چولستان کا صحرا، صحرا نہیں ہے۔ زندگی کے پھیلاؤ کی حقیقت ہے

cholistan-sahra
EjazNews

چولستان ایک تجربہ گاہ نہیں بلکہ ایک درسگاہ کے طور پر محسوس ہوتا ہے ۔ روہی کے عشق میں، بے درودیوار لق ودق صحرا۔ چولستان جسے ہم ’’روہی‘‘ بھی کہتے ہیں اس کا لامتناہی سلسلہ ہندوستان کی سرحدوں سے جا ملتا ہے۔اس میں بسنے والے باشندوں کو ’’روہیلا ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
صحرائے چولستان برصغیر کے عظیم صحرا کا ہی ایک حصہ ہے جس کے اطراف میں شمال کی طرف گھا گھرا کا خشک حصہ ہے جہا ں کبھی یہ دریا ٹھاٹھیں مارتا گزرتا تھا جبکہ اس کے جنوب میں وسیع تر شور زدہ علاقہ ’’رن‘‘ اور کولی وار ہے۔
نور الزمان احمد وج اپنی کتاب ’’چولستان وادی سندھ کی تہذیب کا مرکز‘‘ میں لکھتے ہیں:
بہاولپور کا حدود اربعہ 1900 کے مطبوعہ بہاول پور گزیٹر کے مطابق یہ ہے کہ ’’یہ پنجاب کے جنوب مغرب اور سندھ کے شمال میں واقع ہے۔ اور ان دونوں صوبوں کو باہم ملاتا ہے۔ کبھی اس کے شمال مغرب میں دریائے ستلج بستاتھا جو پنجاب کی تحصیلوں منٹگمری یعنی ساہیوال اور ملتان کے درمیان حد فاصل کا کام دیتا ہے جبکہ دوآبہ ستلج اور چناب کا مشترکہ وسیع پاٹ مظفر گڑھ اور ریاست بہاولپور کی قدرتی سرحد بن جاتا ہے یہ دونوں دریا جہاں دریائے سندھ کے ساتھ ملتے ہیں وہاں ریاست پنجاب کی تحصیل ڈیرہ غازیخان اور سندھ کی تحصیل جیکب آباد سے متصل ہیں۔ اس طرح یہ ریاست شمال مشرق میں تحصیل فیروز پور سے ملتی ہے جبکہ اس کے جنوب میں ریاست جیسلمیر اور صوبہ سندھ واقع ہے۔
اٹھارہویں صدی کا سیا ح لیفٹیننٹ آرتھر کنالی اپنے چولستان کے سفر کے بارے میں لکھتا ہے:
’’ہم نے بہاولپور سےبرطانوی سرحد تک کا 176میل کا فاصلہ اونٹوں پر ڈھائی میل فی گھنٹہ کی رفتار سے طے کیا۔176میل کے علاقہ میں سے پہلے 83میل کا علاقہ بہاول خان کے زیر نگین ہے جبکہ باقی کا علاقہ بیکانیر کے راجہ کے زیر حکومت ہے ۔یہ سارا علاقہ ریگستان نہیں جیسا کہ عام طور پر قیاس کیا جاتا ہے بلکہ سخت مٹی کی سطح پر ریت کی بچھی ہوئی ایک تہہ ہے مگر اس کا مقابلہ اچھی زمین سے نہیں کیا جاسکتا۔ تقریباً سارا علاقہ جھاڑیوں اور گھاس سے ڈھکا ہوا ہے جس پر ہزاروں اونٹ اور گائیں پرورش پاتی ہیں۔
عباسی دائود پوترہ حکمرانوں کے عہد میں چولستان کے تمام راستوں پر عموماً اور خصوصاً مروٹ کی شاہراہ کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام تھا۔ ہر قلعہ پر ایک قلعہ دار مقر ر تھا۔ جس کا اولین فریضہ مسافروں کی حفاظت کا خیال رکھنا، امن وامان برقرار رکھنا اور سامان خوردو نوش کی رسد کو بحال رکھنا تھا۔ تاہم اس تمام انتظام کے باوجود وادی مارا تھلی (موت کی وادی) میں زندگی بسر کرنا کھیل نہیں تھا۔
ایلزبتھ بالینوز کو چنن پیر کے میلے کو دیکھنے کا موقع ملا وہ لکھتی ہیں:
’’بہاولپور سے ملحقہ کھلے صحرا چولستان میں آج بھی قبائلی اور سخت کوشش زندگی کی جھلک ملتی ہے بادیہ گرد قبائل کی زندگی ایک طرح سے بہت دلکش ہے ۔گھنگھروں کی حسین جھنکار۔ بلند و بالا مخمل کے غرفوں سے جھانکتی بچوں اور مٹیاروں کی شوخ چمکتی آنکھیں، بھیڑیں اور میمنے چراتی الہڑ دوشیزائیں ۔ یہ سب کچھ بہت دلفریب ہے ،ان قبائل کی خواتین پردہ نہیں کرتیں۔ وہ گلے چراتی ہیں اور دور دور تک ایک ایک دن کی مسافت پر گھاس اور پانی کی تلاش میں نکل جاتی ہیں ان کے لباس کے شوخ رنگ صحرا کی چمکتی سفید ریت پر اس طرح لگتے ہیں جیسے سفید کپڑے پر گلاب کے شوخ سرخ پھول۔
ان لوگوں کی زندگی بہت سادہ ہے وہ رات کے وقت دائرے کی صورت میں الائو کے گرد پڑائو کرتے ہیں اور گندھے ہوئے خمیر آٹے کی موٹی روٹیاں سرخ دھکتی ریت پر ڈال کر پکاتے ہیں ۔ جسے ’’کوکی‘‘ کہا جاتا ہے اور نمک مرچ کی چٹنی، لسی یا چھاچھ کے ساتھ کھائی جاتی ہے۔ جاہلیت اور نیم وحشیانہ زندگی کی جھلک میلوں اور مذہبی تہواروں کی تقار یب میں اپنی پوری دلکشی کے ساتھ نظر آتی ہیں۔
چنن پیر کا میلہ ایسا مقام ہے جہاں پانی اور ایندھن دونوں دستیاب ہیں چونکہ یہ مقام بہاولپور سے زیادہ فاصلے پر نہیں ۔ اس لئے اشیاء خوردو نوش بھی بآسانی دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ میلہ بہت ہی موزوں اور متعدل موسم میں منعقد کیا جاتا ہے۔ میلے کے دوران حد نگاہ تک خیمے ہوتے ہیں۔ فضا میں طرب کی ایک کیفیت مستول ہوتی ہے۔ چاروں طرف سے شہنائیاں اور ڈھول کے بجنے کی آواز آرہی ہوتی ہیں۔ جشن کا سماں ہوتا ہے۔ عورتیں طرح طرح کے خوش رنگ لباس میں ملبوس آراستہ اونٹوں پر بندھے ’’کجاووں ‘‘ پر سوار مسکراہٹ کے پھول بکھیر رہی ہوتی ہیں۔ اس حسین منظر کو دیکھ کر دل میں ایک امنگ پیدا ہوتی ہے تاہم اس میلہ اور جشن کی تہہ میں کار فرما جذبے کی تفہیم بہت مشکل ہے کیونکہ روہیلے فطرتاً شرمیلے ہیں۔
چولستان کے لوگ زیادہ تر مسلمان ہیں ،بظاہر یہ لوگ سخت مزاج نظر آتے ہیں لیکن عادتاً سیدھے سادھے اور نرم طبیعت کے مالک ہوتے ہیں ۔عورتیں شکل و صورت اور عادات و اطوار کے اعتبار سے بہت شائستہ اور پروقار ہوتی ہیں۔ رنگ برنگے کپڑے انہیں بہت پسند ہیں ان کے جسم پر سرخ دھاگوں سے بنا ہوا شلوکا جسے یہ چولی کہتے ہیں بڑا بھلا لگتا ہے۔کرتے کے ساتھ لمبے لمبے لہنگے ہوتے ہیں جو نیچے زمین تک لٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔
یہاں کے لوگ سفر کے لئے اونٹ استعمال کرتے ہیں۔ اور یہ ریگستانی جہاز ریت کے سمندر میں اس طرح فراٹے بھرتا ہے کہ کوئی سواری اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔یوں تو تمام چولستان ریت کے ٹلوں اور چھوٹے بڑے مٹی کے بے شمار تودوں سے اٹا پڑا ہے ،لیکن ٹلوں اور تودوں کے درمیان بعض میدان بھی ہیں ۔ ان میدانوں کو مقامی زبان میں ’’ڈاہر‘‘ کہتے ہیں۔
ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر مغل کی رپورٹ کے مطابق چولستان کا عہد ’’ہڑپائی عہد‘‘ سے بھی قدیمی ہے ۔یہ قدیم ترین آثار بہاولنگر اور بہاولپور کے اضلاع میں کم اونچے ٹیلوں کی شکل میں پائے جاتے ہیں ۔ انہیں علمی اصطلاح میں ہاکڑہ دور کہا جاتا ہے ۔اس دور کے آثار زیادہ تر دریائے ہاکڑہ کے سیلابی میدانوں کے ساتھ ساتھ واقع ہیں۔ یہ آثار پانچ سے چھ ہزار قبل کے میدانی عرصے سے تعلق رکھتے ہیں۔اس جگہ سے پائے جانے والے برتن اور ان کے ٹکڑے بالکل جدا نوعیت کے تھے۔ان ٹیلوں میں چھوٹی چھوٹی پیوسٹ ٹانگوں والی جانوروں کی مورتیاں ، سیپ اور پکائی ہوئی مٹی کی چوڑیاں، پانی پینے کے پتھر وں کے ٹکڑے اور بڑی تعداد میں اوزار و آلات ملے ہیں۔ یہ دور وہ تھا جب پتھر کی صنعت فروغ پارہی تھی۔ چنانچہ پتھر کے چاقو سوراخ کرنے والے فرمے، تیروں کے پھل، کھرچنے کے اوزار وغیرہ دستیاب ہوئے ہیں۔
بدھ مذہب کا آغازکوئی ڈھائی ہزار سال قبل ہوا۔ یہاں بدھ مذہب کے تعلیمی ادارے قائم ہوئے۔ عبادت گاہیں تعمیر ہوئیں اڑھائی ہزار سال گزرنے کے باوجود اب بھی ان کے معابد (سٹوپے) اور مذہبی بھکشوں کے کتبے سوئی وہاڑ، کوٹلہ موسیٰ خان ، دھمرائو، مروت کے مندروں سے پائے گئے ہیں۔چولستان میں سب سے قدیم تمدن کے آثار 32مقامات پر ملے ان مقامات میں بہاولنگر اور بہاولپور میں کم اونچے ٹیلے ملتے ہیں یہ آثار بلا شبہ پانچ اور چھ ہزار سال قبل سے تعلق رکھتے ہیں، زیادہ بستیاں قلعہ ڈیر اور کے اطراف میں واقع ہیں۔
چولستان درحقیقت زمانہ قدیم کی تہذیبی اور ثقافتی سرگزشت ہے جہاں آج ریت کے جھکڑ چلتے ہیں اور اس کی شادابی اب داستان پارینہ بن چکی ہے ۔اس کی آبادیاں ویران محل ، محلے، ہزاروں سال تک طوفانوں کی یلغار تھپیڑے کھا کھا کر ریزرہ ریزہ ہو چکے ۔ دور دور تک ڈھیریوں، ٹیلوں کی شکل میں کنکر و پتھر بکھر گئے۔ یہاں ہی آریہ قبیلوں کے مسکن تھے، یہاں ہی بدھ گھوڑوں کی ٹاپوں کے نشانات تھے ۔ مسلمانو ں کی آمد کے ابتدائی دور کے تعلیمی ادارے ،مدرسے اور مزارات بھی تھے ۔ان تمام تہذیب ثقافتی معاشرتی قافلوں کے آثار زیادہ تر تباہ ہو چکے اور اگر کوئی باقی رہ بھی گیا ہے تو خستہ حال میں ہے۔
چولستان کے بارے میں جن مورخو ں اور ماہر آثار قدیمہ نے تحقیق کی ہے وہ یقیناً تاریخ کا ایک ایسا جیتا جاگتا باب ہے جسے نہ تو ہم فراموش کر سکتے ہیں اور نہ ہی بھلا سکتے ہیں بلکہ چولستان کی تاریخ ہماری ثقافت کا ایک ایسا حصہ ہے جس کی تاریخ کے ہم نہ صرف امین ہیں بلکہ اس کا ایک حصہ بھی ہیں۔
اورہم چٹانوں ، آسمان کو چھوتے ہوئے پہاڑوں، بادلوں، بارشوں، جنگلوں ، صحرائوں، پھولوں کا ذکر ایک نیشن اور علامت کے طور پر کرتے ہیں۔ کاش ہم ان کی خوبصورتی کو برقرار رکھ کر انسانی زندگی کو طویل بنانے اور تازگی اور موسموں کی شگفتگی برقرار رکھنے کی خواہش کی خلوص دل سے پرورش کر سکیں۔ چولستان کا صحرا۔ صحرا نہیں ہے۔ زندگی کے پھیلائو کی حقیقت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں