چاند پر موجود ریت زمینی ریت سے زیادہ باریک ہے

Moon_land
EjazNews

جہاں چین سے آئے روز کرونا وائرس سے ہلاکت کی خبریں منظر عام پر آرہی ہیں یا پھر چین کی طرف کرونا وائرس سے منسلک کیا جارہا ہے وہی چین اپنے دوسرے کاموں کو ابھی بھولا نہیں ہے۔ چینی ماہرین نے چاند کے تاریک حصے پر بھیجے گئے خود کار مشن کی مدد سے وہں ایک بڑے گڑھے میں بھری ہوئی ریت کی ایک موٹی تہہ دریافت کرلی ہے جو40فٹ تک گہری ہے۔ اب تک خیال کیا جارہا تھا کہ چاند ایک پتھریلی زمین ہے جس کی سطح پر تھوڑی بہت ریت بھی بکھری ہوئی ہے لیکن گزشتہ برس چاند پر اترنے والی گاڑی ’’یوٹو 2‘‘کی دریافت نے نئے راستے روشن کیے ہیں۔ چینی مشن ’’چانک ای 4‘‘ کا حصہ جبکہ یہ چاند کے اس حصے پر کامیابی سے اترنے والی اولین متحرک انسانی مشین بھی ہے۔ چاند پر بھیجی جانے والی اس مشین کو خصوصی آلات سے لیس کیا گیا تھا جن میں ایک ہائی فریکوئنسی ریڈار بھی شامل تھا۔جو چاند کی پتھریلی سطح کے اندر سیکڑوں فٹ کی گہرائی میں جھانک سکتا ہے۔ اس ریڈار سسٹم کے ذریعے سے چینی ماہرین چاند کا وہ اندرونی حصہ کھنگال رہے تھے جو سطح کے قریب یعنی قدرے کم گہرائی پر ہے،اسی تحقیق سے معلوم ہوا کہ چاند کی سطح پر ریت کی تہہ ہمارے اندازوں کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہے۔ دلچسپی سے بھرپور بات یہ ہے کہ چاند پر موجود ریت ہمارے سمندروں اور ریگستانوں میں پائی جانے والی ریت سے بھی زیادہ باریک اور کسی باریک سفوف کی مانند ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ چاند کے تاریک حصے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ چاند کا وہ حصہ جو ہمیشہ زمین سے مخالف سمت پر رہتا ہے اور ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں