پنیر کے آپ کی صحت کیلئے فوائد

cheese
EjazNews

ہر وہ چیز جو قدرتی شکل میں ہو اور کسی بھی قسم کے دیگر ا جزاء کی آمیزش سے مبرا ہو ، بہتر انتخاب ہوتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ مکھن قدرتی غذا ہے، مارجرین میں رنگ اور دوسرے اجزاء جن میں سچورٹیڈ فیٹس کے علاوہ وٹامن ای شامل کر کے غذائیت سر پلس بنایا جاتا ہے، تاہم مکھن اور مارجرین دونوں ہی وٹامن اے اور ڈی کا بہترین ذریعہ ہیں جبکہ مارجرین میں موجود وٹامن ای اور ایزینشل فیٹی ایسڈز اس کی غذائیت اور ذائقہ دونوں ہی میں اضافہ کرتے ہیں۔
اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی کم چکنائی پر مشتمل نہ ہو تو کیلوریز میں اضافے کا سبب بنے گا۔ مکھن میں قدرتی ٹرانس فیٹس بلڈ کولیسٹرول نہیں بڑھاتے اور مارجرین میں بھی مصنوعی ٹرانس فیٹس بھی نقصان دہ ثابت نہیں ہوتے۔

تقریباً8ہزار سال سے دنیا بھرمیں دودھ کے ذریعے مختلف قسم کا پنیر تیار کیا جارہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ،مائع شکل میں دودھ کی خریداری میں کمی جبکہ دودھ سے بننے والی مصنوعات مثلاًپنیر کی خریدوفروخت میں اضافہ قابل غور ہے۔یہ اضافہ گزشتہ 40برسوں کے دوران ، دودھ کی کھپت میں 50فیصد اضافے کی وجہ بنا۔واضح رہے کہ زیادہ تر ڈیری مصنوعات مثلاًدہی، پنیر وغیرہ گائے کے دودھ سے ہی تیار کی جاتی ہیں۔ پنیر تیار کرنے کے لئے دودھ میں سے سارا پانی نکال لیا جاتا ہے۔ دودھ سے پنیر کی تیاری کا عمل پروٹین کی وافر مقدار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو صحت کے لئے نہایت مفید بنا نے کا باعث بھی بنتاہے ۔
ڈاکٹرز اور غذائی ماہرین ایک طویل عرصے سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کولیسٹرول کم کرنے کے لئے ان تمام چکنائیوں سے پرہیز کیا جائے جو ہمیں مویشیوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ امریکی جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں لکھا گیا تھا کہ ایک تجربے میں جن لوگوں نے پہلے چھ ہفتے تک روزانہ پنیر کھائی تھی جب ایک وقفے کے بعد اتنی ہی مقدار میں کھانا کھایا تو ان کے LDL کی سطح پنیر کھانے والے وقتوں سے بڑھ چکی تھی، یعنی پنیر کھانے والوں کا LDL کولیسٹرول بڑھا نہیں تھا۔
کوپن ہیگن کی ایک تحقیق کے مطابق چکنائی کی یکساں مقدار پر مشتمل مکھن کے مقابلے میں پنیر LDL خراب کولیسٹرول کی سطح گھٹ جاتی ہے اور پنیر کھانے والے جب معمول کی غذا کھاتے ہیں اس وقت بھی ان کا خراب کولیسٹرول نہیں بڑھتا۔ اس ریسرچ گروپ نے تحقیق کے سلسلے میں تقریباً 50 افراد کو مخصوص غذائوں کا پابند کیا تھا اور اس کے ساتھ انہیںروزانہ مکھن یا پنیر کی ایک مقررہ مقدار کھلائی جارہی تھی۔ یہ مکھن اور پنیر گائے کے دودھ سے تیار کی گئی تھی۔ چھ ہفتے تک روزانہ مکھن یا پنیر کھلا کر 12دنو ں کا وقفہ دیا گیا اور اس دوران انہیں ہلکی غذا دی گئی تاکہ ان کا پیٹ صاف ہو جائے اس کے ساتھ ہی ساتھ ان غذائوں سے ان کے جسم میں ہونے والی تبدیلیاں نوٹ کی جاتی رہیں۔ نتیجہ ظاہر ہوا کہ اگرچہ نارمل خوراک کے مقابلے میں انہوں نے زیادہ چکنائیاں استعمال کی تھیں۔ تاہم اس کے باوجود جن لوگوں نے پنیر کھایا تھا ان کے LDL اور ٹوٹل کولیسٹرول میں اضافہ نہیں ہوا جبکہ مکھن کھانے والوں میں LDL کی سطح اوسطاً سات فیصد بڑھ گئی تھی۔ پنیر کھانے والوں کا HDL یا اچھا کولیسٹرول بھی مکھن والوں کے مقابلے میں معمولی حد تک کم ہو گیا تھا۔
پنیر کے غذائی اجزاء اور افادیت:
پروٹین، کیلشیم اور وٹامن B12 کا خزانہ لئے سبزی خوروں کے لئے بہترین انتخاب ہو سکتی ہے۔ ہڈیوں کے گھلائو اور بھر بھرے پن کی شکایت دور کرنے کے لئے اسے بطور دوا استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ اگر بچوں کو ابتدائی عمروں میں اسے کھانے کی عادت ڈالی جائے تو وہ عمر بھر کیلشیم کی کمی کا اظہارنہیں کریں گے نہ انہیں ہڈیوں سے متعلق کوئی پیچیدہ عارضہ ہی لاحق ہوگا۔ اس میں موجود کیلشیم کو جزو بدن بنتے ہوئے دیر نہیں لگتی جبکہ دیگر غذائوں میں موجود کیلشیم انتہائی سست رفتاری سے جذب ہوتا ہے۔
دانتوں کی بہترین محافظ و نگراں:
دانتوں کے کئی ا مراض کے لئے یہ دوا کے طورپر بھی کام کرتی ہے، خاص کر دانتوں میں کیڑا لگ جائے تو دانتوں کی اوپری تہہ کے اینامل کو مضبوط کرتی ہے اور تیزابی عنصر کا قلع قمع کرنے کی موثر صلاحیت رکھتی ہے۔
سخت پنیر نہ کھانا کیوں بہتر ہے؟:
کیونکہ سخت پنیر Saturated پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ بلڈ کولیسٹول میں اضافے کا موجب بنتا ہے جس کے نتیجے میں دل کے امراض، اسٹروک اور Atherosclerosis کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
کاٹیج چیز میں چار فیصد تک چکنائی ہوتی ہے جبکہ سخت پنیر کی وہ شکل جسے ہم پیزا بناتے وقت استعمال کرتے ہیں اس میں 35فیصد چکنائی ہوتی ہے جبکہ نرم پنیر میں 26فیصد تک پائی گئی ہے۔
پنیر کھانے سے الرجی ہونا بھی ممکن ہے:
ہر اس شخص کو جسے ڈیری مصنوعات ہضم کرنے کی قدرتی صلاحیت نہ ہو ۔ یہ حساسیت وقتی بھی ہوسکتی ہے اگر کوئی فرد جلدی امراض میں مبتلا ہے یا اسے درد شقیقہ (آدھے سر کا درد) یا کانوں کا انفیکشن لاحق ہے تواسے پنیر کھاتے وقت اطمینان کر لینا چاہیے کہ یہ گائے کے دودھ سے تیار شدہ ہے یا بکری اور بھیڑ کے دودھ سے بنی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مریضوں کو غسل صحت کے ساتھ ساتھ کیلشیم سے بھرپور غذا کھاتے رہنا چاہئے۔ انہیں گائے کے دودھ سے بنی یہ غذا الرجی نہیں کرے گی۔ آدھے سر کے درد کی کیفیت میں پنیر کھائی جاسکتی ہے کیونکہ پنیرمیں ایک خاص جزوtyramine درد کی کیفیت سے نجات دلا دیتا ہے ۔ خواہ یہ کریم چیز ہو ، کاٹیج یا بکری کا تازہ پنیر دماغی کمزوری کو رفع کرتا ہے۔
زہر خوراکی کا ایک اور سبب:
ایسا پنیر جو Unpasteurizedدودھ سے بنا ہوگا تو عین ممکن ہے کہ اس میں مائیکرو آرگنزم موجود ہوں ان جرثوموں کی Salmonella اور Listeria کہا جاتا ہے ۔ ان میں سے اول الذکر جرثومے سے آنتوں اور ہاضمے کی بیماریاں سامنے آتی ہیں جبکہ لسٹریا میں متاثرہ شخص کو فلو کا حملہ ہو سکتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ٹیٹرا پیک دودھ سے پنیر بنائی جائے تاکہ نئی نسل بھرپور صحت کے ساتھ زندگی اور اس کی نعمتوں سے مستفید ہو تی رہے۔

آسٹروپروسس سے حفاظت:
والدین بچپن ہی سے بچوں کودودھ پینے کی ہدایت کرتے ہیں کیونکہ دودھ میں موجود کیلشیم اور وٹامن ڈی مضبوط اور صحت مندہڈیوں کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انسانی ہڈیوں کی مسلسل نشوونما کا عمل 30سال کی عمرتک جاری رہتا ہے،جس کے بعدہڈیوں کی نشوونما رُک جاتی ہے۔ رکاوٹ کا یہ عمل انسان میںآسٹروپروسس کے خطرات میں اضافہ کردیتا ہے۔ آسٹروپروسس کو عام طور پر ہڈیوں کا بُھربھرا پن یا ہڈیوںکوکھوکھلا کردینےوالا مرض بھی کہتے ہیں، اس مرض میں مبتلا انسان کی ہڈیوں کی لچک کم ہو جاتی ہے اور وہ بھر بھرے پن کا شکار ہوکر نرم پڑجاتی ہیں، حتیٰ کہ اتنی نرم کہ ان کے ٹوٹ جانے کے امکانات بھی کئی گنا بڑھ جاتےہیں۔اس بیماری سے بچنے کے لیے ایک خاص عمر کے بعد متوازن غذا کا استعمال ضروری ہے،جس کے لیےانسان کی خوراک میں پروٹین ،کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کافی مقدار کا شامل ہونا ضروری ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) کے مطابق ،انسان کی دن بھر کے دوران لی گئی خوراک میں موجود 400سے 500ملی گرام کیلشیم آسٹروپروسس کے خطرات میں 50فیصد کمی لاتا ہے ۔ڈیری مصنوعات خاص طور پر ،پنیر وٹامن ڈی اور منرلزکی کثیر مقدار فراہم کرتا ہے۔
جگر کے کینسر سے حفاظت:
دنیا بھر میں جگر کے کینسر میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں بڑھتااضافہ قابل تشویش ہے۔ماہرین کے مطابق ،پنیرکا استعمال جگر کو توانا رکھتے ہوئے اسےکینسر جیسے موذی مرض سے محفوظ رکھتاہے۔ پنیر کی قسمیں خواہ وہ چیڈر ہو، یا پرمیسن، جگر کے کینسر سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار کرتی ہیں ۔ جگر کے کینسر سے محفوظ رکھنے کی وجہ پنیر میں موجودمرکب’’ اسپرمیڈائن‘‘ ہے، جو جگر کے متاثرہ خلیات کو بڑھنے سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جگر فائبروسِس، ہیپٹوسیلولرکارسینوما (ایچ سی سی ) کو بھی روکتا ہے جو جگر کے کینسر کی سب سے عام وجہ ہے۔
پروٹین کا بہترین ذریعہ :
جسم میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ ،مرمت ، اعضا کی بناوٹ، نشوونما اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت فراہم کرنے کے لیے پروٹین کا کردار بے حد اہم ہے ۔پروٹین کی کمی مسلز کی کمزوری، درد یا حجم میں کمی ،جگر پر چربی ، جِلداور ناخنوں کے مسائل ،بالوں کے ٹوٹ جانے یا گنج پن جیسے مسائل کا خطرہ بڑھادیتی ہے۔ اسی لیےکہا جاتا ہے کہ انسان کی روزمرہ خوراک میں پروٹین کی مناسب مقدار کا شامل ہونا ضروری ہے۔ پروٹین کی مقدار سے متعلق ماہرین مردوں کے لیے روزانہ 56گرام، خواتین کے لیے40 گرام جبکہ بچوں کے لیے 19 سے 34 گرام (ان کی عمر پر اس کا انحصار ہے) پروٹین کی مقدار مختص کرتے ہیں۔ پنیر کی زیادہ تر اقسام، پروٹین کا اہم ذریعہ تسلیم کی جاتی ہیں۔کم چکنائی پر مشتمل پنیر کو پروٹین کا بہترین ذریعہ جبکہ پنیر کی ایک اور قسم parmesan چیز کو دیگر اقسام کے مقابلے میں سب سے بہترین قرار دیا جاتا ہے کیونکہ پرمیسن چیز کےایک اونس میں 10گرام پروٹین پایا جاتا ہے ۔اس کے برعکس پنیر کی دیگر اقسام موزریلا ، چیڈر، کوٹیج اور ریکوٹا میں پروٹین کی مقدار کم اور فیٹ کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔
وٹامن B12کی وافر مقدار:
وٹامن بی12(جسے عام طور پر کوبالامن بھی کہا جاتا ہے )جسم کے لیے ضروری غذائیت میں سے ایک ہے۔ یہ وٹامن خون کے سرخ خلیات کی تشکیل،جسم کے تمام حصوں میں آکسیجن کی فراہمی، ڈی این اے کو بنانے، دماغ اور اعصابی نظام کی کارکردگی ، چربی اورپروٹین سے توانائی حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔اس ضروری جزو کو پروٹین کے برعکس جسم میں کچھ عرصے تک ذخیرہ بھی کیا جاسکتا ہے۔وٹامن بی 12 دودھ یا پھر سپلیمنٹ سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ پنیر کی کئی قسموں میں بھی وٹامن B12قدرتی طور پر موجود ہوتاہے۔ مثال کے طور پرپنیر کی قسم’’ سوئس‘‘ کی ایک اونس مقدار میں 0.95 مائیکرو گرام( جو کہ آپ کی روزمرہ خوراک کا 39فیصد بنتا ہے) جبکہ پنیر کی دیگر اقسام مثلاًچیڈراور موزریلا کی ایک اونس مقدار میں 10فیصد وٹامن B12 پایا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں