پرانا یام (سانس کو قابو کرنے کا عمل)

yoga-4
EjazNews

پران (سانس) پر قابو پانا ہی پرانا یام ہے۔ جب پران (سانس) ایک بار کسی کے بس میں ہو جاتا ہے تو وہ اپنی خواہش کے مطابق پختہ ارادہ، امن و سکون اور لطف حاصل کرسکتا ہے۔ پرانا یام کی اونچی حالت میں کنڈلنی جاگنے میں بہت جلد مدد ملتی ہے۔
پدم آسن ہی ایک ایسا آسن ہے جس میں پرانا یام کیا جاتاہے۔
پرانا یام کے تین درجے ہیں۔ (۱) ریچک (سانس کا باہر نکالنا)، (۲) پورک (سانس کو اندر لینا)۔ (۳) کنبھک (سانس کو روکنا)۔
کنبھک کو بھی درجوں میں بانٹا گیا ہے۔
(۱)آنتر کنبھک (سانس کو اندر لے کر روکنا)۔(۲) باہیا کنبھک (سانس کو باہر نکال کر روکنا)۔ (۳) کیولیہ کنبھک (سانس جہاںبھی ہو وہاں روکنا)۔
پرانا یام سے پہلے ناڑی اور بندھ کا جاننا بھی ضروری ہے۔
ناڑی: جسم میں بہتر ہزارآٹھ سو چوسٹھ (72864) ناڑیاں ہیں۔ جن میں تین بہت اہم ہیں۔
(۱) ایڑا ناڑی (چندر ناڑی )ناک کے بائیں نتھنے سے شروع ہو کر ریڑھ کی ہڈی کی جڑ تک جانے والی ناڑی کو ’’ایڑا ناڑی‘‘کہتے ہیں۔ بائیں نتھنے سے چل رہے سانس کو ’’چند رسوور‘‘ کہتے ہیں۔ یہ جسم کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔
پنگلا ناڑی (سوریہ ناڑی) ناک کے دائیں نتھنے سے شروع ہو کر ریڑھ کی ہڈی کی جڑ تک جانے والی ناڑی کو ’’پنگلا ناڑ‘‘ کہتے ہیں۔ دائیں نتھنے سے چل رہے سانس کو ’’سوریہ سور ‘‘ کہتے ہیں ۔ یہ جسم کو گرمی دیتا ہے۔
(۳) شوشمنا ناڑی (سوریہ ناڑی )ایڑا اور پنگلا کے درمیان رہنے والی ناڑی کو شوشمنا ناڑی کہتے ہیں۔ یہ بھی ناک سے لے کر ریڑھ کے آخر تک جاتی ہے۔
بندھ: یوگ کے افعال (کریائوں) میں یہ چھوٹا لیکن پر مانو کی طرح اہم ہے۔ اس کے ذریعے یوگ کی مشق کرنے والا جسم کے مختلف حصوں اورناڑیوں کو قابو کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اس طریقہ کار میں جسم کے مختلف اعضا کو آہستہ مگر زور لگا کر سکیڑا اور سخت کیا جاتا ہے۔ بندھ تین طرح کے ہیں۔(۱) مول بندھ۔ (۲) اڑ یان بندھ ۔ (۳) جالندھر بندھ۔
مول بندھ: مقعد کے راستے کے گوشت کے پٹھوں کو اندرونی طاقت سے اوپر کی طرف جہاں تک ہو سکے ، کھینچے رکھنے کو ہی مول بندہ کہتے ہیں۔
فائدہ: مقعد سے متعلقہ امرا ض (بواسیر، کانچ نکلنا وغیرہ) دور ہو جاتے ہیں۔اونچے خون کا دبائو (H.B.P) دل اور ہرنیا کے مریضوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔ احتلام، سرعت انزال وغیرہ خرابیوں میں مول بندھ تیر حدف کا کام کرتاہے۔ بوڑھے بھی جوانوں جیسے ہو جاتے ہیں۔
اگر عورت اور مرد مول بندھ لگانے کی متواتر مشق کریں تو ان کی ازدواجی زندگی میں ناقابل بیان لطف کا اضافہ ضروری ہی ہو جائے گا۔ یہ بندھ کنڈلنی شکتی کو جگانے میں مدد گار ہوتا ہے۔
اڑی یان بندھ: سانس باہر نکال کر پیٹ کو زور لگا کر کھینچتے ہیں۔ جس سے پیٹ کی جگہ پر ایک گڑھا سا بن جاتا ہے اور پیٹ پیٹھ کے ساتھ چیک جاتا ہے جہاں تک ہو سکے اسے روکے رکھتے ہیں ۔
فائدہ: پیٹ کے اعضا کو مضبوط بناتا ہے ۔ تیزابیت، قبض ، بد ہضمی دور ہوتی ہے اورپھیپھڑے مضبوط ہوتے ہیں۔ دل کے کام کرنے کی طاقت بڑھتی ہے۔ پیٹ کے کیڑوں اور ذیابطیس کو دور کر تا ہے۔
نوٹ: دل اور دماغ کے مریضوں کو اس کی مشق نہیں کرنا چاہئے۔
جالندھر بندھ: اس میں ٹھوڑی کوزبردستی کنٹھ کوپ ( گلے کے گڈھے ) میں لگایا جاتا ہے۔
فاعدہ: گلے میں ہونے والی بیماریاں نہیں ہوتیں۔ ٹانسلز وغیرہ امراض کو دور کرتا ہے۔ گلہ سریلا ہو جاتا ہے۔ تھائی رائیڈ پیرا تھائی رائیڈ کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ چہرہ نورانی ہو جاتا ہے اور کنڈلنی شکتی کو جگانے میں مدد گار ہے۔
نوٹ: کمر درد، گردن درد کے مریضوں کو اس کی مشق نہیں کرنا چاہئے۔
شٹ چکر (چھ چکر):
(۱) مول آدھا ر چکر یہ مقعد میں رہتا ہے ۔ (۲) سوادھی شٹھان چکر یہ اعضائے تناسل کی جڑ میں رہتا ہے ۔(۳) منی پورک چکر اس کی جگہ ناف میں ہے۔ (۴) اناحد چکر اس کا مقام دل میں ہے۔ (۵) وی شدھ چکر اس کی جگہ گلے میں ہے۔ (۶) آگیا چکر اس کی جگہ ابروئوں کے درمیان میں ہے۔
کنڈلنی: کنڈلنی وہ روحانی شکتی (طاقت) جو مولا دھار چکر سے سوا انگل اوپر سوا تین لپیٹ لیے ہوئے اپنی پونچھ کو منہ میں دبائے ہوئے سوشمنا کے دروازے پر نیند کی حالت میں پڑی ہے ۔ جب تک یہ سوئی ہوئی ہے۔ آدمی لا علم بنا رہتا ہے۔ جو اسے جگانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ وہ جسم رکھتے ہوئے بھی زندگی کے بندھنوں سے آزاد (درخشاں فردوسی حالت) کو حاصل کر لیتا ہے۔ یوگ کی مشق میں شٹ کرم( چھ افعال) آسن، پرانا یام، بندھ مدرا کی مشق سے یہ کنڈلنی شکتی جاگ جاتی ہے۔
ماترا: سانس کے پورک (اندر لینے) کنبھک (روکنے ) اور ریچن (باہر نکالنے کے وقت کے تناسب کو ’’ماترا‘‘ کہتے ہیں۔ ماترا میں 1:4:2کا تناسب ہوتا ہے۔
دلیس (مقام):سانس کو پورک کرتے (اندر لیتے) وقت اس کا دلیس (مقام) مول آدھار تک ہوتا ہے ۔کنبھک کرتے (سانس روکتے) وقت اس کا دلیس (مقام) ناف تک ہوتا ے اور ریچن کرتے (سانس باہر نکالتے وقت اس کا دلیس ناک کے اگلے حصہ تک ہوتا ہے اسی کو دلیس (مقام) کہتے ہیں۔
پرانا یام سے متعلقہ اصول:
 پرانا یام کرنے کی جگہ صاف ستھری ہو ا دار ، پر سکون اور پاکیزہ ہو۔ 
پدم آسن، سدھ آسن، یوگ مدرا آسن، سکھ آسن یا وجر آسن وغیرہ کی حالت میں بیٹھ کر کرنا چاہئے۔
ریڑھ ، گردن ، کمر، چھاتی کو سیدھا رکھیں۔ پرانا یام کرنے کے لیے صبح شام کا وقت مناسب ہے۔
زیادہ بھوک لگی ہو تب بھی پرانایام نہیں کرنا چاہئے۔
کسی شدید مرض، بخار وغیرہ کی حالت میں اور حاملہ عورتوں کو تیز سانس لینے والے پرانا یام کی مشق نہیں کرنا چاہئے۔
پرانا یام کی مشق کرنے والوں کو کھانا خاص طور سے مقوی اور ذود ہضم لینا چاہئے۔
پیٹ کو ہلکا اور گندگی سے پاک رکھنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔
پرانا یام کی مشق کے بعد جتنا ممکن ہو سکے آرام ضرور لینا چاہئے۔
پرانا یام کی مشق کے لیے صبح سوا چار بجے، دوپہر سوا بارہ بجے، شام چار سے چھ بجے تک اور رات کو بارہ بجے سے دوبجے تک کا وقت اعلیٰ بتایا گیا ہے۔
ناڑی شودھن یا لوم وی لوم:
پرانا یام کی مشق سےپہلے ناڑی شودھن بہت ضروری ہے۔
ناڑی شودھن یا لوی وی لوم کی ترکیب:پدم ا ٓسن میں بیٹھ کر کمر و گردن سیدھی رکھتے ہیں اور نظر برابر رہتی ہے۔ ہاتھ انجلی ، را میں (بائیں ہاتھ کو پیٹ کے پاس رکھ کر اس کی ہتھیلی پر دایاں ہاتھ رکھتے ہیں، ہتھیلی کا رخ آسمان کی طرف رہے گا) رکھتے ہیں۔ دائیں ہاتھ کی مدرا (انداز) (انگوٹھی پہننے والی انگلی اور درمیانی انگلی بائیں نتھنے پر انگوٹھا دائیں نتھنے پر رکھتے ہیں )بناتے ہیں۔ بائیں ناک سے سانس باہر نکال کر بغیر آواز کئے سانس کا پورک کرتے ہیں (سانس اندر لیتے ہیں) پورک کرتے وقت پیٹ کو پھیلا تے ہیں اور پیٹ کی شکل مٹکے جیسی بناتے ہیں اور جالندھر بندھ و مول بندھ لگاتے ہیں۔ آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ ہاتھ واپس ’’احجلی مدرا‘‘ میں لاتے ہیں اور کمبھک (سانس روکتے ہیں) لگاتے ہیں۔ سانس نہ روک پانے کی حالت میں ہاتھ کی مدرا (Pose) بنا کر واپس ناک پر لاتے ہیں۔ جالندھر بندھ اور مول بندھ کھولتے ہیں۔ آنکھ کھولتے ہیں اور دائیں ناک سے سانس باہر نکالتے ہیں اور اڑن یان بندھ لگاتے ہیں۔ اس کے بعد دائیں ناک سے ہی سانس اندر لیتے ہیں پھر اسی طرح کمبھک لگا کر (سانس روک کر ) بائیں ناک سے سانس باہر نکالتے ہیں۔ اس طرح ایک چکر پورا ہوتا ہے۔ اسے جہاں تک ہو سکے کئی بار دوہرا سکتے ہیں۔ اس پورک (سانس لیتے )، کمبھک (سانس روکتے) او ریچک (سانس باہر نکلانے) کے تناسب 1:4:2کا ہو ،اس بات کا دھیان رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں