پتھر کی مورتوں والا شہر

ston_city
EjazNews

گنجے لنگور کا شکریہ ادا کر چکے تو سب ایک بار پھر چل پڑے۔ چلتے چلتے جنگل ختم ہو گیا تو سمندر کے ساحل پر آگئے۔ اتفاق کی بات کہ اسی جگہ آن نکلے کہ جہاں ان کا جہاز لنگر انداز تھا۔ قریب پہنچے تو جہاز ویسے کا ویسا کھڑا تھا۔ انہوں نے بھاگم بھاگ جہاز کے بادبان کھولے اور اسے گہرے سمندر میں لے آئے۔ اتنے میں آدم خور وں کی فوج ساحل پر آگئی۔ دیکھا تو قیدیوں کا جہاز سمندر میں اتنی دور جا چکا ہے کہ وہاں تک پہنچنا ناممکن ہے۔
جہاز ہوا کے رخ پر بہتا چلا جارہا تھا کہ اچانک مخالف ہوا چلنے لگی۔ اس ہوا نے بڑھتے بڑھتے طوفان کی صورت اختیار کرلی۔ ملا حوں نے جہاز کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی لیکن طوفاکے تھپیڑوں نے ان کی ایک نہ چلنے دی اور جہاز طوفان کے رحم و کرم پر ہچکولے کھاتا ہوا کبھی ادھر جاتا کبھی ادھر۔ سب لوگ گڑ گڑا کر خدا سے دعائیں مانگنے لگے کہ وہ انہیں اس طوفان سے محفوظ رکھے ۔ مگر یوں لگتا تھا کہ قدرت آج کسی دعا کو قبول کرنے پر تیار نہ تھی۔
طوفان شدید سے شدید تر ہوتا گیا۔ اس کے ساتھ ہی آسمان پرسیاہ بادل گھر آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش ہونے لگی، چاروں طرف اندھیرے کی موٹی چادر سی پھیل گئی تھی۔ جہاز کے لنگر گرا دئیے گئے تھے لیکن طوفان اس شدت کاتھا کہ جہاز کاغذ کی نائو کی طرح ادھر ادھر ہچکولے کھا رہا تھا۔
خدا خدا کر کے طوفان کے زور میں کچھ کمی آئی۔ بادل چھٹ گئے اور جہاز ایک جزیرے کے ساحل میں جا لگا۔ ایک ایک کر کے سب ہوش میں آئے۔ ایک دوسرے کی خیریت پوچھی ، ساتھیوں کی گنتی کی تو پتا چلا کہ پانچ آدمی طوفان کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ جو بچے، انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے انہیں نئی زندگی دی۔
شیخ مظفر نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا ، تم لوگوں کا کیا خیا ل ہے اس جزیرے میں اتر جائے یا نہیں ؟ کیونکہ ایسا نہ ہو اس بار ہم کسی نئی مصیبت میں پھنس جائیں۔
انہو ںنے جواب دیا ہمارا خیال ہے کہ لنگور کو جزیرے میں بھیجا جائے۔ یہ اچھی طرح دیکھ بھال کر ہمیں بتائے کہ یہاں کوئی خطرہ تو نہیں ۔
مظفر نے اس رائے سے اتفاق کیا اور لنگور سے کہا کہ وہ جا کر جزیرے میں گھوم پھر آئے اور انہیں بتائے کہ جزیرے میں جایا جائے یا نہیں۔ گنجا لنگور چھلانگ مار کر جہاز سے اترا اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
ایک سوداگر نے کہا بھائی مظفر ! یہ گنجا لنگور تو کوئی بڑی ہی عجیب و غریب مخلوق ہے۔ انسانوں کی بولی سمجھتا ہے، درندوں سے لڑائی کرتا ہے، آدم خوروں سے مقابلہ کرتا ہے۔ مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے یہ کوئی جن بھوت ہے۔
شیخ مظفر بولا میرا بھی یہی خیال ہے۔ کیونکہ ایک لنگور خواہ کتنا ہی طاقتور اور پھر تیلا کیوں نہ ہو، شیر سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔ دوسرے ، کسی انسان کو پیٹھ پر بٹھا کر چھلانگ نہیں لگا سکتا۔ اس میں ضرور کوئی بھید ہے۔ اور آج نہیں تو کل یہ بھید کھل جائے گا۔
ایک اور سوداگر بولا اگر وہ تاجر یہ جانتا کہ گنجا لنگور اتنی قوت کا مالک ہے تو وہ اسے پانچ روپوں میں ہرگز فروخت نہ کرتا۔ آ پ نے اسے خرید کر بڑی دانش مندی کا ثبوت دیا ہے کیونکہ اگر یہ نہ ہوتا تو ہماری جانیں کسی صورت نہ بچ سکتی تھیں۔ پھر ہم ہوتے اور وہ آدم خور کم بخت ہماری ہڈیاں تک چبا ڈالتے۔
شیخ مظفر نے جواب دیا میں سمجھتا ہوں ابومحمد القرزان بہت خوش قسمت ہے کہ اس کے لیے ہم نے یہ لنگور خرید لیا۔ مجھے یقین ہے کہ لنگور اسے مالا مال کر دے گا اور ساری زندگی اسے روپے پیسے کی تنگی نہ آئے گی۔ لنگور کیا ہے جادو کا جانور ہے۔ یا یوں سمجھو، سونے چاندی کی کان ہے۔
ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ گنجا لنگور اچھلتا کودتا واپس آیا اور خوشی سے چیخ چیخ کر بتانے لگا کہ جزیرہ بالکل محفوظ ہے ۔ شیخ مظفرنے اپنے ساتھیو ں سے کہا کہ سب لوگ جہاز سے اتر آئیں اور جزیرے میں گھوم پھر کر کھانے پینے کا سامان تلا ش کریں۔
سب نے جزیرے کی راہ لی۔ تھوڑی دور گئے تو سامنے ایک عالی شان شہر دکھائی دیا۔ سب شہر کی طرف چلے۔ شہر میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ شہر تو بہت شان دار ہے مگر ہر طرف پتھروں کا انبار ہے ۔بازار کھلا ہوا ہے دکانوں پر چیزیں سجی ہیں دکان دار بیٹھے ہیں گاہک لین دین کر رہے ہیں مگر ہر چیز اور ہر انسان پتھر کا ہے جو جہاں ہے وہیں پتھر بن کر کھڑا ہے۔ کسی نے دکان دار کی طرف ہاتھ بڑھا رکھا ہے تو اسی حالت میں پتھر بن گیا ہے۔ کوئی سودا خرید کر چلنے لگا ہے تو وہیں پتھر میں تبدیل ہو گیا ہے ۔دکان دار سودا تول رہا ہے ترازو ہاتھ میں جھول رہی ہے تو اسی دم پتھر بن کر رہ گیا ۔ کوئی راستہ چلتے پتھر بنا ہوا ہے۔ کوئی پانی پینے کی حالت میں پتھر بن گیا ہے۔ زندہ انسان کی صورت کہیں نظر نہ آتی تھی گو جا بجا مرد عورتیں کھڑے تھے مگر سب کی سب پتھروں میں ڈھلے تھے۔ حیرت تھی کہ یہ کسی جادوگر کی شعبدہ بازی ہے یا فسوں سازی ہے ! تاجروں نے دولت اور جواہرات سے دکانو ں کو پر پایا تو غنچہ دل کھل کھلایا۔ کسی نے ادھر کسی نے ادھر راستہ لیا۔ جدھر سینگ سمائے ادھرگیا۔
شیخ مظفر نے لنگور کے ہمراہ شاہی محل کی راہ لی۔ یہ عمارت سب سے زیادہ عالی شان اور خوبصورت دکھائی دی۔ محل کے اندر قدم رکھا تو سامان دیکھ کر عش عش کر نے لگا۔ معلوم ہوتا تھا شاہ عالم پناہ آرام کر رہے تھے۔ خواجہ سرا اور خادم اپنے اپنے کا م میں تھے کہ اسی حالت میں پتھر وں کا انبار بن گئے۔ امیر وزیر جس حالت میں بیٹھے تھے اسی حالت میں پتھروں میں تبدیل ہو گئے۔ جو خاتون لباس اور زیورات سے بادشاہ بیگم معلوم ہوتی تھی وہ بھی پتھر بنی سوتی تھی۔ ہاتھ پائوں گلے میں جواہرات کا انمول زیور، کہیں موتی، کہیں یا قوت احمر۔
قریب جا کر بادشاہ کو دیکھا تو تخت جواہر نگار پر بڑی آن بان سے جلوس فرما ہے مگر سر سے پائوں تک پتھر کا مجسمہ بنا ہوا ہے۔اس کے ارد گرد پچاس جوان ہاتھ کے کرارے ، ریشمی وردیاں پہنے اکڑے کھڑے تھے۔
اس تماشائے حیرت انگیز کو دیکھ کر کسی قدر خوف معلوم ہوا۔ رونگٹا رونگٹا کھڑا ہوگیا۔ مگر دل کو ڈھارس دے کر آگے بڑھا تو ایک چوکھٹ نظر آئی۔ دیکھا تو سات زینے بنے ہوئے تھے۔ شیخ مظفر بسم اللہ کہہ کر اس میں داخل ہوا تو ایک کمرا دکھائی دیا۔ تو سات زینے بنے ہوئے تھے۔ اس میں سنگ مرمر کا فرش تھا اور اس کے چاروں طرف سونے کا حاشیہ بنا ہوا تھا۔
اس کمرے میں تھوڑی دیر کے بعد ایک سمت میں پہنچا تو نور کا بقعہ نظر پڑا۔ قریب جا کر دیکھا تو یاقوت کی تپائی پر ایک الماس رکھا ہے۔ اس سے روشنی کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر شیخ مظفر نے باہر نکلنے کی فکر کی تو اندھیرا ایسا چھایا کہ راستہ نہ پایا۔ لنگور بھی ہمراہ تھا۔ دونوں فرش پر لیٹ رہے ۔ مگر طبیعت کچھ ایسی گھبرائی کہ نیند نہ آئی پہلو بدلتے رات کٹ گئی۔ جب صبح کا اجالا چار سو پھیلا تو ایک انسانی آواز سنائی دی۔ کان دھر کے سنا تو معلوم ہوا کہ کوئی مرد تلاوت قرآن پاک کر رہا ہے۔ قرأت کے ساتھ بڑی سوز بھری آواز میں قرآن خوانی کر رہا ہے۔ اٹھ کر اس سمت کو چلا تو ایک جانب مسجد نظر آئی۔ اندر گئے تو دیکھا کہ ایک بڑا ہی خوبصورت نوجوان جا نماز بچھائے اللہ سے لو لگائے قرآن پڑھتا ہے ایک زندہ انسان کی صورت جو دیکھی تو جان میں جان آئی۔ الحمد للہ خدا نے بنی آدم کی صورت تو دکھا دی۔ قریب پہنچتے ہی السلام علیکم کہا تو نوجوان نے آنکھ اٹھا کر دیکھا اور کہا وعلیکم السلام!۔
علیک سلیک کے بعد شیخ نے پوچھا ، یا حضرت! پہلے یہ فرمائیے کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ دکانیں، بازار اور مکانات سب آراستہ ہیں مگر پھر بھی ویرانی ہے ؟۔ کوئی آدم زاد ہے نہ صورت انسانی ہے؟۔جدھر دیکھتے ہیں پتھر ہی پتھر ہے۔ عقل کو چکر ہے۔ جو انسان ہے پتھر کا مجسمہ بنا اپنی جگہ جما کھڑا ہے!۔
اس نوجوان نے کہا یہ تو میں ابھی آپ کو بتا دوں گا۔ پہلے آپ یہ بتائیے کہ آپ کون ہیں اوریہاں کیوں کر پہنچے ہیں؟۔کسی نے یہاں تک راہبری کی ہے۔ معلوم ہوتا ہے قضا آئی ہے ۔ بد نصیبی یہاں تک لائی ہے؟۔
جواب میں شیخ مظفر نے اپنی سرگزشت مختصر طور پر سنائی تو اس نوجوان نے قہر خدا کے نازل ہونے کی وجہ یوں بتائی:
میرا باپ اس مقام کا بادشاہ تھا۔ تمام بادشاہوں میں اس کا مرتبہ تھا جس بادشاہ کو تم نے پتھر کا بنا ہوا دیکھا ہے ، وہی میرا باپ یعنی اس شہر کا تاج دار ہے۔ اس کے قریب ہی میری ماں یہاں کی بادشاہ بیگم بھی پتھر کی بنی ہے۔ بادشاہ سمیت تمام رعایا آگ پوجتی تھی سب نے دولت کے نشے میں یاد خدا سے منہ موڑ رکھا تھا۔ کفر سے ناتا جوڑ رکھا تھا۔ جب میں پیدا ہوا تو کہتے ہیں کہ میرے باپ نے سارے ملک میں چراغاں کیا۔ غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلایا اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کی۔ خوش نصیبی سے میری دایہ حافظ قرآن تھی، خدا ترس اور صاحب ایمان تھی۔ بادشاہ کے ڈر سے بظاہر آتش پرست تھی مگر دل میں خدا کو مانتی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول خدا جانتی تھی۔ مجھے چوری چھپے اس دایہ نے حافظ قرآن بنایا۔ مسلمان با ایمان بنایا۔ پھر سمجھایا کہ بیٹا ! اپنے باپ کو اس راز سے آگاہ مت کرنا ورنہ ہم دونوں کو مار ڈالے گا۔ آیات قرآنی سن پائے گا تو حلق سے زبان نکال لے گا۔ میں بھی خدا کا شکر گزار تھا کہ کافر باپ کے گھر میں مجھے اسلام کی سیدھی راہ دکھائی۔ آگ پوجنے والوں کے گھر میں مسلمان بنایا۔
جب اس دایہ کا انتقال ہوا تو اس شہر کا اور بھی برا حال ہوا۔ اسی روز تمام شہر میں غیب سے آواز آئی اور کسی نے یہ عبرت دلائی کہ اے شہر والو! اس ڈھرے کو چھوڑو۔ کفر و شرک کی باتوں سے منہ موڑو۔ آتش پرستی کرو گے تو جہنم میں جلائے جائو گے۔ اس کفر کی وادی میں قدم نہ دھرو۔ خدا خدا کرو۔ شہر والوں نے یہ صدا ،سنی تو بد حواس ہو گئے۔ خوف سے تھر تھر کانپنے لگے۔
تین سال تک غیبی آواز آتی رہی اور شہر والوں کو خبردار کرتی رہی۔ مگر بادشاہ نے رعایا کو سمجھا بجھا بجھا کر بے خوف کر دیا کہ آتش پرستی سے منہ نہ موڑنا یہ سچا مذہب ہے اسے ہرگز نہ چھوڑنا۔
جب انہوں نے آتش پرستی سے منہ نہ موڑا اور خدا سے ناتا نہ جوڑا تو ایک روز جب کہ شہری اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے، ہر طرف رونق اور چہل پہل تھی اور ہر جگہ زندگی رواں دواں تھی ، باری تعالیٰ نے اپنا قہر نازل فرمایا۔ چشم زدن میں انسان سے پتھر کی مورتیں بن گئیں۔ عجیب طرح کی صورتیں بن گئیں۔ مگر مجھ پر خدا وند تعالیٰ نے اپنا کرم کیا اور مجھے انسان ہی رہنے دیا ۔ کیونکہ پانچ وقت کا نماز گزارہوں۔ اسلام کی حقیقت اور خدا کی عظمت سے خبردارہوں۔ اس روز سے میں اسی کونے میں رہتا اور عبادت کرتا ہوں ۔ مگر تنہائی کے سب بس جی ہر وقت گھبراتا ہے ، کلیجا ہر وقت منہ کو آتا ہے۔ ہر طرف پتھر کی مورتیں ہیں اور میں ہوں۔آج آپ کو دیکھا تو بڑی خوشی ہوئی کہ بعد مدت کے خدا نے انسان کی صورت دکھائی ۔
شیخ مظفر نے اس کی داستان سن کر کہا !اگر آپ برا نہ مانیں تو عرض کروں کہ آپ براہ کرم ہمارے ساتھ تشریف لے چلئے اور جب تک زندگی ہے اس غلا م کے مہمان بن کر رہیے۔ جہاز ساحل پر کھڑا ہے ۔ دوسرے ساتھی بھی ہمراہ ہیں۔ اتفاق سے اس شہر میں ہمارا آنا ہوا۔ خدا کو یہی منظور تھا کہ آپ کی اور میری ملاقات ہوئی۔ اگر میری عرض قبول فرمائیے تو خوب بات ہو۔
آخراس نوجوان پارسا نے شیخ مظفر کی بات مان لی ،کہا چلنے سے پہلے آپ لوگ جس قدر دولت چاہیں یہاں سے اکٹھی کر لیں۔ آ پ کے کام آئے گی۔
جب ہر طرف دھوپ پھیل چکی تو شیخ مظفر کے تمام ہمراہی ایک ایک کر کے جمع ہو گئے ،سب نے جی بھر کے دولت اکٹھی کر لی تھی ۔ شیخ مظفر نے شاہی محل سے بڑے بڑے نایاب اور بیش بہا ہیرے جواہرات اکٹھے کیے اور پھر سب لوگ جہاز میں بیٹھ کر اپنے سفرپر روانہ ہوئے۔ گنجا لنگور بہت خوش تھا اور جہاز پر ادھر ادھر پھلانگتا پھرتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں