پنجاب میں لاک ڈائون ہے کرفیو نہیں:وزیراعلیٰ پنجاب

Punjab_Road

کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سندھ کے بعد پنجاب حکومت نے بھی صوبے کو دو ہفتوں کے لیے جزوی لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔صوبائی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد 24 مارچ صبح 9 بجے سے ہوگا اور 6اپریل تک اس پر عملدرآمد ہوگا۔تمام شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند رہیں گی۔24مارچ کی صبح 9 بجے سے 6 اپریل صبح 9 بجے تک 14 روز کے لیے صوبے کے بازار، شاپنگ مالز، نجی و سرکاری ادارے، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، پارکس، سیاحتی مقامات بند رہیں گے۔
جبکہ سبزی منڈی اور کریانہ سٹورزکھلے رہیں گے اور فوڈ سپلائی چین برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبے میں کرفیو جیسی صورت حال نہیں ہوگی، ایسا نہیں ہوگا کہ لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ لاک ڈاؤن کے دوران صوبے بھرمیں ڈبل سواری پر پابندی ہوگی۔تاہم فیملی اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔اس کے ساتھ ساتھ ادویات، اشیائے خور و نوش بنانے اور فراہم کرنے والی فیکٹریاں کھلی رہیں گی۔
طبی آلات اور ضروری سامان فراہم کرنے والی فیکٹریاں بھی اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی، اس کے علاوہ ضروری سروس فراہم کرنے والے ادارے کھلے رہیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سے جب سوال کیا گیا کہ اگر روز پیسے کما کر گھر چلانے والے کیا کریں گے تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی کرفیو یا لاک ڈاؤن نہیں ہے۔
عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی مہم میں میری اپیل پر جس طرح عوام نے تعاون کیا اس پر صوبے کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
پنجاب کی پوری سول انتظامیہ اور پاک فوج عوام کی خدمت اور حفاظت کیلئے سرگرم عمل ہے اور اس کڑے وقت میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔اس کے ساتھ انہوں نے میڈیا کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔پنجاب میں کرونا وائرس کے مریض کے246مریض ہیں۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں بھی مکمل لاک ڈاؤن کردیا جائے گا تاہم لاک ڈاؤن سے مراد کوئی کرفیو نہیں ہے۔یہ شہریوں کے مفاد میں کیا جارہا ہے، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ 3ہفتوں کے لیے ہر طرح کے اجتماعات پر پابندی لگائی گئی ہے۔ عوام کے بین الاضلاعی اور آزاد کشمیر بھر میں سفر پر پابندی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کے غیر ضروری سفر کرنے اور باہر نکلنے پر پابندی ہو گی جبکہ ہر قسم کی ٹرانسپورٹ مکمل معطل رہے گی۔ ناگزیر حالات میں سفر کرنے کے لیے خصوصی پاسز جاری کیے جائیں گے ۔کھانے پینے کا سامان لانے کے لیے گھر کے ایک فرد کو جانے کی اجازت ہوگی۔ عوام گھروں سے باہر نہ نکلیں اور اگر انتہائی ناگزیر حالات ہوں تو شناختی کارڈ ساتھ رکھیں۔ محکمہ صحت، پولیس انتظامیہ اور اشیائے خورو نوش کا سامان لے جانے کی اجازت ہوگی، اس کے علاوہ صحافی حضرات کو خصوصی پاسز جاری کیے جائیں گے۔
تاہم اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ ایمرجنسی سروسز جاری رہیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں