کرونا وبا کے ساتھ ہیٹ سٹروک بھی، بس احتیاط ضروری ہے

heat_stroke
EjazNews

گرمی بڑھ جانے سے مستقبل میں کیا ہوگا؟
ممکنہ اثرات کی شدت کا اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم تبدیلیوں کے نتیجے میں صاف پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔خوراک کی پیداوار کے حالات میں بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں ۔سیلابوں، طوفانوں، گرمی اور قحط سے ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے شدید موسمی حالات کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے ۔موسم تبدیل ہو جانے سے پھول وقت سے پہلے کھل رہے ہیں۔مجموعی طور پر بارشوں میں اضافہ ہو جائے گا لیکن سمندر سے دور علاقوں میں خشک سالی ہو گی اور موسمِ گرما کا دورانیہ بڑھ جائے گا۔ سمندر کی سطح میں اضافے کی وجہ سے طوفان اور سیلاب آنے کا خطرہ بڑھ جائے گا، تاہم دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف اثرات دیکھنے کو ملیں گے۔زیادہ اثر غریب ملکوں پر پڑے گا جہاں اس تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے وسائل کی کمی ہے۔موسم یک لخت تبدیل ہونے کی وجہ سے جانداروں کی بہت سی نسلیں ناپید ہو جائیں گی۔عالمی ادار صحت نے خبردار کیا ہے کہ ملیریا، پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور قحط سالی سے لاکھوں لوگ موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔٭سمندروں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے جذب ہونے سے ان کی تیزابیت بڑھ جائے گی۔ اس سے سمندری حیات پر مضر اثرات مرتب ہوں گے۔
گرمی میں صحت کے حوالے سے ا حتیاط اور تدابیر
کھانے پینے کے حوالے سے گرمی میںزیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ زیادہ پانی کے استعمال سے جسم کی نوے فیصد بیماریوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ پانی سے آنتوں میں نمی برقرار رہتی ہے جس سے آنتوں کی خشکی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے ،اس کے علاوہ پانی جسم کی توانائی بحال رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔غذا میں ریشہ دار اشیاء اور فائبر شامل کرنے سے نظام ہضم بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ پھل، سبزی اور اناج ہضم کرنے میں آسان ہوتے ہیں اور معدے کو زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑتی۔ فائبر قبض کی شکایت بھی دور کرتا ہے۔مرغن اور کھٹی غذائوں کا استعمال کم کر دینا چاہیے، یہ معدے میں تیزابیت کا باعث بن سکتی ہیں۔ زیادہ گوشت کھانے سے بھی پیٹ خراب ہوجاتا ہے۔ گرمی جسم سے پانی نچوڑ لیتی ہے، اس موسم میں چکنائی سے بھرپور اجزاء کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ غذا میں موجود چکنائی نہ صرف ہضم کرنے میں مشکل ہوتی ہے بلکہ پانی کی کمی اسے ناممکن بنا دیتی ہے۔ نتیجے میں موٹاپے اور کولیسٹرول جیسے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ٹھیلوں کی غیرمعیاری ٹھوس غذائیں اور مشروبات استعمال نہ کریں۔ حفظانِ صحت کے اصولوں کے برعکس تیار کردہ چاٹ، بیسن کے پکوڑے، سموسے وغیرہ، اورگنے، تربوز یا لیموں وغیرہ کے جوس کا استعمال انتہائی مضر ہے۔کافی تاثیر میں گرم ہوتی ہے۔ اس کا استعمال کم کرناچاہیے ، گرمی میں کافی کا استعمال پیٹ کے السر اور معدے میں تیزابیت پیدا کرتا ہے۔ گھر سے باہر کھانا کھانے سے پرہیز کریں۔ صرف گھر کا بنا صاف کھانا کھائیں۔باسی کھانا کھانے سے گریز کریں۔
گرمی کے سبب ہونے والی بیماریاں
شدید گرم موسم انسان کو سست اور نڈھال کردیتا ہے ،یہ جسم سے توانائی چھین لیتا ہے اور قوت مدافعت کومتاثر کرتا ہے۔ شدید گرمی بچوں اور عمررسیدہ افراد کو زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس میں بھوک بھی کم لگتی ہے اورپسینے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے ۔ گرمی سے ہونے والی اہم بیماریاں درج ذیل ہیں:۔
ہیٹ اسٹروک یا لو لگنا( Heat stroke): گرمی سے ہونے والی یہ سب سے سنگین بیماری ہے جسے سن اسٹروک یا سرسام بھی کہتے ہیں ،اس سے زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے،ہیٹ اسٹروک کی وجوہات میں خشک اور گرم موسم میں پانی پیئے بغیر محنت و مشقت یا ورزش کرنا، جسم میں پانی کی کمی، ذیابیطس کا بڑھ جانا اور دھوپ میں براہ راست زیادہ دیر رہنا ہے۔ اس میںجلد خشک اور سرخ ہو جاتی ہے اور اکثر دانے نکل آتے ہیں۔ جسم کا درجہ حرارت 104 ڈگری فارن ہائیٹ(40سینٹی گریڈ) سے بڑھ جا تا ہے، دیگر علامات میں غشی طاری ہونا ، جسم سے پسینے کا اخراج رک جانا، پٹھوں کا درد، سر میں شدید درد اورمتلی ،نبض کی رفتارمیں تیزی، سانس لینے میں مشکل، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جانا اور کومے میں چلے جانا شامل ہے۔ اگر جسم کا درجہ حرارت کم کرنے کا بروقت انتظام نہ کیا جائے تو ہیٹ اسٹروک دماغ سمیت جسم کے اہم حصوں کو مستقل تباہ کردیتا ہے جس کا نتیجہ موت کی شکل میں نکلتا ہے۔بھارت میں ہیٹ اسٹروک سے ہلاکتوں میں61فی صد اضافہ ہوا۔1979کے بعد گرمی سے نو ہزار امریکی ہلاک ہوئے۔ امریکا میں ہر دس لاکھ میں ایک موت گرمی سے ہوتی ہے۔گرمی سے شدید تھکاوٹ( ہیٹ ایگزاشن)Heat exhaustion:گرمی میں کسی جسمانی مشقت کے نتیجے زیادہ پسینہ خارج ہونے سے پانی اور نمکیات کی شدید کمی ہو جاتی ہے۔ اگرچہ اس میں زندگی کے لیے فوری خطرہ نہیں ہوتا کیونکہ اس میں جسم کا درجہ حرارت معمول کے مطابق رہتا ہے یا معمولی اضافہ ہوتا ہے، تاہم104فارن ہائیٹ سے اوپر نہیں جاتا۔اس میں جسم کا رنگ زرد، پٹھوں کو درد ،تھکاوٹ اور کمزوری ،سستی اور سر میں درد، سخت پیاس ، بھوک نہ لگنا، چکر آتے اور بے چینی ہوتی ہے ۔ ہیٹ ساینکوپ(بے ہوشی)Heat syncope:گرمی میں یہ عارضہ زیادہ دیر تک کھڑے رہنے یا جسمانی مشقت کرنے سے ہوتا ہے یا لیٹے اور بیٹھے فوراً کھڑے ہونے سے بے ہوشی کا دورہ پڑتا ہے۔اس حالت میں ڈی ہائڈریشن کا بھی دخل ہوتا ہے۔ ہیٹ ریش:Heat rash :موسم گرما میں جلد پر سرخی مائل دانے بن جاتے ہیں ،یہ جلد پر خارش اور پسینے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔یہ کسی بھی عمر کے فرد کوہوسکتے ہیں۔ہیٹ کریمپس: Heat cramps گرمی میں جسمانی مشقت سے نمک اور پانی کی کمی کی وجہ پٹھے اکڑ جاتے ہیں جس سے پیٹ، بازوپنڈلیوں میں درد ہوتا ہے۔ہیٹ ایڈیماHeat edema: اس میں ہاتھوں اور پاؤں میں سوجن ہو جاتی ہے۔ گرمی سے خون کی شریانیں پھیل جاتی ہیں۔ہیٹ ٹی ٹینی:Heat tetany: شدید گرم موسم میں تناؤ کی کیفیت ہو جاتی ہے، تاہم یہ مختصر عرصے تک کیفیت رہتی ہے۔اس حالت میں سانس لینے میں تیزی یا سانس لینے میں مشکلات پیش آتی ہیں،اس میں انسان حواس کھوبیٹھتا ہے ۔
گرمی کی وجہ سے ان عارضوں کا بھی شدید خطرہ رہتا ہے :۔
پیٹ کی بیماریوں میںسے ایک گیسٹرو ہے ،یہ پیٹ اور آنتوں میں ہونے والا ایک انفیکشن ہے جس میں قے، پیچس اور پیٹ میں درد کی شکایت ہوتی ہے۔ اگر یہ زیادہ بڑھ جائے تو ڈائیریا یعنی اسہال کی بیماری میں تبدیل ہوسکتی ہے۔عارضہ قلب کا شکار افراد کوگرمیوں میں دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے خون گاڑھا ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے دل کے لیے اسے پمپ کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ گرمی میں یرقان کی بیماری عام ہے۔ یہ جگر کے انفیکشن سے ہوتی ہے۔ اس میں ظاہر ہونے والی علامات زرد رنگت اور زرد آنکھیں، متلی اور منہ کے ذائقہ میں کڑواہٹ ہیں۔ ٹائیفائیڈ اونچے درجے کا بخار ہوتا ہے جس میں جسمانی تھکن اور کمزوری مرکزی علامات ہیں۔ اس کے علاوہ پیٹ میں درد، سردرد، پیچس بھی شامل ہیں۔ زہر خورانی خراب غذا کھانے سے ہوتی ہے۔ یہ ناقص غذا کھانے کے چھ سے آٹھ گھنٹوں کے درمیان نمودار ہونے والا انفیکشن ہے۔ ذیابیطس کے مریض بھی خطرے کی زد میں ہوتے ہیں، کیونکہ زیادہ پیشاب آنا ایک عام علامت ہے، اس لیے گرم موسم میں جسم سے پانی کا اخراج زیادہ ہوتا ہے۔ جلد پر پھوڑے پھنسیاں نکل آتی ہیں، جن میں جلن اور خارش ہوتی ہے۔گلے اور آنکھوں کا انفیکشن کا خطرہ رہتا ہے، یورین انفیکیشن کا مسئلہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں