کسی کی ترقی دیکھ کر حسد نہیں کرتے

children story

پیارے بچو!یہ برسوں پرانی بات ہے ایک گائوں میں دو بھائی رہا کرتے تھے۔ چھوٹے کے پاس دو گائے تھیں وہ گائوں میں دودھ بیچا کرتا تھا اور بڑا دودھ سے گھی بنا کر بیچا کر تا تھا۔ (یہ اس زمانے کی بات ہے جب ڈالڈگھی نہیں ہوا کرتا تھا صرف دیسی گھی ہی گھروں میں استعمال کیا جاتا تھا) ۔
دودھ سے گھی بنانے والے بڑے بھائی نے چھوٹی سطح پرگھی بنانے کا کام شروع کیا، وہ اپنے بھائی سے دودھ خریدتا اور اس کا گھی بنا کر بازار میں بیچ آتا کیونکہ وہ ایمانداری سے گھی بناتا تھا تو دیکھتے ہی دیکھتے اس کا گھی بھی زیادہ بکنے لگااور ایک مٹھائی والے نے اس سے مستقل گھی خریدنا شروع کر دیا۔
تو پیارے بچو!اب زیادہ گھی بنانے کیلئے زیادہ دودھ کی ضرورت تھی، اس نے اپنے چھوٹے بھائی سے زیادہ دودھ کا مطالبہ کیا، جس پر چھوٹے بھائی کی بیوی نے کہا کہ تمہارا بھائی اچھے پیسے کما رہا ہے ، ہم بھی کیوں نہ تھوڑا سا دودھ میں پانی ملا کر اسے دودھ بیچا کریں ہمیں بھی چار پیسے مل جائیں گے۔ اب پانی ملا دودھ گوالہ اپنے بڑے بھائی کو بیچنے لگ پڑا، پھر کیا تھا گھی کا معیار کرنے لگ پڑا اور آہستہ آہستہ گاہک بھی کم ہونے لگے جس کی بڑے بھائی کو سمجھ نہیں آرہی تھی۔ وہ پریشان تھا میرے گھی میں کیا خرابی ہو رہی ہے جو گاہک دن بدن کم ہو رہے ہیں۔ مٹھائی والے نے جب اس سے شکایت کی کہ تمہارے گھی کا معیار گر رہا ہے اگر ایسا ہی رہا تو میں گھی نہیں خریدو ں گا، جس پر وہ بہت رنجیدہ ہوا۔
وہ پریشانی کی حالت میں جب بے موقع اپنے بھائی کے گھر میں پہنچا تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ اس کا بھائی اور بھابھی دودھ میں پانی ملا رہے ہیں۔ (پرانے زمانے میں دودھ میں پانی ملانا بہت برا سمجھا جاتا تھا،برا تو اب بھی سمجھا جاتا ہے لیکن اب خالص تو شاید بھینس کے بچے کو بھی نہ ملتا ہو)۔
تو بچو! یہ دیکھ کر اس کو ساری سمجھ آگئی ، اس نے جو پیسے جمع کیے ہوئے تھے، اس سے اس نے اپنی بھینس خریدی اور خود اپنے کاروبار کو نئے سرے سے شروع کیا۔
پیارے بچو!جانتے ہو اس کا گھی دوبارہ سے زیادہ بکنا شروع ہوگیا ،اس نے بازار میں ایک چھوٹی دکان خریدلی اور پھر وہ دکان آہستہ آہستہ بڑی ہو گئی اور اسی دوران گائوں میں چھوٹے بھائی کا بھانڈا پھوٹ گیا کہ وہ دودھ میں پانی ملاتا ہے ، اب اس سے کوئی دودھ نہیں خریدتا تھا ۔
اب چھوٹا بھائی پریشانی کے عالم میں بڑ ے بھائی کے پاس نوکری مانگنے کیلئے آیا ، بڑے نے بڑا دل دکھا کر اسے معاف کر دیا اور نوکری پر رکھ کر اسے ایک نصیحت کی جو ہم سب کے لیے ساری زندگی کام آئے گی۔
بھائی کسی کی ترقی کو دیکھ کر حسد نہیںکرتے بلکہ خود کامیابی کیلئے کوشش کرتے ہیں ۔رزق دینےوالا اللہ ہے وہ جسے چاہتا ہے جتنا چاہتا رزق عنایت فرماتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں