چین ہی ہے جو اس کرونا وائرس کو کنٹرول کر سکا

coronvirus-pak-china

یہ چین ہی ہے جو اس قدر مہلک وائرس کا مقابلہ کر رہا ہے اور اسے دنیا میں پھیلنے سے روکنے کی ہر طرح کوشش کر رہا ہے۔ چین کے حفاظتی اقدامات کی بدولت ہی یہ وائرس پھیلاؤ سے رک سکا ہے۔ اگر فوری احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جاتیں تو ہو سکتا تھا یہ وائرس پوری دنیا کا مسئلہ بن جاتا۔ چین نے نہ صرف اپنے ملک کے شہریوں کی حفاظت کی بلکہ بہت سے ایسے ممالک کے شہریوں کیلئے بھی حفاظتی اقدامات کیے جن کے ملک اس وائرس کو قابو پانے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تھے۔ چینیوں نے بروقت پوری دنیا کو مطلع کیا کہ یہ ایک مہلک وائرس ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی چین کے اقداما ت پر اطمینان کا اظہار کیا اور چینیوں نے بھی کسی قسم کی کسر باقی نہ رہنے دی۔ جتنی تیزی سے ایک بڑی ہسپتال چین میں تعمیر ہوا اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ اس کے بعد ووہان کو پوری طرح سیل کر دیا گیا۔
چین میں اس مہلک وائرس سے اموا ت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف اور موثر اقداما ت کے باوجود وائرس کی ہلاکت خیزی پرتاحال قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ کرونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 9سو سے زائد ہو چکی ہے جبکہ اس وائرس سے 40ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ہسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں جبکہ ووہان میں سٹیڈیم اور کنونشن سینٹرز میں بھی بیڈ لگا کر انہیں ہسپتال بنا دیا گیا ہے۔
اس وائرس کے بعد چین اپنے ملک کے اندر موجود بہت سی کمزوریوں کو دور کرنے کا خواہاں ہے۔ چین کا کہنا ہے حکومت کو اس امتحان سے سبق سیکھنا ہوگا۔ ایمرجنسی مینجمنٹ کے قومی نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت پر مستقل طور پر پابندی عائد کرنا ہوگی۔
جبکہ اس وائرس کی وجہ سے چینی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ چین کے متعدد شہروں میں لاک ڈاؤن ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق جاپان میں روکے گئے کروز میں اس وائر س سے متاثرہ افراد کی تعداد 44بتائی جارہی ہے جبکہ سنگا پور میں مریضوں کی تعداد 33ہو گئی ہے۔ جس کے بعد سنگا پور میں بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
برطانیہ میں کرونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آگیا ہے جس کے بعد برطانیہ میں متاثرہ افراد کی تعداد4 ہو گئی ہے۔ کروانا وائرس کے مریض کو لندن رائل فری ہسپتال منتقل کر دیا گیاہوا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ سے آنی والی خبریں اس لحاظ سے اور بھی زیادہ تشویشناک ہیں کہ وہاں پررہنے والی برٹش چینیوں کو شہریوں کے تعصب کاسامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ عوامی مقامات اور پبلک ٹرانسپور ٹ پر تعصب کے متعددواقعات پیش آچکے ہیں۔اور اس کی ایک بڑی وجہ کرونا وائرس ہی ہے۔ لوگوں میں ایک خوف کی فزا ایسی قائم ہو رہی ہے جیسے ہر چینی اس وائرس سے متاثر ہے۔
چین میں اب تک اس جان لیوا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 9سو سے زائد ہو چکی ہیں جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چالیس ہزار تک جا پہنچی ہے۔اس جان لیوا وائرس کے تدارک کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک نے چین کو 20لاکھ ڈالر اور امریکہ نے 100ملین ڈالر امداد کی پیشکش کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں