کوئٹہ کے خوبصورت مقامات میں شامل ہنہ جھیل

Hanna-jheel

پاکستان اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ایک ایسا ملک ہے جس میں ہر طرح کے موسم اور قدرتی مناظر بھرے ہوئے ہیں۔اس کے صوبوں میں رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے، بلوچستان میں سیاحت کو زیادہ فروغ نہیں مل سکا،اس کی متعدد وجوہات ہیں۔بلوچستان کی تاریخ صدیوں پر مشتمل ہے یہاں پر ایسے درجنوں تفریحی مقامات موجود ہیں، جو اپنی کشش اور دلکشی کے اعتبار سے پاکستان کے کسی مشہور تفریحی مقام سے کم نہیں۔ قائداعظم کے آخری دن بلوچستان میں زیارت کے مقام پر ہی گزر ے تھے کیونکہ یہ پر بلوچستان کا پر فضا مقام ہے۔بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ہے ۔ اگر کوئٹہ کے تفریحی مقامات کی بات کی جائے، تو وادیٔ اُڑک کے خُوبصورت مقامات، ولی تنگی ڈیم اور ہنہ جھیل کی سیر کے لیے سیاح دُور دُور سے آتے ہیں۔ وادیٔ اُڑک کی ہنہ جھیل قدرتی حُسن کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے مشرق میں کوہ زرغون ہے۔
پھلوں کے باغات سے آراستہ اس وادی میں پانی ہنہ جھیل میں جمع ہوتا ہے اور جب کوہِ زرغون کی اوٹ سے طلوع ہونے والا سورج ہنہ جھیل کے گرد واقع پہاڑیوں میں غروب ہونے لگتا ہے، تو اس کی کرنیں نیلگوں پانی میں سنہرا رنگ بھر دیتی ہیں۔ وادیٔ اُڑک میں ولی تنگی کے نام سے مشہور ایک چھوٹا سا ڈیم بھی واقع ہے۔ یہ کوئٹہ سے 20کلو میٹر کے فاصلے پر مشرق میں سطح سمندر سے 8,350فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں پر سیاحوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے جو ا س کی خوبصورتی کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔
ہنہ جھیل کے بارے میں مشہور ہے کہ پہاڑوں پر پگھلنے والی برف اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کر کے چھائونی میں پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 20ویں صدی کے اوائل میں برطانوی حکومت نے ایک بند تعمیر کر کے اسے جھیل کی شکل دی۔ بند کی تعمیر 1901ء میں شروع ہوئی اور 1908ء میں اس کی تکمیل کے بعد اسے جھیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ بند کے ساتھ ہی موجودہ کلی حاجی عطا محمد کے مقام پر ایک ہیڈ ورکس بھی تعمیر کیا گیا، جسے ’’سرپل‘‘ کہا جاتا ہے ۔ یہاں سے تقریباً ایک کلو میٹر طویل نہر کے ذریعے ہنہ ندی کا پانی جھیل تک پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔ ہنہ جھیل کے نام کے حوالے سے بھی متضاد روایات ہیں۔ بعض دستاویزات کے مطابق، یہ جھیل برطانوی جنرل، جیک اینڈرسن کی بیگم کے نام سے منسوب ہے، جبکہ بعض مقامی باشندوں کے مطابق، وادیٔ ہنہ میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کا نام ہنہ جھیل پڑا اور اس وادی کا ذکر، احمد شاہ ابدالی کے زمانے کی تاریخ میں بھی موجود ہے۔ برطانوی حکومت نے ہنہ ندی سے پائپ لائن کے ذریعے چھائونی کو پانی مہیا کیا تھا اور اس پائپ لائن کا ذکر بلوچستان کے تاریخی گزیٹیر میں بھی موجود ہے۔ ماضی میں ہنہ جھیل کوئٹہ کے مضافات میں واقع، نواں کلی سے ملحقہ کلی کوٹوال اور کلی ترین شار میں موجود باغات کو سیراب کرتی تھی۔
ہنہ جھیل 818ایکڑ پر محیط اور 49فٹ گہری ہے اور اس میں کم و بیش 22کروڑ 20لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں سیاحوں کے لیے واٹر اسپورٹس کی سہولتیں اور جھیل کی سیر سے لطف اندوز ہونے کے لیے کشتیاں بھی موجود ہیں۔ ہنہ جھیل اور وادیٔ اُڑک کے قدرتی نظاروں کو دیکھنے کے بعد عقل انسانی اپنے پروردگار کے جمالیاتی ذوق پر دنگ رہ جاتی ہے۔ جھیل کی چاروں جانب بلند و بالا پہاڑ واقع ہیں، جن کے درمیان یہ ایک بہت بڑے پیالے کی مانند دکھائی دیتی ہے۔ موسمِ سرما میں ہونے والی بارشوں اور برف باری کی بدولت یہ سارا سال پانی سے بھری رہتی ہے، جسے اطراف میں پھیلے کھیتوں اور باغات تک پہنچایا جاتا ہے۔ یوں اس جھیل کو سیاحت کے علاوہ زراعت اور باغ بانی کے لحاظ سے بھی اہمیت حاصل ہے۔
سڑک اور جھیل کے درمیان ایک جنگلا نصب کیا گیا ہے۔ اصل جھیل سڑک سے تقریباً 30فٹ نیچے واقع ہے اور سڑک اور جھیل کے درمیان موجود ڈھلوان سطح پر سیّاحوں کے لیے سیڑھیاں، راہ داریاں اور ایک پختہ سائبان بنایا گیا ہے۔ جھیل میں کشتی رانی کا انتظام بھی کیا گیا ہے، لیکن نجی کشتیاں چلانے کی بجائے ترقیاتی ادارے ہی کے زیر اہتمام کشتیاں اور موٹر بوٹس چلائی جاتی ہیں ، جو سیاحوں کو نہ صرف جھیل بلکہ اُس کے وسط میں واقع جزیرے کی بھی سیر کرواتی ہیں۔ جھیل پر ہر موسم میں سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے۔ سیاح موسم سرما میں برف باری کے نظارے کے لیے یہاں کا رُخ کرتے ہیں، کیونکہ برف باری کے موسم میں اس جھیل کی دل کشی مزید بڑھ جاتی ہے۔
ہنہ جھیل میں سیاحوں کے ہجوم کی بنا پر یہاں کی جانے والی سرمایہ کاری منافع بخش ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اب سے پہلے اس جانب توجّہ نہیں دی گئی۔ ہنہ جھیل پر، آنے والے بچوں کے لیے نہایت عمدہ تفریحی پارکس کے قیام کے علاوہ کئی اقسام کے جُھولے بھی لگائے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں جھیل کو بڑی حد تک ایک مکمل تفریح گاہ اور اچھے سیاحتی مرکز کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ سیاحوں کیلئے یہاں ہوٹل یا چند کاٹیجز تعمیر کر دئیے جائیں، تو جھیل کو چار چاند لگ جائیں گے۔ یہاں دن رات سیاحوں کا ہجوم لگا رہے گا اور کوئٹہ کے شہریوں کو بھی ایک شاندار پکنک پوائنٹ ملنے کے علاوہ بہت سے لوگوں کا روزگار بھی شروع ہو جائے گا۔
سیاحت کے فروغ کیلئے ضروری ہے کہ جہاں پر سیاح جا رہا ہے وہاں اسے مکمل طور پر تحفظ ملے۔ اسے رہنے اور کھانے کی تمام سہولیات میسر ہوں۔ بلوچستان بدامنی کے بعد اب امن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ شہریوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ہاں کاروبار کے مواقع بڑھانے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کیلئے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں کیونکہ بلوچستان جتنا خوبصورت ہے ۔ا س کی اگر آدھی خوبصورتی ہی ہم دنیا کو دکھا دیں تو یہاں پر سیاحوں کی آمد اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ لوگوں کو روزگار کے شاندار مواقعوں کے ساتھ ساتھ بہترین زندگی گزارنے کا بھی موقع ملے گا۔
بلوچستان میں تاریخ بھی چھپی ہوئی ہے، وہاں پر مذہبی ، ثقافتی اور قدرتی سیاحت کے اس قدر مواقع موجود ہیں کہ جو شخص ایک دفعہ بلوچستان میں ان کو دیکھ لیتا ہے وہ زندگی بھر ان کا گروید ہ رہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں