کوا بنا موراور پٹا ہر طرف سے

crow-pic-crow

جنگل میں جانور اپنے اپنے جھنڈوں میں رہتے ہیں ۔ سب جانوروں کا اپنا رہن سہن ہوتا ہے اور بچوں سب اپنی اپنی ٹولیوں میں بٹے ہوئے ہیں کوئی کسی دوسرے کی ٹولی میںشامل نہیں ہوتا سب اپنے ہی رنگ میں رنگے ہوتے ہیں۔ ہاتھی کبھی شیروں سے نہیں ملتے اور شیر کبھی ہاتھیوں سے نہیں ملتے۔ اسی طرح گیدڑ ، بھالو، چمگادڑ، بلیاں ان سب کی اپنی اپنی دنیا ہے۔
پیارے بچو! جنگل میں رہنے والا ایک کوا روز اپنے ساتھیوں کے ساتھ پھر پھر کر بہت اداس ہوگیا وہ جنگل کی سیر کو نکلا کہ دیکھتے ہیں کہ باقی جنگل کیسا ہے اور وہاں باقی جانور کیسے رہتے ہیں ۔ کوا اڑتا اڑتا جنگل کے ایک ایسے حصے میں پہنچا جہاں پر بہت سے مور جمع تھے اور سب پروں کو پھیلا کر اپنے خوبصورت پر دیکھ کر خوش ہورہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔ کوا یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا اور موروں کو دیکھنے لگا ۔ان کے نیلے ہرے اور سنہری پر اسے بہت اچھے لگے۔
کوے نے دل ہی دل میں میں سوچاکہ موروں کے جوپر ادھرادھر گر رہے ہیںاگر میں جمع کر کے اپنے پروں پر لگالوں، تو میں بھی مور بن جاﺅں گا۔اور ان موروں میں شامل ہو کر رقص کا مزہ لوں گا۔ کوے نے یہ سوچ کر موروں کے گر جانے والے پر جمع کیے۔ اپنے پروں میںلگائے اورپھرموروں میں جا کر انہی کی طرح رقص کرنے کی کوشش کرنے لگا۔اب کوا مزے سے رقص میں شریک تھا اوربھرپور انجوائے کررہا تھا۔ لیکن شامت تو آتی تھی۔
تو بچو!جب مورناچ رہے تھے تو دوران رقص موروں نے اپنی مخصوص آوازمیں گنگنانا شروع کیا، تو کوے نے بھی چاہا کہ وہ ان کی طرح گائے۔ اس نے موروں کی طرح گنگنانے کے لئے اپنی چونچ کھولی تو وہ موروں کی آواز تو نہ نکال سکا البتہ اس کی چونچ سے کائیںکائیں کی آوازیں نکلنے لگیں۔ کائیںکائیں کی آواز سن کر سب مور چونک پڑے اوراس کی طرف دیکھنے لگے۔ اب کیا تھاسب کہنے لگے ارے یہ تو کوا ہے ہمارے پرلگا کر ہمارے درمیان آگیا ہے۔ یہ کہہ کرسب موروں نے اس کوے کو گھیر لیااورخوب پٹائی کرنے لگے۔ کوے نے جب یہ دیکھا کہ راز کھل گیا ہے تو وہ موروں سے جان بچا کر اڑا اور واپس اپنے ہم جولیوﺅں میں آگیا لیکن جب قسمت ہاری ہو تو سب طرف سے مار پڑتی ہے۔ ہوا یہ کہ جب کوﺅں نے اسے دیکھا تو پہچان نہ سکے اور سمجھے کہ یہ کوئی موران کے درمیان آگیا ہے۔ سب کوے اس کو دیکھ کرکہنے لگے یہ کوا نہیں ہے، اس کے پرتو مور کے سے ہیں۔ یہ ہم میںکیوںآیا ہے؟ یہ کہہ کر سب کوﺅں نے ٹھونگیں مار مار کر اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
اپنے ساتھی کوﺅں کے حملے کی وجہ سے کوا انہیں یہ بھی نہیں بتا سکا کہ وہ مور نہیں بلکہ ان کا ساتھی کوا ہے۔ لہٰذا ہوا یہ کہ کوا بے چارہ نہ مور بن سکا اور نہ کوﺅں میں رہا۔ آخر اس نے جنگل کے ایک کونے میں پناہ لی اور مایوس ہو کر موروں کے سارے پر جھاڑ دئیے اورکوﺅں میں واپس آکر رہنے لگا۔
تو پیارے بچو! اس کہانی سے ہم نے یہ سیکھا ہے کہ ہمیں دوسروں کی نقل کرنے کی بجائے اپنی شخصیت کو اپنی اچھی عادتوں سے بہتر بنانا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے جس خوبی کے ساتھ آپ کو پیدا کیا ہے آپ نے اس کو پہچاننا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا نہ کہ دوسروں کی نقل کرنی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں