پنیر کے آپ کی صحت کیلئے فوائد

cheese

ہر وہ چیز جو قدرتی شکل میں ہو اور کسی بھی قسم کے دیگر ا جزاء کی آمیزش سے مبرا ہو ، بہتر انتخاب ہوتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ مکھن قدرتی غذا ہے، مارجرین میں رنگ اور دوسرے اجزاء جن میں سچورٹیڈ فیٹس کے علاوہ وٹامن ای شامل کر کے غذائیت سر پلس بنایا جاتا ہے، تاہم مکھن اور مارجرین دونوں ہی وٹامن اے اور ڈی کا بہترین ذریعہ ہیں جبکہ مارجرین میں موجود وٹامن ای اور ایزینشل فیٹی ایسڈز اس کی غذائیت اور ذائقہ دونوں ہی میں اضافہ کرتے ہیں۔
اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی کم چکنائی پر مشتمل نہ ہو تو کیلوریز میں اضافے کا سبب بنے گا۔ مکھن میں قدرتی ٹرانس فیٹس بلڈ کولیسٹرول نہیں بڑھاتے اور مارجرین میں بھی مصنوعی ٹرانس فیٹس بھی نقصان دہ ثابت نہیں ہوتے۔
ڈاکٹرز اور غذائی ماہرین ایک طویل عرصے سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کولیسٹرول کم کرنے کے لئے ان تمام چکنائیوں سے پرہیز کیا جائے جو ہمیں مویشیوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ امریکی جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں لکھا گیا تھا کہ ایک تجربے میں جن لوگوں نے پہلے چھ ہفتے تک روزانہ پنیر کھائی تھی جب ایک وقفے کے بعد اتنی ہی مقدار میں کھانا کھایا تو ان کے LDL کی سطح پنیر کھانے والے وقتوں سے بڑھ چکی تھی، یعنی پنیر کھانے والوں کا LDL کولیسٹرول بڑھا نہیں تھا۔
کوپن ہیگن کی ایک تحقیق کے مطابق چکنائی کی یکساں مقدار پر مشتمل مکھن کے مقابلے میں پنیر LDL خراب کولیسٹرول کی سطح گھٹ جاتی ہے اور پنیر کھانے والے جب معمول کی غذا کھاتے ہیں اس وقت بھی ان کا خراب کولیسٹرول نہیں بڑھتا۔ اس ریسرچ گروپ نے تحقیق کے سلسلے میں تقریباً 50 افراد کو مخصوص غذائوں کا پابند کیا تھا اور اس کے ساتھ انہیںروزانہ مکھن یا پنیر کی ایک مقررہ مقدار کھلائی جارہی تھی۔ یہ مکھن اور پنیر گائے کے دودھ سے تیار کی گئی تھی۔ چھ ہفتے تک روزانہ مکھن یا پنیر کھلا کر 12دنو ں کا وقفہ دیا گیا اور اس دوران انہیں ہلکی غذا دی گئی تاکہ ان کا پیٹ صاف ہو جائے اس کے ساتھ ہی ساتھ ان غذائوں سے ان کے جسم میں ہونے والی تبدیلیاں نوٹ کی جاتی رہیں۔ نتیجہ ظاہر ہوا کہ اگرچہ نارمل خوراک کے مقابلے میں انہوں نے زیادہ چکنائیاں استعمال کی تھیں۔ تاہم اس کے باوجود جن لوگوں نے پنیر کھایا تھا ان کے LDL اور ٹوٹل کولیسٹرول میں اضافہ نہیں ہوا جبکہ مکھن کھانے والوں میں LDL کی سطح اوسطاً سات فیصد بڑھ گئی تھی۔ پنیر کھانے والوں کا HDL یا اچھا کولیسٹرول بھی مکھن والوں کے مقابلے میں معمولی حد تک کم ہو گیا تھا۔
پنیر کے غذائی اجزاء اور افادیت:
پروٹین، کیلشیم اور وٹامن B12 کا خزانہ لئے سبزی خوروں کے لئے بہترین انتخاب ہو سکتی ہے۔ ہڈیوں کے گھلائو اور بھر بھرے پن کی شکایت دور کرنے کے لئے اسے بطور دوا استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ اگر بچوں کو ابتدائی عمروں میں اسے کھانے کی عادت ڈالی جائے تو وہ عمر بھر کیلشیم کی کمی کا اظہارنہیں کریں گے نہ انہیں ہڈیوں سے متعلق کوئی پیچیدہ عارضہ ہی لاحق ہوگا۔ اس میں موجود کیلشیم کو جزو بدن بنتے ہوئے دیر نہیں لگتی جبکہ دیگر غذائوں میں موجود کیلشیم انتہائی سست رفتاری سے جذب ہوتا ہے۔
دانتوں کی بہترین محافظ و نگراں:
دانتوں کے کئی ا مراض کے لئے یہ دوا کے طورپر بھی کام کرتی ہے، خاص کر دانتوں میں کیڑا لگ جائے تو دانتوں کی اوپری تہہ کے اینامل کو مضبوط کرتی ہے اور تیزابی عنصر کا قلع قمع کرنے کی موثر صلاحیت رکھتی ہے۔
سخت پنیر نہ کھانا کیوں بہتر ہے؟:
کیونکہ سخت پنیر Saturated پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ بلڈ کولیسٹول میں اضافے کا موجب بنتا ہے جس کے نتیجے میں دل کے امراض، اسٹروک اور Atherosclerosis کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
کاٹیج چیز میں چار فیصد تک چکنائی ہوتی ہے جبکہ سخت پنیر کی وہ شکل جسے ہم پیزا بناتے وقت استعمال کرتے ہیں اس میں 35فیصد چکنائی ہوتی ہے جبکہ نرم پنیر میں 26فیصد تک پائی گئی ہے۔
پنیر کھانے سے الرجی ہونا بھی ممکن ہے:
ہر اس شخص کو جسے ڈیری مصنوعات ہضم کرنے کی قدرتی صلاحیت نہ ہو ۔ یہ حساسیت وقتی بھی ہوسکتی ہے اگر کوئی فرد جلدی امراض میں مبتلا ہے یا اسے درد شقیقہ (آدھے سر کا درد) یا کانوں کا انفیکشن لاحق ہے تواسے پنیر کھاتے وقت اطمینان کر لینا چاہیے کہ یہ گائے کے دودھ سے تیار شدہ ہے یا بکری اور بھیڑ کے دودھ سے بنی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مریضوں کو غسل صحت کے ساتھ ساتھ کیلشیم سے بھرپور غذا کھاتے رہنا چاہئے۔ انہیں گائے کے دودھ سے بنی یہ غذا الرجی نہیں کرے گی۔ آدھے سر کے درد کی کیفیت میں پنیر کھائی جاسکتی ہے کیونکہ پنیرمیں ایک خاص جزوtyramine درد کی کیفیت سے نجات دلا دیتا ہے ۔ خواہ یہ کریم چیز ہو ، کاٹیج یا بکری کا تازہ پنیر دماغی کمزوری کو رفع کرتا ہے۔
زہر خوراکی کا ایک اور سبب:
ایسا پنیر جو Unpasteurizedدودھ سے بنا ہوگا تو عین ممکن ہے کہ اس میں مائیکرو آرگنزم موجود ہوں ان جرثوموں کی Salmonella اور Listeria کہا جاتا ہے ۔ ان میں سے اول الذکر جرثومے سے آنتوں اور ہاضمے کی بیماریاں سامنے آتی ہیں جبکہ لسٹریا میں متاثرہ شخص کو فلو کا حملہ ہو سکتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ٹیٹرا پیک دودھ سے پنیر بنائی جائے تاکہ نئی نسل بھرپور صحت کے ساتھ زندگی اور اس کی نعمتوں سے مستفید ہو تی رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں