پہلے یہ وائرس جانوروں سے انسان کو لگتا تھا اب انسان سے انسان کو لگ رہا ہے اس لیے یہ بہت زیادہ خطرناک ہے: ڈاکٹر غلام صدیق

corona-virus-1
EjazNews

کرونا وائرس دنیا بھر میں لوگوں کو بیمار کر رہا ہے۔ اس میں کوئی اینٹی بائیوٹک کام نہیں آتی۔فی الحال اس پر سائنس دان ریسرچ کر رہے ہیں ۔ چین میں اس پرقابو پانے کیلئے سرتوڑ کوشش ہو رہی ہے ۔ دنیا بھر میں اس پر ریسرچ ہو رہی ہے۔ یواین او نے اس پر ہیلتھ ایمر جنسی لگا دی ہے ، پاکستان چونکہ چین کا ہمسایہ ملک ہے اور پاکستانی خاصی تعداد میں چین کے اندر موجود ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ چینی بھی ایک بڑی تعداد میں پاکستان کے اندر موجود ہیں ۔ اس لیے پاکستانیوں کو احتیاطی تدابیر کی زیادہ ضرور ت ہے۔ اسی سلسلے میں عفیفہ حیات نے ڈاکٹر غلام صدیق جو جنگ گروپ کے کمپنی ڈاکٹر ہیںاور ڈاکٹر محبوب عالم جو جنرل فزیشن ہیں سے اپنے قارئین کیلئے معلومات حاصل کی ہیں جو قارئین کی نذر ہےکہ اس وائرس سے کیسے بچا جاسکتا ہے اور اس وائرس میں کن احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا چاہیے۔
س:کرونا وائرس کے متعلق آپ ہمیں کچھ بتائیں؟
ڈاکٹر غلام صدیق: کرونا وائرس کی ابتداء کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ آٹھ ہزار سال پہلے سے ہے۔ اس وائرس کے متعلق انسانوں کو 1960ء سے پتہ چل چکا تھا جب پہلی دفعہ اس کا انفیکشن سامنے آیا تھا۔ اس کی سات اقسام ہیں اور یہ ساتویں قسم چین میں ہم دیکھ رہے ہیںجو کرونا وائرس کی شکل میں ہیں۔اس کی جو پہلے ہم دو قسمیں جانتے ہیں ان میں ایک سارس (sars)ہے اور دوسری انسانو ں میں وبائی شکل اختیار کر گئی تھی وہ تھی مرس۔ اس کا پھیلائو ہم مڈل ایسٹ میں دیکھ چکے ہیں۔کروانا وائرس نزلہ ، زکام ، فلو سے شروع ہوتا ہے اور موجودہ کروانا وائرس کو نوول کرونا وائرس کہتے ہیں ۔

ڈاکٹر غلام صدیق

س:اس کی علامات کیا کیا ہیں ، کیسے پتہ چلے گا کہ انسان کرونا وائرس کا شکار ہو چکا ہے؟
ڈاکٹر غلام صدیق:یہ فلو سے شروع ہوتا ہے، اس میں فیور بخار ہوتا ہے،ہلکا سا ٹمپریچر ہوتا ہے، اس کے بعد نزلہ ، زکام، گلہ خراب ہونا اوراگر بڑھ جائے تو دمے کی شکایت ہو جاتی اور اگر اس سے بھی بڑھ جائے تو نمونیہ ہو جاتا ہے۔اس نئے کرونا وائرس میں نمونیے سے انسانی گردے فیل ہو جاتے ہیںاور انسان آخر میں مر جاتا ہے۔
س: اس وائرس سے بچائو کا کیا طریقہ ہے؟
ڈاکٹر غلام صدیق:پہلے جو کرونا وائرس تھے وہ جانوروں سے لگتا تھا، کتے، بلی ، چمگادڑسے ۔ موجودہ کرونا وائرس انسان سے انسان کو لگ رہا ہے اس لیے یہ بہت زیادہ خطرناک ہے۔ اس وقت یہ 27-28ممالک میں جا چکا ہے اور پاکستان میں بھی اس کے مشتبہ مریض پائے جارہے ہیں جو لوگ چائنہ سے آرہے ہیں اور خاص طور پر سی پیک میں جو لوگ واپس کام پر آرہے ہیں وہ اس کو پاکستان میں بھی پھیلا سکتے ہیں۔جو لوگ وہاں پڑھنے گئے ہیں یا تجارت کی غرض سے گئے ہیںجب وہ واپس آئیں گے اگر وہ اس بیماری میں مبتلا ہیں تو یہ پاکستان میں بھی پھیل سکتا ہے۔پاکستان میں پہلے ہی صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں،صحت کی طرف تو حکام کی توجہ ہی نہیںہے۔ اگر خدانخواستہ یہ پاکستان میں آگیاتو پھر اس کا بچائو کرنا مشکل ہے۔ دو چار لوگ تو اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں۔ہمارے تو لوگ بھی ایسے ہیں کہ اگر ان کو کہا جائے کہ رومال رکھ کر چھینکو تو وہ برا مناتے ہیں ۔اگر خدانخواستہ یہ پاکستان میں آگیا تو بہت خطرناک ہوگا۔
س:ہم خود کو اس وائرس سے کیسے محفوظ کر سکتے ؟
ڈاکٹر غلام صدیق: اس وائرس سے بچائو کا سب سے اہم طریقہ یہ ہے کہ انسان صاف رہے ،صفائی سب سے اہم چیز ہے، ہاتھ بار بار دھوئیں۔ کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئے۔ بازاری چیزیں کھانے سے گریز کریں۔احتیاط کے طور پر جس کو بھی کھانسی ہو اس بندے سے دور رہیں۔اور جس مریض کو یہ بیماری ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ایک کمرے میں الگ تھلگ کر لے اور بہتر یہ ہے کہ وہ شخص ہسپتال چلا جائے تا کہ اسے وہاں الگ رکھا جائے۔چھینکتے ہوئے اپنے پاس رومال یا ٹشو رکھیں اور استعمال کے بعد اسے پھینک دیں۔اگر کھانسنے اور چھینکنے والے کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو وہ کہنی کو اپنے ناک اور منہ کے قریب کر لے تاکہ یہ پھیلے نہ۔جب ہم چھینکتے ہیں تو ہوا میں چھوٹے چھوٹے ذرے جاتے ہیں ،اس سے انفیکشن پھیلتی ہے ۔ پیشنٹ خود بھی احتیاط کرے اور دوسرے لوگ بھی پیشنٹ سے بچیں۔
س:کورونا وائرس سے متعلق ہمیں تفصیلات بتائیں؟
ڈاکٹر محبوب عالم:کورونا وائرس نے پوری دنیا کو خوفزدہ کررکھا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں ۔
س: اس کی علامات کیا ہیں، کسی شخص کوکیسے پتہ چلے گا کہ وہ اس کا شکار ہو چکا ہے؟
ڈاکٹر محبوب عالم: اس کی علامت کی اگر بات کریں ۔گلے میں خراش کا ہونا ، جسم میں درد ہونا اور تیز بخار کا ہونا اس کی علامات میں شامل ہے۔

ڈاکٹر محبوب عالم

س: کیا پاکستان میں اس وبا کے کوئی اثرات ہیں؟۔
ڈاکٹر محبوب عالم:پاکستان میں اس وائرس کے آنے کے بہت زیادہ خدشات ہیں۔ چین ہمارا ہمسایہ ملک ہے۔ ہمارے بہت سے لوگ بھی وہاں پر ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر اگر کسی بھی تیز بخار ہو ، زیادہ سردی لگ رہی ہو، اسے اپنے آپ کو لوگوں سے الگ کرنا چاہیے تاکہ دوسرے لوگ اس سے متاثر نہ ہو سکیں۔
س:یہ انسانی جسم پر اثر انداز کیسے ہوتا ہے؟۔
ڈاکٹر محبوب عالم:کورونا وائرس انسان کے Respiratory System پر اثر انداز ہو تا ہے ۔سانس میں دشواری ہونا شروع ہو جاتی ہے اور سب سے پہلے سانس کے اوپر والے حصے پر اثر کرتا ہے اور پھر نچلے حصے پر ۔
س: اس وائرس پرکوئی اینٹی بائیوٹک اثر انداز نہیں ہوتی اس بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟۔
ڈاکٹر محبوب عالم: اس پر کوئی ریسرچ وغیرہ ابھی تک نہیں ہوئی اوریہ وائرس اپنی شکل تبدیل کرتا رہتا ہے ۔اس لیے اس کی ابھی تک کوئی ویکسین تیار ہی نہیں ہوئی ہے۔ سائنسدان اس پر قابوپانے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ اس کا علاج مریض کی حالت کو دیکھ کر کیا جارہا ہے لیکن اس کے لیے کوئی باقاعدہ دوا وغیرہ موجود نہیں ہے۔
س:انسان اپنے آپ کو کس طرح اس کا شکار ہونے سے بچا سکتا ہے ؟
ڈاکٹر محبوب عالم:اس سے بچائوکیلئے یہ ضروری ہے کہ بار بار اپنے ناک اور منہ میں پانی ڈالا جائے ، غیر ضروری سفر سے پرہیز کیا جائے، بھیڑ والی جگہوں پر جانے سے گریز کیا جائے۔ اور جب بھی آپ باہر نکلیں گھر سے منہ اورسر کو ڈھانپ کر نکلیں اور ماسک کا استعمال ضرور کر یں۔
س: کرونا وائرس میں مبتلا شخص کو کن تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟
ڈاکٹر محبوب عالم: اگر کسی کو ایسی علامت کا سامنا ہو، ناک بہنا شروع ہو جائے، گلے میں خراش ہو اور تیز بخار ہو تو اسے فوری طور پر کسی مستند ڈاکٹر کے پاس یا پھر ہسپتال جانا چاہیے۔
س: یہ وائرس انسانوں میں کیسے آیا؟
ڈاکٹر محبوب عالم: ابھی تک کی تحقیقات سے یہی سامنے آیا ہے کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں داخل ہو ا ہے۔ جیسے سانپ ،کتے ، بلی اور ایسے حشرات الارض جو انسان کھاتے ہیںانہی سے انسان کے اندر پھیلا ہوہے۔ احتیاط کے طور پر آج کل آپ کو اپنے پالتو جانور سے بھی دور رہنا چاہیے۔تاکہ اس بھیانک مرض سے بچا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں