چھوٹا ربڑو

dwarf_man
EjazNews

کسی گاﺅں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا۔ اس کا ایک بیٹا بھی تھا جس کا نام ربڑو تھا۔ ربڑوا بھی چھوٹا ہی تھا کہ ایک روز اپنے باپ سے کہنے لگا، مجھے کسی کے گھر نوکر رکھوا دو، میں پیسے کماﺅں گا اورآپ کی مدد کروں گا۔
باپ نے ربڑو کواپنے کندھوں پر بٹھا لیا اورگھر سے نکل پڑا۔ ابھی وہ کچھ ہی دور گیا ہو گا کہ اسے ایک کسان کھیتوں میں ہل چلاتا ہوا نظرآیا۔ ربڑو کے باپ نے ربڑو کو کندھوں سے اتارا اور پگڈنڈی کے پاس درخت کے نیچے آکر بیٹھ گیا۔ وہاں حقہ بھی موجود تھا تو اس نے حقے کے کش لگانے شروع کر دئیے۔ ابھی اس نے دو چار ہی کش لیے ہوں گے کہ کسان ہل چلاتا ہوا اس کے قریب سے گزرا۔ ربڑو کے باپ نے اسے آواز دے کر روکا اور پوچھا۔
چودھری صاحب، آپ کو کھیتوں میں کام کرنے کے لیے کسی لڑکے کی ضرورت تونہیں؟
کسان نے کہا، اگر کوئی محنتی لڑکا مل جائے تو اسے ضرور رکھ لوں گا۔ کیونکہ مجھے ضرورت تو ہے۔
ربڑو کا باپ اپنے بیٹے کی طرف اشاہ کرتے ہوئے بولا۔
میرا بیٹا بہت محنتی ہے اسے اپنے پاس رکھ لو۔
کسان ربڑو کو دیکھ کر ہنس پڑا اوربولا۔
یہ چھوٹا سا بچہ کیا کام کرے گا؟
ربڑو کاباپ بولا:
یہ ہل چلا سکتا ہے، گھر کے سبھی کام بھی اسے آتے ہیں اور پھر جانوروں سے تو اسے بہت پیار ہے، ان کی دیکھ بھال یہ خوب کرے گا۔
کسان نے زمین کے سامنے والے حصے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ربڑو کے باپ سے کہا تمہارا بیٹا اگر دو گھنٹوں میں اس کھیت میں ہل چلا کر زمین ہموار کر دے تو میں اسے کام پر رکھ لوں گا۔
باپ نے ربڑو سے کہا، چل بیٹا ، اللہ کا نام لے کر شروع ہو جا۔
ربڑو نے ہل جوتا اور مقررہ وقت سے پہلے ہی سارا کام کر ڈالا۔ کسان ربڑو کے کام سے اتنا خوش ہوا کہ اسے اپنے پاس ملازم رکھ لیا۔ اب ربڑو دن کے وقت کھیتوں میں کام کرتا اور رات کو ڈیرے پر جانوروں کے ساتھ سو رہتا۔ یہ اس کا معمول تھا۔ ایک رات ربڑو گہری نیند سو یا ہوا تھا کہ وہاں چور آئے اور ڈیرے سے ان کے دوبیل کھول کر لے گئے۔ صبح سویرے کسان جب ڈیرے پر پہنچا تو اس کے دونوں بیل غائب تھے اس نے جلدی سے ربڑو کو جگا دیا اور پوچھا۔
ربڑو تم یہاں گھوڑے بیچ کر سو رہے ہو اور کوئی ہمارے دونوں بیل چرا لے گیا ہے۔ اٹھواور ان بیلوں کو تلاش کر کے لاﺅ۔ اگر مجھے میرے بیل واپس نہ ملے تو یاد رکھنا میں تمہیں اورتمہارے باپ کو جیل میں بند کروا دوں گا۔
پہلے تو ربڑوہڑ بڑا گیا مگر پھر ہمت کر کے بولا آپ بے فکر ہو کر گھر جائیں میں دو ہی دن میں آپ کے بیل ڈھونڈ نکالو گا۔
کسان پاﺅں پٹختا ہوا ڈیرے سے نکل گیا اور ربڑو بھی اس کے پیچھے پیچھے وہاں سے چل پڑا۔
باہرنکل کر جب اس نے چاروں طرف اپنی نظریں دوڑائیں ۔ ربڑو کو معلوم تھا کہ گاﺅں کی زمین کچی ہے اس لیے وہ بیلوں کا کھرا ڈھونڈ نکالے گا۔ ابھی وہ زمین کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ اسے بیلوں کے قدموں کے نشانات نظر آگئے۔ ربڑو ان نشانات کے ساتھ ساتھ چل پڑا ۔ ابھی وہ کچھ ہی دور گیا ہوگا کہ راستے میں اسے ایک بلی مل۔ گاﺅں کے سارے جانور ربڑو کوپسند کرتے تھے اور ربڑو بھی ان سب سے پیار کرتا تھا۔ بلی نے ربڑو سے پوچھا ربڑو ، ربڑو کہاں جارہے ہو؟ربڑو نے جواب دیا
جو میرے نال چلے
اوس داوی بھلا
جونہ چلے
اوس دا وی بھلا
بلی اس سے کہنے لگی اچھے ربڑو مجھے بھی اپنے ساتھ لے چل
ربڑو بولا خدا تیرا بھلا کرے گا آجا میرے ساتھ
ربڑو بلی کو ساتھ لیے بیلوں کے نشانات کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔ ابھی وہ کچھ قدم ہی چلے ہوں گے کہ راستے میں انہیں ایک گیدڑ ملا اس نے ربڑو سے پوچھا
ربڑو ، ربڑوکہاں جارہے ہو؟
ربڑو نے جواب دیا
جو میرے نال چلے
اوس دا وی بھلا
جونہ چلے
اوس دا وی بھلا
گیدڑ نے کہا ، اچھے ربڑو مجھے بھی اپنے ساتھ لے چل
ربڑو نے کہا، خدا تیرا بھلا کرے گا، آجا میرے ساتھ
ربڑو اب بلی اور گیدڑ کے ساتھ ساتھ بیلوں کے قدموں کے نشانو ں کے پیچھے پیچھے ہو لیا ابھی وہ کچھ ہی دور گئے ہوں گے کہ راستے میں انہیں ایک بھڑوں کا چھتہ ملا۔ بھڑوں نے ربڑو سے پوچھا، ربڑو، ربڑو کہاں جارہے ہو؟“
ربڑو نے کہا،
جو میرے نال چلے
اوس دا وی بھلا
جو نہ چلے
اوس دا وی بھلا
بھڑوں نے کہا اچھے ربڑو ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلو، شاید ہم تمہارے کسی کام آجائیں
ربڑو بولا خدا آ پ کا بھلا کرے گا، آجا میرے ساتھ
اب ربڑو بلی گیدڑ اور بھڑوں کی فوج کے سنگ ہولیا۔ چلتے چلتے آخر کار وہ ایک دریا کے کنار جا پہنچے ۔ وہاں پہنچ کر بیلوں کے قدموں کے نشانات بھی ختم ہو گئے، یہ دیکھ کر ربڑو نے اپنے ساتھیوں سے کہا،
لگتا ہے چور بیلوں کو دریا کے پار لے گئے ہیں چلو ہم بھی دریا پار کریں۔
ربڑو اپنے ساتھیوں کے سنگ دریا میں اترنے ہی والا تھا کہ دریا نے کہا
ربڑو ربڑو تم کہاں جارہے ہو۔
پھر اس نے اپنے وہی جملے دہرائے۔
دریاا سے آواز آئی اچھے ربڑو مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو شاید میں تمہارے کسی کام آجاﺅں۔
ربڑونے کہا خدا تیرا بھلا کرے گا آجامیرے ساتھ۔
ابھی وہ تھوڑی ہی دور گئے ہوں گے کہ ربڑو کو اپنے بیل ایک جگہ بندھے ہوئے نظر آگئے۔ ربڑو نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ چھپ جائیں اور خود وہ بیلوں کی طرف چل پڑا۔ جب وہ بیلوں کے پاس پہنچا تو اسے وہا ں کچھ آدمی بھی بیٹھے ہوئے ملے۔ ربڑو ان کے قریب جا کر کہنے لگا۔
خدا کے لیے میرے بیل مجھے واپس کر دو ۔ میں تونوکر ہوں اور میرے مالک نے کہا ہے کہ اگر میں بیل واپس نہ لا سکا تو وہ مجھے اور میرے باپ کو ساری عمر کے لیے جیل میں بند کروادے گا۔
ربڑو کی بات سن کر چوروں نے کہا،دیکھو تو اسے ، چڑیا کی پوٹ جتنا لڑکا اور آیا ہے بیل لینے۔ پکڑ و اسے اور بند کر دو مرغیوں کے ڈربے میں ۔ انہوں نے ربڑو کو پکڑ کر مرغیوں کے ڈربے میں بند کر دیا۔
ربڑو نے کہا
”اگے چھج ، پچھے باری آجابلیے تیری واری۔“
یہ سن کر بلی مرغیوں کے ڈربے کے پاس گئی تومرغیاں بلی کو دیکھ کر سہم گئیں۔ بلی نے ڈربہ اٹھایا تو ربڑو باہر نکل آیا۔
وہاں سے نکل کر ربڑو دوبارہ چوروں کے پاس آگیا اور اپنے بیلوں کی واپسی کا تقاضا کرنے لگا۔ اب کی بار چوروں نے اسے اٹھا کر بکریوں کے واڑے میں بند کر دیا۔
ربڑو نے کہا
اگے چھج، پچھے باری
آجا گیدڑ ا ، تیری واری۔
ربڑو کی آواز سنتے ہی گیدڑ بکریوں کے واڑے میں جاگھسا۔ بکریاں گیدڑ کو دیکھ کر ڈ ر کر کونے میں دبک گئیں اورربڑو وہاں سے نکل کر چوروں کے پاس چلا آیا اور بیلوں کی واپسی کا تقاضا کرنے لگا۔
اب کی بار چوروں نے اٹھا کر ربڑو کو گدھوں کے پاس بند کر دیا۔
ربڑو نے کہا
”اگے چھج ، پچھے باری
آجاﺅ بھڑو، تہاڈی واری“
بھڑوں نے گدھوں کو ایسے ایسے ڈنگ مارے کہ وہ سب بھی ایک طرف ہو کر کھڑے ہوگئے۔ گدھوں کو تو اپنی پڑ گئی اور ربڑو پھر چوروں کے پاس پہنچ گیا۔
اس بار ربڑو نے غصہ میں انہیں کہا:میرے بیل مجھے واپس کردو ورنہ میں آپ سب کو تباہ کر دوں گا۔
چورو ں نے پھر بھی ربڑو کی بات نہ مانی تو اس نے کہا
اگے چھج ، پچھے باری
وگ پو دریا وا، تیری واری۔
یہ سنتے ہی دریا ان پر بہنے لگا۔ ربڑو اس کے ساتھی اور بیل تو دریا کے کنارے ہی کھڑ رہے مگر چور اوران کا سارا سامان تباہ ہو گیا۔
ربڑو نے اپنے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا اور بیلوں کوساتھ لیے گاﺅں کی طرف چل پڑا۔ کسان نے جب ربڑو کو بیلوں کے ساتھ واپس آئے ہوئے دیکھا تو بہت خوش ہوا۔
اب چھوٹا ربڑو پھر سے اسی کسان کے پاس رہنے لگا۔ چونکہ وہ ایک محنتی لڑکا تھا اس لیے وہ اپنے والدین کو وعدے کے مطابق پیسے بھی بھیجتا رہا۔ کسان اب بوڑھا ہو رہا تھا۔ ایک دن کسان نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور اپنی زمین ان میں تقسیم کرتے ہوئے ایک حصہ ربڑو کو بھی دے دیا۔ ربڑونے اس زمین پر ایک جھونپڑی بھی ڈال لی اور اپنے ماں باپ کے ساتھ ہنسی خوش رہنے لگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں