چین کے تین شہروں میں بخار اور کھانسی کے شربت کی فروخت پر پابندی عائد

coronavirus_deaths

کرونا وائرس کی وبا کے شکار مزید مریضوں کیلئے ممکنہ پر خطر اقدامات چین کی طرف سے شروع کر دئیے گئے ہیں۔ چین کے تین شہروں میں کھانسی ، بخار کی دوائوں کی فروخت پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تین شہروں نے اس دوا پر پابندی اس لیے لگائی ہے کہ بخار اور کھانسی اس وائرس کی اصل وجوہات میں سے ایک ہیں ، جو لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں وہ گھر میں رہ کر اپنا علاج کرنے کی بجائے ہسپتالوں کا رخ کریں تاکہ انہیں بہتر طبی سہولیات مہیا کی جاسکیں۔کرونا وائرس کی دیگر علامات میں پٹھوں کا درد اور سانس کی تنگی بھی شامل ہے۔ ہانگجو شہر میں کھانسی اور بخار کی دوائوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔اس پابندی پر اس وقت تک عمل کیا جائے گا جب تک شہر میں صحت عامہ کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی۔ننگبو اور سانیا دوسرے دو شہر ہیں جہاں پر ان ادویات کے فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تاکہ کرونا وائرس کو اچھی طرح سے ٹریک کیا جاسکے۔ دوسری طرف جنوبی گوانگ ڈونگ صوبے نے اپنے شہریوں کو یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ یہ ادویات خریدتے ہوئے اپنے اصل نام اور پتو ں کااندراج کروائیں۔
چین میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1350 سے زائد ہونے پر عالمی ادارہ صحت نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ یہ وبا چند ہفتوں کے دوران مزید پھیل سکتی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے صحت سے متعلق پروگرام کے سربراہ مائیکل ریان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت وبا کے آغاز، درمیان اور آخر کے حوالے سے پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہوگا۔صوبہ ہوبے سے گزشتہ ماہ سامنے آنے والے وائرس کے عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور کئی ممالک نے اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چین کے مسافروں پر پابندی عائد کردی ہے۔چینی صوبہ ہوبے میں 242 نئی اموات سامنے آئیں اور اس کے علاوہ دیگر 14 ہزار 840 افراد کے اس وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق کی گئی جو بحران کے سامنے آنے کے بعد ایک دن میں وائرس سے ہلاکتوں اور نئے کیسز کی اب تک سب سے بڑی تعداد ہے۔جبکہ چین بھر میں اس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 60 ہزار کے قریب پہنچ گئی۔ڈبلیوایچ او نے اس وائرس کو کووڈ19 کا نام دیاہے
عالمی ادارہ صحت نے وبا کے حوالے سے معاملات شفاف رکھنے پر چین کو سراہا ہے تاہم چینی حکام کو عالمی برداری کے دباؤ کا سامنا ہے اور امریکہ نے چین سے پابندیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے مزید معلومات کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں