کرونا وائرس سے متعلق پہلے دن اگر کسی ملک کی حکومت میں کنفیوژن نہیں تھی تو وہ ہماری حکومت تھی:وزیراعظم

imran_khan_Na
EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ 31جنوری سے ٹڈی دل کے حملوں کو ایمرجنسی ڈیکلیئر کیا تھا اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ٹڈی دل پر قابو پانے سے متعلق اخراجات کے لیے مکمل اختیارات دئیے تھے۔ ٹڈی دل پاکستان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے برطانیہ سے آنے والی سپلائیز رک گئیں۔کئی چیزیں ہماری ہاتھ میں نہیں، افریقہ سے غیر معمولی جھنڈ آرہے ہیں جبکہ ایران اور بھارت سے بھی ٹڈی دل کا خطرہ ہے، ہم اس پر قابو پانے کی کوششیں کررہے ہیں۔
ملک میں کرونا وائرس کے 26 کیسز سامنے آنے پر لاک ڈاؤن کیا گیا تھا اس وقت اس سے کوئی اموات نہیں ہوئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ چین کے شہر ووہان اور یورپ کے منظرنامے کو دیکھتے ہوئے صوبوں نے لاک ڈاؤن شروع کیا اور اپنے اقدامات اٹھائے اس وقت کوئی مرکزی منصوبہ بندی نہیں تھی۔ مجھے اور میری ٹیم کو پہلے روز سے خدشہ تھا کہ اگر ہم ووہان اور مغربی ممالک کے نقش قدم پر چلے تو مشکل ہوجائے گی، پاکستان اور بھارت کی صورتحال ان سے بہت مختلف تھی۔ نیوزی لینڈ میں سماجی فاصلے کی مثال دی جاتی ہے وہاں تو ویسے ہی سماجی فاصلہ ہے، ان کی آبادی پھیلی ہوئی ہے جبکہ پاکستان میں گنجان آبادی، کچی بستیاں، غریب افراد ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے پہلے روز ہی اس پر بات کی تھی کہ ہمیں دہرے مسائل درپیش ہیں ایک طرف ہمیں لوگوں کو کرونا سے جبکہ دوسری طرف انہیں بھوک سے بچانا ہے۔
کچھ لوگوں نے کہا کہ مزید سخت لاک ڈاؤن کرنا چاہیے تھا جس پر شروع میں ہم نے بہت تنقید بھی برداشت کی، مجھ پر بہت دباؤ تھا اور کابینہ میں موجود افراد سمجھتے تھے کہ ہم نے ویسا لاک ڈاؤن نہیں کیا جیسا ہونا چاہیے تھا، ویسا لاک ڈاؤن بھارت نے کیا۔ اب ہمارے پاس اپنا ڈیٹا آچکا ہے پہلے ہر ملک اپنے طریقے سے اس وبا کو دیکھ رہا تھا، کسی کو اندازہ نہیں تھا، برطانیہ نے پہلے لاک ڈاؤن نہیں کیا جب کیسز بڑھے تو کیا، برازیل نے لاک ڈاؤن نہیں کیا اور آج وہاں 50 ہزار لوگ مرچکے ہیں۔بار بار کہا جارہا ہے کہ کنفیوژن تھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے دن اگر کسی ملک کی حکومت میں کنفیوژن نہیں تھی تو وہ ہماری حکومت تھی۔ ہم نے 13 مارچ کو لاک ڈاؤن کیا تھا، 13 مارچ سے لے کر آج تک میرا کوئی بیان بتادیں جس میں تضاد ہو، میں چیلنج کرتا ہوں، جو میں 13مارچ سے کہہ رہا تھا وہی کہہ رہا ہوں۔ اگر ملک میں سنگاپور جتنی آبادی ہے، 50 ہزار پر کیپٹا انکم ہے، قدرتی سماجی فاصلہ موجود ہے تو وائرس کو روکنے کے لیے سب سے بہترین چیز یہ ہے کرفیو لگادیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں