کرونا وائرس:سختیوں کے باوجودجدید دنیا کے لوگ ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر رہے

coronavirus
EjazNews

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد6 لاکھ 238 سے زائد ہو گئی ہے جبکہ وائرس کے باعث 28ہزار 240 سے زائد افراد کی اموات ہو چکی ہے اور صحت یاب مریضوں کی تعداد 1 لاکھ 37 ہزار329 سے بڑ ھ چکی ہے۔ دنیا اس کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے تئیں تمام جتن کر رہی ہے اور کرنے بھی چاہیے۔ لیکن یہ بہت عام دیکھا جارہا ہے کہ عوامی شعور اس معاملے میں اس نوعیت کا نہیں ہے جس کی توقع کی جارہی ہے۔یہ بد احتیاطی صرف ان ممالک میں نہیں جو غریب ہیں یا ترقی پذیر ہیں ان میں برتی جارہی ہے بلکہ یہ بد احتیاطی زیاد ہ تر امیر ممالک میں کی جارہی ہے جس کے عوام اس کو خاطر میں نہیں لا رہے اور وہاں اس کی وجہ سے سب سے زیادہ ہلاکتیں بھی ہو رہی ہیں اور پابندیاں بھی سخت کی جارہی ہیں۔ اس وائرس نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود کشمیر اور فلسطین دو ایسے خطے ہیں جہاں پر انسان آج بھی قید کی زندگی گزار رہے ہیں وہاں پر اس سے کیا صورتحال ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس کے متاثرین کیلئے کیا کیا جارہا ہے یا پھر وہاں کے لوگوں کو اس وائرس کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے کسی کو معلوم نہیں ہے وہاں پر پہلے بھی لوگ قید کی زندگی گزار رہے تھے اور آج بھی قید ہی میں ہے۔ صحت کی سہولتیں پہلے بھی نہیں تھیں اب تو پورا انڈیا بذات خود لاک ڈاؤن ہے۔ ان بیچاروں کا کیا بن رہا ہے کسی کو معلوم نہیں ہے۔جن ممالک کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہیں ان کے بارے میں آپ کو آگاہ کر تے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا پر جاری خبروں کے مطابق کرونا وائرس کے خطرے کے باعث جنوبی افریقہ میں بھی لاک ڈاؤن ہے تاہم عوام کو گھروں تک محدود کرنے میں انتظامیہ کسی حد تک ناکام نظر آتی ہے۔ افریقی پولیس گشت کے دوران عوامی مراکز پرجمع ہونے والے افراد پر ربڑ کی گولیاں فائر کر رہی ہے تاکہ وہ خوف کے باعث گھروں میں خود کو محفوظ رکھیں۔ لیکن اس کے باوجود عوام مہلک وائرس کی ہولناکی سنجیدہ نہیں لے رہے۔ جبکہ پولیس ربڑ کی گولیاں برسا کر عوام کو منتشر کر رہی ہے تاکہ عوام گھر کے اندر محسور رہیں اور باہر نہ نکلیں اور اگر نکلیں بھی تو اکٹھے نہ ہوں بلکہ علیحد علیحدہ رہیں۔
بھارت میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد بڑھ کر873 ہو گئی ہے جبکہ19 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ جبکہ ماہرین اس بات کا اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بھارت میں مریضوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے بھارت میں بھی لاک ڈاؤن ہے۔
برطانیہ میں گزشتہ روز وزیراعظم بورس جانسن میں کرونا وائرس کا سامنے آنا انتہائی تشویشناک تھا۔ ان سے پہلے شہزادہ چارلس بھی اس سے متاثر ہو چکے تھے۔ دوسری جانب وائرس سے متاثرین کی روز تعداد بڑھ رہی ہے۔برطانیہ کی بڑی شخصیات کا اس وائرس میں مبتلا ہونا خطرناک ہے کیونکہ اس وائرس کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ یہ وائرس ٹھیک ہونے کے باوجود متاثرہ شخص کو دوبارہ متاثر کر سکتا ہے۔
متحدہ عرب عمارات کی جانب سے جو خبریں سامنے آرہی ہیں ان کے مطابق کسی بھی مقامی یا غیر مقامی شخص کو کرونا کے متعلق ہدایات پر عمل نہ کرنے پر کم از کم پانچ سو ریال اور زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار ریال جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص مسلسل خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تو اس کیلئے عمارات نے اس سے بھی کڑی سزا تجویز کی ہے۔
عرب میڈیا پر جاری رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے کرونا وائرس سے لڑنے کیلئے سختیوں میں مزیداضافہ کر دیا ہے۔ نئی پابندیوں کے تحت تمام شہریوں کو چوبیس گھنٹے گھروں میں رہنے کی تلقین کی گئی ہے جبکہ رہائشیوں کو کھانے پینے کی اشیا خریدنے کیلئے گھر سے نکلنے کی اجازت ہے۔ مدینہ منورہ میں کرفیو کادورانیہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔
امریکی نے اپنے ہاں ایک لاکھ متاثرین کے بعد وہاں پر دو کھرب ڈالرز کا ریلیف بل منظور کیا ہے۔ بل کی منظوری کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار لوگوں کے ٹیسٹ کر رہے ہیں۔ امریکہ اس وبا کابہادری سے مقابلہ کر رہا ہے۔ اور اس وبا سے جیتنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گا۔
چین سے شروع ہونے والی وائرس کی یہ وبا پوری دنیا کیلئے خطرات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس کی سنگینی کا اندازہ ہر روز بڑھتا ہی جارہا ہے۔ چین میں تو نئے کیس سامنے آنا بند ہو گئے ہیں۔ چین نے خود کو محفوظ بنا لیا ہے لیکن باقی دنیا اس وائرس کی وجہ سے اپنے آپ کو پہلے سے کہیں زیادہ غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ ایک وائرس نے پوری دنیا کی ٹیکنالوجی، سائنسدانوں کی اب تک کی تحقیق اور بڑی بڑی کمپنیوں کے دعووں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اس وائرس کا انسان کے پاس کوئی علاج نہیں ہے اور انسان پہلے سے بہت زیاہ بے بس نظر آرہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں