کرونا وائرس چین میں قابو آرہا ہے اور چین سے باہر خطرات کی گھنٹی بج رہی ہے

corona_virus

کرونا وائرس چین میں تو قابو آتا جارہا ہے لیکن چین کے باہر اس کا پھیلائو تشویشناک صورتحال پیدا کررہاہے۔ ایران، اٹلی، کوریا میں ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔
چین میں ہلاک ہونے والوں افراد کی تعداد 25سو سے زائد ہو چکی ہے جبکہ 77ہزارسے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہیں ۔ جن میں 9ہزار سے زائد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ چین بدلتے موسم میں اس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے تمام یونیورسٹیوں کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ تاکہ اس کے پھیلائو کو روکا جاسکے۔
ایران میں کرونا وائرس کا پھیلائو پوری دنیا میں تشویش کی ایک لہر دوڑا رہا ہے کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہاں پر مریضوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور ہلاکتوں کی بھی۔ اقوام متحدہ کے صحت عامہ کے یونٹ نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس وائرس کے متعلق ڈاکٹر غلام صدیق بتاتے ہیں کہ یہ آٹھ ہزار سال پہلے سے ہے۔ اس وائرس کے متعلق انسانوں کو 1960ء سے پتہ چل چکا تھا جب پہلی دفعہ اس کا انفیکشن سامنے آیا تھا۔ اس کی سات اقسام ہیں اور یہ ساتویں قسم چین میں ہم دیکھ رہے ہیںجو کرونا وائرس کی شکل میں ہیں۔اس کی جو پہلے ہم دو قسمیں جانتے ہیں ان میں ایک سارس (sars)ہے اور دوسری انسانو ں میں وبائی شکل اختیار کر گئی تھی وہ تھی مرس۔ اس کا پھیلائو ہم مڈل ایسٹ میں دیکھ چکے ہیں۔کروانا وائرس نزلہ ، زکام ، فلو سے شروع ہوتا ہے اور موجودہ کروانا وائرس کو نوول کرونا وائرس کہتے ہیں ۔

کرونا وائرس کے متعلق کیا گیا ڈاکٹر غلام صدیق اور ڈاکٹر محبوب عالم کا انٹرویو

تائیوان میں ایک مریض کے ہلاک ہونے کی خبر آچکی ہے ۔جبکہ ہانک کانگ ، مکائو اور تائیوان میں کچھ مریضوں کو صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتالوں سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
ایرا ن میں اس وائرس کا پھیلائو پاکستان کیلئے اور بھی خطرناک ہے کیونکہ چین میں تو صرف پاکستانی طالب علم پڑھنے جاتے تھے اور وہاں سے لوگ کام کرنے پاکستان آتے ہیں لیکن ایران کے معاملے میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں سے زائرین اور کاروباری لوگ بلوچستان کے ایران سے منسلک بارڈر پرلوگوںکی آمدو رفت ہے۔ رشتہ داریاں ہیں، وقتی طور پر اس بارڈر کو بند کیا گیا ہے۔
کرونا وائرس چین میں تو قابو میں آتا جارہا ہے لیکن چین سے باہر کے لوگوں کیلئے یہ خطرناک ہے ۔ اس لیے اس کو ایک عام سی بیماری یا آسان نہیں لینا چاہیے کیونکہ اس کی سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ یہ جانوروں سے انسانوں کو نہیں لگ رہا بلکہ انسانوں سے انسانوں کو لگ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں