۔
کافی ،چائے اور کولا :
کیفین کا زیادہ استعمال کولیسٹرول لیول میں اضافہ کرتا ہے۔ اضطراب اور بے قاعدہ دھڑکنوں کا سبب بھی بنتا ہے۔ یہ مسائل صرف چائے اور کافی ہی نہیں بہت سے سافٹ ڈرنکس بھی پیدا کرتے ہیں۔
ناریل اور ناریل کا تیل :
ایک سو گرام ناریل میں 14 گرام چکنائی ہوتی ہے اور یہ زیادہ تر ،ترچکنائی پر مشتمل ہوتی ہے۔ ناریل اور پام کے تیل میں تر چکنائی کی مقدار اور بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے ان دونوں کے غذائی استعمال سے ممکن حد تک گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مقابلے میں کمبہ، سورج ،مکھی یا مونگ پھلی کا تیل زیادہ بہتر اور مفید ہے۔
دل کو صحت مند رکھنے کے لیے غذائی انتخاب بلاشبہ کولیسٹرول، چکنائی اور کیلوریز کو مد نظر رکھ کر کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں