پیشاب کے نظام کے انفیکشن

urin pass women

پیشاب کے نظام میں عام طور پر دوبڑے انفیکشن ہوتے ہیں۔ مثانے کا انفیکشن سب سے زیادہ ہوتا ہے اس کا علاج بھی سب سے آسان ہے۔ گردے کا انفیکشن سنگین بیماری ہے جس سے گردہ ناکارہ ہو جاتا ہے اور مریض مر بھی سکتا ہے۔
مثانے اور گردے میں انفیکشن کیوں ہوتا ہے ؟
پیشاب کے نظام میں عمومی طور پر دو بڑے انفیکشن ہوتے ہیں۔ مثانے کا انفیکشن سب سے زیادہ ہوتا ہے اس کا علاج بھی سب سے آسان ہے۔ گردے کا انفیکشن سنگین بیماری ہے جس سے گردہ ناکارہ ہو جاتا ہے اور مریض مربھی سکتا ہے۔
مثانے اور گردے میں انفیکشن کیوں ہوتا ہے؟:
پیشاب کے نظام میں انفیکشن جراثیموں (بیکٹیریا) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ فرج کے نزدیک پیشاب خارج کرنے کے سوراخ کے ذریعے بیرونی جراثیم جسم کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔ مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو پیشاب کے انفیکشن زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ عورت کی پیشاب کی زیریں نالی، مرد کے مقابلے میں چھوٹی ہوتی ہے اس کی وجہ سے جراثیم کم فاصلہ سے کر کے کم وقت میں مثانے تک پہنچ جاتے ہیں۔
عورت کے جسم میں جراثیم اس وقت داخل ہوتے ہیں یا بڑھنا شروع ہوتے ہیں جب جنسی عمل کے دوران جراثیم فرج یا مقعد کے ذریعے، پیشاب کے سوراخ کے راستے سے پیشاب کے زیریں نالی کے اندر پہنچ جاتے ہیں ۔ عورتوں میں مثانے کے انفیکشن کی یہ سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ جنسی عمل کے بعد پیشاب کیا جائے۔ اس سے پیشاب کی زیریں نالی صاف ہو جاتی ہے (جنسی عمل کے بعد پیشاب کرنے سے حمل ختم نہیں ہوتا)۔
دیر تک پانی نہ پینا:
خاص طور پر جب عورت کام کرنے کیلئے باہر جاتی ہو اور گرم موسم میں اسے زیادہ پسینہ آتا ہو، اس صورت میں مثانے میں موجود جراثیم بڑھنے لگتے ہیں۔ دن میں پانی یا مشروب کے کم از کم آٹھ گلاس پئیں اگر دھوپ میں کام کرنا پڑے تو اس سے زیادہ پئیں۔
دیر تک پیشاب روکے رکھنا:
اگر جراثیم دیر تک پیشاب کے نظام میں رہیں تو وہ انفیکشن پیدا کر دیتے ہیں۔ ہرتین سے چار گھنٹے کے بعد پیشاب کرنے کی کوشش کریں۔
جنسی اعضا کو صاف نہ رکھنا:
جنسی اعضا خاص طور پر مقعد کے ذریعے جراثیم پیشاب کے سوراخ میں داخل ہو جاتے ہیں اور انفیکشن کا سبب بنتے ہیں۔ ہر روز جنسی اعضا کو دھوئیں ۔ پاخانہ کرنے کے بعد آگے سے پیچھے کی طرف دھوئیں۔ پیچھے سے آگے کی طرف دھونے سے اس بات کا اندیشہ ہوتا ہے کہ پاخانہ کے جراثیم ، پیشاب کے سوراخ سے جسم میں داخل ہو جائیں ۔ جنسی عمل سے پہلے بھی اپنے جنسی اعضا کو دھو کر صاف کریں۔ ماہواری کے دنوں میں ماہواری کے کپڑے اور پیڈ کو بھی بہت صاف ستھرا رکھیں۔
علامات اور علاج:
باربار پیشاب آنا (یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ مثانہ پوری طرح خالی نہیں ہوا اور پیشاب رہ گیا ہے)۔
پیشاب کرتے وقت جلن محسوس ہونا۔
پیشاب کرنے کے فوراً بعد پیٹ کے نچلے حصے میں درد ہونا۔
پیشاب میں بدبو، یا خون یا پیٹ آنا (گہرے زردپیشاب کا مطلب ہیپا ٹائیٹس ہو سکتا ہے)
گردے کے انفیکشن کی علامات:
مثانے کے انفیکشن کی کوئی بھی علامت ۔
بخار اور سردی لگنا۔
کمر کے نچلے حصے میں شدید درد جو آگے سے پیچھے کی طرف حرکت کرے۔
متلی اور الٹی
بہت بیماری اور کمزوری محسوس کرنا۔
اگر مثانے اور گردے دونوں کے انفیکشن کی علامات محسوس ہوں تو گردے کا انفیکشن ہوسکتا ہے۔
مثانے کے انفیکشن کا علاج:
مثانے کے انفیکشن کے لیے اکثر گھریلو علاج کارآمد ہوتا ہے۔ آپ کو جیسے ہی اس کی علامات نظر آئیں فوراً علاج شروع کردیں۔ بعض اوقات مثانے کا انفیکشن جلد ہی پیشاب کی نالیوں کے ذریعے گردوں تک پہنچ جاتا ہے۔
خوب پانی پئیں:
ہر تیس منٹ بعد ایک پیالی پانی پئیں۔ اس سے آپ کو باربار پیشاب آئے گا اور انفیکشن شدید ہونے سے پہلے جراثیم پیشاب کے نظام سے خارج ہو جائیں گے۔
چند وز تک جنسی عمل نہ کریں یا جب تک انفیکشن کی علامات ختم نہ ہو جائیں جنسی عمل نہ کریں۔

پیشاب سے خون آنا
اگر آپ کے پیشاب میں خون آرہا ہے لیکن مثانے یا گردے کے انفیکشن کی دوسری علامت نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہےہو سکتا ہے کہ آپ کے گردے یا مثانے میں پتھر ی ہے۔ پیشاب گرنے میں تکلیف ہوا۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب پتھری پیشاب کی نالی میں اٹک کر پیشاب کا راستہ روک لیتی ہے۔
گردے یا مثانے میں پتھری:
گردے میں چھوٹے سخت پتھر بن جاتے ہیں اور یہ پیشاب کے نظام میں حرکت کرتے ہیں۔
علامات:اچانک شدید درد، کمر میں جہاد گردے ہوتے ہیں یا اندر کی طرف گردوں کے نزدیک یا نیچے کی طرف پیشاب کی نالیوں میں یا مثانے میں۔پیشاب میں خون آنا۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب پتھری کی وجہ سے پیشاب کے نظام میں خراشیں ہو جاتی ہیں۔ پیشاب کرنے میں تکلیف ہونا۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب پتھری پیشاب کی نالی میں اٹک کر پیشاب کا راستہ روک لیتی ہے۔
علاج:
خوب پائیں (کم از کم ہر آدھے گھنٹے بعد ایک یا دو پیالی)۔ پانی پینے سے پتھری کو گردے اور پیشاب کی نالی سے خارج ہونے میں مدد ملے گی۔
درد کے لیے درد روکنے والی دو لیں ۔ اگر درد زیادہ شدید ہو تو طبی مدد حاصل کریں۔ کبھی کبھی پیشاب کی نالیوں میں رکاوٹ ہو جاتی ہے اور نالیوں میں انفیکشن ہو جاتا ہے۔ اس تکلیف کے لیے وہی علاج کریں جو گردوں کے انفیکشن کے لیے بتایا گیا ہے۔
بار بار پیشاب آنا:
بار بار پیشاب آنے کی وجوہات یہ ہوتی ہیں:
آپ کے مثانے اور بچہ دانی کے آس پاس پٹھے کمزور ہو گئے ہیں ۔
کسی اندرونی بڑھوتری (فائبر وئیڈ) کی وجہ سے مثانہ دب رہا ہے اور زیادہ پیشاب جمع نہیں کر سکتا۔
مثانے میں انفیکشن ہے۔
آپ کو ذیا بیطیس ہے۔
پیشاب نکل جانا:
پیشاب روکنے پر قابونہ رہنا (بغیر ارادہ پیشاب نکل جانا)
مثانے کےپٹھوں کے کمزور ہونے یا انہیں نقصان پہنچنے کی وجہ سے پیشاب پر قابو نہیں رہتا اور بغیر ارادے کے پیشاب نکل جاتا ہے ، عام طور پر یہ شکایت زیادہ عمر کی خواتین کو ہوتی ہے یا بچے کی پیدائش کے بعد لا حق ہوتی ہے۔ ہنسنے، چھینکنے، کھانسنے، بوجھ اٹھانے یا جنسی عمل کے دوران پیٹ کے نچلے حصے کے عضلات پر دبائو سے پیشاب نکل جاتا ہے ۔
فرج سے پیشاب خارج ہونا (وی وی ایف۔ فسٹولا):
اگر عورت کا پیشاب ہر وقت بہتا رہے اور اسے پیشاب پر کوئی قابونہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا کہ اس کے مثانے اور فرج کی درمیانی دیوار میں سورا خ ہوگیا ہے (کبھی کبھی بڑی آنت کے آخری حصے اور فرج کے درمیانی حصے میں سوراخ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے پاخانہ خارج ہو تا رہتا ہے)۔
یہ عورت کے لیے سنگین مسئلہ ہے جو بچے کی پیدائش میں رکاوٹ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جن لڑکیوں کی شادی کم عمری میں کر دی جاتی ہے اور ان کے جسم اور ہڈیوں کی مکمل نشوونما سے پہلے ان کے یہاں بچے پیدا ہوئے ہوں ۔ اور ان کے عضلات اتنے مضبوط نہ رہے ہوں کہ زچگی کے وقت بچے کو باہر دھکیل سکیں ۔ وہ بھی اس تکلیف میں مبتلا ہو سکتی ہیں دونوں صورتوں میں عورت کے لیے بچے کو باہر دھکیلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بچے کا سر مثانے اور فرج کے درمیان عضلات کی دیوار پر مسلسل رگڑ کھاتا اور دبائو ڈالتا رہتا ہے جس سے دیوار میںسورا خ (فسٹولا) ہو جاتا ہے اس صورت میں اکثر مرا ہوا بچہ پیدا ہوتا ہے۔
بچے کی پیدائش کے بعد فسٹولا ٹھیک نہیں ہوتا اور عورت کی فرج سے ہر وقت پیشاب بہتا رہتا ہے۔ عورت کو ہر وقت کڑے کی گدی یا پیڈ باندھ کر رکھنی پڑتی ہےتاکہ وہ پیشاب جذب کر سکے۔
ایک ایسی عورت کو فوری طبی مدد نہ ملے تو عورت یا لڑکی کو روز مرہ زندگی میں بے انتہا تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا شوہر ، خاندان اور دوست اسے چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ وہ ہر وقت پیشاب کرتی رہتی ہے۔
علاج:
بچے کی پیدائش کے بعد اگر آپ کا پیشاب یا پاخانہ خارج ہو رہا ہے تو فوراً کسی طبی امداد کیلئے رجوع کریں۔ ڈاکٹر آپ کو بتائے گا کہ کس ہسپتال میں فسٹولا کے علاج کا انتظام ہے۔ آپ کو فوری طور پر ہسپتال جا کر علاج کرانا چاہیے۔ اگر آپ فوری طور پر ہسپتال نہ جا سکیں تو ہو سکتا ہے فوری طبی امداد کے طور پر آپ کے جسم میں پلاسٹک کی نلکی داخل کر دی جائے اس نلکی سے پیشاب خارج ہو کر فسٹولا ٹھیک ہونے میں مدد دے سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود آپ کو ہسپتال جانا ہوگا تاکہ ڈاکٹر معائنہ کر کے یہ فیصلہ کر سکے کہ فسٹولا اس طرح ٹھیک ہوجائے گا یا اس کے علاج کے لیے آپریشن کرنا ہوگا۔ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں اس مسئلے کا حل ممکن ہوتا ہے۔
پاخانہ یا پیشاب کرنے میں دشواری:
اکثر عورتوں اور مردوں کو اپنے پیشاب یا پاخانے پر قابو نہیں رہتا (خاص طور پر قریب المرگ افراد یا ایسے افراد جن کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگی ہو یا انہیں ایسی معذوری لاحق ہو جس سے ان کے نچلے دھڑے کے پٹھے کمزور ہو گئے ہو ں)۔ یہ صورتحال تکلیف دہ اور شرمندگی کا باعث ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے جلدی بیماریاں اور خطرناک انفیکشن بھی ہو سکتے ہیں۔ ان تمام سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جسم صاف، خشک اور تندرست رہے۔
آنتوں پر قابو ہونا:
یہاں جو معلوم دی جارہی ہیں وہ ان افراد کے لیے مفید ثابت ہوں گی جنہیں خشک اور سخت پاخانہ (قبض) ہوتا ہے یا پاخانہ کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ آنتیں اس وقت بہتر طور پر کام کرتی ہیں جب آپ بیٹھی ہوئی حالت میں ہوں، لیٹی ہوئی نہ ہوں۔ اس لیے جب آپ پاخانہ کرنے بیٹھیں تو اسے جسم سے خارج کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کے لیے بیٹھنا ممکن نہ ہو تو ایک طرف کروٹ کے بل لیٹ جائیں ۔
پاخانہ کیسے خارج کیا جائے:
اپنے ہاتھ میں پلاسٹک یا ربر کا دستانہ پہن لیں یا اس پر پلاسٹک کی تھیلی چڑھا لیں۔ اپنی انگوٹھے کے بعد والی انگلی پر تیل لگائیں۔
تیل لگی انگلی کو اپنی مقعد میں ایک انچ اندر تک داخل کریں۔ تقریباً ایک منٹ تک انگلی چاروں طرف گھمائیں تاکہ پٹھے نرم ہوجائیں اور پاخانہ کو باہر دھکیل سکیں۔
اگر پاخانہ خود باہر نہ آئے تو اپنی انگلی کی مدد سے جتنا بھی پاخانہ باہر نکال سکتی ہوں نکال دیں۔
آنت کا نچلا حصہ (مقعد) اور اس کے آس پاس کی جلد اچھی طرح صاف کریں اور اپنے ہاتھ دھوئیں۔
سخت پاخانہ (قبض) سے بچائو کیلئے:
ہر روز بہت سا پانی پئیں۔
ایسی غذا کھائیں جس میں ریشہ زیادہ ہو۔
آنتوں کی صفائی (پاخانہ)باقاعدہ کریں۔
روزانہ ورزش کریں یا جسم کو حرکت کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں