چہرے کی جھریوں کے خاتمہ کیلئے لیزر سرجری

skin laser surgery
EjazNews

ہائی انرجی کاربن ڈائی آکسائیڈ لیزر کی مدد سے بھی جھریو ں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ اس طریقے کی مثال ایک پیاز کی طرح ہے۔ جس سے اوپری تہہ نکال دی جاتی ہے لیکن اس سلسلے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
جھریوں کے علاج کے لئے لیزر سرجری کو اکیسویں صدی کے اسکن کیئر سے تعبیر کیا جاتا ہے ، لیزر شعاعوں کے ذریعے چہرہ کو آہستگی سے اسپرے کرنے سے جھریاں جل کر غائب ہو جاتی ہیں اور چہرہ صاف ہو جاتا ہے یہ طریقہ بہت آسان، محفوظ اور تکلیف سے عاری ہے ۔ عموماً اسکن کیئرکی ہر نئی دریافت اپنے ساتھ شکوک و شبہات لے کر آتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق یہ ایجاد ایک مکمل طریقہ ہے۔
اور کاسمیٹک سرجن اسے نہایت کامیابی سے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔
طبی دنیا میں لیزر شعاعوں کو برسوں سے استعمال کیا جارہا ہے لیکن روایتی لیزر نہایت طاقتور مسلسل شعاع کی صورت میں ہوتی ہے جو جلد کے اندر پہنچ کر خلیوں تک کو جلا دیتی ہے۔ اس لئے انہیں صرف جلد کی اوپری سطح پر استعمال کرنا قابل عمل تھا۔ بعد ازاں نئی دریافت نے اس مشکل کا حل پیش کر دیا۔ اس عمل میں لیزر کی شعاعیں نہایت مختصرمدت کے لئے دھارے کی شکل میں نکلتی اور رکتی رہتی ہیں۔ یہ مدت انتہائی قلیل ہوتی ہے اور ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصہ پر محیط ہے۔ جس کے باعث پیدا ہونے والی حرارت کو دور تک پھیلنے سے محفوظ رکھتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے موم بتی کی لو کے درمیان سے اپنی انگلی نہایت تیزی سے گزار دیں تو وہ جلنے سے محفوظ رہتی ہے لیکن اس لو میں انگلی دیر تک رکھنے سے جل جائے گی۔بالکل اسی طرح لیزر شعاعیں اپنا کام کرتی ہیں یعنی روشنی کے نکلنے والے نہایت تیز رفتار دھارے جلد کی اوپری سطح کے خلیوں کو جلا کر راکھ کر دیں گے اور جلد چکنی ہو جائے گی جبکہ جلد کی نچلی سطح کے خلیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
اس کاسب سےبڑا فائدہ لیزر پر مکمل کنٹرول کا حصول ہے سرجن اس کی مدد سے جلد کی اوپری سطح پر سے ایپ ڈرمس کا دھوپ اور عمر کے باعث مرجھایا ہوا حصہ جلا کر خاک کر دیتے ہیں اور اندرسے نئی اور چکنی جلد نکل آتی ہے۔ اس سے قبل ماضی میں جھریوں کا علاج دو طریقوں سے کیا جاتا تھا ایک تو یہ کہ کاسمیٹک کیمیکلز کے استعمال سے جھریاں جلائی جاتی تھیں اور دوسرے یہ کہ گھومنے والی گول دھاتی پٹی پر ریگ مال چڑھا کر مشین کے ذریعہ جھریوں کو گھسا جاتا تھا اور پھر نتیجہ کے بارے میں پہلے سے کوئی پیشن گوئی کرنا ممکن نہ تھا۔ کیونکہ اس بات کا احتمال رہتا تھا کہ بہت زیادہ گھس جانے کی صورت میں چہرہ پر زخموں کے مستقل نشان نہ پڑ جائیں لیکن لیزر تیکنیک کے استعمال میں یہ خطرہ باقی نہیں رہا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ لیزر سے پیدا ہونے والی توانائی صرف حسب ضرورت ہوتی ہے اور اس کی روشنی کے دھارے صرف اتنی ہی دور تک جلد کے اندر پیوست ہوتے ہیں جتنا جھریوں کو جلانے کے لئے ضروری ہے اس طرح نشان پڑ نے اور خلیوں کے جل جانے کا احتمال باقی نہیں رہتا۔ کمپیوٹر ماڈل اور بھی زیادہ صلاحیتوں کا حامل ہے۔ اس کی مدد سے سرجن اس حصہ کا انتخاب کر لیتا ہے جہاں لیزر ڈالنا مقصود ہو اور پہلے سے طے شدہ توانائی کا اخراج کرتا ہے۔ اس طرح اسے اس عمل پر اور زیادہ کنٹرول حاصل ہوگیا۔ اس طرح وہ آنکھوں کے اطراف کی نازک جلد کے علاوہ ہونٹوں کے اطراف کی سخت جلد دونوں کے لئے یکساں مفید ہے۔ یہ سہولت اور اعتماد پہلے حاصل نہیںتھا۔ لیزر کے ذریعہ پیدا ہونے والی حرارت جلد کے کولا جن ریشوں کو جلا کر ان کی لمبائی ایک تہای کم کر دیتے ہیں جو جھریوں کو کھینچ کر تان دینے کے لئے کافی ہے اور یہ خوشگوار حیرت کا عمل آپ کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے جس کے لئے لیزر کے صرف چند دھاروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ عمل کے دوران ہی جلد کھنچتی اور سخت ہوتی نظرآتی ہے۔ اگرچہ سرجنوں کے کہنے کے مطابق یہ عمل زود اثر اور تکلیف سے پاک ہے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ لیزر شعاعیں جلد کی اپی ڈرمس کی تہ کو چھیل کر علیحدہ کرتی ہیں اور ایسا کرتے وقت ایک زخم چھوڑ جاتی ہیں جسے بھرنے میں وقت لگتا ہے۔ متاثرہ جلد سرخ ، نازک اور حساس ہو جاتی ہے جیسے دھوپ سے جلنے سے جلد حساس ہو جاتی ہے اور جلن کا احساس ہوتا ہے۔ یہ صورت حال تقریباً تین چارماہ تک برقرار رہتی ہے۔
کیمیاوی علاج کے مقابلہ میں لیزر سے آنے والا زخم ٹھیک ہونے میں زیادہ و قت لیتا ہے اور اس لحاظ سے اس میں انفیکشن ہونے کا احتمال بھی بڑھ جاتا ہے۔
کیمیاوی علاج کے مقابلہ میں لیزر سے آنے والا زخم ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے اور اس لحاظ سے اس میں انفیکشن ہونے کا ا حتمال بڑھ جاتا ہے۔
لیزر سرجری کرانے سے قبل اس بات کا یقین کرلیں کہ آپ کا ڈاکٹر نہ صرف ماہر کاسمیٹک سرجن ہو بلکہ اس نے لیزر سرجری کی باقاعدہ تربیت بھی لے رکھی ہو اور وہ کم سے کم ایک درجن لیزر کے آپریشن کر چکا ہو ۔ ایسی صورت میں آپریشن سے قبل اور بعد کے فوٹو گراف بھی ضرور دیکھیں ۔ گوشہ چشم کی جھریوں یا بالائی ہونٹ پر پڑ جانے والی جھری کے آپریشن کے لئے سن کرنے کا انجکشن دینا پڑتا ہے جبکہ پورے چہرے کی سرجری کرانے کے لئے مسکن ادویات بھی دی جاتی ہیں۔ سرجری کے بعد متاثرہ جلد کو اینٹی بایوٹک لوشن کے ذریعے ایک ہفتہ تک نم رکھنا پڑتا ہے برآمد ہونے والی نئی جلد سورج کی تابکار شعاعوں کے لئے بہت حساس ہوتی ہے اس لئے سرجری کےبعد دھوپ سے بچنے اور سن اسکرین استعمال کرنے کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ سوجن جلدی اتر جاتی ہے لیکن سرخی کئی ہفتوں تک برقرار رہتی ہے۔ البتہ اس طریقہ علاج سے آپ کی عمر پندرہ برس کم نظر آنے لگتی ہے۔
نسرین شاہین

اپنا تبصرہ بھیجیں